Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
125 - 144
الفروع ___ عبارت ۶ : صفحہ ۶۲:

اگر تسلیم کنم کہ ذکرِ مولد درازمنہ ثلثہ نبود ونہ ازمجتہدین حکم او منقول شد لیکن چوں درشرع ایں قاعدہ ممہد شدہ است کل فرد من افراد نشر العلم فھو مندوب وذکر مولد نیز زیر آنست لابدحکم مند وبیت اودادہ خواہدشد ۴؎ ۔

اگر میں تسلیم کرلوں کہ ذکر مولد تین زمانوں میں سے کسی میں نہیں اور مجتہدین سے اس کا حکم منقول نہیں ہے لیکن شرع میں جب یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ ہر وہ فرد جس سے علم کی اشاعت ہو وہ مندوب ہوتا ہے تو ذکرِ مولد بھی اسی میں شامل ہے تو ضروری ہے اسے بھی مندوب کہا جائے ۔(ت)
 (۴؎ مجموعہ فتاوی     کتاب المساجد      مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ    ۲ /۹۱۳)
عبارت ۷: صفحہ ۲۹۸:

بعد دو رکعت سنتِ ظہر و مغرب و عشاکے دو رکعت نفل پڑھنا آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کااب  تک نظر سے نہیں گزرا لیکن جو شخص بقصدِ ثواب بدون اعتقاد سنیّت پڑھے گا ثواب پائیگا کیونکہ حدیث  میں وارد ہے:
الصلٰوۃ خیر موضوع فمن شاء فلیقلل ومن شاء فلیکثر ۱؎۔
نماز سب سے بہتر عمل ہے جو چاہتا ہے کم کرے اورجو چاہتا ہے زیادہ کرے ۔(ت)
 (۱؂مجموعہ فتاوی     کتاب الصلوة      مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ      ۱/۱۵۳)
اقول سائل سے پوچھا تھا اصل اس کی سنت واجماع وقیاس سے ثابت ہے یا نہیں اور ان  میں بعض کے لئے ثبوت خاص احادیث سے نظرِ فقیر میں حاضر مگر کلام رد خیالات وہابیت میں ہے وھو حاصل ( اور یہی حاصل ہے ۔ت)
عبارت۸ : صفحہ ۲۹۴:

الوداع یا الفراق کا خطبہ آخر رمضان میں پڑھنا اور کلماتِ حسرت ورخصت کے ادا کرنا فی نفسہٖ امر مباح ہے بلکہ اگر یہ کلمات باعثِ ندامت وتوبہ سامعان ہوئے تو امیدِ ثواب ہے مگر اس طریقہ کا ثبوت قرونِ ثلٰثہ میں نہیں ۲؎ الخ
 (۲؎ مجموعہ فتاوٰی     کتاب الحظر والاباحۃ    مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ  ۲/۲۴،۲۵)
   عبارت ۹: مجموعہ فتاوی جلد دوم صفحہ ۱۷۰ :

کسیکہ می گوید وجودیہ وشہودیہ ازاہل بدعت اند قولش قابلِ اعتبار نیست ومنشاء قولش جہل و ناواقفیت است ازاحوال اولیاء از معنے توحید وجودی وشہودی وشاعری کہ ذم ہر دوفرقہ ساختہ قابلِ ملامت است واﷲ اعلم ۳؎ ۔

جو شخص یہ کہتا ہے کہ وحدت الوجود اور  وحدت الشہود والے اہل بدعت ہیں اس کے قول کاکوئی اعتبار نہیں اور اس کی وجہ اس کا احوال اولیاء اور معنی توحید وجودی اور شہودی سے جہالت و ناواقفیت ہے اور وہ شاعر جو  ان دونوں طبقات پر طعن کرتا ہے وہ قابلِ مذمت ہے واﷲ اعلم ۔(ت)
 (۳؎ مجموعہ فتاوٰی     کتاب الحظر والاباحۃ    مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ  ۲/ ۵۸)
ذرا تقویۃ الایمان کی بالا خوانیاں یادکیجئے ۔

عبارت ۱۰ : صفحہ ۴۲۱: 

فی الواقع شغلِ برزخ اُس طور پر کہ حضرات صوفیہ صافیہ نے لکھا ہے نہ شرک ہے نہ ضلالت، ہاں افراط وتفریط اُس میں منجر ضلالت کی طرف ہے، تصریح اس کی مکتوب مجدد الف ثانی میں جابجا موجود ہے واﷲ اعلم۱؎
 (۱؎مجموعہ فتاوٰی)
سبحٰن اﷲ وہ عالم کہ تمھارے مذہب نامہذب  پرمعاذاﷲ صراحۃً مشرک ومجوز شرک ہوچکا اُس پر اعتماد اور اس کے فتوے سے استناد کس دین ودیانت میں روا۔

عبارت۱۱: اُسی کی جلد سوم صفحہ۵۸ میں ہے :

سوال : وقت ختم قرآن درتراویح سہ بار سورہ اخلاص می خوانند مستحسن است یا نہ۔

سوال: تراویح میں ختم قرآن کے وقت تین بار سورہ اخلاص پڑھنا مستحسن ہے یا نہیں؟

جواب : مستحسن است۲؎ ۔

جواب : مستحسن ہے ۔
 (۲؂مجموعہ فتاوٰی        باب التراویح        مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ   ۳/۵۷)
عبارت۱۲: صفحہ۱۲۵:

اماجمیع میان تکلم بالفاظِ سلام ودست برداشتن و برسر یا سینہ نہادن  پس ظاہر الاباس بہ است ۳؎ ۔

لفظِ سلام کہتے ہوئے سر یا سینہ پر ہاتھ رکھنے میں ظاہراً کوئی حرج نہیں ۔(ت)
 (۳ ؂ مجموعہ فتاوٰی        باب المصافحہ والمعانقہ   مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ   ۳/۱۲۱)
عبارت۱۳: صفحہ۱۲۷:

سوال : بسم اﷲ نوشتن برپیشانی میّت ازانگشت درست یا نہ ؟

سوال: میت کی  پیشانی  پر انگلی سے بسم اﷲ لکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب: درست است۴ ؎ ۔

جواب: درست ہے ۔ (ت)
 (؎۴ مجموعہ فتاوٰی         باب مایتعلق بالموتی  مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ    ۳ / ۱۲۳)
 عبارت۱۴ : صفحہ ۱۳۳:

سوالِ قیامِ وقت ذکر ولادت باسعادت کے جواب میں قیام بالقصد کا قرون ثلٰثہ سے منقول نہ ہونا اور بعض احوال میں صحابہ کرام کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے قیام نہ کرنا نقل و تحریر کرکے لکھتے ہیں :

لیکن علمائے حرمین شریفین زاد ہمااﷲ شرفا قیام می فرمایند امام برزنجی رحمۃ اﷲ تعالٰی در رسالہ مولد می نویسند
وقد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذو  روایۃ ودرایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ انتھی ۱؎ ۔
لیکن حرمین شریفین ( اللہ تعالٰی ان کواور شرف عطا فرمائے ) کے علماء قیام کرتے ہیں ، امام برزنجی رحمۃ اﷲ

 رسالہ مولد میں لکھتے ہیں صاحب روایۃ ودرایۃ ائمہ ذکرِ مولد شریف کے وقت قیام مستحسن تصور کرتے ہیں مبارک ہے ان علمائے کے لئے جس کا مقصد ومنزل نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں تعظیم ہے انتہی (ت)
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی        باب قیامِ میلاد شریف            مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ    ۳/ ۱۳۰)
یعنی ذکرِ ولادت شریف کے وقت قیام کرنے کو ان اماموں نے مستحسن فرمایا ہے جو صاحبِ روایت و درایت تھے تو خوشی وشادمانی ہو اسے جس کی نہایت مراد و مقصد حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور خود مجیب لکھنؤ ی حرمین طیبین کی مجالسِ متبرکہ میں اپنا حاضرو شریک ہونا بیان کرتے اور انھیں مجالس متبرکہ لکھتے ہیں حالانکہ بشہادت مجیب ومشاہدہ تواتر ان مجالس ملائک مآنس کا قیام پر مشتمل ہونا یقینی ، مجیب موصوف اسی جلد فتاوٰی صفحہ۵۲ میں لکھتے ہیں:

درمجالس مولد شریف کہ ازسورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورہ تکبیر می گویند راقم شریک مجالس متبرکہ بودہ ایں امر را مشاہد کر دہ ام ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ ۲؎ ۔

مولد شریف کی مجالس میں سورہ والضحٰی سے لے کر آخر تک پڑھتے ہیں ہر سورت کے اختتام پر تکبیر کہتے ہیں راقم الحروف مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور جدّہ میں ان مجالس مبارکہ میں شریک ہوا ہے ۔(ت)
 (۳ ؎ مجموعہ فتاوٰی    باب القراءۃ فی الصلوٰۃ قراءۃ فاتحہ خلف الامام      مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ۳/۵۲)
عبارت ۱۵:طرفہ یہ کہ صفحہ ۱۲۰پر لکھتے ہیں:
سوال: پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی ودر مصرف خود آردیا تصدق نماید؟
سوال: سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لایا جاسکتا ہے یا اسے صدقہ کردیا جائے؟
جواب : ظاہراً دراستعمال پارچہ مذکور بصرفِ خود و جہی کہ موجب ہزہ کاری باشد نیست واولے آنست کہ بمساکین وفقراء دہد۳ ؂۔
جواب: ظاہراً اپنے استعمال میں لانے میں کوئی گناہ نہیں، ہاں بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء پر خرچ کردیا جائے ۔(ت)
 ( ؎۳ مجموعہ فتاوٰی     باب مایحل استعمالہ ومالایحل        مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ۳/۱۱۶)
ذرا حضرات مخالفین اس اولٰی آنست ( بہتر  یہ ہے ۔ ت) کی وجہ بتائیں اور اسے اپنے اصول پر منطبق فرمائیں ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم اس قسم کے کلام رسائل ومسائل مجیب میں بکثرت ملیں گے
وفیما ذکرنا کفایۃ اﷲ واﷲ سبحٰنہ ولی الھدایۃ
 ( جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ کافی ہے۔ اور اﷲ تعالٰی کی ذات پاک ہے اور وہی ہدایت کا مالک ہے ۔ت)بحمد اﷲ جواب اپنے منتہی کو پہنچا اور تحقیق حق تا دزدۂ علیا اب نہ رہا مگر سعی مانعین کا وہ پہلا رونما یعنی عوام کا بعد نماز فرائض بھی دعا سے دست کش ہونا، یہاں اگر میں نقل احادیث پر اتروں تو ایک مستقل رسالہ املا کروں مگر بحکم ضرورت صرف مولوی عبدالحی صاحب کاایک فتوٰی ملخصا نقل کرتا ہوں جس پر غیر مقلدین زمانہ کے امام اعظم نذیر حسین دہلوی کی بھی مہر ہے، مجموعہ فتاوٰی جلد دوم صفحہ ۴۷۷:
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ رفع یدین در دعا بعد نماز چنانکہ معمول ائمہ ایں دیارست ہر چند فقہا مستحسن می نویسند واحادیث درمطلق رفع یدین دردعا نیز وارد دریں خصوص ہم حدیثے وارد ست یانہ ، بینوا توجروا۔
اس بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھا ناجیسا کہ اس علاقے کے ائمہ کا طریقہ ہے کیسا ہے ؟ فقہاء نے اسے مستحسن لکھا ہے احادیث میں مطلقاً دُعا میں ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ بھی آیا ہے کیا اس سلسلہ میں کوئی حدیث ہے یا نہیں؟ بیان کرکے اجر پاؤ۔
ھوالمصوب دریں خصوص نیز حدیثے وارد ست حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق بن السنی درعمل الیوم واللیلہ می نویسند حدثنی احمد بن الحسن حدثنا ابواسحق یعقوب  بن خالد بن یزید الیالسی حدثنا عبدالعزیز بن عبدا لرحمن القرشی عن خصیف عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال مامن عبد بسط کفیہ فی دبر کل صلٰوۃثم یقول اللھم الٰھی والہ ابراھیم واسحٰق ویعقوب والہ جبرئیل و میکائیل واسرافیل اسئلک ان تستجیب دعوتی فانی مضطر و تعصمنی فی دینی فانی مبتلی وتنالنی برحمتک فانی مذنب وتنفی عنی الفقر فانی متمسکن الا کان حقا علی اﷲ عزوجل ان لایردید یہ خائبتین واﷲ تعالٰی اعلم ۱؎
ھوالمصوب، اس بارے میں خصوصاً حدیث بھی وارد ہے حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق بن السنی اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے احمد بن حسن انھیں ابواسحٰق یعقوب بن خالد بن یزید الیالسی نے انھیں عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی نے انھیں خصیف نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور پھر عرض کیا : اے اﷲ میرے معبود ، سیدنا ابراہیم و اسحٰق اور یعقوب کے معبود، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے الہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری دعا قبول کیجئے، میں مضطر، مجھے میرے دین میں محفوظ رکھئے، میں مبتلا ہوں مجھے اپنی رحمت عطا کیجئے میں نہایت گنہگار  ہوں میرے فقر کو دور کر دیجئے میں نہایت مسکین ہوں، تو اﷲ تعالٰی پر حق ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
8_3_1.jpg
 (۱؎  مجموعہ فتاوٰی    کتاب الصلوٰۃ رفع یدین در دعا بعد ادائے نماز پنجگانہ     مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ۱/۲۴۸ )
الجواب صحیح ویؤ یدہ ما رواہ ابوبکر ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن الاسود العامری عن ابیہ قال صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف ورفع یدیہ و دعاالحدیث فثبت بعد الصلٰوۃ المفروضۃ رفع الیدین فی الدعاء عن سید الانبیاء اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما لا یخفی علی العلماء الاذکیا ء۔
جواب صحیح ہے اور اس کی تائید وہ روایت بھی کرتی ہے جو ابوبکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اسود عامری سے انھوں نے اپنے والد سے بیان کی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی آپ نے سلام پھیرا، ہاتھ اٹھائے اور دُعا کی الحدیث، لہذا نماز فرض کے بعد سیّد الانبیاء اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہاتھ اٹھا کر دُعا مانگنا ثابت ہے جیسا کہ علماء اذکیاء پر مخفی نہیں ۔(ت)
8_3_2.jpg
لطیفہ : فقیرغفر لہ المولی القدیر نے وہابیہ کے اس خیال ضلال کے رَ د و ابطال کو کہ جو کچھ بخصوصہ قرون ثلٰثہ سے منقول نہیں ممنوع ہے، مجیب کی پندرہ (۱۵) عبارتیں نقل کیں مگر لطف یہ ہے کہ خود ہی فتوے جس سے یہاں انھوں نے استناد کیا اس خیال کے ابطال کو بس ہے، مجیب کی عادت ہے کہ شروع جواب میں ھوا لمصوب( وہی درست کرنے والا ہے ۔ت) یہی لفظ اُس فتوے کی ابتداء میں بھی لکھا کما سمعت نصہ ( جیسا کہ اس کے الفاظ آپ پیچھے پڑھ چکے ۔ ت) اب حضرات مخالفین ثابت کر دکھا ئیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا صحابہ کرام وتابعین عظام علیہم الرضوان ،  اﷲ جل وعلا کو مصّوب کہا کرتے ہوں خصوصاً بحالیکہ اسمائے الہٰیہ توقیفی ہیں،
واذ قد بلغنا الٰی ذکر التوقیف وقف القلم و کان ذلک اللیلۃ بقیت من اوسط عشرات شعبان المعظم سنۃ، الف(۱۳۰۷ھ) وثلثمائۃ و سبع من ھجرۃ سید العالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والحمد اﷲ علی ما الھم والصلٰوۃ والسلام علی المولی الاعظم واٰلہ وصحبہ سادات الامم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جب ہم لفظ توقیف پر پہنچ چکے قلم رک گیا اس کا اختتام ۱۳۰۷ھ میں شعبان المعظم کے وسط میں ہوا، سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو رہنمائی کرتا ہے صلوٰۃ وسلام مولی اعظم پر، آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو کہ امت کے سربراہ ہیں۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
Flag Counter