Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
122 - 144
خامساً :  یہ سب تو بالائی کلام تھا احادیث پرنظرکیجئے تو وہ اور ہی کچھ اظہارفرماتی ہیں صحاح ستہ وغیرہا خصوصاً صحیحین میں روایات کثیرہ بلفظ ثم وارد، ثم فاصلہ ومہلت چاہتاہے تو ادعاکہ احادیث میں اتصال ہی آیا محض غلط بلکہ حرفِ اتصال اگردو ایک حدیث میں ہے تو کلمہ انفصال آٹھ دس میں،اب روایات سنئے :

حدیث۱:  صحیحین میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے ہے:
واللفظ لمسلم قال شھدت صلٰوۃ الفطر مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابی بکر وعمروعثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم فکلھم یصلیھا قبل الخطبۃ ثم یخطب۲؎۔
مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم،حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی  عنہم کی معیت میں نمازعیدالفطر اداکی ان سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب العیدین    مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی۱/ ۲۸۹)
حدیث۲: صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلی فی الاضحی والفطر ثم یخطب بعد الصلٰوۃ۳؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نمازپڑھاتے پھرنماز کے بعد خطبہ ارشادفرماتے۔(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری          کتاب العیدین       مطبوعہ  قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۱۳۱)
حدیث۳: اسی کے باب استقبال الامام الناس فی خطبۃ العید میں حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہے:
خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم اضحی فصلی العید رکعتین ثم اقبل علینا بوجھہ وقال الحدیث۱؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اضحی کے دن تشریف لائے پھر عیدکی دورکعات پڑھائیں پھر آپ نے ہماری طرف رخِ انورکیا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب العیدین    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۳۳)
حدیث۴: اسی میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی یوم النحر ثم خطب الحدیث۲؎۔
بلاشبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے روز نمازپڑھائی پھرخطبہ دیا۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب العیدین    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۱۳۴)
حدیث۵: اسی میں حضرت جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہے:
صلی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم النحر ثم خطب ثم ذبح۳؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز پڑھائی پھرخطبہ دیا پھرقربانی کی(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری    کتاب العیدین    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۱۳۴)
حدیث۶: جامع ترمذی میں بافادۂ تحسین وتصحیح حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابوبکر وعمریصلون فی العیدین قبل الخطبۃ ثم یخطبون۴؎۔
 (۴؎ جامع الترمذی    باب فی صلٰوۃ العیدین    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱ /۷۰)
حدیث۷: سنن نسائی میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یخرج یوم العید فیصلی رکعتین ثم یخطب۵؎۔
بلاشبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم عیدکے دن باہرتشریف لاتے آپ دو رکعتیں پڑھاتے پھرخطبہ دیتے(ت)
 (۵؎ سنن نسائی    کتاب صلٰوۃ العیدین    مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۲۳۴)
یہ سات حدیثیں ظاہرکرتی ہیں کہ حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اور صدیق وفاروق وعثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی  عنہم نمازعیدین کاسلام پھیرکرکچھ دیرکے بعد خطبہ شروع فرماتے۔
حدیث۸:صحیحین میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ہے:
واللفظ للبخاری کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخرج یوم الفطر والاضحی الی المصلی فاول شیئ یبدؤ بہ الصلٰوۃ ثم ینصرف فیقوم مقابل الناس والناس جلوس علی صفوفھم فیعظھم ویوصیھم فان کان یرید ان یقطع بعثا قطعہ اویامربشیئ امر بہ ثم ینصرف۱؎۔
الفاظ بخاری یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم عیدالفطر اور اضحی کے دن باہرعیدگاہ میں تشریف لاتے سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے پھرلوگوں کی طرف متوجہ ہوتے لوگ اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے آپ انہیں وعظ ونصیحت فرماتے، اگرآپ نے کسی لشکر کو بھیجنا ہوتاتو روانہ فرماتے اور کسی کاحکم دینا ہوتا توحکم فرمادیتے پھرآپ واپس تشریف لاتے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری  کتاب العیدین باب خروج الصبیان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۳۱)
یہ حدیث خطبہ ومعاودت میں فصل بتاتی ہے۔
حدیث۹: بخاری و مسلم ودارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت حبرالامۃ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے راوی:
قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم فطر او اضحی فصلی ثم خطب ثم اٰتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ۲؎۔
فرمایا میں فطر اور اضحی کے روز نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے ساتھ نکلا آپ نے نمازپڑھائی پھرخطبہ دیاپھرخواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کاحکم دیا۔(ت)
 (۲؂ صحیح البخاری        کتاب العیدین باب خروج الصبیان    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۳۳)
یہ حدیث دونوں جگہ فصل کااظہار کرتی ہے، سبحن اﷲ! پھرکیونکرادعاکرسکتے ہیں کہ نماز وخطبہ وخطبہ ومعاودت میں ایسااتصال رہا جو عدم دعاپر دلیل ہوا، اگرکہئے ثم کبھی مجازاً بحالتِ عدم مہلت بھی آتاہے
قال الشاعر:؎

کھزالردینی تحت العجاج

جری فی الانابیب ثم اضطرب۳؎
 (اس کی حرکت اس ردینی نیزے کی طرح ہے جو میدان کارزارمیں اڑنے والے غبارمیں حرکت کرتے ہوئے پوروں پرلگتاہے توجنبش کرتاہے)
 (۳؎ اوضح المسالک الی الفیہ ابن مالک  بحث لفظ ثمّ  مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۳)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ    فرع سادس من الفصل الثانی    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت   ۸/۲۹)
Flag Counter