رابعاً : ہم صدرجواب میں حضرت ائمہ تابعین سے اس دعا کا ثبوت روایت کرآئے پھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثبوت نہ ہونے کومانعین کس منہ سے منع ٹھہراسکتے ہیں کہ ان کے نزدیک تشریح احکام تابعین تک باقی رہتی اور ان کے بعد منقطع ہوتی ہے پھر قرن اول سے عدم ثبوت کیامضرومنافی ہے۔
خامساً ہرعاقل جانتاہے کہ ادعائے ثبوت میں قابل جزم وتصدیق صرف عدم وجدان قائل ہے اور عدم وجدان، عدم وجود کومستلزم نہیں خصوصاً ابنائے زماں میں۔ اور امر واضح ہے اور سبرفاضح۔ اورگزرا اشارہ اور آئےگا دوبارہ۔ ہم نے اس کاکچھ بیان اپنے رسالہ صفائح اللجین وغیرہا میں لکھا یہاں اتناہی بس ہے کہ خودمجیب اپنی کتاب السعی المشکورفی ردالمذھب الماثور میں لکھتے ہیں:
''نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں، نظائر اس کے بکثرت ہیں کم نہیں منجملہ ان کے حدیثِ عائشہ ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے:
مارأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسبح سبحۃ الضحٰی وانی لاسبحھا۲؎ انتھی۔
میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کونماز چاشت اداکرتے نہیں دیکھا اور میں اداکرتی ہوں انتہی(ت)
(۲؎ کتاب السعی المشکور لعبدالحی بحث اسکی کہ نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۱۳)
حالانکہ اس سے نفی وجودلازم نہیں ہے بااحادیث متکاثرہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاصلٰوۃ الضحٰی اداکرنا ثابت ہے اسی وجہ سے جلال الدین سیوطی رسالہ صلٰوۃ الضحی میں لکھتے ہیں الخ''
جب ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کے نزدیک عدم ثبوت عدم ثبوت واقعی کومستلزم نہ ہوا توزید وعمر و من وتوکس شمار وقطارمیں ہیں۔
سادساً عدم ثبوت مان بھی لیں تو اس کاصرف یہ حاصل کہ منقول نہ ہوا پھر عقلاء کے نزدیک عدم نقل نقل عدم نہیں یعنی اگرکوئی فعل بخصوصہ حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول نہ ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کیابھی نہ ہو،
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
عدم النقل لاینفی الوجود ۱؎
(عدم نقل نفی وجود کومستلزم نہیں۔ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۲۰)
خود مجیب اپنی سعی مشکورمیں تنزیہہ الشریعۃ امام ابن عراق سے نقل کرتے ہیں:
عدم الثبوت لایلزم منہ اثبات العدم۲؎
(عدمِ ثبوت سے اثبات عدم لازم نہیں آتا۔ت)
(۲؎ کتاب السعی المشکور فی رد المذہب المشہور لعبدالحی ضعیف روات و جہالت الخ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۹۷)
(۲؎ کتاب السعی المشکور فی رد المذہب الماثور لعبدالحی ضعیف روات و جہالت الخ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۹۷)
سابعاً خادمِ حدیث جانتاہے کہ بارہا رواۃ حدیث امورمشہورہ معروفہ کوچھوڑجاتے ہیں اور ان کا وہ ترک، دلیل عدم نہیں ہوتا، ممکن کہ یہاں بھی بربنائے اشتہار حاجت ذکرنہ جانی ہو، اس اشتہار کاپتا اس حدیث صحیح سے چلے گا جوہم نے صدرکلام میں روایت کی کہ جب تابعین عظام میں بعد نمازعیدین دعاکارواج تھا توظاہراً انہوں نے یہ طریقہ انیقہ صحابہ کرام اور صحابہ کرام نے حضورسیدالانام علیہ علیہم الصلٰوۃ والسلام سے اخذکیا، حضرات مانعین اگردیانت پرآئیں تو سچ سچ بتادیں گے کہ عیدین کے قعدہ اخیرہ میں خود بھی دعا و درود پڑھتے اور اسے جائز و مستحب جانتے ہیں، اس کی خاص نقل حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے دکھادیں یااپنے بدعتی ہونے کااقرارکریں، اور اگرفرائض پرقیاس یااطلاقات سے تمسک کرتے ہیں تو یہاں کیوں یہ طرق نامقبول ٹھہرتے ہیں واﷲ الموفق۔
ثامناً نقل عدم بھی سہی پر وہ نقل منع نہیں۔
اﷲ عزوجل نے فرمایاہے کہ
مااٰتٰکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتھوا
۳؎جورسول دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
(۳؎ القرآن ۵۷/۲۳)
یہ نہیں فرمایا کہ
مافعل الرسول فخذوہ ومالم یفعل فانتھوا
رسول جوکرے کرو اور جونہ کرے اس سے بچو، کہ شرعاً یہ دونوں قاعدے منقوض ہیں۔ امام الوہابیہ کے عمِ نسب وپدرِ علم وجدِّطریقت شاہ عبدالعزیزصاحب دہلوی تحفۂ اثناعشریہ میں فرماتے ہیں:
نکردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر۴؎۔
کسی چیزکانہ کرنا اورشئ ہے اور منع کرنا اور شئ ہے۔(ت)
تاسعاً اگرمجرد عدمِ نقل یاعدم فعل مستلزم ممانعت ہو توکیاجواب ہوگا، شاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب اور صاحب زادے شاہ عبدالعزیزصاحب اور امام الطائفہ میاں اسمٰعیل اور ان کے پیرسیّد احمد اور شیخ السلسلہ جناب شیخ مجدّدصاحب اور عمائد سلسلہ مرزا مظہر صاحب وقاضی ثناء اﷲ صاحب وغیرہم سے جنھوں نے اذکار و اشغال و اوراد و غیرہا کے صدہا طریقے احداث وایجاد کئے اور ان کے محدث و مخترع ہونے کے خود اقرار لکھے پھر انھیں سبب قُرب الہٰی و رضائے ربانی جانا کئے اور خود عمل میں لاتے اوروں کو اُن کی ہدایت وتلقین کرتے رہے۔
شاولی اﷲ قول الجمیل میں لکھتے ہیں:
لم یثبت تعین الاداب ولاتلک الاشغال۱؎۔
نہ یہ تعیّن آداب ثابت ہے اور نہ یہ اشغال ۔(ت)
(۱؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل فصل۱۱ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳)
مرزا جان جاناں صاحب مکتوب اا میں فرماتے ہیں:
ذکر جہر یا کیفیاتِ مخصوصہ ونیز مراقبات نہ اطوار معمولہ کہ درقرونِ متأخرہ رواج یا فتہ از کتاب و سنّن ماخوذ نیست بلکہ حضرات مشائخ بطریق الہام واعلام ازمبد ءفیاض اخذ نمودہ اند و شرع ازاں ساکت است وداخل دائرہ اباحت وفائدہ دراں متحقق وانکار آں ضرورتے ۔ ۲؎
ذکر بالجہر مخصوص کیفیات کے ساتھ اس طرح اطوار معمول کے ساتھ مراقبات جو متاخرین کے دور میں رواج پاچکے ہیں یہ کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں بلکہ حضرات مشائخ نے بطریقِ الہام واعلام مبدء فیاض سے حاصل کئے ہیں، اور شریعت ان کے بارے میں خاموش ہے اور یہ دائرہ اباحت میں داخل ، اور ان کے فوائد ہیں نقصان کوئی نہیں ۔(ت)
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے اس کی قدر ے تفصیل اپنے رسالہ انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ( ۱۳۰۵ ھ) ذکر کی وباﷲ التوفیق۔
عاشراً ان سب صاحبوں سے درگزر یے ، خود وہ عالم جن کا فتوٰی اس مسئلہ میں تمھارا مبلغ استناد و منتہائے استمداد ہے یعنی مولوی لکھنوی مرحوم انھیں کے فتاوٰی کی تصریحات جلیہ تنصیصات قویہ دیکھئے کہ ان کے اصول، فروع کس درجہ تمھارے فروع واصول کے قاطع و قامع ہیں، پھر ان مسائل میں اُن کا دامن تھامنا، چراغِ خرد کا، صرصرجہل سے سامنا ، عقل وہوش سے لڑائی ٹھاننا، نافع ومضر میں فرق نہ جاننا، نہیں تو کیا ہے۔ میں یہاں ان کی صرف دو (۲) عبارتیں نقل کروں گا جو حضرات وہابیہ کے اسی مغالطہ عامۃ الورود یعنی حدوثِ خصوص اور قرون ثلٰثہ سے عدمِ ورود کو دلیل منع جاننے کی قاطع و فاضح ہیں اور وہ بھی صرف اسی مجموعہ فتاوٰی ، نہ ان کے دیگر رسائل سے ، تاکہ سب پر ظاہر ہو ع
کہ باکہ باختہ عشق درشبِ دیجور
( تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی )
پھر ان میں بھی قصدِ استیعاب نہیں بلکہ صرف چند عبارتیں پیش کروں گا، بعض مفید ضوابط و اصول اور بعض میں فروع قاطعہ اصولِ فضول واﷲ المستعان علٰی کل جہول۔
الاصول ___ عبارت ۱: مجموعہ فتاوی جلد اول کے صفحہ ۵۶ پر علامہ سید شریف کے حواشی مشکوٰۃ سے استناداً نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حدیث:
من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد ّ۔
جس نے ہمارے امر میں نئی ایجاد کی وہ اس میں سے نہ تھی وہ مردود ہوگی ۔(ت)
کی شرح میں فرمایا:
المعنی ان من احدث فی الاسلام رأیا لم یکن لہ من الکتاب والسنۃ سند ظاھر اوخفی ملفوظ او مستنبط فھو مردود علیہ انتھی ۱؎ ۔
یعنی حدیث کے یہ معنٰی ہیں کہ جو شخص دین میں ایسی رائے پیدا کرے جس کے لئے قرآن وسنت میں ظاہر یا پوشیدہ ، صراحۃً یا استنباطاً کسی طرح کی سندنہ ہو وہ مردود ہے انتہی ۔
عبارت۳: اُسی صفحہ میں خود لکھتے ہیں:
گمان نبری کہ استحسان شرعی صفت آن ماموربہ است کہ صراحۃً درد لیلے از دلائل ا ربعہ امرباو وارد شدہ باشد بلکہ استحسان صفت ہر مامور بہ است خواہ صراحۃً امر باو واردشدہ باشد یا از قواعد کلیہ شرعیہ سندش یافتہ شدہ باشد۱؎ ۔
یہ گمان نہ ہو کہ استحسان شرعی ایسے مامور بہ کی صفت ہوگا جس پر دلائل اربعہ میں سے صراحۃً کوئی دلیل وارد ہوگی بلکہ استحسان ہر اس مامور بہ کی صفت بن سکتا ہے خواوہ صراحۃً اس پر امروارد ہو یا قواعد کلیہ شرعیہ سےاس پر سند ہے ۔(ت)
عبارت۴: صفحہ ۵۸ پر لکھا:
ہر محدثیکہ وجودش بخصوصہ درزمانے از ازمنہ ثلثہ نباشد لیکن سندش در دلیلے ازادلہ اربعہ یافتہ شود ہم مستحسن خواہد شد نمی بینی کہ بنائے مدارس ۲؎ الخ۔
ہر وہ نئی شی جس کا وجو د تین زمانوں میں سے کسی زمانہ میں نہ ہو لیکن اس پر ادلّہ اربعہ سے سند موجود ہو تو وہ بھی مستحسن ہوگی آپ مدارس وغیرہ کی ایجاد نہیں دیکھتے الخ (ت)