اقول : تم مستدل ہو اور مستدل کو احتمال کافی نہیں خصوصاً خلافِ اصل کمالایخفی علی ذی عقل (یہ کسی صاحب عقل پرپوشیدہ نہیں۔ت) معہذا ف بارہا مجرد ترتیب بے معنی اتصال وتعقیب کے لئے آتی ہے،
امام جلال الدین سیوطی اتقان میں زیربیان فرماتے ہیں:
کبھی کبھی فاء محض ترتیب کے لئے آتی ہے،مثلاً ان آیات میں (ترجمہ آیات) پھراپنے گھرگیا توایک فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا۔ اس پراس کی بیوی چلاتی آئی پھراپناماتھا ٹھونکا۔پھرقسم ان کی کہ جھڑک کرچلائیں۔پھران جماعتوں کی کہ قرآن پڑھیں۔(ت)
(۱؎ الاتقان النوع الاربعون فی معرفۃ معانی الادوات الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۶۶)
بلکہ مسلم الثبوت میں ہے:
الفاء للترتیب علی سبیل التعقیب ولوفی الذکر۲؎۔
فاء بطریق تعقیب ترتیب کے لئے آتی ہے خواہ وہاں ترتیب ذکری ہو۔
توایک ف کامجرد ترتیب یاترتیب فی الذکر مجازپرحمل اولٰی ہے یادس ثمّ کامجازپر۔
سادساً یہ عدم فصل بطور سلب عموم لیتے ہو توہمیں کیامضراور تمہیں کیامفید کہ ہمیں ایجاب کلی کی ضرورت نہیں،کہ سلب جزئی ہمارے خلاف ہو، اور بطورعموم، سلب تودونوں جگہ اس کابطلان ثابت و واضح۔ صحیح حدیثیں تنصیص کررہی ہیں کہ بالیقین دونوں جگہ فصل واقع ہوا، نمازوخطبہ میں وہ حدیث عہ(۱۰) کہ ابوداؤد و نسائی وابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن سائب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی:
واللفظ لابن ماجۃ قال حضرت العید مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصلی بنا العید ثم قال قدقضینا الصلٰوۃ فمن احب ان یجلس للخطبۃ فلیجلس ومن احب ان یذھب فلیذھب۱؎۔
ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں میں عید میں حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ حاضرہوا حضور نے نمازعید پڑھائی پھرفرمایا ہم نماز توپڑھ چکے اب جوسننے کے لئے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جوجاناچاہے چلاجائے۔
عہ اقول یہ حدیث صحیح ہے،
رواہ ابوداؤد عن محمد بن الصباح البزار صدوق والنسائی عن محمد بن یحیی بن ایوب ثقۃ وابن ماجۃ عن ھدیۃ بن عبدالوھاب صدوق وعمربن رافع البجلی ثقۃ ثبت کلھم قالوا ثنا الفضل بن موسی ثقۃ ثبت ثنا ابن جریح عن عطاء وھما ماھما عن عبداﷲ بن السائب رضی اﷲ تعالٰی عنھما لہ ولابیہ صحبتہ فتصویب دس وابن معین ارسالہ غیرمتاثر عندنا بعد ثقۃ الرجال فالحدیث صحیح علٰی اصولنا۱۲منہ(م)
اس کو ابوداؤدنے محمدبن الصباح البزارسے (جوصادق ہیں)اور نسائی نے محمد بن یحیٰی بن ایوب سے (جوثقہ ہیں) اور ابن ماجہ نے ہدیہ بن عبدالوہاب سے(جوکہ صدوق ہیں) اور عمربن رافع البجلی (جوکہ ثقہ ہیں) تمام نے کہاکہ ہمیں فضل بن موسٰی (جوثقہ اور مضبوط ہیں) انہوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے عطاء سے (یہ دونوں مقام میں مسلم ہیں) نے عبداﷲ بن السائب رضی اﷲ تعالٰی عنہ (ان کو اور ان کے باپ کو صحبت ہے) پس ابوداؤد اور نسائی کی تصویب ہوئی اور ابن معین کارجال کے ثقہ ہونے کے بعد اس کومرسل بنانامتاثر نہیں کرے گا، پس ہمارے ہاں یہ حدیث صحیح ہے ۱۲منہ(ت)
اگرثم کاخیال نہ بھی کیجئے تویہ کلام نماز وخطبہ کے درمیان فاصل تھا توہمیشہ اتصال حقیقی ہوناباطل ہوا اور خطبہ ومعاودت میں تو فصل کثیر اسی حدیث نہم سے ثابت جوعنقریب گزری جس کی ایک روایت بخاری و مسلم وابوداؤدو نسائی کے یہاں یوں ہے:
صلی (یعنی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) ثم خطب ثم اٰتی النساء ومعہ بلال فوعظہن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ فرایتھن یھوین بایدیھن یقذفنھن فی ثوب بلال ثم انطلق ھو وبلال الٰی بیتہ۲؎۔
یعنی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نمازِعید پڑھی پھربعدہ، خطبہ فرمایا پھربعدازاں صفوف زنان پرتشریف لاکرانہیں وعظ و ارشادکیااور صدقہ کا حکم دیا تو میں نے دیکھا کہ بیبیاں اپنے ہاتھوں سے گہنا اتاراتارکربلال رضی اﷲ عنہ کے کپڑے میں ڈالتی تھیں پھرحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاشانۂ نبوت کوتشریف فرماہوئے۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب العیدین، باب العلم بالمصلی مطبوعہ نورمحمدقدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳۳)
دیکھو خطبہ کے کتنی دیربعد معاودت ہوئی یہ وعظ وارشاد کہ بیبیوں کوفرمایاگیا جزءِ خطبہ نہیں بلکہ اس سے جُداہے، صحیحین میں روایت جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما صاف فرماتے ہیں کہ:
ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن ۱؎ الحدیث۔
یعنی پھربعد نماز حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے خطبہ فرمایا، جب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے اُترکربیبیوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں تذکیرفرمائی، الحدیث۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب العیدین مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۲۸۹)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں ناقل:
ھذہ الروایۃ مصرحۃ بان ذلک کان بعد الخطبۃ۲؎۔
یہ روایت اس پرتصریح ہے یہ عمل خطبہ کے بعد تھا۔(ت)
(۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ فرع سادس مطبوعہ دارالفکر بیروت ۸/۲۹)
امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں:
انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید۳؎۔
آپ خواتین کے اجتماع میں خطبۂ عیدکے بعد تشریف لے گئے تھے۔(ت)
(۳؎ منہاج نووی شرح مسلم مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۲۸۹)
پس بحمداﷲ تعالٰی ماہ نیم ماہ مھر نیم روز کی طرح روشن ہوا کہ اس تقریر سے عدم دعا کا ثبوت چاہنا محض ہوس خام اور اس محمل پریہ کلام خود باطل وبے نظام
والحمدﷲ ولی الانعام
(سب تعریف اﷲ کے لئے جوانعام کامالک ہے۔ت)
اب محمل دوم کی طرف چلئے جس کا یہ حاصل کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ کاذکرہے ان کے بعد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کادعا مانگنا مذکورنہ ہوا۔
اقول یہ حضرات مانعین کے لئے نام کوبھی مفیدنہیں،سائل نے اس فعل خاص بخصوصیت خاصہ کا سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے صدورپوچھاتھا کہ کس طور پرہوا، اس کا جواب یہی تھا کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس فعل خاص کی نقل جزئی نظر سے نہ گزری مگر اسے عدم جواز کافتوی جان لینا محض جہالت بے مزہ۔
اوّلاً عیداول میں گزراکہ حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا اپنے عموم میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس دعا کاثبوت فعلی بتارہی ہے۔
ثانیاً ثبوت فعلی نہ ہو تو قولی کیاکم ہے بلکہ من وجہ قول فعل سے اعلٰی واتم ہے۔ اب عید اول کی تقریریں پھریادکیجئے اور حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما تو بعد نمازعید خود رب مجید جل وعلا کا اپنے بندوں سے تقاضائے دعافرمانا بتارہی ہے، اس کے بعد اور کسی ثبوت کی حاجت کیاہے، اگرکہئے وہ حدیث ضعیف ہے اقول فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور اثباتِ استحباب میں کافی ووافی ہے
کما نص علیہ العلماء الفحول
(جیسا کہ اکابرعلماء نے اس پرتصریح فرمائی ہے۔ت) خود مجیب کے آخرجلددوم کے فتاوٰی میں ہے:
حدیث ضعیف برائے استحباب کافی ست چنانچہ امام ہمام درفتح القدیر درکتاب الجنائز می نویسند
والاستحباب یثبت بالضعیف غیرالموضوع انتھی۱۱؎۔
حدیث ضعیف استحباب کے لئے کافی ہوتی ہے جیسا کہ ابن ہمام نے فتح القدیر کے باب الجنائز میں لکھا ہے کہ حدیث ضعیف غیرموضوع سے مستحب ہوناثابت ہوجاتاہے انتہی(ت)
ثالثاً جب شرع مطہر سے حکم مطلق معلوم کہ جواز واستحباب ہے توہرفرد کے لئے جداگانہ ثبوت قولی یافعلی کی اصلاً حاجت نہیں کہ باجماع واطباق عقل ونقل حکم مطلق اپنی تمام خصوصیات میں جاری وساری اطلاقِ حکم کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس ماہیت کلیہ یافرد منتشر کاجہاں وجود ہو حکم کاورود ہو اور فردیت بے خصوصیت محال اور وجود عینی وتعین متساوق تو جس قدر خصوصیات وتعینات معقول ہوں سب بالیقین اسی حکم مطلق میں داخل، جب تک کسی خاص کا استثناء شرع مطہر سے ثابت نہ ہو، اس قاعدہ جلیلہ کی تحقیق مبین حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ اﷲ فی الارضین سیّدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفسادمیں افادہ فرمائی
من شاء فلیتشرف بمطالعتہ
(جوچاہے اس کے مطالعہ کا شرف حاصل کرے۔ت) یہاں اسی قدر کافی کہ خود حضرات وہابیہ کے امام ثانی ومعلم اول میاں اسمٰعیل دہلوی رسالہ بدعت میں لکھتے ہیں:
درباب مناظرہ درتحقیق حکم صورت خاصہ کسے کہ دعوے جریان حکم مطلق درصورت خاصہ مبحوث عنہا می نماید ہمانست متمسک باصل کہ دراثبات دعوے خود حاجت بدلیلے ندارد ودلیل اوہماں حکم مطلق ست وبس۱؎۔
مناظرہ میں کسی صورت خاصہ کے ثبوت کے لئے یہ دعوٰی کہ حکم مطلق ہے اور اس کا اطلاق صورتِ خاصہ پر بھی ہوتاہے اصل کے ساتھ استدلال ہے کیونکہ اصل کے ساتھ استدلال میں دلیل کی حاجت نہیں ہوتی یہی دلیل کافی ہے کہ حکم مطلق ہے۔(ت)