یہاں صرف بعض آیات اور ان کی تفسیروں پراقتصارہوتاہے جوعموم تمامی اوقات واحوال میں نص ہیں:
آیت۱: قال جل ذکرہ : فَاذْکُرُوااﷲ قِیَامًاوَّقُعُوْدًاوَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ۶؎۔
اﷲ کاذکر کروکھڑے اوربیٹھے اور اپنی کروٹوں پر۔
(۶؎ القرآن ۴/۱۰۳)
علمائے کرام اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں کہ جمیع احوال میں ذکرالٰہی ودعاکی مداومت کرو۔ بیضاوی میں ہے:
داوموا علی الذکر فی جمیع الاحوال۱؎ ای داوموا علی ذکراﷲ تعالٰی فی جمیع الاحوال۲؎
تمام احوال میں ذکرپرمدامت کرو۔(ت) یعنی تمام احوال میں اﷲ تعالٰی کے ذکرپر دوام اختیارکرو۔(ت)
(۱؎انوارالتنزیل المعروف بتفسیر البیضاوی آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۰۴)
(۲؎ تفسیر النسفی المعروف بتفسیر المدارک آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/۲۴۸)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
داوموا علی الذکراﷲ تعالٰی۔ حافظوا علی مراقبتہ ومناجتہ ودعائہ فی جمیع الاحوال۔۳؎
تمام احوال میں اﷲ تعالٰی کے ذکر پرمداومت کرو، اور مراقبہ، مناجات اور رب سے دعاکی محافظت کرو۔(ت)
(۳؎ تفسیر ارشاد العقل السلیم آیہ مذکورہ کے تحت مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی بیروت ۲/۲۲۸)
آیت۲: قال عزّاسمہ : یاۤایُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوا اﷲ ذِکْرًا کَثِیْرًاط۴؎۔
خدا کو بکثرت یادکرنے والے مرد اور بکثرت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اﷲ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیارکررکھاہے۔
(۳؎القرآن ۳/۳۵)
مولٰنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، ماثبت بالسنۃ میں لکھتے ہیں:
لایخفی ان الذکر والتسبیح والتھلیل والدعاء لاباس بہ لانھا مشروعۃ فی کل الامکنۃ و الازمان۴؎۔
پوشیدہ نہیں کہ ذکروتسبیح وتہلیل ودعا میں کچھ مضائقہ نہیں کہ یہ چیزیں وہرجگہ اور ہروقت مشروع ہیں۔
(۴؎ ماثبت بالسنۃ خاتمہ کتاب ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور ص۳۲۶)
اﷲاﷲ کیاستم جری ہیں وہ لوگ کہ قرآن وحدیث کی ایسی عام مطلق اجازتوں کے بعد خواہی نخواہی بندگان خدا کو اس کی یادودعا سے روکتے ہیں حالانکہ اس نے ہرگز اس دعا سے ممانعت نہ فرمائی،
سب تعریف اﷲ کے لئے ہے جو دل کو رہنمائی عطاکرنے والا ہے اور صلٰوۃ وسلام ہوگناہوں کی شفاعت کرنے والے پر آپ کی آل و اصحاب پرجن کے عیوب معدوم ہیں جب تلک شمس کے لئے طلوع وغروب ہے، آمین!(ت)
العیدالثانی وبجودالحبیب حصول الامانی
(اﷲ تعالٰی کی توفیق ہی سے مقاصد کا حصول ہے۔ت) پہلے وہ فتوی پیش نظررکھ لیجئے کہ مستندین کا حاصل سعی ومبلغ وہم ظاہرہوحاشا اس فتوے میں جواز وعدم جواز کی اصلاً بحث نہیں، نہ سائل نے اس سے پوچھا نہ مجیب نے ناجائز لکھا بلکہ سوال یوں ہے
ماقولھم رحمھم اﷲ تعالٰی
(ان رحمہم اﷲ تعالٰی کاکیاقول ہے۔ت) اس مسئلہ میں کہ جناب رسول مقبول علیہ الصلٰوۃ والسلام اور اصحاب وتابعین و تبع تابعین و ائمہ اربعہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین بعدنماز عیدین کے دعا مانگتے تھے یا بعد پڑھنے خطبہ عیدین کے کھڑے کھڑے یابیٹھ کریابدون ہاتھ اٹھائے
بیّنوا و افتوا بسند الکتاب توجرواعنداﷲ یحسن الماب
(کتاب کی سند کے ساتھ اسے بیان کرکے اﷲ تعالٰی کے ہاں سے بہتر اجر وجزاپاؤ۔ت)اور جواب یہ ھوالمصوب روایاتِ حدیث سے اس قدر معلوم ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نمازعید سے فراغت کرکے خطبہ پڑھتے تھے اور بعد اس کے معاودت فرماتے، دعامانگنا بعد نمازیاخطبہ کے آپ سے ثابت نہیں، اسی طرح صحابہ کرام و تابعین عظام سے ثبوت اس امرکانظرسے نہیں گزرا۔واﷲ اعلم
حررہ الراجی عفو ربہ القوی ابوالحسنات محمد عبدالحی تجاوزاﷲ عن ذنبہ الجلی والخفی محمدعبدالحی ابوالحسنات
8_2.jpg
اقول وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی اوج التحقیق
(اﷲ کی توفیق اور تحقیق کی بلندی پراسی سے عروج ہے۔ت) قطع نظر اس سے محل احتجاج میں کہاں تک پیش ہوسکتاہے حضرات مانعین کو ہرگزمفید، نہ ہمیں مضر، جواز و عدم کا تو اس میں ذکر ہی نہیں، سائل ومجیب دونوں کاکلام ورود وعدم ورود میں ہے پھرمجیب نے صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت نہ ہونے پرجزم بھی نہ کیا،صرف اپنی نظر سے نہ گزرنا لکھا اور ہرعاقل جانتاہے کہ نہیں اور نہ دیکھا میں زمین وآسمان کافرق ہے یہ ان کے جو اکابر ماہران فنِ حدیث ہیں بارہا فرماتے ہیں ہم نے نہ دیکھی اور دوسرے محدثین اس کا پتادیتے ہیں فقیرنے اس کی متعدد مثالیں اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین میں ذکرکیں پھریہ نہ دیکھنا بھی مجیب،خاص اپنابیان کررہے ہیں نہ کہ ائمہ شان نے اس طرح کی تصریح فرمائی،کہ ایساہوتاتو نظرسے نہ گزرا کےعوض اس امام کا ارشاد نقل کرتے، خصوصاً جبکہ سائل درخواست کرچکاتھا کہ
بیّنوا و افتوابسندالکتاب
(کتاب کی سند کے ساتھ بیان کرو اور فتوٰی دو۔ت) تو آج کل کے ہندی علماء کانہ دیکھنا نہ ہونے کی دلیل کیونکرہوسکتاہے آخرنہ دیکھا کہ فقیرغفرلہ المولی القدیر نے حدیث صحیح سے اس کا نص صریح، ائمہ تابعین قدست اسرارہم سے واضح کردیا والحمدﷲ رب العٰلمین پھر خصوص جزئیہ سے قطع نظرکیجئے،جس کا التزام عقلاً ونقلاً کسی طرح ضرور نہیں جب تو فقیرنے خود حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے جس جس طرح اس کا ثبوت روشن کیا منصف غیرمتعسف اس کی قدرجانے گا والحمدﷲ والمنۃ، پھر سوال میں تبع تابعین وائمہ اربعہ سے استفسار تھا مجیب نے ان کی نسبت اس قدربھی نہ لکھا کہ نظرسے نہ گزرا، اب خواہ ان سے ثبوت نہ دیکھا یاپوری بات کاجواب نہ ہوا، بہرحال محل نظر واسناد مستند صرف اس قدر کہ مجیب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے نفی ثبوت کرتے ہیں اور تقریب یہ کہ حدیثوں میں یہی وارد ہے کہ نماز کے متصل خطبہ اور خطبہ کے متصل معاودت فرماتے تو دعا کا وقت کون سارہا،اس تقدیر پرثبوتِ عدم کا ادعاہوگا، دوسرے یہ کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ ومعاودت کاذکرہے دعامذکور نہیں، یہ عدم ثبوت کادعوٰی ہوگا، اور کلام مجیب سے یہی ظاہرہے کہ ثابت نہیں، کہتے ہیں، نہ کہ نہ کرنا ہی ثابت ہے، اور لفظ ''اسی قدرمعلوم ہوتاہے'' بھی اسی طرف ناظر، کہ اگر اس سے اثبات عدم مقصود ہوتا توطرزادا یہ تھی، کہ حدیثوں سے صاف ثابت کہ نماز وخطبہ ومعاودت میں فصل نہ تھا، پس دعانہ مانگنا ثابت ہوا، باینہمہ شاید حضرات مانعین اپنے نفع کے گمان سے کلام مجیب کو خواہ مخواہ محمل اول پرحمل کریں، لہٰذا فقیرغفرلہ المولی القدیر دونوں محمل پرکلام کرتاہے وباﷲ التوفیق۔