احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : اس باب میں سرحدِ تواتر پرخیمہ زن، ایک جملہ صالحہ اُن سے حضرت ختام المحققین سنام المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے رسالہ مستطابہ ''احسن الوعا لاٰداب الدعا''میں ذکرفرمایا اور فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس کی شرح مسمی بہ ''ذیل المدعا لاحسن الوعا''میں اُن کی تخریجات کاپتابتایا، باقی کتاب الترغیب امام منذری وحصن حصین امام ابن الجزری وغیرہما تصانیف علما ان احادیث کی کفیل ہیں،میں بخوف اطالت احادیث فضائل سے عطف عنان کرکے صرف ان بعض حدیثوں پراقتصارکرتاہوں جن میں دعا کی تاکید یا اس کے ترک پرتہدید یا اس کی تکثیر کاحکم اکیدہے۔
حدیث۱: عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حدیث۲ : زیدبن خارجہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صلوا علیّ واجتھدوافی الدعاء۲؎۔ رواہ الامام احمد والنسائی والطبرانی فی الکبیر وابن سعدوسمویہ والبغوی والباوردی و ابن قانع۔
مجھ پردرودبھیجو اور دعامیں کوشش کرو۔ اسے امام احمد، نسائی اور طبرانی نے کبیرمیں، ابن سعد، سمویہ، بغوی، باوردی اور ابن قانع نے روایت کیا۔
(۲؎ سنن النسائی باب الصلٰوۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۱۹۰)
حدیث۳: انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتعجزوا فی الدعاء فانہ لن یھلک مع الدعاء احد۳؎۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ والحاکم وصححہ۔
دعامیں تقصیرنہ کرو جو دعاکرتارہے گا ہرگزہلاک نہ ہوگا۔ اسے ابن حبان نے صحیح میں اور حاکم نے روایت کرکے صحیح قراردیا۔
(۳؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالکتب بیروت ۱/ ۴۹۴)
حدیث۴: جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تدعون اﷲ لیلکم ونھارکم فان الدعاء سلاح المؤمن۱؎۔ رواہ ابویعلی
رات دن خدا سے دعامانگو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔ اسے ابویعلٰی نے روایت کیاہے۔
(۱؎ مسند ابی یعلٰی مروی ازجابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۱۸۰۶ مطبوعہ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۲/۳۲۹)
حدیث۵: عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اکثروالدعاء بالعافیۃ۲؎۔ رواہ الحاکم بسند حسن۔
عافیت کی دعا اکثر مانگ۔ امام حاکم نے اسے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے۔
(۲؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۵۲۹)
حدیث۶: انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے سیّدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اکثر من الدعاء فان الدعاء یرد القضاء المبرم۳؎۔ اخرج ابوالشیخ فی الثواب۔
دعا کی کثرت کرو کہ دعا قضائے مبرم کو رَد کرتی ہے۔ اسے ابوالشیخ نے ثواب میں نقل کیاہے۔
(۳؎ کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث۳۱۲۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۲/ ۶۳)
اس حدیث کی شرح فقیر کے رسالہ ذیل المدعامیں دیکھئے۔
حدیث۷و۸: عبادہ صامت وابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیثوں میں ہے ایک بار حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا کی فضیلت ارشاد فرمائی، صحابہ نے عرض کی: اذا نکثر۴؎ ایسا ہے تو ہم دعا کی کثرت کریں گے، فرمایا: اﷲ اکثر۵؎اﷲ عزوجل کا کرم بہت کثیرہے وفی الروایۃ الاخری (دوسری روایت میں ہے۔ت) اﷲ اکبراﷲ بہت بڑاہے،
رواہ الترمذی والحاکم عن عبادۃ وصححاہ واحمد والبزار وابویعلی باسانید جیّدۃ والحاکم وقال صحیح الاسناد عن ابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اسے امام ترمذی اور حاکم نے حضرت عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرکے 3صحیح قراردیا، امام احمد، بزار اور ابویعلٰی نے اسانید جیدہ کے ساتھ روایت کیاہے اور حاکم نے حضرت ابوسعیدرضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کرکے فرمایا کہ اس کی سند صحیح ہے۔(ت)
حدیث ۹و۱۰: سلمان فارسی و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیثوں میں ہے حضورِ والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سرہ ان یستجیب اﷲ لہ عند الشدائد فلیکثرمن الدعا عندالرخاء۱؎۔ رواہ الترمذی عن ابی ھریرۃ والحاکم عنہ وعن سلمان وقال صحیح واقروہ۔
جسے خوش آئے کہ اﷲ تعالٰی سختیوں میں اس کی دعاقبول فرمائے وہ نرمی میں دعا کی کثرت رکھے۔ اسے ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے فرمایا کہ یہ صحیح ہے اور محدثین نے اس کی صحت کو برقراررکھا۔
حدیث۱۱: ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یسأل اﷲ یغضب علیہ۲؎۔ رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ والبزار وابن حبان والحاکم وصححاہ۔
جو اﷲ تعالٰی سے دعانہ کرے گا اﷲ تعالٰی اس پر غضب فرمائے گا۔ اسے امام احمد، ابن ابی شیبہ اور بخاری نے ادب المفرد میں، ترمذی، ابن ماجہ، بزار، ابن حبان اور حاکم نے روایت کرکے صحیح کہا۔
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۷۳)
(ادب المفرد باب ۲۸۶ حدیث ۶۵۸مطبوعہ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص۱۷۱)
مسنداحمدبن حنبل مروی ازابوہریرہ رضی اﷲ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ /۴۴۳
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء حدیث ۹۲۱۸مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱۰/۲۰۰)
ایہاالمسلمون تم نے اپنے مولا جل وعلا اور اپنے رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادات سنے ان میں کہیں بھی تخصیص وتقیید کی بوہے، یہ تو بارہا فرمایا کہ دعاکرو، کہیں یہ بھی فرمایاکہ فلاں نمازکے بعدنہ کرو؟ یہ تو صاف ارشاد ہوا ہے کہ جس وقت دعاکروگے میں سنوں گا، کہیں یہ بھی فرمایا کہ فلاں وقت کروگے تو سنوں گا؟ یہ تو بتاکید باربار حکم آیا ہے کہ دعا سے عاجزنہ ہو، دعامیں کوشش کرو، دعا کو لازم پکڑو، دعا کی کثرت رکھو، رات دن دعامانگو،کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد نہ مانگو؟ یہ توڈر سناگیاہے کہ جو دعانہ مانگے گا اس پرغضب ہوگا، کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد جومانگے گا اس سے اﷲ تعالٰی ناراض ہوگا؟ـ اور جب کہیں نہیں تو خداورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جس چیز کو عام ومطلق رکھا دوسرا اسے مخصوص ومقیدکرنے والاکون؟ خداورسول عزمجدہ، وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جس چیزسے منع نہ فرمایادوسرا اسے منع کرنے والا کون؟ قال تعالٰی :
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اﷲ پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا۔
(۱؎ القرآن ۱۶/۱۱۶)
اصل یہ ہے کہ
اِنِ الْحُکمُ اِلاَّﷲِ
۲؎ حکم صرف خداہی کے لئے ہے۔
(۲؎ القرآن ۶/۵۷)
جس چیز کو اس نے کسی ہیأتِ خاصہ محل معین سے مخصوص اور اس پر مقصورومحصور فرمایا اس سے تجاوز جائزنہیں، جو تجاوزکرے گا دین میں بدعت نکالے گا اور جس چیز کو اس نے ارسال واطلاق پررکھا ہرگز کسی ہیأت ومحل پرمقتصرنہ ہوگی اورہمیشہ اپنے اطلاق ہی پررہے گی جو اس سے بعض صور کو جداکرے گا دین میں بدعت پیداکرے گا، ذکرودعا اسی قبیل سے ہیں کہ زنہار شرع مطہر نے انہیں کسی قیدوخصوصیت پرمحصورنہ فرمایابلکہ عموماً ومطلقاً ان کی تکثیر کاحکم دیا۔ دعا کے بارے میں آیات وحدیث سن ہی چکے اور دلائل مطلقہ تکثیر ذکرجنہیں اس سلسلہ شمارمیں(خامساً) کہئے کہ ہر دعا بالبداہۃ ذکرالٰہی ہے اور اس پرعلما نے تنصیص بھی فرمائی، مولانا قاری شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: کلہ دعاء ذکر (ہردعاذکرہے۔ت) تو اجازت عامہ ذکرکے دلائل بعینہا اجازت عامہ کے دلائل ہیں کہ تعمیم افراد اعم (عہ) یامساوی، لاجرم تعمیم افراد اخص ومساوی ہے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت) ان دلائل جلائل کاوفور کامل حداحصاکا طرف مقابل، فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء میں اس مدعا پر بکثرت آیات وحادیث لکھیں،
عہ : ذکر اعم صرف بنظرکلیہ حاضرہ ہے ورنہ سابق گزرا کہ دوسری طرف سے یہی کلیہ ہے تو دعا وذکرقطعاً متساوی اور اب اتحاد ادلہ اوریہی واضح وجلی ۱۲منہ (م)
ازانجملہ حدیث حسن ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثروا ذکراﷲ حتی یقولوامجنون ۱؎۔
ذکرِالٰہی کی یہاں تک کثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں۔
(۱؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /۴۹۹)
وحدیث حسن عبداﷲ بن بُسررضی اﷲ تعالٰی عنہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایزال لسانک رطبا من ذکراﷲ۲؎ہمیشہ ذکرالٰہی میں ترزبان رہ۔