Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
127 - 144
جامع الرموز میں ہے :
المصلی محوط بالفناء۱؎
( عیدگاہ وہ ہے جو میدان میں احاطہ بنا ہو ۔ت)
 (۱؎  جامع الرموز        فصل صلوٰۃ العیدین    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۷۱)
صحیح بخاری شریف میں ایک باب وضع فرمایا : باب العلم بالمصلی ۲ ؎ یعنی مصلائے عید میں شناخت کے لئے کوئی علامت امام بدر محمودنے اس علامت میں عمارت مصلے کو بھی داخل فرمایا :
 (۲؎ صحیح بخاری        کتاب العیدین    مطبوعہ  قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۱۳۳)
عمدۃ القاری میں ہے:
ص باب العلم الذی بالمصلی ش ای ھذا باب فی بیان العلم الذی ھو بمصلی العید والعلم بفتحتین ھو الشیئ الذی عمل من بناء او وضع حجر او نصب عمود ونحو ذلک یعرف بہ المصلی ۳؎ ۔
باب عیدگاہ کی علامت کے بیان میں ہے ش یعنی یہ باب اس علامت کے بیان میں ہے کہ یہ جگہ عیدگاہ ہے العلم عین  اور لام دونوں پر زبر ہے اس سے مراد علامت ہے خواہ بنا کی صورت میں ہو یا پتھر ولکڑی وغیرہ نصب کرنے سے ہو جس سے اس کے عیدگاہ ہونے کا پتا چل سکے ۔(ت)
 (۳؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب العلم بالمصلی    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۶ / ۲۹۸)
بالجملہ تعمیر عیدگاہ جواز ظاہر ، اگر افضل فضائے خالی ہوبلکہ امام تاج الشریعۃ کی تصحیح پر نظر کیجئے ( کہ انھوں نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے ) جب تو اس کی تعمیر ضروری ہوگی خصوصا بلاد ہندوستان میں جہاں کفار کا غلبہ ہے کہ یوں ہی رکھیں تو آدمی جانور، جنب، حائض سب اس میں چلیں گے، پیشاب کریں گے، مسجد کی بے حرمتی ہوگی،
علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں:
ذکر الصدر الشھید المختار للفتوی فی الموضع الذی یتخذ لصلٰوۃ الجنازۃ و العیدانہ مسجد فی حق جواز الاقتداء و ان انفصل الصفوف رفقا بالناس و فیما عدا ذلک لیس لہ حکم المسجد کذا ذکرہ الامام المحبوبی اھ ذکرہ الکاکی و مثلہ فی فتح القدیر ویخالفہ ماقالہ تاج الشریعۃ والاصح انہ ای مصلٰی العید یاخذ حکمھا ای المساجد لانہ اعد لاقامۃ الصلٰوۃ فیہ بالجماعۃ لاعظم الجموع علی وجہ الاعلان الا انہ ابیح ادخال الدواب فیھا ضرورۃ الخشیۃ علی ضیا عھا وقد یجوز ادخال الد واب فی بقعۃ المساجد لمكان  العذر  والضرورة اھ فقد اختلف التصحیح فی مصلی العید واتفق فی مصلی الجنازۃ ۱؎  ۔
صدر الشہید نے فرمایا کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی کے لئے مختار یہ کہ وہ جگہ جو جنازہ یا عید کی نماز کے لئے بنائی گئی ہو اسے جواز اقتدا میں مسجدکا حکم دیا جائے گا اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اور اس کے علاوہ اس کا حکم مسجد والا نہ ہوگا، امام محبوبی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اھ اسے کاکی نے ذکر کیا اور اسی کی مثل فتح القدیر میں ہے اور تاج الشریعۃ نے اس کی مخالفت کی ہے اور اصح یہ ہے کہ عیدگاہ مسجد والا حکم رکھتی ہے کیونکہ عیدگاہ جماعتِ اعظم کے ساتھ اجتماعی صورت میں بطور اعلان اقامتِ نماز کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے البتہ اس میں چار پایوں کا داخلہ مباح اس لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کا ضیاع نہ ہو اور عذر وضرورت کے  پیش نظر مساجد کی جگہ میں چوپایوں کا داخلہ جائز ہوتاہے، عیدگاہ میں تصحیح اقوال میں اختلاف ہے مگر جنازہ گاہ میں اتفاق ہے ۔(ت)
 (۱؎  ٖغنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررغرر    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت      ۱/۱۱۰)
اس قول پر زمانہ اقدس میں عمارت نہ ہونا وارد نہ ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں رو ز اول سے بحمد اﷲ تعالٰی اسلام ہی حاکم اسلام ہی غالب ہے عہد اطہر کے حضرات میں آداب شریعت کا جو تحفظ تھا روشن ہے ۔ جمہور ائمہ ترجیح اگر چہ اس تصحیح کے خلاف پر ہیں تاہم قول مصحح ہے اور خلاف علماء کا لحاظ بالاجماع مستحب اگر چہ غیر مذہب میں ہو نہ کہ خود اپنے مذہب میں خلاف قوی باختلاف تصحیح ، بہر حال اس قدر میں شک نہیں کہ اس تعمیر سے وہ جگہ صحرا سے نکل کر آبادی نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز صحرا ہی میں نماز  رہے گی اور نماز صحرا کا ثواب ہاتھ سے نہ جائے گا، تو قولِ عمرو  واضح الصحۃ ہے
ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند العلیم العلی
( مجھ پر یہی واضح ہوا ہے اور حقیقت کا علم اللہ تعالٰی کے  پاس ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔
Flag Counter