یعنی سیّدنا امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں مجھےامام اعظم الائمہ ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے امام اجل حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے خبر دی کہ امام المجتہدین امام ابراہیم نخعی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا نمازِ عیدین خطبہ سے پہلے ہوتی تھی پھرا مام اپنے راحلہ پروقوف کرکے نماز کے بعد دُعا مانگتا اور نماز بے اذان واقامت ہوتی، یہ امام ابراہیم نخعی قدس سرہ، خود اجلۂ تابعین سے ہیں تو یہ طریقہ کہ اُنہوں روایت فرمایا لاقل اکابرتابعین کا معمول تھا تو نمازِ عیدین کے بعد دُعا مانگنا ائمۂ تابعین کی سنّت ہُوا اور پُر ظاہر کہ راحلہ پر وقوف وعدم وقوف سنتِ دُعاکی نفی نہیں کرسکتا کمالایخفی ،پھر ہمارے امام مجتہد امام محمد اعلی اﷲ درجاتہٖ فی دارالابدنے کتاب الآثار شریف میں اس حدیث کو روایت فرما کر مقرر رکھا اوران کی عادت کریمہ ہے جواثر اپنے خلاف مذہب ہوتا اُس پر تقریر نہیں فرماتے تو حنفیۂ اہل عقیدۂ مضمون ووہابیہ اہل تثلیث قرون، دونوں کے حق میں جوابِ مسئلہ اسی قدر بس ہے مگر فقیر غفرلہ الولی القدیر ایضاح مرام واتمام ِ کلام کے لئے اس مسئلہ میں مقال کو دو۲ عید پر منقسم کرتا ہے۔
عیدِ اوّل میں قرآن وحدیث سے اس دُعا کی اجازت اور ادعائے مانعین کی غلطی و شناعت۔
عیدِدوم فتوائے مولوی لکھنوی سے اسناد پر کلام اور اوہام مانعین کا ازالۂ تام
والعون من اﷲ ولی الانعام
(مدد اﷲ کی جو انعام عطا کرنے والا ہے۔ت)
العید الاول وعلی فضل اﷲ المعول
(عید اول، اﷲ ہی کے فضل پر بھروساہے۔ت) ظاہر ہے کہ شرع مطہر سے اس دعا کی کہیں ممانعت نہیں اور جس امر سے شرع نے منع نہ فرمایا ہرگز ممنوع نہیں ہوسکتا،جو ادعائے منع کرے اثبات ممانعت اس کے ذمہ ہے جس سے ان شاء اللہ تعالٰی کبھی عہدہ برآ نہ ہوسکے گا بقاعدہ مناظرہ ہمیں اسی قدر کہنا کافی ، اور اسانید سائل کامژدہ لیجئے تو جو کچھ قرآن وحدیث سے قلبِ فقیر پر فائز ہُوابگوشِ ہوش استماع کیجئے۔
فاقول وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(اﷲ ہی کی توفیق ہے اور اُسی سے تحقیق تک وصول ہوتا ہے۔ت)
اولا : قال المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی :
فاذافرغت فانصب o والٰی ربک فارغب o۱؎۔
جب تو فراغت پائے تو مشقت کر اور اپنے رب کی طرف راغب ہو
(۱؎ القرآن ۹۴/ ۷و۸)
اس آیۂ کریمہ کی تفسیر میں اصح الاقوال قول حضرت امام مجاہد تلمیذ رشید سلطان المفسرین حبرالامۃ عالم القرآن حضرت سیّدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم ہے کہ فراغ سے مراد نماز سے فارغ ہونا اورنصب دعامیں جدجہد کرنا ہے یعنی باری عزوجل حکم فرماتا ہے جب تو نماز پرھ چکے تو اچھی طرح دُعامیں مشغول ہو اور اپنے رب کے حضور الحاح وزاری کر۔
تفسیر شریف جلالین میں ہے:
فاذافرغت من الصلٰوۃ فانصب''تعب فی الدعاء،والٰی ربک فارغب''تضرع''۔۲؎
جب تو نماز سے فارغ ہو تو دعا میں تعب اور مشقت کر اور اپنے رب کے سامنے تضرع وزاری بجالا۔
(۲؎ جلالین کلاں سورہ الم نشرح میں مذکور ہے مطبوعہ اصح المطابع دہلی ہند ۲ /۵۰۲)
خطبہ جلالین میں ہے :
ھذا تکلمۃ تفسیرالامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول وترک التطویل بذکر اقول غیر مرضیۃ ۳؎ اھ ملخصا
یہ تفسیر امام جلال الدین محلی کاتکملہ ہے جو انہیں کے طریقہ پر ہے یعنی راجح اقول پر اعتماد اور اقوال ضعیفہ کے ذکر سے بچتے اھ ملخصاً(ت)
ھوالصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال۴؎۔
یہی صحیح ہے اسی جلال نے اکتفاء کیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ التزام کر رکھا کہ راجح اقوال ذکر کریں گے۔(ت)
(۴؎ شرح الزرقانی علی مواہب اللدنیہ المقصد الثانی فی اسمائہٖ مطبوعہ مصر ۳/ ۱۹۵)
اور پُرظاہر کہ آیۂ کریمہ مطلق ہے اورباطلاقہا نماز فرض وواجب ونفل سب کو شامل تو بلاشبہہ نماز عیدین بھی اس پاک مبارک حکم میں داخل ،یونہی احادیث سے بھی ادبار صلوات کا مطلقاً محلِ دُعا ہونا مستفاد،و لہذا علماء بشہادت حدیث نماز مطلق کے بعد دُعا مانگنے کو آداب سے گنتے ہیں ،امام شمس الدین محمد ابن الجرزی حصن حصین اورمولانا علی قاری اُس کی شرح حزرثمین میں فرماتے ہیں:
والصلٰوۃ ای ذات الرکوع والسجود والمراد ان یقع الدعاء المطلوب بعدھا۱؎۔
یعنی آداب سے ہے کہ مطلب کی دعا بعد نماز ذات رکوع وسجود واقع ہو۔
عہ حب مس ای رواہ الاربعۃ وابن حبان والحاکم کلھم من حدیث الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ۲؎۔
یعنی یہ ادب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اُس حدیث سے ثابت ہے جسے ابوداؤد ونسائی و ترمذی وابن ماجہ وابن حبان و حاکم نے صدیق اکبر رضی تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
اقول یونہی یہ حدیث ابن السنی وبیہقی کے یہاں مروی اور صحیح ابن خزیمہ میں بھی مذکور،امام ترمذی نے اسکی تحسین کی۔ظاہر ہے کہ نماز ذات رکوع وسجود ،نماز جنازہ کے سوا ہر فرض وواجب ونافلہ کو شامل جن میں نمازِعیدین بھی داخل ۔
ثم اقول وباﷲ التوفیق
(پھر میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) اصل یہ ہے کہ اعمال صالحہ وجہ رضائے مولٰی جل وعلاہوتے ہیں اور رضائے مولٰی تبارک وتعالٰی موجبِ اجابتِ دُعااور اس کا محل عمل صالح سے فراغ پاکر کما قال تعالٰی
فاذافرغت فانصب ۳؎
(جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے :پس جب آپ فارغ ہوں تو مشقت کرو۔ت)
(۳القرآن ۹۴/۷)
ولہذا حدیث میں آیا حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الم تر الی العمال یعملون فاذافرغوامن اعمالھم وفوا اجورھم۴؎۔رواہ البیھقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما فی حدیث طویل۔
کیا تُو نے نہ دیکھا کہ مزدور کام کرتے ہیں جب اپنے عمل سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت پوری مزدوری پاتے ہیں۔اسے بیہقی نے احادیث طویل کی صورت میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
(۴؎ شعب الایمان باب فی الصیام۔حدیث ۳۳۶۰۳۶۰۳ مطبوعہ دارالفکر یروت ۲/۳۰۳)
عامل کو اُسی وقت اجرِکامل دیا جاتا ہے جب عمل تمام کرلیتاہے۔اسے امام احمد،بزار، بیہقی اور ابولشیخ نے ثواب میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکربیروت ۲/ ۲۹۲)
تو سائل کے لئے بیشک بہت بڑا موقع دعا ہے کہ مولٰی کی خدمت وطاعت کے بعد اپنی حاجات عرض کرے ولہذواردہُوا کہ ہر ختم ِ قرآن پر ایک دُعامقبول ہےبیہقی وخطیب و ابونعیم وابن عساکر انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ،حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مع کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ۲؎۔
ہر ختم کےساتھ ایک دعا مستجاب ہے۔
(۲؎ شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن حدیث۲۰۸۶مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/۳۷۴)
طبرانی معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روای حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ختم القراٰن فلہ دعوۃ مستجابۃ۳؎۔
جو قرآن ختم کرے اس کے لئے ایک دُعامقبولہ ہے۔
(۳؎ المعجم الکبیر مروی از عرباض بن ساریہ حدیث ۶۴۷ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۸/۲۵۹)
اسی لئے روزہ دار کے حق میں ارشاد ہوا کہ افطار کے اس وقت اس کی ایک دعا رد نہیں ہوتی۔امام احمد ،مسنداورترمذی بافادہ تحسین جامع اور ابنائےماجہ و حبان و خزیمہ اپنی صحاح اوربزاز مسند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترددعوتھم الصائم حین یفطر۴؎ الحدیث۔
تین ۳ شخصوں کی دُعا رد نہیں ہوتی ایک اُن میں روزہ دار جب افطار کرے۔الحدیث
(۴؎ سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶)
ابن ماجہ وحاکم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان للصائم عند قطرہ لدعوۃ ماترد ۵؎۔
بیشک روزہ دار کے لئے وقتِ افطار بالیقین ایک دُعا ہے کہ رَد نہ ہوگی۔
(۵؎ سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶)
امام حکیم ترمذی حضر ت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضور پُرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ہر روزہ دار بندے کے لئے افطار کے وقت ایک دُعامقبول ہے خواہ دنیا میں دی جائے یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ رکھی جائے۔
وفی الباب احادیث اُخراوربالیقین یہ فضیلت روزہ فرض واجب ونفل سب کوعام کہ نصوص میں قید و خصوص نہیں۔ ولہذاامام عبدالعظیم منذری نے دو حدیث پیشین کو الترغیب فی الصوم مطلقاً میں ایراد فرمایا، اورعلامہ مناوی نے تیسیر شرح جامع صغیر میں زیرِ حدیث باب
مروی عقیلی و بیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد لفظ دعوۃ الصائم
(روزہ دار کی دعاء۔ت) کے ولو نفلا۲؎(اگر چہ وہ نفلی روزہ ہو۔ت) تحریر کیا تو بلاشبہہ نماز بھی کہ افضل اعمال واعظم ارکانِ اسلام اورروزے سے زائد موجب رضائے ذوالجلال والاکرام ہے یُونہی اپنے عموم واطلاق پر رہے گی اور بعد فراغ محلیت دعاصرف فرائض سے خاص نہ ہوگی، اور کیونکر خاص ہو حالانکہ خودحضور پُرنور سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر دورکعت نفل کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دعا مانگنے کاحکم دیااور فرمایا :جو ایسا نہ کرے اُس کی نماز ناقص ہے
(۲؎ تیسیر شرح الجامع صغیر حدیث ثلاث دعوات مستجابات مطبوعہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/۴۶۷)
ترمذی ونسائی و ابن خزیمہ حضرت فضیل ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اوراحمد وابوداؤد و ابن ماجہ حضرت مطلب بن ابی وداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصلوۃ مثنی مثنی تشھدفی کل رکعتین وتخشع وتضرع وتمسکن وتفنع یدیک یقول ترفعھاالی ربک مستقبلا ببطونھما وجھک وتقول یارب یارب من لم یفعل ذلک فھی کذاوکذا۳؎۔
یعنی نماز نفل دو۲دو۲ رکعت ہے ہر دو۲ رکعت پر التحیات اورخضوع وزاری وتذلّل ،پھر بعدسلام دونوں ہاتھ اپنے رب کی طرف اُٹھا اور ہتھیلیاں چہرے کے مقابل رکھ کر عرض کر اے میرے رب اے رب میرے جوایسا نہ کرے تووہ نماز چنیں وچناں یعنی ناقص ہے۔
(۳؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی التخشع فی الصلٰوۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ا/۵۰و۵۱)
فیہ ثم تقنع یدیک وھوعطف علی محذوف ای اذافرغت منھا فسلم ثم ارفع یدیک سائلا فوضع الخبر موضع الامر۱؎۔
پھر ہتھیلیاں چہرے کے مقابل کرے اس کا عطف محذوف پر ہے یعنی جب ان دو۲ رکعتوں سے فارغ ہو اور سلام کہے تو دعا کے لئے ہاتھ بلند کرے یہاں خبر امرکی جگہ مذکور ہے۔(ت)
(۱؎ تکلمہ بحارالانوار ملحق بمع البحار تحت لفظ قنع مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ص۱۴۷)