یہ موضع شرط میں نکرہ ہے اور مقام شرط نفی ہے اور نکرہ مقامِ نفی میں عموم کا مفید ہوتا ہے۔(ت)
(۲؎ الجامع الصغیر)
معہذا اسمائے شروط سب صورتوں کو عام ہوتے ہیں،امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
اذا عام فی الصورعلی ماھوحال اسماء الشرط۳؎۔
اذا تمام صورتوں میں عام ہے جیسا کہ اسماءِ شرط کا حال ہوتا ہے۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر)
تو قطعاً تمام صلواتِ فریضہ و واجبہ ونافلہ کے جلسے اس حکم میں داخل اورادعائے تخصیص بے مخصص محض مردود وباطل،اور جہت معنی سے یوں کہ جلسہ خیر سے اُٹھتے وقت یہ دُعاکرنا اُس خیرکے نگاہداشت کے لئے ہے تو خیر جس قدر اکبر واعظم اُسی قدر اس کا حفظ ضروری و اہم، اور بلاشبہہ خیر نماز سے سب چیزوں سے افضل واعلٰی تو ہر نماز کے بعد اس دعاکا مانگنا مؤکد تر ہوا یارب، مگر نمازِعیدین نماز نہیں یا اس کے حفظ کے جانب نیاز نہیں یاحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بنفس نفیس جلسۂ نماز کو اس حکم میں داخل فرمایا تخریج حدیث تو اوپر سُن چکے کہ نسائی وابن ابی الدنیا نے وحاکم وبیہقی نے روایت کی اب لفظ سنئے ،سنن نسائی کی نوع من الذکر بعد التسلیم میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا قالت ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا جلس مجلسا او صلی تکلم بکلمات و سالتہ عائشۃ عن الکلمات فقال ای تکلم بخیر کان تابعا علیھن یوم القٰی مۃ وان تکلم بشر کان کفارۃ لہ، سبحٰنک اللہم و بحمدک استغفرک و اتوب الیک۔۱
یعنی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں حضور پُرنور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے کچھ کلمات فرماتے،ام المومنین نے وہ کلمات پُوچھے، فرمایا وہ ایسے ہیں کہ اگر اس جلسہ میں کوئی نیک بات کہی ہے تو یہ قیامت تک اس پر مُہر ہوجائیں گے اور بُری کہی ہے تو کفارہ۔الٰہی! میں تیری تسبیح وحمد بجالاتا ہوں اور تجھ سے استغفار و توبہ کرتا ہوں۔
(۱؎ سنن النسائی کتاب السہو نوع من الذکر بعد التسلیم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/۱۹۷)
پس بحمد اﷲ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہوگیا کہ نمازِ عیدین کے بعد دُعا مانگنے کی خودحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تاکید فرمائی لفظ لا یبرحن بنون تاکید ارشاد ہوا بلکہ انصاف کیجئے توحدیثِ ام المومنین صلی اﷲ تعالٰی علٰی زوجہاالکریم وعلیہا وسلم خودحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا بعد نماز عیدین دعا مانگنا بتا رہی ہے کہ صلی زیر اذا،داخل تو ہر صورت نماز کو عام وشامل اور منجملہ صور نماز عیدین،توحکم مذکور انہیں بھی متناول ،پس یہ حدیثِ جلیل بحمد اﷲ خاص جزئیہ کی تصریح کامل۔
رابعاً اقول: وباﷲ التوفیق ان سب سے قطع نظر کیجئے تو دُعا مطلقاً اعظم مندوباتِ دینیہ واجل مطلوبات شرعیہ سے ہے کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں بے تقییدِ وقت وتخصیصِ ہیأت مطلقاً اس کی اجازت دی اور اُس کی طرف دعوت فرمائی اور اسکی تکثیر کی رغبت دلائی اور اس کے ترک پر وعید آئی،
مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فرماتا ہے :
وقال ربکم ادعونی استجب لکم۲؎۔
اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعاکرو میں قبول کروں گا۔
(۲؎ القرآن ۳۹/ ۶۰)
اور فرماتا ہے :
اجیب دعوۃ الدّاع اذادعان۳؎۔
قبول کرتا ہوں دُعا کرنے والے کی دُعا جب مجھے پکارے۔
اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ وَاَنَا مَعَہ، اِذَا دَعَانِیْ۱؎۔ رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ
میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے۔ اسے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے آپ نے اپنے رب عزوجل سے روایت کیا۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التوحید مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۰۱)
(صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ /۳۴۱و ۳۴۳ و۳۵۴)
اور فرماتاہے :
یَااِبْنِ اٰدَمَ اِنَّکَ مَادَعَوْتَنِیْ غَفَرْتُ لَکَ عَلٰی مَاکَانَ مِنْکَ وَلَااُبَالِیْ۲؎۔ رواہ الترمذی وحسنہ عن انس بن مالک عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ تبارک وتعالٰی۔
اے فرزندآدم! تو جب تک مجھ سے دعامانگے جائےگا اور اُمیدرکھے گا تیرے کیسے ہی گناہ ہوں بخشتارہوں گااور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ ترمذی نے روایت کرکے اسے حسن قراردیاہے اور اسے حضرت انس بن مالک سے انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے آپ نے اپنے رب تبارک وتعالٰی سے بیان فرمایا۔
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الزہد مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۶۲)
اور فرماتاہے عزوجل :
مَنْ لاَّیَدْعُوْنِیْ اَغْضِبْ عَلَیْہِ۳؎۔ رواہ العسکری فی المواعظ بسند حسن عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ تعالٰی و تقدس۔
جومجھ سے دعانہ کرے گا میں اس پرغضب فرماؤں گا اسے عسکری نے مواعظ میں سندحسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سےاور آپ نے رب تعالٰی وتقدس سے بیان فرمایا۔
(۳؎ کنزالعمال بحوالہ العسکری فی المواعظ حدیث ۳۱۲۷ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۲ /۶۳
سنن ابن ماجہ باب فضل الدعاء مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۸۰)