Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
126 - 144
مسئلہ ۱۴۱۴تا ۱۴۱۵: بنارس محلہ کنڈی گڑ تولہ مسجد بی بی راجی شفا خانہ از مولوی عبدالغفور صاحب 

۶ جمادی الآخر  ۱۳۱۲ھ

 بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول حاوی فروع واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور سلام علیک قبول باد، کچھ مسائل میں یہاں درمیان علما کے اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البر کۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں

(۱)  زید کہتا ہے نماز عیدین صحرا میں پڑھنی سنت ہے لیکن شہر میں بھی جائز ہے جس شخص نے نماز مذکور شہر میں پڑھی نماز  اس کی ضرور ادا ہوئی البتہ ترکِ سنت اس نے کیا اور ثواب سنّت سے محروم رہا، عمرو کچھ روز تک قائل تھا نماز عیدین شہر میں جائز نہیں مگر چند روز سے بذاتِ خود یا بوجہ تعلم کسی غیر کے کہتاہے گو نماز مذکور شہر میں جائز ہے لیکن پڑھنے والے گنہگار ہوں گے۔

(۲) زید کہتاہے نمازِ عیدین مسجد پختہ چھت دار کے اندر جو صحرا میں واقع ہے پڑھنے سے ثواب صحرا میں پڑھنے کا نہ ملے گا عمرو کہتا ہے گو مسجد پختہ چھت دار ہے مگر چونکہ صحرا میں واقع ہے لہذا ثواب صحرا میں پڑھنے کا ملے گا، ان سب مسائل میں قول زید کا صحیح ہے یا عمرو کا؟ بینوا توجروا
الجواب

(۱) قولِ زید صحیح ہے عامہ کتبِ مذ ہب متون وشروح وفتاوٰی میں تصریح ہے کہ نماز عیدین بیرون شہر مصلی یعنی عیدگاہ میں پڑھنی مندوب ہے، مستحب ہے، افضل ہے، مسنون ہے ، فرض نہیں کہ شہر میں ادا ہی نہ  ہو ،  واجب نہیں کہ شہر میں پڑھنا مطلقاً گناہ ہو، نقایہ وکنز و وافی و غرر واصلاح و ملتقی وغیرہا متون میں بلفظ ندب ۱؎ ،
 (۱؎  کنز الدقائق        باب العیدین        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۹)
وقایہ بکلمہ حبب۲؎ ،
 (۲؎  شرح وقایہ           باب العیدین     مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی      ۱/ ۲۴۵)
ہدایہ میں بلفظ یستحب۳؎ ،
 (۳؎  الہدایہ          باب العیدین          مطبوعہ المکتبہ العربیہ کراچی        ۱ /۱۵۱)
تعبیر فرمایا۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں علامہ ابن ملک سے ہے:
الافضل اداؤھا فی الصحراء فی سائر البلدان وفی مکۃ خلاف ۴؎۔
تمام شہرو ں میں میدان میں عید ادا کرنا افضل ہے لیکن مکہ میں اختلاف ہے ۔(ت)
 (۴؎  مرقاۃ شرح المشکوٰۃباب صلوٰۃ العیدین         مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان       ۳/۲۹۸)
متنِ تنویر  و فتح القدیر و درر  و ہندیہ و مضمرات وبزازیہ و غنیہ و خانیہ و خلاصہ وخزانۃ المفتین و فتاوٰی ظہیریہ وغیرہا میں ہے:
الخروج الیھا سنّۃ۵؎ ۔
 ( عیدگاہ کی طرف نکلناسنّت ہے ۔ت)
 (۵؎  تنویر الابصار مع الدرالمختار     باب العیدین        مطبوعہ  مطبع مجتبائی دہلی       ۱/۱۱۴)
بحرمیں ہے:
التوجہ الی المصلی مندوب کما افادہ فی التجنیس وان کانت صلٰوۃ العید واجبۃ حتی لوصلی العید فی الجامع ولم یتوجہ الی المصلی فقد ترک السنۃ ۶؎ ۔
عید گاہ کی طرف جانا مندوب ہے جیساکہ تجنیس میں ہے اگر چہ نماز عید واجب ہے حتی کہ اگر کسی نے جامع مسجد میں عید پڑھی اور عیدگاہ کی طرف نہیں گیا تو اس نے سنّت کو ترک کیا ۔(ت)
 (۶؎  بحرالرائق      باب العیدین       مطبوعہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی       ۲/۱۵۹)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
الخروج الیہ یندب وان کان الجامع یسعھم فالخروج لیس بواجب ۷؂ ۔
عید گاہ کی طرف نکلنا مندوب ہے اگر جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو البتہ نکلنا واجب نہیں ۔(ت)
 (۷؎ جامع الرموز     فصل صلوٰۃ العیدین      مطبوعہ  مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران   ۱/۲۷۱)
غنیہ میں جامع الفقہ ومنیہ المفتی وذخیرہ سے ہے :
یجوز  اقامتھا فی المصر و فنائہ و موضعین فاکثرو بہ قال الشافعی واحمد ۱؎۔
شہر اور فنائے شہر میں عید دو یا زیادہ مقامات پر ادا کی جاسکتی ہے، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے ۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی    فروع خروج الی المصلی    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص  ۵۷۲)
ہاں جو سنت مؤکدہ ہو اور کوئی شخص بلاضرورت بے عذر براہ تہاون وبے پروائی اس کے ترک کی عادت کرے اُسے ایک قسم اثم لاحق ہوگی نہ ترکِ سنت بلکہ اس کی کم قدری وقلت مبالات کے باعث،
فی شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی لا یترک رفع الیدین عند التکبیر لانہ سنۃ مؤکدۃ ولو ا عتاد ترکہ یا ثم لالنفس الترک بل لانہ استخفاف و عدم مبالاۃ بسنۃ واظب علیھا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مدۃ عمرہ امالو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتداد لا یا ثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ  ۲؎ اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
شرح منیۃ میں علامہ ابراھیم حلبی کہتے ہیں کہ تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت مؤکدہ ہے اور اگر ترک کو عادت بنا لیتا ہے تو گناہ گار ہوگا مگر نفسِ ترک کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسی سنت کو ہلکا سمجھنے اوراس سے لاپروائی کی وجہ سے ہوگا جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تمام عمر ہمیشگی فرمائی، ہا ں بغیر عادت کے بعض اوقات ترک کردے تو گنہگار نہ ہوگا اور  یہی اصول تمام سنن مؤکدہ میں جاری ہوتا ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم  (ت)
 (۲؂غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی  باب صفۃ الصلوٰۃ     مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور      ص ۳۰۰)
 (۲) عمرو کا قول صحیح ہے اور زید کا دعوٰی بھی وجہِ صحت رکھتا ہے اگر صحرا سے اُس کی مراد فضائے خالی ہو۔

اقول وبا ﷲ التوفیق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دو (۲) چیزیں ہیں ایک اصل سنت کہ نمازی عیدین بیرونِ شہر جنگل میں ہو شارع علیہ الصلاۃ والسلام نے اُس میں حکمت اظہار شعار اسلام وشوکت وکثرت مسلمین رکھی ہے یہ بات نفس خروج واجتماع سے حاصل اگر چہ صحرا میں کوئی عمارت بنالیں پس قولِ عمرو کہ جب مسجد صحرا میں ہے تو  بیرونِ شہر جانے جنگل میں پڑھنے کا ثواب حاصل  بلاشبہ صحیح  ہے۔ دوم سنت،  سنت کہ تکمیل و تاکید  اصل سنت کے لئے ہے یعنی فضائے خالی بے عمارت میں پڑھنا کہ اس میں زیادت اظہار شعار و شوکت ہے، مسجد عیدگاہ واقع صحرا میں پڑھنے سے اگر چہ اصل اظہار شعار  و صلوٰۃ فی الصحرا کا ثواب حاصل، مگر صلوٰۃ فی الفضا میں اتباع اتم پر جو ثواب ازید ملتا وہ نہ ہوا جبکہ  جانب تعمیر کسی مصلحتِ شرعیہ سے مترجح نہ ہوا، اس معنی پر قول زید بھی روبصحت ہے زمانہ اکرم حضور  پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں مصلائے عید کفِ دست میدان تھا جس میں اصلاً تعمیر نہ تھی مدینہ طیبہ کے شرقی دروازے پر ،
کما فی المقصد التاسع من المواھب
 (جیسا کہ مواہب اللدنیہ کے نویں مقصد میں ہے ۔ت) مسجد اطہر کے باب السلام سے ہزار قدم کے فاصلے  پر ،
کما فی الزرقانی عن فتح الباری عن عمر بن شبھۃ فی الاخبار المدینۃ عن ابن غسان الکتانی صاحب مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(جیسا کہ زرقانی میں فتح الباری سے ہے کہ عمر بن شبہ نے اخبار المدینہ میں ابوغسان الکتانی جو صاحب مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں سے روایت کیا ہے ۔ت) سنن ابن ماجہ و صحیح ابن خزیمہ و مستخرج اسمٰعیل میں عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے :
ان  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یغد والی المصلی فی یوم عید والعنزۃ تحمل بین یدیہ فاذا بلغ المصلی نصبت بین یدیہ فصلی الیھا وذلک ان المصلی کان فضاء لیس فیہ ما یستربہ ۱؎ ۔
بلا شبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عید کے دن صبح سویرے عیدگاہ کی طرف نکلتے آپ کے آگے آگے کسی کے ہاتھ میں نیزہ اٹھایا ہوتا ، جب آپ عیدگاہ میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کے سامنے نیزہ گاڑ دیا جاتا آپ اس کے سامنے ہو کر نماز پڑھاتے اور  یہ عیدگاہ میدان میں تھی وہاں کوئی دیوار  وغیرہ نہ تھی (ت)
 (۱؎  السنن لابن ماجہ     باب ماجاء فی الحربۃ یوم العید    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ص ۹۳)
اب صدہا سال سے اس کا احاطہ بن گیا، علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ استظہار فرماتے ہیں کہ یہ عمارت زمانہ امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں تعمیر ہوئی،
کما فی کتابہ قدس سرہ فی تاریخ طیبہ الطیّبۃ صلی اﷲ تعالٰی علی طیب اطیب طیبہا بطیبہ واٰلہ الطائب وبارک وسلم
 (جیسا کہ ان کی کتاب تاریخ طیبہ میں ہے تمام پاکوں سے پاک پر صلوٰۃ وسلام ہو، اُن کی آلِ  پاک پر  ہو  اور برکات و سلام ہو، ت) اور  واقعی جب امیر المومنین ممدوح نے مسجد اقدس حضور  پر نور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کی تجدید تعمیر فرمائی ہے جہاں جہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نماز پڑھنا معلوم ہو اُن سب کی بھی تعمیر جدید، خواہ تجدید فرمائی
کما یستفاد من عمدۃ القاری للعلامۃ الامام البدر محمود العینی عن عمر بن شبہۃ عن ابی غسان عن غیر  واحد من اھل العلم
(جیسا کہ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین محمود العینی نے عمر بن شبہہ سے انھوں نے ابو غسان سے اور انھوں نے متعدد اہل علم سے بیان کیا ہے۔ ت) علمائے کرام کو عیدین کے لئے مصلی کو جانا مسنون ومستحب بتاتے ہیں وہی یہ بھی بحث فرماتے ہیں کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے یا صرف بعض میں، اور اس میں بول وبراز  و  وطی جائز ہیں یا نہیں کہ اگر چہ وہ سب احکام میں مسجد نہ سہی مگر بانی نے یہ عمارت اس لئے نہ بنائی،
بحرالرائق میں ہے :
اختلفوا  فی مصلی الجنازۃ والعید فصحح فی المحیط فی مصلی الجنائز انہ لیس لہ حکم المسجد اصلا وصحح فی مصلی العید کذلک الا فی حق جواز الاقتداء وان لم تتصل الصفوف وفی النھایۃ وغیرھا والمختار للفتوی فی المسجد الذی اتخذ لصلٰوۃ الجنازۃ والعید انہ مسجد فی حق جواز الاقتداء  وان انفصل الصفوف رفقا بالناس وفیما عد اذلک لیس لہ حکم المسجد اھ وظاھر ما فی النھایۃ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فی مصلی الجنائز و العید ولا یخفی ما فیہ فان البانی لم یعدہ لذلک فینبغی ان لا تجوز ھذہ الثلثۃ وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی بقیۃ الاحکام التی ذکرناھا وفی حل دخول للجنب والحائض ۱ ؎ اھ
جنازہ گاہ اور عیدگاہ میں اختلاف ہے محیط میں اسے صحیح کہا کہ جنازہ گاہ کا حکم بالکل مسجد والا نہیں اور عیدگاہ کے بارے میں یہی صحیح ہے مگر جو از اقتدا کے حق میں مسجد والا ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں، عنایہ وغیرہ میں ہے کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی میں مختار یہ ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ جوازِ اقتدا کے حوالے سے مسجد کے حکم میں ہیں اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اورا ن کے علاوہ میں مسجد کا حکم نہیں اھ نہایہ کی عبارت سے یہی ظاہر ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ کے اوپر وطی اور بول وبراز جائز ہے اور یہ محل نظر ہے کیونکہ بانی نے اسے اس لئے نہیں بنایا لہذا اگر چہ انھیں ہم مسجد کا حکم نہیں دیتے مگر  یہ تینوں چیزیں ( وطی، بول و براز ) اس کے اوپر جائز نہیں اور اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوگا جو  ہم ذکر کر رہے ہیں اور جنبی وحائضہ کا داخلہ بھی ہوسکتا ہے اھ (ت)
 (۱؎  بحرالرائق        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۳۶)
جواہر الاخلاطی فصل فی العیدین میں ہے:
لوکان محراب المصلی عشرۃ اذرع وصف القوم مائۃ ذراع ولایتصل الصفوف جازت صلٰوۃ الکل۲؎۔

اگر عید گاہ کا محراب دس ذراع تھا اور لوگوں کی صف سَو ذراع، صفیں متصل نہ  ہوں تو تب بھی تمام کی نماز جائز ہوگی ۔(ت)
 (۲؎  جواہر الاخلا طی    فصل فی العیدین         غیر مطبوعہ نسخہ            ص ۵۱)
Flag Counter