Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
112 - 144
آیت نے قربِ قیامت کا اشارہ فرمایا نہ یہ کہ بعثت کے برابر ہی قیامت ہے،پھر اُس کا قرب اُسکے لائق ہے۔تیرہ سو تینتالیس (۱۳۴۳)برس گزر گئے ہنوز وقت باقی ہے پس جو اذان درِ مسجد پر یا فنائے مسجدکی کسی زمین میں جہاں تک حائل نہ ہو محاذاتِ امام میں دی جائے اُس پر ضروربین یدیہ(اس کے روبرو۔ت) صادق ہے بلاشبہ کہا جائے گا کہ امام کے سامنے خطیب کے روبرو منبر کے آگے اذان ہوئی،اور اسی قدر درکار ہے، غالباً خود مستدلین کو معلوم تھا کہ قریبِ مسجد ،بیرونِ مسجد ،مواجہہ امام ک وبھی بین یدیہ شامل ہے ولہذا روبرخطیب کہنے کے بعد، ان لفظوں کی حاجت ہوئی کہ مسجد کے اندر مگر خاص یہی لفظ کہ اصل مدعا تھے صرف اپنی طرف سے اضافہ ہوئے۔شامی وہدایہ ودرمختاروغیرہوغیرہا میں کہیں اس کی بوُ بھی نہیں۔اب ہم ایک حدیث صحیح ذکر کریں جس سے اس بین یدیہ کے معنی بھی آفتاب کی روشن ہوجائیں اور اس ادعائے توارث کا حال بھی کھل جائے،



سُنن ابی داؤد شریف میں بسندِ حسن مروی ہے :
حدثنا النفیلی ثنامحمد بن سلمۃ عن محمد بن اسحٰق عن الزھری عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبریوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۱؎۔
نفیلی نے بیان کیا کہ محمد بن سلمہ نے محمدبن اسحٰق سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سائب بن یزید رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم جب روزِ جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے روبرو اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور یونہی ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی  عنہما کے زمانے میں ۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد    باب وقت الجمعہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۱۵۵)
اس حدیث جلیل نے واضح کردیا کہ اس روبروئے امام پیشِ منبر کے کیا معنی ہیں اور یہ کہ زمانہ رسالت وخلفائے راشدین کے کیا متوارث ہے، ہاں یہ کہئے کہ اب ہندوستان میں یہ اذان متصل منبر کہنی شائع ہورہی ہے مگر نصِ حدیث سے جُدا،تصریحات فقہ کے خلاف ،کسی بات کا ہندیوں میں رواج ہوجانا کوئی حجت نہیں ۔ ہندیوں میں یہی کیا اور وقت کی اذانیں بھی بہت لوگ مسجد میں دے لیتے ہیں حالانکہ وہاں تو ان تصریحات ائمہ کے مقابل بین یدیہوغیرہ کا بھی دھوکا نہیں،پھر ایسوں کا فعل کیاحجت ہوسکتاہے ۔الحمدﷲ یہاں اس سنّت کریمہ کا احیاء رب عزوجل نے اس فقیر کے ہاتھ پر کیا، میرے یہاں مؤذنوں کی مسجد میں اذان دینے سے ممانعت ہے، جمعہ کی اذانِ ثانی بحمداﷲ تعالٰی  منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی ہے جس طرح زمانہ اقدس حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم و خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی  عنہم میں ہوا کرتی تھی
ذلک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم والحمدﷲ رب العٰلمین
(یہ اﷲ تعالٰی  کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے  اوراللہ بڑے فضل والا ہےاور اﷲ تعالٰی  ہی کے لئے سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ت)بعض دیگر جن سے سائل نے دوسراقول نقل کیا اگر چہ اتنا سمجھے بین یدیہ سے داخل مسجد ہونا اصلاً مفہوم نہیں ہوتامگر کتابوں پرنظر ہوتی تو خلافِ تصریحاتِ علماء یہ ادعاء نہ ہوتاکہ مسجد کے اندر مکروہ نہیں ۱۳۰۲ہجری میں فقیر بہ نیت خاکبوسی آستانہ عالیاحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہٰی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالٰی  عنہ بریلی سے شدالرحال کرکے حاضر بارگاہ غیاث پور شریف ہوا تھا دہلی کی ایک مسجد میں نماز کو جانا ہوا، اذان کہنے والے نے مسجد میں اذان کہی فقیر نے حسب عادت کہ جو امرخلاف شرع مطہر پایا مسئلہ گزارش کردیا اگرچہ اُن صاحب سے اصلا تعارف نہ ہو ا ان مؤذن صاحب سے بھی بہ نرمی کہا کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے، کہا،کہاں لکھا ہے؟ میں نےقاضی خان ،خلاصہ، عالمگیری ، فتح القدیر کے نام لئے ،کہا ہم ان کو نہیں مانتے،فقیر سمجھا کہ حضرت طائفہ غیر مقلدین سے ہیں، گزارش کی کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ کسی کچہری میں نوکر ہیں۔ فقیر نے کہا احکم الحاکمین جل جلا لہ کا سچا حقیقی دربار تو ارفع واعلٰی  ہے آپ انہی کچہریوں میں روز دیکھتے ہوں گے چپراسی ،مدعی،مدعاعلیہ گواہوں کی حاضری، کچہری کے کمرے کے اندر کھڑے ہوکر پکارتا ہے یا باہر ؟ کہا باہر، کہا اگر اندر ہی چلانا شروع کرے تو بے ادب ٹھہرے گا یا نہیں؟ بولے اب میں سمجھ گیا ۔غرض کتابوں کونہ مانا جب ان کی سمجھ کے لائق کلام پیش کیا تسلیم کرلیاع

                                                         فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

                                              (ہرشخص کی فکراس کی ہمت کے مطابق ہے)

الحمد ﷲحق واضح ہوگیا ۔

اقول وباﷲ التوفیق یہاں دو۲ نکتے اور قابل لحاظ وغور ہیں:

اول اگر بانیِ مسجد نے مسجد بناتے وقت تمام مسجدیت سے پہلے مسجد کے اندر اذان کے لئے منارہ خواہ کوئی محل مرتفع بنایا تو یہ جائز ہے،اور اتنا ٹکڑااذان کے لئے جدا سمجھاجائے گا اور مسجد میں اذان دینے کی کراہت یہاں عارض نہ ہوگی جیسے مسجد میں وضو کرنا اصلاً جائز نہیں مگر پہلے سے اگر کوئی محلِ معین بانی نے وضو کے لئے بنوا دیا ہوتو اس میں وضو جائز کہ اس قدر مستثنٰی  قرار بائے گا۔
اشباہ میں ہے :
تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعدلذلک لا یصلی فیہ اوفی اناء۱؎۔
مسجد میں کُلی اور وضوکرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں اس کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور اس میں نماز ادا نہ کی جاتی ہو یاکسی برتن میں وضوکر لیا جائے۔(ت)
(۱؎الاشباہ والنظائر     القول فی احکام المسجد     مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی   ۲/۲۳۰)
در مختار میں ہے:
یکرہ الوضوء الا فیما اعدذلک۲؎ ملخصاً ۔
وضومکروہ ہے مگر اس جگہ میں جو اس کے لئے تیار کی گئی ہو ملخصاً(ت)
 (۲؎ درمختار        باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ  مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۹۴)
ردالمحتار میں ہے :
لان ماء ہ مستقذر طبعا، فیجب تنزیہ المسجد عنہ کمایجب تنزیھہاعن المخاط والبلغم بدائع۳؎۔
کیونکہ  وضو کا پانی طبعاً ناپسند ہے لہذا اس سے مسجد کو بچانا ضروری ہے جیسے مسجد کو ناک اور بلغم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے،بدائع ۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۱/۴۸۸)
فقیر نے اس پر تعلیق کی:
ھذا تعلیل علی مذھب محمد ن المفتی بہ اماعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل ،فظاھر۴؎۔
یہ امام محمد کے مفتٰی  بہ قول کی دلیل ہے۔ رہا معاملہ امام اعظم کے قول کا ۔وہ ظاہر ہے کیونکہ وہ ماءِ مستعمل کو ناپاک کہتے ہیں۔(ت)
 (۴؎ جدالممتار علی ردالمحتار    باب احکام المساجد   مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارکپور ،انڈیا    ۱/۳۱۶)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ الا فیما اعدلذلک انظر ھل یشترط اعداد ذلک من الواقف ام لا ۵؎
ان کا قول ''مگر اس جگہ جو وضو کے لئے تیار کردہ ہو'' دیکھئے کیا اس جگہ کا وضو کے لئے بنانا واقف سے شرط ہے یا نہیں؟(ت)
 (۵؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ مایکروفیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱/۹۴)
فقیر نے اس پر تعلیق کی :
اقول نعم وشئ اخرفوق ذلک وھی ان یکون الاعداد قبل تمام المسجدیۃفان بعدہ لیس لہ ولا لغیرہ تعریضہ للمستقذرات ولا فعل شئ یخل بحرمتہ اخذتہ مما یاتی فی الوقف من ان الواقف لوبنی فوق سطح المسجد بیتاسکنی الامام قبل تمام المسجدیۃ جازلانہ من مصالحہ امابعد فلا یجوز ویجب الھدم۔
اقول ہاں ایک اور شئ اس کے اوپر ہے وہ یہ کہ یہ وضو کے لئے رکھنا تمام مسجدیت سے پہلے ہو کیونکہ اگراس کے بعد ہو تو اب واقف اور دوسروں کے لئے یہ جائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو گندگی کے لئے بنائیں بلکہ ہر وہ فعل جائزنہیں جو مسجد کی عزّت کے منافی ہو، یہ اصول اس مسئلہ سے مستنبط ہے جو وقف میں آتاہے کہ مسجد کے اوپر واقف نے تمام مسجدیت سے پہلے رہائش بنادی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد سے ہے البتہ تمام مسجد کے بعد یہ جائز نہیں اور اسکا گرانا ضروری ہے(ت)

اسی طرح اگر منارہ یا مئذنہ بیرونِ مسجد فنائے مسجد میں تھا بعدہ، مسجد بڑھا ئی گئی ہو اور زمین متعلقِ مسجد مسجد میں لے لی کہ اب مئذنہ اندرونِ مسجد ہوگیا اس پر بھی اذان میں حرج نہ ہو گا کہ یہ بھی وہی صورت ہے کہ اس زمین کی مسجدیت سے پہلے اس میں یہ محل اذان کے لئے مصنوع ہوچکا تھاکما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)ہاں اگر داخلِ مسجد کوئی شخص اگر چہ خود بانی مسجد نیا مکان اذان کے لئے مستثنٰی  کرنا چاہے تواُس کی اجازت نہ ہونی چاہئے کہ بعد تمامی مسجد کسی کو اُس سے استثناء یا فعل مکروہ کے لئے بناکا اختیار نہیں ،
دُرمختار میں ہے:
لو بنی فوقہ بیتاللامام لا یضرلانہ من المصالح امالو تمت المسجدیت ثم اراداالبناء منع، ولوقال عنیت ذلک لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۱؎۔
اگر مسجدکے اوپر امام کے لئے جگہ بنائی تو ضرر نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ مسجد میں سے ہے اگر مسجد مکمل ہوگئی اور پھر رہائش بنانا چا ہتے تو اب منع ہے اور اگر واقف کہے کہ میرا ارادہ یہی تھا تواس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تاتارخانیہ،جب واقف کا یہ حال ہے تو غیر کیسے بناسکتا ہے، لہذا اس کا گرانا ضروری ہے اگر چہ وہ دیوار مسجد پر ہو۔(ت)
 (۱؎درمختار        کتاب الوقف    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۳۷۹)
دوم متعلقاتِ مسجد میں مسجد کے لئے اذان ہونے کو عرف میں یونہی تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں مسجد میں اذان ہوئی مثلاً منارہ بیرونِ مسجد زمین خاص مسجدسے کئی گزکے فاصلے پر ہو اوراُس پر اذان کہی جائے تو ہرشخص یہی کہے گا مسجد میں اذان ہوگئی نماز کو چلو ،یُوں کوئی نہیں کہتا کہ مسجد کے باہر اذان ہوئی نماز کواٹھویہ عرف عام شائع ہے جس سے کسی کو مجالِ انکار نہیں، و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے ھوذکراﷲ فی المسجد ۲؎۔(یہ مسجد میں ذکر الہٰی ہے۔ت)کی وہ تفسیر فرمادی کہ
ای فی حدودہ
 (یعنی مسجدکے حدود میں۔ت)
 (۲؎ فتح القدیر   باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۲۹)
اور اس کی دلیل وہی ارشاد فرمائی کہ
لکراہۃ الاذان فی داخلہ
عن ابن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ وقفاان من سنن الھدی الصلٰوۃ فی المسجد الذی یؤذن فیہ۱؎۔
حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ سُنن ہدٰی میں سے ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھی جائے جس میں اذان ہو۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     باب فضلِ جماعۃ     مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۲۳۲)
وامثال عبارت
کرہ خروج من لم یصل من مسجداذن فیہ
(اس مسجد سے نکلنا مکروہ جس میں اذان دی گئی ہو۔ت)ہے دھوکا نہ کھائے اوراشباہ حدیث ابن ماجہ:
عن امیرالمؤمنین عثمٰن الغنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ادرک الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجتہ وھولایرید الرجعۃ فھومنافق۲ ؎۔
امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں جس نے مسجد میں اذان کو پایا اور بغیر مجبوری کے مسجد سے نکلا اورواپسی کا ارادہ بھی نہ تھا تو وہ منافق ہے۔(ت)
سے دھوکا اور بھی ضعیف تر ہے
فان المسجد ظرف الادراک دون الاذان
(کیونکہ مسجد ادراک کے لئے ظرف ہے اذان کے لئے نہیں۔ت)ولہذا علامہ مناوی نے تیسیر میں اس حدیث کی یوں تشریح فرمائی:
(من ادرک الاذان) وھو(فی المسجد) ۳؎ الخ
(جس نے اذان کو پایا)یعنی اذان کو سنا ،حالانکہ وہ (مسجد میں تھا) الخ (ت)
(۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر    حدیث من ادرک الاذان کے تحت    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض   ۲/۳۹۲ )
بلکہ خود حدیث شرحِ حدیث کوبس ہے :
احمد بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذاکنتم فی المسجد فنودی بالصلٰوۃ فلا یخرج احدکم حتی یصلی۱۱؎۔
امام احمد نے سندِ صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے حکم دیاکہ جب تم مسجد میں ہو  اور اذان دی جائے تو نماز ادا کئے  بغیرکوئی مسجد سے نہ نکلے۔(ت)
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل    مروی ازابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ   مطبوعہ دارالفکر بیروت   ۲/۵۳۷)
Flag Counter