ای یؤذن فی حدودالمسجد وفنائہ کما فسربہ الامام المحقق علی الاطلاق اوفی نفس المسجد ان کان ثمہ موضع اعدلہ من قبل اویؤذن فیما ھو حکمہ لقربہ منہ بحیث یعدالاذان فیہ اذاناللمسجد کما فعل عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث احدث الاذان الاول علی الزوراء دارٍ فی السوق ولایؤذن للمسجد اذاکان غربی البلد مثلاً واذن شرقیہ بل اذن لمسجد حیّ اٰخر لایعدذلک اذانالہ کمالایخفی، فلااستدراک بکلام الجلابی علی کلام النظم کمازعم القھستانی ،
یعنی مسجد کے حدود اور فنائے مسجد میں اذان دی جائے جیسا کہ اس کی تفسیر امام محقق علی الاطلاق نے کی ہے،یا مسجد کے اندر بشرطیکہ وہاں پہلے سے جگہ بنائی گئی ہو یا اس جگہ دی جائے جو قرب کی وجہ سے مسجد کا حکم رکھتی ہو کیونکہ وہاں کی اذان کو مسجد کی ہی اذان شمار کیا جائے گاجیسا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کیا کہ اذانِ اوّل بازار میں مقامِ زوراء پر دینے کاحکم دیا ،مسجد سے دُور اذان نہ دی جائے مثلاً جب مسجد غربی البلاد ہو اور اذان شرقی میں دی جائے تو اب یہ اذان دوسرے محلہ کی ہوگی اس مسجد کی اذان اسے شمار نہیں کیا جائیگا جیسا کہ واضح ہے،کلامِ جلابی کلامِ نظم پر استدراک نہیں جیسا کہ قہستانی نے گمان کیا۔
وباﷲ التوفیق وبماقدمنامن تحقیق مفادبین یدیہ وانہ یستدعی بقرینۃ الحال قربانیاسب المقام لاالاتصال وضح بحمداﷲ ماقال القھستانی تحت قول النقایہ اذاجلس علی المنبر اذن ثانیا بین یدیہ مانصہ ، ای بین الجھتین المسامتین لیمین المنبر والامام ویسارہ قریباً منہ ووسطھما بالسکون فیشتمل ما اذا اذن فی زاویۃ قائمۃ اوحادۃ اومنفرجۃ حادثہ من خطین خارجین من ھا تین الجھتین ۱اھ
اﷲ تعالٰی کی توفیق سے جو کچھ ہم نے گفتگو کی اور''سامنے امام'' کا معنٰی بیان کیا اس سے واضح ہوگیا کہ''بین یدیہ''کے الفاظ مقام کے مناسب قُرب کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ اتصال کا، بحمد اﷲنقایہ کی عبارت ''جب امام منبرپر بیٹھے تواس کے سامنے دوسری اذان دی جائے'' کہ تحت قہستانی نے جو کہا وہ بھی واضح ہوگیا کہ اذان یمینِ منبر وامام اس کے بائیں جانب اس کے قریب ہو یا ان دونوں کے وسط میں ہو، یہ ان صورتوں کو شامل ہے جب اذان زاویہ قائمہ یا حادہ یا منفرجہ میں ہوئی جو ان دوخطوط مذکورہ کی دو۲ جہات سے پیداہوا اھ
(۱؎ جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۲۶۸)
فلیس القرب منکرا ولابالاتصال مشعرا وانما اراد بہ اخراج البعد الذی لایعد بہ الاذان اذانافی ذلک المسجد کما ذکرناہ فی کلام الجلابی۔
تو یہاں قرب کا انکار نہیں اوراتصال پر دلالت نہیں، اس سے ان کا مقصد اس بُعد کا دُور کرنا ہے جس میں اذان کو اس مسجد کی اذان تصور نہ کیا جائے جیساکہ ہم نے اسے جلابی کے کلام میں ذکر کیا۔(ت)
غرض عامہ کتب معتمدہ مذہب کے خلاف اگر ایک آدھ غریب ونامتداول کتاب میں کوئی تصریح بھی ہوتی عقلاً و عرفاً وشرعاً قبول نہ ہوتی۔
الا تری ان العلامۃ الطحطاوی کیف اقتصر فی الحکم علی حکایۃ مافی القھستانی عن النطم ولم یعرج علی استدراکہ اصلاعلما منہ ان الاستدرک مستدرک لاینبغی نقلا۔
کیا آپ نے نہ دیکھا علامہ طحطاوی نے کس طرح اکتفا کیا اس حکم پر جوقہستانی نے نظم سے نقل کیا تھا اوراس کے استدراک کے بالکل درپے نہ ہوئے ،انہیں علم تھا کہ استدراک فالتو ہے لہذا اس کا نقل کرنا مناسب نہیں۔(ت)
نہ کہ کوئی لفظ محتمل نہ صریح ،صاف صاف لائق توجیہ وتصحیح ہو،
کما لایخفی علی ذی عقل نجیح ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والحمدﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنامحمد واٰلہ وصحبہ اجمعین ۔ اٰمین ۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جیسا کہ ہر عاقل پر مخفی نہیں، تحقیق کا حق یہی تھا، اﷲ سبحٰنہ توفیق کا مالک ہے ، الحمدﷲرب العالمین وصلی اﷲتعالٰی علٰی سیّدنا ومولٰنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین ۔آمین۔واﷲاعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
باب العیدین
(عیدین کا بیان)
مسئلہ نمبر ۱۴۱۲ : ازسہسرام محلہ پرتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداعلم بالسنۃ پابندِ صلٰوۃ متقی نے اول خطبہ عیدالاضحٰی پڑھ کر لبیک اور صلٰوۃ والسلام نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور تکبیر بآواز بلند خود کہا اور مصلیوں سے کہلایا پھر بارک اﷲلنا ولکم پڑھ کر بیٹھا پھر دوسراخطبہ پڑھا بعد فراغ سوال کیا گیا یہ غیر مشروع فعل کیوں کیا اس نے جواب دیا میرا یہ فعل غیر مشروع نہیں حالتِ کیف میں صادر ہُوا مثل قول مبارک حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ یاساریۃ الجبل ہے، یہ دعوی مدعی کا کہاں تک صحیح ہے اور ایسے فعل کا مرتکب لائقِ ملامت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
لبیک ودرود کہ اس نے خود کہا حرج نہیں البتہ مقتدیوں سے کہلانا بے محل وُہ خطبہ میں مامور بالسکوت ہیں،اگر حالتِ وجد میں ایسا ہُواجیسا کہ اُس کا بیان ہے تو معذور ہے اور جب سائل اسے عالم سنّی متقدی کہتا ہے تو اس کا بیان کیوں نہ تسلیم کیا جائے معہذا مسئلہ شرعیہ معلوم کرلینا دوسری بات وہ ضرور چاہئے مگر عوام کو سنّی عالم متقی پر اُس کی لغزش کے سبب ملامت کی اجازت نہیں ہوسکتی
کما نص علیہ الائمۃ واشارت الیہ الاحادیث
(جیساکہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے اور احادیث میں بھی اس پر رہنمائی ہے۔ت) یہ اس کے حق میں ہے جو سُنّی عالم ہو ورنہ آجکل بہت گمرہ بددین بلکہ مرتدین مثلاً وہابیہ دیوبندیہ اپنے آپ کو سُنی عالم کہتے ہیں وہ ملامت کیا اُس سے ہزاروں درجہ سخت تر کہ مستحق ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔