Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
111 - 144
اوفی اللمعۃ فی اذان یوم الجمعۃ(۱۳۲۰ھ)

(اذانِ جمعہ کے بارے میں کامل رہنمائی)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم 

 نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

مسئلہ نمبر ۱۴۱۱:از ملک بنگالہ موضع شاکوچیل ضلع سہلٹ ڈاکخانہ جگدیش  پور  مرسلہ مولوی ممتاز الدین صاحب

۱۱ذی الحجہ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اذان ،مسجد کے اندر دینا کیسا ہے ،جمعہ کی اذانِ ثانی خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد جو دی جاتی ہے آیا وہ اذان ،مسجد کے اندر خطیب کے سامنے کھڑا ہوکر کہے یا مسجد کے ،اوربرتقدیر اول بلاکراہت جائز ہے یا نہیں،بعض لوگ کہتے ہیں یہ بلاکراہت سب علماء کے نزدیک جائز ہے اور سلف صالحین سے لے کر اس زمانہ تک کل امصار ودیار میں اسی طریقہ مسنون پر باتفاق علمائے کرام جاری ودائر ہے،شامی میں ہے کہ مؤذن اذان خطیب کے سامنے کہے، ہدایہ میں ہے منبر کے سامنے کہے، اور اسی پر علما کا عمل ہے، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا مگر یہ اذان، اور درمختار میں ہے خطیب کے سامنے کہے، ان عبارات سے ہویدا ہُواکہ روبروخطیب کے مسجد کے اندر کہے اور باہر مسجد یاصحن مسجد میں کھڑا ہوکر اذان کہنا خلاف کُتبِ فقہ وسلف صالحین کا ہے انتہی، اور بعض لوگ کہتے ہیں جمعے کی اذان ثانی مسجد کےاندر منبر کے سامنے کھڑے ہوکر مکروہ نہیں ہے، اگرچہ جہاں تک اطلاق بین یدیہ آتا ہےسب جگہ درست ہے انتہی، ان میں کون سا قول صحیح ہے؟ بینوا توجروا
الجواب

ہمارے علمائے کرام نےفتاوٰی  قاضی خان وفتاوٰی  خلاصہ و فتح القدیر و نظم و شرح نقایہ  برجندی وبحرالرائق و فتاوٰی  ہندیہ وطحطاوی وعلی مراقی الفلاح وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے
فتاوٰی  خانیہ میں ہے :
ینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجد ۱؎۔
یعنی اذان منارے پر یا مسجد کے باہر چاہئے مسجد میں اذان نہ کہی جائے ۔
 (۱؎ فتاوٰی  قاضی خاں    مسائل الاذان        مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۷)
بعینہ یہی عبارت فتاوٰی  خلاصہ و فتاوٰی  عالمگیریہ میں ہے۔فتح القدیر میں ہے:
الاقامۃ فی المسجد لابد واماالاذان فعلی المئذنۃ فان لم یکن ففی فناء المسجد وقالولایؤذن فی المسجد۲؎۔
یعنی تکبیر تو ضرور مسجد میں ہوگی، رہی اذان وہ منارے پر ہو۔ منارہ نہ ہو تو بیرونِ مسجد زمین متعلق مسجد میں ہو ۔علمافرماتے ہیں مسجد میں اذان نہ ہو۔
 (۲؎ فتح القدیر         باب الاذان        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۱۵)
نیز خودباب الجمعہ میں فرمایا:
ھوذکراﷲ فی المسجد ای فی حدودہ لکراھۃ الاذان فی داخلہ۳؎۔
وُہ اﷲ تعالٰی  کاذکر ہے مسجد میں یعنی حوالیِ مسجد کے اندر، اس لئے کہ خود مسجد کے اندر اذان دینی مکروہ ہے۔
 (۳؎ فتح القدیر         باب الجمعۃ         مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۹)
شرح مختصرالوقایہ للعلامۃ عبدالعلی میں ہے :

فی ایرادالمئذنۃ اشعاربان السنۃ فی الاذان ان یکون فی موضع عال بخلاف الاقامۃ فان السنۃ فیھا ان تکون فی الارض وایضافیہ اشعاربانہ لایؤذن فی المسجد فقد ذکرفی الخلاصۃ انہ ینبغی الخ۴؎ ۔اھ
یعنی صدر الشریعۃ قدس سرہ، نے اذان کےلئے منارے کا جو ذکر فرمایا اس میں تنبیہ ہے اس پر کہ اذان میں سنّت یہ ہے کہ بلند جگہ پر ہو بخلاف تکبیر کہ اس میں سنت یہ ہے کہ زمین پر ہو، نیز اس میں تنبیہ ہے، کہ اس مسجد میں نہ دی جائے ،خلاصہ میں اس کی ممانعت کی تصریح ہے الخ اھ باختصار۔
 (۴؎ شرح النقایہ للبرجندی    باب الاذان    مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ    ۱/۸۴)
بحرالرائق میں ہے :
فی القنیۃ یسن الاذان فی موضع عال والاقامۃ علی الارض وفی المغرب اختلاف المشائخ اھ والظاھر انہ یسن   المکان العالی فی اذان المغرب کما سیأتی وفی السراج الوھاج ینبغی ان یؤذن فی موضع یکون اسمع للجیران وفی الخلاصۃ ولایؤذن فی المسجد ۱ ؂اھ مختصرا۔
یعنی قنیہ میں ہے کہ اذان بلندی پر اور تکبیر زمین پر ہونا سنّت ہے اور مغرب کی اذان میں مشائخ کا اختلاف ہے وُہ بھی بلندی پر ہونا مسنون ہے یا نہیں اورظاہر یہ ہے کہ مغرب میں بھی اذان بلندی پر ہونا سنّت ہے اور سراج الوہاج میں ہے اذان وہاں ہونی چاہئے جہاں سے ہمسایوں کو خوب آواز پہنچے ،اور خلاصہ میں فرمایا کہ مسجد میں اذان نہ دےاھ مختصرا۔
(۱؎ بحرالرائق       باب الاذان        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۵۵)
اسی میں بعدچند ورق کے ہے :
السنۃ ان یکون الاذان فی المنارۃ والاقامۃ فی المسجد۲؂۔
سنّت یہ ہے کہ اذان منارے پر ہو اورتکبیر مسجد میں۔
 (۲؎ بحرالرائق     باب الاذان        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱ /۲۶۱)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
یکرہ ان یؤذن فی المسجد کما فی القھستانی عن النظم ،فان لم یکن ثمہ، مکان مرتفع للاذان یؤذن فی فناء المسجد کما فی الفتح۳۳؎۔
یعنی مسجد میں اذان دینی مکروہ ہے جیسا کہ قہستانی میں نظم سے منقول ہے تو اگر وہاں اذان کے لئے کوئی بلند مکان نہ بنا ہوتومسجد کے آس پاس اُس کے متعلق زمین میں اذان دے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔
 (۳؂حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    باب الاذان    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ص۱۰۷)
یہ تمام ارشادات صاف صاف مطلق بلا قید ہیں جن میں جمعہ وغیرہا کسی کی تخصیص نہیں،مدعی تخصیص پر لازم کہ ایسے ہی کلماتِ صریحہ معتمدہ میں اذانِ ثانی جمعہ کا استثناء دکھائے مگر ہرگز نہ دکھا سکے گا، رہا لفظ بین یدی الامام(امام کے سامنے۔ت) یابین یدی المنبر(منبر کے سامنے۔ت)سے استدلال مذکور فی السوال وہ محض ناواقفی ہے، ان عبارات کا حاصل صرف اس قدر کہ اذان ثانی خطیب کے سامنے منبرکے آگے مواجہہ میں ہو، اس سے یہ کہاں کہ امام کی گودمیں منبر کی کگر پر ہو جس سے داخلِ مسجد ہونا استنباط کیا جائے بین یدی(یعنی سامنے۔ت) سمت مقابل میں منتہائے جہت تک صادق ہے جو وقت طلوع مواجہہ مشرق یا ہنگام غروب مستقبل مغرب کھڑاہو وہ ضرور کہے گاکہ آفتاب میرے سامنے ہے۔یا فارسی میں مہر روبروئے من است(سورج میرے چہرے کے سامنے ہے۔ت)یا عربی میں الشمس بین یدی(سورج میرے سامنے ہے۔ت) حالانکہ آفتاب اس سے تین ہزار برس کی راہ سے زیادہ دور ہے،اﷲعزّوجل فرماتا ہے:یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم ۱؎اﷲ سبحانہ، جانتا ہے جو کچھ اس کے سامنے ہے یعنی آگے آنے والا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے گزر گیا۔
 (۱؎القرآن        ۲۰/۱۱۰ )
یہ ہرگز ماضی ومستقبل سے مخصوص نہیں بلکہ ازل تا ابدسب اُس میں داخل ہے۔یونہی ملائکہ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کا قول کہ قرآن عظیم نے ذکرفرمایا:
لہ مابین ایدینا وماخلفا وما بین ذلک۲؎۔
اﷲ ہی کاہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جوکچھ ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔
  (۲؎ القرآن    ۱۹/۶۴)
تمام ماضی ومستقبل وحال سب کو شامل ہے،ہاں ایسی جگہ عرفاً بنظرِ قرآن حالیہ ایک نوع قرب ہرشَے کے لائق مستفاد ہوتا ہے نہ اتصال حقیقی کہ خواہی نخواہی وقوع فی المسجد پر دلیل ہو،قال اﷲ تعالٰی  :وھوالذی یرسل الریاح بشرابین یدی رحمتہ حتی اذا اقلت سحابا ثقالا سقنٰہ لبلد میت فانزلنا بہ الماء۳؎ الآیۃ۔

اﷲ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں خوشی کی خبر لاتیں بارانِ رحمت کے آگے یہاں تک کہ جب انہوں نے اُبھارے بوجھل بادل، ہم نے اس رواں کیا کسی مردہ شہر کی طرف تواتارا اُس سے پانی۔
(۳؎ القرآن        ۷ /۵۷)
بین یدی(یعنی آگے۔ت) نے قربِ مطر کی طرف اشارہ فرمایا مگر یہ نہیں کہ ہوا مَیں چلتے ہی پانی معاً اُترے بلکہ چلیں اوربادل اُٹھے اور بوجھل پڑے اور کسی شہر کو چلے وہاں پہنچ کر برسے۔وقال اﷲ تعالٰی  (اور اﷲ تعالٰی  نے فرمایا) :
ان ھوالانذیر لکم بین یدی عذاب شدید۴؎۔
محمد صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم ایسے نہیں جیسا کہ اے کافرو! تم گمان کرتے ہو وہ تو نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایک سخت عذاب کے آگے۔
 (۴؎القرآن        ۳۴ /۴۶)
Flag Counter