Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
128 - 144
مسئلہ ۱۴۱۶تا۱۴۱۹:  مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب ازآرہ شاہ آباد مدرسہ فیض الغربار ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ

علمائے دین ان سوالوں میں کیا فرماتے ہیں:

(۱) نمازِ عید اور خطبہ کے درمیان یا خطبہ اول و دوم کے درمیان تحریک چندہ اور کسی ( مسلمان جج ) کی مدح وثناء ، خوشامد وغیرہ ( مثلاً امام نے جج کو قاضیِ وقت وقاضی شرع کہا او ریہ بھی کہا کہ قاضی (جج ) صاحب کے ہوتے مجھے نماز پڑھانے کا حق نہ تھا لہذا ان کی اجازت سے نماز پڑھاتا ہوں قرآن و حدیث، اجماع مجتہد و تعامل علمائے ثقہ کسی سے ثابت ہے یا نہیں؟

(۲) ثابت نہ ہونے کی صورت میں نماز اور خطبہ میں کسی قسم کی کراہت پیدا ہوئی یا نہیں؟

(۳) امامت جمعہ وعیدین وامامت نماز پنجگانہ کا حکم ایک ہی ہے یا فرق ہے ؟

(۴) قاضیِ شرع کسے کہتے ہیں، قاضی کے شرائط کیا ہیں، جج شرعی قاضی ہے یا نہیں، اگرہے تو ہر جج یا صرف مسلمان جج، اگر صرف مسلمان جج تو کیوں؟ بینوا توجروا
الجواب

چندہ کی تحریک اگر کسی امر دینی کے لئے ہو تو عین خطبہ میں اس کی اجازت اور خود حدیث میں ثابت ہے ایک بار خطبہ فرماتے ایک صاحب کو ملا حظہ فرمایا کہ بہت حالت فقر ومسکنت میں تھے ، حاضرین سے ارشاد فرمایا:
تصدقوا
، صدقہ دو،ایک صاحب نے ایک کپڑا، دوسرے صاحب نے دوسرا کپڑا دیا، پھر ارشاد فرمایا:
تصدقوا ،
صدقہ دو ۔ یہ مسکین جن کو ابھی دو کپڑے ملے تھے اُٹھے اور ان دو کپڑوں میں سے ایک حاضر کیا، یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا حکم کہ تصدقوا حاضرین کے لئے عام ہے اور میں بھی حاضر ہوں اور اس وقت دو (۲) کپڑے رکھتا ہوں ایک حاضر کرسکتا ہوں، ان کو اس سے باز رکھا گیا تو تمھارے ہی لئے تصدّق کا حکم فرمایا جاتا ہے نہ کہ تم کو، مگر ہندوستان میں تحریک چندہ اگر چہ کیسے ہی ضروری کام کے لئے ہو زبان اردو میں ہوگی اور خطبہ میں غیر عربی کا خلط مکروہ و خلاف سنت ہے، لہذا اُس وقت نہ چاہئے بلکہ بعد ختم خطبہ عید جس طرح صحیحین میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خطبہ عید تمام فرما کر گروہِ نساء پر تشریف لے گئے اور ان کو تصدق کا حکم فرمایا وہ اپنے زیور اتار اتار کر حاضر کرتی تھیں اور بلال رضی اﷲ تعالٰی اپنے دامن میں لئے تھے واﷲ تعالٰی اعلم۔

جو قاضی خلاف احکام شرعیہ حکم کرتا ہو، اگر چہ مسلمان ہو، اگر چہ سلطنت اسلامیہ کا قاضی ہو، ہرگز اس کی مدح جائز نہیں خصوصا منبرپر خصوصا خطبہ جمعہ یا عیدین میں اس کے سبب خطبہ میں تو کراہت یقینی ہے
لاشتما لھا علی المحرم
( کیونکہ یہ حرام پر مشتمل ہے ۔ت) اوراگر خطبہ جمعہ میں ہو تو اس کی کراہت نماز کی طرف بھی سرایت کرے گی کہ جمعہ میں خطبہ شرائط نماز سے ہے اور نماز سے قبل ہوتا ہے، ہاں عیدین میں کہ نماز ہوچکی اور خطبہ نہ اس کی شرائط نہ اس میں فرض نہ  واجب بلکہ ایک سنتِ مستقلہ ہے، خطبہ کی کراہت نماز کی طرف سرایت نہ کرے گی ، یہ تو خطبہ ہے کہ خاص امردین ہے اور منبر کہ خاص مسند سید المرسلین ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، مطلقاً مدح فاسق کی نسبت میں ارشاد ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ عرش الرحمٰن ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب رحمن کا عرش ہل جاتا ہے۔
 (۱؎  الکامل لابن عدی    تحت اسم سابق عبداللہ    مطبوعہ المکتبہ الاثریۃ سانگلہ ہل   ۳/۱۳۰۷)
شرعی احکام اور عرفی خیالات میں بہت تفاوت ہے، شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ ہر حاکم پر فرض ہے کہ مطابق احکامِ الہٰیہ کے حکم کرے ، اگر خلاف حکم الہی کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک عمداً اور ایک خطاً۔
عمداً کے لئے قرآن عظیم میں تین ارشاد ہوئے کہ:
من لم یحکم بما انزل اﷲ فاولٰئک ھم الفسقون ۱؎o
جو لوگ اﷲ تعالٰی کی نازل کردہ تعلیمات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں ،
 (۱؎ القرآن    ۵/ ۴۷)
اولٰئک ھم الظلمون ۲؎ o
وہ ظالم ہیں،
 (۲؎ القرآن        ۵ /۴۵)
اولٰئک ھم الکفرون ۳؎o
وہ کافر ہیں، (ت)
 (۳؎ القرآن        ۵ /۴۴)
قرآن مجید ایسے حکم کو فسق وظلم وکفر فرماتا ہے یعنی اگر عناداً ہو کہ حکم کو حق نہیں مانتا تو کافر ہے ورنہ ظالم وفاسق، اور اگر خطأ ہو تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ خطا بوجہ جہل ہو یعنی علم نہ رکھتا تھا کہ صحیح احکام سے واقف ہوتا، یہ صورت بھی حرام وفسق ہے، صحیح حدیث میں قاضی کی تین قسمیں فرمائیں:
قاضی فی الجنۃ وقاضیان فی النار۔
ایک قاضی جنت میں ہے اور دو قاضی دوزخ میں، وہ کہ عالم و عادل ہو جنت میں ہے اور وہ کہ قصداً خلاف حکم کرے یا بوجہ جہل، یہ دونوں نارمیں ہیں ، بوجہ جہل پر ناری ہونے کایہ سبب ہے کہ اس نے ایسی بات پر اقدام کیا جس کی قدرت نہ رکھتا تھا وہ جانتا تھا کہ میں عالم نہیں اور بے علم مطابقتِ احکام ممکن نہیں، تو مخالفتِ احکام  پر قصداً راضی ہوا، بلکہ اُس سے اگر کوئی حکم مطابق شرع بھی صادر ہو جب بھی وہ مخالفتِ شرع کر رہا ہے کہ اس اتفاقی مطابقت کا اعتبار نہیں، ولہذا حدیث میں فرمایا:
من قال فی القراٰن برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۴؎ ۔
جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا اگر ٹھیک کہا تو بھی غلط کہا ۔
 (۴؎ السنن لابی داؤد    کتاب العلم        مطبوعہ آفتاب پریس لاہور    ۲/ ۱۵۸)
دوسری صورت خطا کی یہ ہے کہ عالم ہے احکام شرعیہ سے آگاہ ہے قابلیت قضا رکھتا ہے احکامِ الہٰیہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنا چاہا اور براہ بشریت غلط فہمی ہوئی۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں : اگر  وہ مجتہد ہے  اور  اس کے اجتہاد نے خطا کی تو اس پر اُس کے لئے اجر  ہے اور  وہ فیصلہ جو اس نےکیا نافذ ہے، اور اگر مقلد ہے جیسے عمو ماً قاضیانِ زمانہ، اور جدوجہد میں اس نے کمی نہ کی اور فہم حکم میں اس سے غلطی واقع ہوئی اور  ہے  پورا عالم اور اس عہدہ جلیلہ کے قابل ، تو اس کی یہ خطا معاف ہے مگر  وہ فیصلہ نافذ نہیں، یہ سب احکام قاضیان سلطنت اسلامیہ سابقہ کے لئے ہیں جو اسی کا م کے لئے مقرر  ہوئے تھے کہ مطابق احکام الہیہ فیصلہ کریں بخلاف حال کہ اکثر اسلامی سلطنتوں کے جن میں خود سلاطین نے احکام شرعیہ کے ساتھ اپنے گھڑے ہوئے باطل قانون بھی خلط کئے ہیں اور قاضیوں کو ان پر فیصلہ کرنے کا حکم ہے ان کی شناخت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ  و رسول کے خلاف حکم کرنے ہی پرمقرر ہوئے، ان اسلامی سلطنتوں کے ایسے قاضیوں کوبھی قاضیِ شرع کہنا حلال نہیں ہوسکتا بلکہ اس کلمہ کی تَہہ میں جو خباثت ہے قائل اگر اس پر آگاہ ہو اور اس کا ارادہ کرے تو قطعاً خارج از اسلام ہو جائے کہ اس نے باطل کا نام شرع رکھا، ولہذا ائمہ کرام نے اپنے زمانہ کے سلا طینِ اسلام کی نسبت فرمایا کہ:
من قال لسلطان زماننا عادل فقد کفر ۱؎ ۔
ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہنا کفر ہے ۔
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الاشربہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۵/ ۳۲۷)
کہ وہ خلافِ احکام الہیہ حکم کرتے ہیں اور خلاف احکام الہیہ عدل نہیں ہوسکتا، عدل حق ہے، تو اسے عدل کہنے کے یہ معنی ہوئے کہ خلافِ احکام الہیہ حق ہے، تو معاذاﷲ احکام الہیہ ناحق ہوئے اوریہ کفر ہے، بہر حال جوقاضی خلاف احکام الہیہ حکم کرتا ہو، ہر گز قاضیِ شرع نہیں ہوسکتا، جب قاضیان سلطنت اسلامیہ کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فیصلہ کریں، رہی رجسٹراری اس میں اگر چہ کوئی حکم نہیں مگر  وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹر  پر چڑھانا اور ان میں بہت دستاویزیں سود کی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء ۲؎ ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر ۔ اور فرمایا سب برابرہیں۔
 (۲؎ سنن ابوداؤد    باب فی آکل الربا ٕ     مطبوعہ  آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۱۷)
جمعہ وعیدین کی امامت پنجگانہ کی امامت سے بہت خاص ہے ، امامت پنجگانہ میں صرف اتنا ضرور ہے کہ امام کی طہارت ونماز صحیح ہو ، قرآن عظیم صحیح پڑھتاہو، بد مذہب نہ ہو، فاسق معلن نہ ہو، پھر جو کوئی پڑھائے گا نماز بلاخلل ہوجائے گی بخلاف نماز جمعہ وعیدین کہ ان کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطان اسلام ہویا اس کا ماذون، اور جہاں یہ نہ ہوں تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہو
کما فی الدر المختار وغیرہ
( جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ت) دوسرا شخص اگر ایسا ہی عالم وصالح ہو ان نمازوں کی امامت نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز نہ ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۲۰:  از ملک بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبد الحکیم ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس بارہ میں کہ جمعہ مسجد میں نماز عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینو اتوجروا
الجواب

جائز ہے مگرسنت یہ ہے کہ نمازِ عیدین عیدگاہ میں چاہئے جبکہ کوئی عذر شرعی مانع نہ ہو، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter