Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
117 - 144
امام احمد واصحابِ صحاح ستّہ حضرت امِّ عطیہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے راوی حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تخرج العواتق وذوات الخدور والحیض ویعتزل الحیض المصلی ویشھدن الخیرودعوۃالمسلمین۱؎۔
نوجوان کنواریاں اور پردہ والیاں اور حائض سب عید گاہ کو جائیں اورحیض والیاں عید گاہ سے الگ بیٹھیں اور اس بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔
 (۱؎ صحیح البخاری        باب شہود الحائض العیدین الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/۴۷ و ۱۳۴)
صحیح بخاری کی دوسری روایت ان لفظوں سے ہے :
قالت کنا نومر ان نخرج یوم العید حتی تخرج البکرمن خدرھا حتی تخرج الحیض فیکنّ خلف الناس فیکبرن بتکبیرھم ویدعون بدعائھم یرجون برکۃ ذلک الیوم وطھرتہ۲؎۔
یعنی ام عطیہ رضی اﷲتعالٰی  عنہا فرماتی ہیں کہ ہم عورتوں کوحکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن باہر جائیں یہاں تک کہ کنواری اپنے پردے سے باہر نکلے یہاں تک کہ حیض والیاں باہر آئیں صفوں کے پیچھے بیٹھیں مسلمانوں کی تکبیر پر تکبیر کہیں اوراُ ن کی دُعا کے ساتھ دُعا مانگیں اس دن کی برکت پاکیزگی کی امیدیں۔
 (۲؎ صحیح البخاری        باب شہود الحائض العیدین الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۳۲)
امام بیہقی اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب الثواب میں حضرت عبداﷲ بن عباس(عہ) رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے راوی:
انہ سمع رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول اذاکانت غداۃ الفطربعث اﷲعزوجل الملئکۃ فی کل بلد(وذکر الحدیث الی ان قال)فاذابرزوا الی مصلاھم فیقول اﷲ عزوجل (وساق الحدیث الی ان قال) ویقول یاعبادی سلونی فوعزتی وجلالی لاتسئلونی الیوم شیئا فی جمعکم لاٰخرتکم الااعطیتکم ولا لدنیاکم الانظرت لکم، فوعزّتی لاسترن علیکم عثراتکم مار اقبتمونی وعزّتی وجلالی لااخزیکم ولاافضحکم بین اصحاب الحدود وانصرفوامغفورا لکم قد ارضیتمونی ورضیت عنکم۱؎(مختصرمن حدیث طویل)
یعنی حضور پر نور سیّد یوم النشور علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا: جب عید کی صبح ہوتی ہے مولٰی  سبحٰنہ تعالٰی  ہر شہر میں فرشتے بھیجتا ہے(اس کے بعد حدیث میں فرشتوں کا شہر کے ہر ناکہ پر کھڑا ہونا اور مسلمانو ں کو عیدگاہ کی طرف بلانا بیان فرمایا، پھر ارشاد ہوا جب مسلمان عیدگاہ کی طرف میدان میں آتے ہیں (مولٰی  سبحٰنہ تعالٰی  فرشتوں سے یوں فرماتا ہے اور ملائکہ اس سے یوں عرض کرتے ہیں) پھر فرمایارب تبارک وتعالٰی  مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر،شرکوخیر سمجھ لیتا ہے ،اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اُس میں بکمال رحمت، نظر فرمائی جائے گی، اگر وُہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادُعاروزِقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ،بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہُوا۔
 (۱؎ شعب الایمان     ۲۳۲۳باب فی الصیام فصل فی لیلۃ القدر    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳/۳۷۔۳۳۶)
عہ :  اقول اس حدیث نفیس کا شاہد بروایت امام عقیلی حدیث انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مرویات فقیر میں بندہ ضعیف سےحضور پُر نور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم تک سند موجود ہے الحمد ﷲ ۱۲منہ(م)
فقیر غفر لہ  الغنی القدیر کہتا ہے اس کلام مبارک کا اوّل یاعبادی سلونی ہے یعنی میرے بندو! مجھ سے دعا کرو،اور آخر انصرفوا مغفورا لکم گھروں کو پلٹ جاؤ تمہاری مغفرت ہوئی۔توظاہر ہُوا کہ یہ ارشاد بعد ختمِ نماز ہوتا ہے ختم نماز سے پہلے گھروں کو واپس جانے کاحکم ہرگز نہ ہوگا تواس حدیث سے مستفاد کہ خود رب العزّت جل وعلا بعد نمازِ عید مسلمانوں سے دُعا کا تقاضا فرماتا ہے، پھر وائے بدبختی اُس کی جو ایسے وقت مسلمانوں کو اپنے رب کے حضور دُعا سے روکے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اٰمین(ہم اﷲ سے فضل وبخشش طلب کرتے ہیں ۔آمین ۔ت)
ثالثاً اقول: وباﷲالتوفیق ابوداؤد و ترمذی ونسائی وابن حبان وحاکم باسانید صحیحہ جیّدہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اور ابو داؤد و دارمی و ابوبکر بن ابی شیبہ استادبخاری ومسلم حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اور نسائی و طبرانی بسند صحیح و ابن ابی الدنیا اورحاکم بافادہ تصحیح حضرت جبیر بن معطم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اورنسائی و ابن ابی الدنیا و حاکم وبیہقی حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا سے روایت کرتے ہیں حضور پُرنور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاجلس احدکم فی مجلس فلایبرحن منہ حتی یقول ثلث مرات سبحٰنک اللھم ربنا وبحمدک لاالٰہ الا انت اغفرلی وتب علی فان کان اتی خیرا کان کالطابع علیہ وان کان مجلس لغو کان کفارۃ لماکان فی ذلک المجلس۱؎۔
جب تم میں کوئی کسی جلسے میں بیٹھے تو زنہار وہاں سے نہ ہٹے جب تک تین۳بار یہ دعا نہ کرلے ''پاکی ہے تجھے اے رب ہمارے، اور تیری تعریف بجالاتا ہوں، تیرے سوا کوئی سچّا معبود نہیں میرے گناہ بخش اور مجھے توبہ دے''کہ اگراس جلسے میں اس نے کوئی نیک بات کہی ہے تو یہ دُعا اس پر مہر ہوجائے گی اور اگر وہ جلسہ لغو تھا جوکچھ اس میں گزرایہ دعا اس کا کفارہ ہوجائےگی۔
 (۱؎ الترغیب والتراہیب بحوالۂ ابن ابی الدنیا     کتاب الذکر والدعاء    مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۲ /۴۱۱

المعجم الکبیر      مروی از جبیر بن مطعم    مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت    ۲/ ۱۳۹

المستدرک علی الصحیحین     کتاب الدعاء    مطبوعہ دارالفکر بیروت     ۱/۵۳۷)
یہ لفظ بہ روایت امام ابو بکر ابن ابی الدنیا حدیثِ جبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے ہیں،اور ابو برزہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کی حدیث میں یوں ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس یقول فی اٰخرہ اذا اراد ان یقوم من المجلس سبحٰنک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الٰہ الاانت استغفرک واتوب الیک۱؎۔
حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم جب کوئی جلسہ فرماتے تو ختم اُٹھتے وقت یہ دعا کرتے''تیری پاکی بولتا اور تیری حمد وثنا میں مشغول ہوتا ہوں اے اﷲ! میں گواہی دیتا ہوں تیرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں میں تیری مغفرت مانگتا اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں''۔
 (۱؎ الترغیب والترہیب     بحوالہ سنن ابی داؤد کتاب الذکر والدعاء   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/ ۴۱۱)

(سنن الدارمی   ۲۹۔باب فی کفارۃ المجلس    مطبوعہ مدینہ منورہ (حجاز) ۲/ ۱۹۵)
اسی طرح رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کی حدیث میں لفظ
اراد ان ینھض۲؎
ہے یعنی جب اُٹھنا چاہتے یہ دُعا فرماتے۔
 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین    کتاب الدعاء دعاء کفارۃ المجالس   مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱ /۵۳۷)

الترغیب والترہیب   بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان    مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۲/ ۴۱۱)
اور انہوں نے بعدِ الفاظِ مذکورہ دُعا میں اتنے الفاظ اور زائدکئے :
عملت سوءً وظلمت نفسی انہ لا یغفر الذنوب الّاانت۳؎۔
میں نے بُرا کیا اور اپنی ہی جان کو آزار پہنچایا اب میری مغفرت فرمادے بیشک تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں۔
 (۳؎ الترغیب والترہیب    بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲ /۴۱۱)
حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ دعا میں مثل حدیث ابو برزہ ہے اُس میں بھی ارشاد ہوا:
قبل ان یقوم من مجلسہ۴؎
کھڑے ہونے سے پہلے دُعا کرتے۔
 (۴؎ الترغیب والترہیب    بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲ /۴۱۱)

(  جامع الترمذی     ابواب الدعوات    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی   ۲/ ۱۸۱)
غرض اس حدیث صحیح مشہور علی اصول المحدثین میں جسے امام ترمذی نے حسن صحیح اور حاکم نے برشرط مسلم صحیح اورمنذری نےجیّدالاسانیدکہا،حضور پُرنور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم عام ارشاد وہدایت قولی وفعلی فرماتے ہیں کہ آدمی کوئی جلسہ کرے اُس سے اُٹھتے وقت یہ دعا ضرور کرنی چاہئے کہ اگر جلسہ خیر کا تھا تو وہ نیکی قیامت تک سر بمہر محفوظ رہے گی اور لغو تھا تو وہ لغو باذن اﷲ محو ہوجائے گا تو لفظ ومعنی دونوں کی رُو سے ثابت ہوا کہ ہرمسلمان کو  ہرنماز کے بعد بھی اس دُعا کی طرف اشارہ فرمایا گیا جہت لفظ سے تو یوں کہ مجلس نکرہ سیاقِ شرط میں واقع ہے عام ہوا،
Flag Counter