محمل اول پریہ کلام خود ہی بوجوہ کثیر باطل:
اوّلاً یہ تو اصلاً کسی حدیث میں نہیں کہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلام پھیرتے ہی بفورحقیقی معاً خطبہ فرماتے تھے اور خطبہ ختم فرماتے ہی بے فصل فوراً واپس تشریف لاتے، غایت یہ کہ کسی حدیث میں فائے تعقیب آنے سے استدلال کیاجائے گا مگر وہ ہرگز اتصال حقیقی پردال نہیں کہ دو حرف دعا سے فصل کی مانع ہو،
فواتح شرح مسلم میں فرمایا:
الفاء للترتیب علٰی سبیل التعقیب من غیر مھلۃ وتراخ، یعد فی العرف مھلۃ وتراخیا۱؎۔
فاء ترتیب کے لئے ہے یہ بغیر مہلت وتراخی کے تعاقب کے لئے ہے عرف میں اسے مہلت شمار کیاجاتاہے اور تراخی بھی صحیح ہے۔(ت)
یاہذا یہ، تدقیقات ضیفۂ فلسفیہ نہیں، محاورات صافیہ عرفیہ ہیں، اگر زید وعدہ کرلے نماز پڑھ کر فوراً آتاہوں تونماز کے بعد معمولی دوحرفی دعاہرگز عرفاً یاشرعاً مبطل فور وموجب خلاف وعدہ نہ ہوگی، مسئلہ سجود تلاوت صلاتیہ میں سناہی ہوگا کہ دو آیتیں بالاتفاق اور تین علی الاختلاف قاطع فورنہیں۔
یاہذا یہ، تدقیقات ضیفۂ فلسفیہ نہیں، محاورات صافیہ عرفیہ ہیں، اگر زید وعدہ کرلے نماز پڑھ کر فوراً آتاہوں تونماز کے بعد معمولی دوحرفی دعاہرگز عرفاً یاشرعاً مبطل فور وموجب خلاف وعدہ نہ ہوگی، مسئلہ سجود تلاوت صلاتیہ میں سناہی ہوگا کہ دو آیتیں بالاتفاق اور تین علی الاختلاف قاطع فورنہیں۔
ثانیاً دعاتابع ہے اور توابع فاصل نہیں ہوتے، واجبات میں ضم سورت سناہوگا مگرآمین فاصل نہیں کہ تابع فاتحہ ہے،
حضورپرنورسیدیوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تسبیح حضرت بتول زہرا صلوات اﷲ وسلامہ علٰی ابیہا الکریم وعلیہا کی نسبت فرمایا:
معقبات لایخیب قائلھن۱؎۔ رواہ احمدومسلم والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کچھ کلمات نماز کے ابعد بلافاصلہ کہنے کے ہیں جن کا کہنے والا نامرادنہیں رہتا۔ اسے امام احمد، مسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
(۱؎ سنن النسائی نوع آخر من عددالتسبیح مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۹۸)
بااینہمہ علمافرماتے ہیں اگرسنن بعدیہ کے بعد پڑھے تعقیب میں فرق نہ آئے گا کہ سنن توابع فرائض سے ہیں
دُرمختار میں ہے:
یکرہ تاخیرالسنۃ الابقدر اللھم انت السلام۲؎الخ
سنتوں میں اللھم انت السلام الخ کی مقدار سے زائد تاخیرمکروہ ہے۔(ت)
لما رواہ مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقعد الابمقدار مایقول اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذا الجلال والاکرام واما ماورد من الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلٰوۃ فلا دلالۃ فیہ علی الاتیان بھا قبل السنۃ ۱۲بل یحمل علی الاتیان بھا بعدھا لان السنۃ من لواحق الفریضۃ وتوابعھا ومکملاتھا فلن تکن اجنبیۃ عنہا فمایفعل بعدھا یطلق علیہ انہ عقیب الفریضۃ۱؎۔
کیونکہ مسلم اور ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صرف اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذاالجلال والاکرام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے، اور دیگر روایات میں جونماز کے بعد اذکار کا ذکرہے اس میں یہ دلالت نہیں کہ وہ اذکار سنن سے پہلے ہوتے تھے بلکہ بعد میں بھی بجالائے جاسکتے ہیں کیونکہ سنتیں فرائض کے لواحقات، توابع اور ان کی تکمیل کاسبب ہیں لہٰذا یہ فرائض سے اجنبی نہیں ہیں جو ان سنن کے بعد ہو اس پریہ اطلاق کیاجاسکتاہے کہ وہ فرائض کے بعد ہوا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل واذا ارادوا الشروع الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۹۱)
ثالثاً مانا کہ مفاد ''فا'' اتصال حقیقی ہے تاہم خوب متنبہ رہناچاہئے کہ حضورپرنورسیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نوبرس عید کی نمازیں پڑھی ہیں تو احادیث متعددہ کا وقائع متعددہ پرمحمول ہوناممکن،پس اگرایک حدیث صلٰوۃ وخطبہ اوردوسری خطبہ وانصراف میں وقوع اتصال پردلالت کرے اصلاً بکارآمدنہیں کہ ایک بار بعد خطبہ،دوبارہ بعدنماز دعا کا عدم ثابت نہ ہوگا، تو (یوں وہ) مقصود سے منزلوں دورہے کمالایخفی۔
رابعاً مسلّم کہ ایک ہی حدیث میں دونوں اتصال مصرح ہوں تاہم بلفظ دوام تواصلاً کوئی حدیث نہ آئی
ومن ادعی فعلیہ البیان
(اور جو اس کادعوٰی کرتاہے وہ دلیل لائے۔ت) اور ایک آدھ جگہ
صلی فخطب فعاد
(نمازپڑھائی، پس خطبہ دیا اور لَوٹ گئے۔ت) ہوبھی تو واقعہ حال ہے اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں کمانصواعلیہ (جیسا کہ علماء نے اس پرتصریح کی ہے۔ت) اور ہم قائل وجوب ولزوم نہیں کہ ترک مرۃً ہمارے منافی ہو اور اگر لفظ
کان یصلی فیخطب فیعود
(آپ نماز پڑھاتے خطبہ دیتے اور لَوٹ جاتے۔ت) بھی فرض کرلیں توہنوز اس کاتکرار پردلیل ہونا محل نزاع نہ کہ دوام،خود مجیب اپنے رسالہ غایۃ المقال میں کلام حافظ ابوزرعہ عراقی:
ان فی الصحیحین وغیرھما عن سعید بن یزید قال سألت انس بن مالک کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ فقال نعم وظاھرہ ان ھذاکان شانہ وعادتہ المستمرۃ دائماالخ۲؎
بخاری و مسلم وغیرہما میں حضرت سعیدبن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نعلین کے اندرنماز ادافرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:ہاں، اس کے ظاہرسے یہی محسوس ہوتاہے کہ آپ کا دائمی معمول تھا الخ(ت)
(۲؎ رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۰۹)
نقل کرکے لکھتے ہیں :
ماذکرہ من دلالۃ حدیث انس علی کون العادۃ النبویۃ مستمرۃ بالصلوۃ فی النعال منظورفیہ لعدم وجود مایدل علیہ فیہ ولعلہ استخرجہ من لفظ کان وھو استخراج ضعیف لما نص علیہ الامام النووی فی کتاب صلٰوۃ اللیل من شرح صحیح مسلم من ان لفظ کان لایدل علی الاستمرار والدوام فی عرفھم اصلا۱؎۔
حدیث انس سے ان کا اس پراستدلال کہ نعلین میں نماز اداکرنا حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی عادت دائمی تھی محل نظر ہے کیونکہ الفاظ ِ حدیث میں ایسی کوئی شئ موجودنہیں شاید انہوں نے لفظ کان سے استنباط کیاہو حالانکہ یہ استنباط ضعیف ہے کیونکہ امام نووی نے شرح مسلم کے کتاب صلٰوۃ اللیل میں تصریح کی ہے کہ لفظ کان محدثین کے عرف میں ہرگز دوام و استمرار پردلالت نہیں کرتا۔(ت)
(۱؎ رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۰۹)
اس مسئلہ کی تمام تحقیق فقیرکے رسالہ التاج۱۳۰۵ھ المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل میں ہے۔