| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید(۱۳۳۹ھ) (نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم مسئلہ نمبر ۱۴۱۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوٰی کی جلد ثانی میں یہ امر تحریر فرمایا کہ بعد دوگانہ عیدین یا بعد خطبہ عیدین دُعا مانگناحضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و صحابہ وتابعین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین سے کسی طرح ثابت نہیں اب وہابیہ نے اس پر بڑا غل شور کیا ہے دعائے مذکور کو ناجائز کہتے اور مسلمانوں کواس سے منع کرتے اور تحریر مذکور سے سند لاتے ہیں کہ مولوی عبدالحی صاحب فتوٰی دے گئے ہیں اُن کی ممانعتوں نے یہاں تک اثر ڈالا کہ لوگوں نے بعد فرائض پنجگانہ بھی دعا چھوڑ دی اس بارے میں حق کیا ہے؟بینو توجروا۔ الجواب :
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۵ الحمدﷲ الذی حبّبناالعید وجعلہ مقر با لکل بعید و امرنا بالدعاء فی الیوم السعید ووعدنا بالاجابۃ فی الکلام الحمید والصلٰوۃ والسلام علی من وجہہ عید ولقاؤہ عید ومولدہ عید وای عیدوعلٰی اٰلہ الکرام وصحبہ العظام مادعااﷲ فی العید عبدسعید وتعانق النور والسرور غداۃ العید واشھدان لاالٰہ الااﷲوحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ من یوم اَبْدأ الٰی یوم یعید اٰمین اٰمین یا عزیز یامجید۵۔
اﷲ کے نام سے شروع جو رحمٰن ورحیم ہے سب تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے جس نے ہمارے لئے عید کو محبوب بنایا اور اسے ہربعید کوقریب کرنیوالا بنایا، یومِ سعید میں دعاکا حکم دیا، کلامِ حمید میں قبولیت کا وعدہ فرمایا ،اور صلوۃ وسلام ہواس ذاتِ اقدس پر جس کا چہرہ عید، دیدار عید، میلاد عید، آپ کی آل محترم اورصحابہ عظام پر بھی جب تک کوئی عبدسعید،عید کے موقع پر دعا کرنے والا ہے اورجب تک عید کی صبح کو نوروسرور باہم پائے جائیں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ، لاشریک ہے اورحضرت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں آپ کی ذات، آل اورصحابہ پر درود وسلام ابتدائی دن سے لے کر آخری دن تک ہو۔اے غالب اے صاحبِ مجد ! دعاقبول فرما دعاقبول فرما ۔(ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(اے اﷲ حق اور صواب کی ہدایت عطا فرمادے۔ت)
نماز عیدین کے بعد دُعا حضراتِ عالیہ تابعین عظام ومجتہدین اعلام رضی ا ﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت،
قال الفقیر عبدالمصطفٰی احمد رضاالمحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ، انبانا المولی عبدالرحمٰن السراج المکی مفتی بلداﷲ الحرام ببیتہ عندباب الصفالثمان بقین من ذی الحجۃ سنۃ خمس وتسعین بعد الالف والمائتین فی سائر مرویاتہ الحدیثیۃ والفقھیۃ وغیرذلک عن حجۃ زمانۃ جمال بن عبداﷲ بن عمر المکی عن الشیخ الاجل عابدالسندی عن عمہ محمد حسین الانصاری اجازنی بہ الشیخ عبد الخالق بن علی المزجاجی قراءۃ علی الشیخ محمد بن علاء الدین المزجاجی عن احمدالنخلی عن محمد الباھلی عن سالم السنوری عن النجم الغیطی عن الحافظ زکریاالانصاری عن الحافظ ابن حجرالعسقلانی انابہ ابو عبداﷲ الجریری اناقوام الدین الاتقانی انا البرھان احمد بن سعد بن محمد البخاری والحاکم السفتاقی قالاابنانا حافظ الدین محمد بن محمد بن نصر البخاری ھوحافظ الدین الکبیر ابنانا الامام محمد بن عبدالستار الکردری ابنانا عمر بن عبدالکریم الورسکی انا عبدالرحمٰن بن محمد الکرمانی انابوبکرمحمد بن الحسین من محمد ھوالامام مخر القضاۃ الارشابندی اناعبداﷲ الزوزنی اناابوزید الدبوسی اناابوجعفرالاستروشنی ح وابنأنا عالیا (عہ۱ )باربع درج شیخی وبرکتی وولی نعمتی ومولائی وسیدی وذخری وسندی لیومی وغدی سیدناالانام الھمام العارف الاجل العالم الاکمل السید اٰل الرسول الاحمدی المارھری رضی اﷲ تعالٰی عنہ وارضاہ وجعل الفردوس متقلبہ ومشواہ لخمس خلت من جمادی الاولٰی سنۃ اربع وتسعین بدارہ المطھرۃ بمارھرۃ المنورۃ فی سائر یجوزلہ روایتہ عن استاذہ عبدالعزیز المحدث الدھلوی عن ابیہ عن الشیخ الدین القلعی مفتی الحنفیۃ عن الشیخ حسن العجمی عن الشیخ خیرالدین الرملی عن الشیخ محمد بن سراج الدین الخانوتی عن احمد بن الشبلی عن ابراہیم الکرکی یعنی صاحب کتاب الفیض عن امین الدین یحٰی ی بن محمد الاقصرائی عن الشیخ محمد بن محمد البخاری الحنفی یعنی سیدی محمد پارسا صاحب فصل الخطاب عن الشیخ حافظ الدین محمد بن محمد بن علی البخاری الطاھری عن الامام صدرالشریعۃ یعنی شارح الوقایہ عن جدہ تاج الشریعۃ عن والدہ صدرالشریعۃ عن والدہ جمال الدین المحبوبی عن محمد بن ابی بکر البخاری عرف بامام زادہ عن شمس ائمۃ الحلوانی کلاھما عن الامام الاجل ابی علی النسفی امام حلوانی فقالا عن ابی علی وذلک عنعن الی نھایۃ الاسناد وامالاستروشنی فقال انا ابوعلی الحسین بن خضرالنسفی انا ابوبکر محمد بن الفضل البخاری ھوالامام الشہیربالفضل اناابومحمد بن عبداﷲ بن محمد بن یعقوب الحارثی یعنی استاذ السند مونی انا عبداﷲ محمد بن ابی حفص الکبیر انا ابی انامحمد بن الحسن الشیبانی اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراہیم قال کانت الصلٰوۃ فی العیدین قبل الخطبۃ ثم یقیف الامام علی راحلیہ بعد الصلوۃ فید عوویصلی بغیر اذان ولا اقامۃ۱ ؎۔
(۱؎ کتاب الآثار للامام محمد باب صلٰوۃ العیدین مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۴۱)
فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲ تعالٰی اس کو بخش دے اوراسکی امید بر لائے) کہتا ہے کہ ہمیں شیخ عبدالرحمن السراجی مکی مفتیِ بلداﷲ الحرام نے باب صفا کے پاس اپنے گھر ۲۲ذوالحجہ ۱۲۹۵ھ کو اپنی تمام مرویات کی اجازت دی خواہ وُہ حدیث کی صورت میں تھیں یا فقہ کی صورت میں یااس کے علاوہ تھیں انھیں مرویات کی اجازت حجتِ زمانہ جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی نے دی انہیں شیخ اجل عابد سندی نے انہیں ان کے چچا محمد حسین انصاری نے دی،اس نے کہا مجھے ان کی اجازت شیخ عبد الخالق بن مزجاجی نے، انھیں شیخ محمد بن علاء الدین مزجاجی سے قرأۃ کے طور ،انہیں احمد نخلی نے انہیں محمد باہلی نے انھیں سالم سنوری نے انھیں حافظ زکریا انصاری نے انہیں حافظ ابن حجر عسقلانی نے انہیں ابوعبداﷲجریری نے انہیں قوام الدین اتقانی نے انہیں برہان احمدبن سعدبن محمد البخاری اورحسام السفتاقی نے انہیں حافظ الدین محمد بن محمد بن نصر بخاری نے یہی حافظ الدین الکبیر ہیں انہیں عبدالستار الکردری نے انہیں عمر بن عبدالکریم الورسکی نے انہیں عبدالرحمن بن محمد الکرمانی نے انہیں ابوبکر محمد بن الحسین بن محمد نے جو فخرالقضاۃ الاشار بندیهيں انہیں عبداﷲ الزورنی نے انہیں ابو زید الدبوسی نے انہیں ابوجعفرا لاستروشی نے ''دوسری سند'' جو چار درجے عالی ہے میرے شیخ ،میری برکت، میرے دل، سیدی ذخری آج وکل کے لئے میر ا اعتماد سیّدنا امام ہمام عارف اجل اصل العالم الاکمل السیّد آل الرسول الاحمدی المارہری رضی اﷲ تعالٰی عنہ و ارضاہ اﷲ تعالٰی (اﷲ ان کا ٹھکانہ جنت الفردوس میں بنائے ) نے مارھرہ منورہ میں اپنے آستانے پر ۵ جمادی الاولٰی ۱۲۹۴ھ کو تمام روایات کی اجازت دی جو انہیں ان کے استاد شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں اپنے والد گرامی سے انہیں شیخ تاج الدین القلعی مفتی حنفیہ نے انہیں شیخ حسن عجمی نے انہیں شیخ خیرالدین رملی نے انہیں شیخ محمد بن سراج الدین الخانوتی نے انہیں احمد بن شبلی نے انہیں ابراہیم الکرکی صاحب کتاب الفیض نے انہیں امین الدین یحیٰی بن محمد قصرائی نے انہیں شیخ محمد بن محمد البخاری الحنفی یعنی سیدی محمد پارسا صاحبِ فصل الخطاب نے انہیں شیخ حافظ الدین محمد بن محمدبن علی بخاری طاھری نے انہیں امام صدرالشریعۃ یعنی شارحہ الوقایہ نے انہیں ان کے جد تاج الشریعۃ نے اپنے والد صدر الشریعۃ سے انہیں ان کے والدجمال الدین محبوبی نے انہیں محمد بن ابی بکر بخاری المعروف امام زادہ نے انہیں شمس الائمہ الزر تجری نے انہیں شمس الائمہ حلوانی نے اوران دونوں کے امامم اجل ابوعلی نسفی سےان دونوں نے کہا عن ابی علی ،اسی طرح انہوں نے تمام سند کو عن کےساتھ بیان کیا،استروشنی نے کہا ہمیں ابوعلی الحسین بن خضرالنسفی انہیں ابوبکر محمد بن الفضل بخاری اوریہ امام فضل کے ساتھ مشہور ہیں انہیں ابو محمد عبداﷲ بن محمد یعقوب الحارثی یعنی الاستاذ السند مونی انہیں عبداﷲ محمد بن ابی حفص الکبیر انہیں ان کے والد نے انہیں محمد بن حسن الشیبانی نے انہیں امام ابو حنیفہ نے انھیں حماد نے انھیں ابراہیم نے بیان کیا کہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ادا ہوتی پھر نماز کے بعد امام سواری پر کھڑے ہوکر دُعا کرتا تھا۔نماز اذان واقامت کے بغیر ہوتی تھی۔(ت)
عہ ۱ : انظر الی لطافۃ ھذاالسند الجلیل وجلالۃ شأنہ فان رجالہ کلمھم من سیدنا الشیخ الی صاحب المذہب الامام الاعظم جمیعا من اجلۃ اعلام الحنفیۃ ومشاہیر واکثرھم اصحاب تالیفات فی المذھب ۱منہ (م)
اس سند جلیل کی لطافت اور شانِ جلالت مین غور کرو کہ اس کے رجال سیدنا شیخ سے صاحبِ مذہب امامِ اعظم تک سارے کے سارے معروف و مشہور حنفی ہیں اوران میں سے اکثر اصحاب کی مذہب میں تالیفات موجود ہیں۱۲منہ (م)