Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
116 - 144
دیکھو صاف صریح ہے کہ نماز کے بعد محلیت ِدُعاکچھ فرضوں ہی سے خاص نہیں بلکہ اُن میں بوجہ افضلیت زیادہ خصوصیت ہے اور سائلین نے خود یہی پُوچھا تھا کہ سب میں زیادہ کون سی دُعامقبول ہے لہذا اُن کی تقیید فرمائی گئی،بالجملہ جب تخصیصِ فرائض باطل ہوچکی تواخراج واجبات پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اُن پر دلائل مطلقہ کے سوا حدیث نافلہ برسبیل اولویت ناطق،کہ جب ادبار نوافل تک محل دُعا مظنۂ اجابت ہیں تو واجبات کہ اُن سے اعلٰی  واعظم اور ارضائے الہٰی میں اوفر و اتم ہیں کیونکر اس فضل سےخارج ہوں گے
ھل ھذا الاترجیح المرجوح
 (یہ ترجیح موجوع کے سوا کچھ نہیں۔ت)

ثم اقول بلکہ واقع نفس الامر کو لحاظ کیجئے تو فریضہ ونافلہ کے لئے ثبوت، خاص بعینہ واجبات کے لئے ثبوت خاص ہے کہ واجب حقیقۃً کوئی تیسری چیز نہیں بلکہ انہیں دو۲ طرفوں سے ایک میں ہے جسے شبہہ فی الثبوت نے مجتہد کے نزدیک ایک امر متوسط کردیاصاحبِ شرع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم جس کے حضور روایۃً ودرایۃً ظنون وشبہات کو بار نہیں اگر اُس کے نزدیک شیئ مطلوب فی الشرع حقیقۃً مامور بہ ہے قطعاً فرض ورنہ یقینانافلہ،لاثالث لھما(ان دو۲ کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں۔ت) تلویح میں زیر قول تنقیح فصل فی افعالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
فمنھما مایقتدی بہ وھومباح مستحب و واجب وفرض
(آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے کچھ افعال قابل اقتداء مباح،کچھ مستحب ،کچھ واجب اور کچھ فرض ہیں۔ت) تحریر فرمایا:
ان فعلہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بالنسبۃ الینا یتصف بذلک بان جعل الوتر واجبا علیہ لامستحبا اوفرضا والافالثابت عندہ بدلیل یکون قطعیالامحالۃ حتی قیاسہ واجتہادہ ایضاقطعی الخ ۱؎
یعنی آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے افعال ہماری نسبت ان سے متصف ہیں مثلاًوتر آپ پر واجب تھے نہ کہ مستحب یا فرض ،ورنہ آپ کے ہاں دلیل ثابت شدہ امر یقینا قطعی ہوگا حتی کہ آپ کا قیاس واجتہاد بھی قطعی ہے الخ(ت)
 (۱؎ التوضیح والتویح    فصل فی افعالہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو    ص ۴۹۱)
امام محقق علی الاطلاق امامۃالفتح میں فرماتے ہیں:

اللزوم یلاحظ باعتبار ین باعتبار صدورہ من الشارع وباعتبار ثبوتہ فی حقنافملاحظۃ باعتبار الثانی ان کان طریق ثبوتہ عن الشارع قطعیا کان متعلقہ الفرض وان کان ظنیاکان الوجوب ولذا لا یثبت ہذا القسم اعنی الواجب فی حق من سمع من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مشافھۃ مع قطعیۃ دلالۃ المسموع فلیس فی حقہ الا الفرض اوغیر اللازم من السنۃ فمابعدھا وظھربھذا ان ملاحظۃ باعتبار الاول لیس فیہ وجوب بل الفرضیۃ اوعدم اللزوم اصلا۱؎ اھ ملخصا
لزوم میں دو۲اعتبار ہیں ایک یہ کہ وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہوا اور دوسرا یہ کہ اس کا ثبوت ہمارے حق میں ہوا تو دوسرے اعتبار سے اگراس کا ثبوت شارع سے قطعی ہے تو اس کا تقاضا فرضیت ہے، اور اگر ثبوت ظنی ہے تو  وجوب ۔یہی وجہ ہے کہ یہ قسم (وجوب) اس شخص کے حق میں ثابت نہیں ہوسکتی جس نے براہ راست حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سےسُنا حالانکہ مسموع کی دلالت قطعی تھی تو اس کے حق میں وہ فرض ہی ہوگا، یا لازم نہ ہوگا سنّت ہوگا یا اس سے نچلا درجہ،اس سے طاہر ہوگیاکہ اول کے اعتبار سے وہاں وجوب نہیں بلکہ فرضیت ہے یا بالکل لزوم ہی نہیں اھ ملخصاً(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     باب الامامۃ      مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱/۳۰۱)
پس بحمداﷲ لشہادتِ قرآن وحدیث واقوالِ علماء ثابت ہوا کہ نمازپنجگانہ و عیدین وتہجد وغیرہا ہرگونہ نماز کے بعد دُعا مانگنا شرعاً جائز بلکہ مندوب ومرغوب ہے وہوالمطلوب۔
ثانیاًاقول:  وباﷲالتوفیق دُعابنصِ قرآن وحدیث واجماع ائمۂ قدیم وحدیث اعظم مندوباتِ شرع سے ہے اوراس کے مظانِ اجابت کی تحری مسنون ومحبوب ،قال جل ذکرہ :
ھنالک دعازکریا ربہ۲؎
 (حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں اپنے رب سے دعا کی ۔ ت)
 (۲؎ القرآن   ۳/۳۸)
حدیث میں ہےحضور پُرنورسیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات،فتعرضوا لہ لعلہ ان یصیبکم نفخۃ منھا فلاتشقون بعدھا ابدا۳؎۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن محمد بن مسلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک تمہارے رب کے لئے تمھارے زمانے کے دنوں میں کچھ وقت عطا وبخشش وتجلی وکرم وجود کے ہیں تو انہیں پانے کی تدبیر کرو شاید ان میں سے کوئی وقت تمہیں مل جائے تو پھر کبھی بدبختی تمہارے پاس نہ آئے۔اسے طبرانی نے کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۳؎ المعجم الکبیر    مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث۵۱۹    مطبوعہ مکتبۃ فیصلیہ بیروت        ۱۹/۲۳۴)
اور خود حدیث نے اُن اوقات سے ایک وقت اجتماع مسلمین کا نشان دیا کہ ایک گروہِ مسلمانان جمع ہوکر دعا مانگے کچھ عرض کریں کچھ آمین کہیں۔
کتاب المستدرک علی البخاری ومسلم میں ہے:
عن حبیب بن مسلمۃ الفھری رضی اﷲ تعالٰی عنہ وکان مجاب الدعوۃ قال سمعت رسول اﷲ یقول لایجتمع ملؤ فیدعوبعضھم یؤمّن بعضعم الا اجابھم اﷲ۱؎۔
یعنی حبیب بن مسلمہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کہ مستجاب الدعوات تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے حضور پُرنورسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی گروہ جمع نہ ہوگاکہ اُن بعض دعا کریں بعض آمین کہیں،مگر یہ کہ اﷲ عزوجل اُن کی دعا قبول فرمائےگا۔
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین  کتاب الدعاء    حبیب بن مسلمہ کان مجیب الدعوات    مطبوعہ دارالفکر بیروت  ۳/۳۴۷)
علماء نے مجمعِ مسلمان کو اوقاتِ اجابت سے شمار کیا۔
حصن حصین میں ہے:
واجتماع المسلمین۲؎
ع یعنی مسلمین کا اوقاتِ اجابت سے ہونا حدیثِ صحاح ستّہ سے مستفاد ہے۔
 (۲؎ حصن حصین      اوقات الاجابۃ    مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص۲۳)
علی قاری شرح میں فرماتے ہیں:
ثم کل مایکون الاجتماع فیہ اکثر کالجمعۃ والعیدین وعرفۃ یتوقع فیہ رجاء الاجابۃ اظھر۳؎۔
یعنی جس قدر مجمع کثیر ہوگا جیسے جمع وعیدین و عرفات میں، اسی قدر امیدِ اجابت ظاہرتر ہوگی۔
 (۳؎ حرزثمین شرح حصن حصین)
فقیر غفراﷲ کہتا ہے پھر دُعائے نماز پر اقتصار ہرگز شرعاً مطلوب نہیں بلکہ اس کے خلاف کی طلب ثابت،خود حدیث سے گزراحضور پُرنور سیّدِیوم النشور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے ہر دو رکعت نفل کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دُعامانگنے کا حکم دیا اورجو ایسا نہ کرے اس کی نماز کو ناقص بتایا، حالانکہ نماز میں دُعائیں ہوچکیں اوروہ وقت چاربار آیا جو انتہائی درجہ قُرب الہٰی کا ہے یعنی سجود جس میں بالتخصیص حکمِ دُعا تھا،
حضور پُرنور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
اقرب مایکون العبد من ربہ وھوساجد فاکثروا الدعاء۴؎۔رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سب سے زیادہ قرب بندے کو اپنے رب سے حالتِ سجودمیں ہوتاہے تو اس میں دعا کی کثرت کرو۔اسےمسلم،ابوداؤداورنسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۴؎ سنن النسائی   اقرب مایکون العبد من اﷲ عزوجل  مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۷۱۔ ۱۷۰)
بلکہ اگر سوال نہ بھی ہوں تو تسبیح کہ سجود میں ہوتی ہے خود دعاہے کہ وہ ذکر ہے اور ہر ذکردعا۔مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
کل ذکردعاء ۵؎
 (ہر ذکر دُعاہے۔ت)
 (۵؂مرقاۃ شرح مشکوٰۃ  باب ثواب التسبیح فصل ثانی  مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان  ۵/۱۱۲)
امام حافظ الدین النسفی کافی شرح وافی کی فصل فی تکبیر التشریق میں فرماتے ہیں:
قال تعالٰی ادعوا ربکم تضرعاوخفیۃ ۱؎۔
اﷲ تعالٰی  کافرمان مبارک ہے: تم اپنے رب کو پکارو گڑ گڑا کر اور آہستہ (ت)
 (۱؎کافی شرح وافی    فصل فی تکبیر التشریق )
کل ذکردعاء۲؎
 (ہرذکر دعاہے۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری   کتاب الدعوات   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۹۴۴)
اس معنی پر فقیر نے اپنے رسالہ ''ایذان الاجرفی اذان القبر''(دفن کرنے کے بعد قبر پراذان کے جواز پر نادر تحقیق۔ت)میں دلائل واضحہ ذکر کئے اور اس سے  زیادہ کلام مستوفی فقیر کے رسالہ "نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء"(صبح کی ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وباء ٹل جاتی ہے۔ت) میں ہے،امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الدعوات میں باب الدعا اذاھبط وادیا(جب کسی نچلی جگہ اُترے تو دعا کرے۔ت) وضع کیا اوراس میں فرمایا :
فیہ حدیث جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۳؎
 (اس بارے میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے حدیث مروی ہے۔ت)
 (۳؎ ارشاد الساری    باب الدعاء اذا ھبط وادیا الخ    مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۹/۲۱۸)
ارشاد الساری میں ہے :
فیہ ای فی الباب حدیث جابر الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ السابق فی باب التسبیح اذاھبط وادیا من کتاب الجھاد بلفظ کنا اذاصعدناکبّرناوانزلنا سبّحناھذا اٰخرالحدیث اھ بحذف السند۔
اس میں یعنی اس مسئلہ میں حضرت جابر انصاری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی حدیث ہے جو کتاب الجہاد کے باب التسبیح اذا ھبط وادیا میں گزری ہے الفاظ یہ ہیں :جب ہم بلند جگہ چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب اُترتے تو سبحان اﷲ کہتے ۔ یہ حدیث کے آخری الفاظ ہیں اھ سند محذوف ہے۔(ت)
دیکھو امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے صرف تسبیح کو دُعا ٹھہرایا اور
التسبیح اذاھبط وادیا والدعاء اذاھبط وادیا
 (جب نیچے اُترے تو تسبیح پڑھے اور جب نیچے اُترے تو دعا کرے۔ت)کا ایک مصداق بتایا تو بآنکہ ایسے قربِ اتم کے وقت میں نماز میں دعائیں ہوچکیں پھر بھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے اُن پر قناعت پسند نہ فرمائی اور بعد سلام پھر دُعا کی تاکید شدید کی۔ علاوہ بریں نماز میں آدمی ہر قسم کی دعا نہیں مانگ سکتا
کما بسط الائمۃ فی کتب الفقھیۃ
 (جیسا کہ ائمہ کرام نے کتب فقہیہ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ت) اور حاجت ہرقسم کی اپنے رب جل وعلا سے مانگا چاہے اور طلب میں مظنۂ اجابت کی تحری کا حکم اور یہ وقت بحکم احادیث اعلٰی  مظّان اجابت سے،تو بلا شبہہ مجمع عیدین میں نماز دعا، خاص اذن حدیث وارشادِ شرع سے ثابت ہُوئی اورحکم فتعرضوا لھاکی تعمیل ٹھہری وہو المقصود۔

ثم اقول اگرمجمع عیدین کے لئے شرع میں کوئی خصوصیت نہ آتی تو اس عموم میں دخول ثابت تھا نہ کہ احادیث نے اُس کی خصوصیت عظیم ارشاد فرمائی اوراُس میں دُعا پر نہایت تحریص وترغیب آئی یہاں تک کہ حضور پُرنور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اُس زمانۂ خیر و صلاح میں کہ فتنہ وفساد سے یکسر پاک و منزہ تھا حکم دیتے کہ عیدین میں کنواریاں اور پردہ نشین خاتونیں باہر نکلیں اورمسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں حتی کہ حائض عورتوں کو حکم ہوتا مصلّے سے الگ بیٹھیں اور اس دن کی دُعا میں شریک ہوجائیں ،
Flag Counter