سوال: چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ بیٹھنا امام کو بعد قراءت خطبہ پہلے کے سنت ہے یا نہیں؟ اور خطیب کس قدر جلسہ میں توقف کرے اور یہ اوقاتوں قبولیت دعا سے ہے یا نہیں؟ اور دُعا مانگنا ہاتھ اُٹھا کے مستحسن ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: بیٹھنا خطیب کا درمیان دونوں خطبوں کے سنت ہے ، چنانچہ صحیح بخاری شریف میں باب القعدہ بین الخطبتین یوم الجمعہ میں مرقوم ہے :
حدثنا مسددثنا بشر بن المفضل ثنا عبید اﷲ عن نافع عن عبد اﷲ بن عمر، قال کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخطب خطبتین یقعدبینہما ۱؎ ۔
مسدد نے ہمیں اور انھیں بشر بن مفضل نے انھیں نافع نے انھیں عبداﷲ بن عمر نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تودو خطبوں کے درمیان بیٹھتے ۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب القعدہ بین الخطبتین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۷)
اور اس بیٹھنے کو سنت بمقدار تین آیات عالمگیری میں بالتصریح بیان کیا ہے :
پندرھویں سنت دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا ہے، اسی طرح بحرالرائق میں ہے، ان کے درمیان بیٹھنے کی مقدار ظاہر الروایۃ کے مطابق تین آیات کی تلاوت کی مقدار ہے ۔ ایسے ہی سراج الوہاج میں ہے ۔ (ت)
(۲؎ فتاوی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۴۷)
اور بیچ حصن حصین کے ایک اوقاتِ قبول دعا سے مابین الخطبتین ہے اور بیچ ظفر جلیل شرح حصن حصین کے اُس وقت مانگنا دُعا کا طیبی سے نقل کیا:
وساعۃ الجمعۃ ارجی ذلک و وقتھا مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلٰوۃ ۳؎ م د۔
اور ساعت جمعہ کی بہت امید والی ان وقتوں کی ہے یعنی سب وقتوں میں سے ساعتِ جمعہ میں امید قوی ہے قبولیت کی، اور وقت ساعت جمعہ کا ہے مابین بیٹھنے امام کے سے منبر پر، خطبہ کے لئے تمام ہونے نماز تک، نقل کی یہ مسلم اور ابوداؤد نے۔(ت)
ظاہر تر یہ ہے کہ مراد بیٹھنے امام کے سے بیٹھنا امام کاہے اول شروع خطبہ کے، اور وہی وقت حرمتِ کلام کا ہے غیر امام کو ،
کذا قال العلی
(جیسا کہ علی نے بیان کیا ۔ ت) اور طیبی نے بیٹھنے سےبیٹھنا درمیان دونوں خطبوں کے مراد رکھا ہے، اور ایک روایت میں ساعت جمعہ کی یہ ہے انتہی، اوربھی صاحب فتح الباری نے اُن تمام اوقات اجابتِ دُعا سے ایک جلسہ امام کو درمیان خطبتین فرمایا ہے:
حیث قال الثلٰثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی عن بعض شراح المصابیح ۱؎ ۔
ان کے الفاظ میں تیسواں مقام دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا وقت ہے، اسی طیبی نے بعض شارحین مصابیح سے نقل کیا ہے ۔(ت)
(۱؎ فتح الباری باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳/۷۱)
اور بھی شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے کتنے اوقات اجابت دعا سے شمار فرمائے ہیں ایک اُن میں سے جلسہ کرنے خطیب کو درمیان خطبتین تحریر کیا،
العاشر ما بین خروج الامام الی ان تقام الصلٰوۃ الحادی عشر مابین ان یجلس الامام علی المنبر الی ان تقضی الصلٰوۃ الثانی عشرمابین اول الخطبۃ والفراغ منھا الثالث عشر عند الجلوس بین الخطبتین ۲؎ ۔
دسواں امام کے نکلنے اور اقامتِ نماز تک ہے، گیارھواں امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام نماز تک ہے، بارھواں شروع خطبہ سے لے کر اس سے فراغت تک ہے، تیرھواں دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت ہے۔ (ت)
(۲؎ حرز ثمین شرح حصن حصین للسیوطی)
اور وقت جلسۂ خطیب کے کلام کرنا نزدیک امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے درست ہے تاتارخانیہ میں نقلاً عن العتابیہ مرقوم ہے:
امام منبر پر بیٹھ کر ایک ساعت خاموش رہا تو امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ اس وقت گفتگو مباح ہے ۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی تاتار خانیۃ کتاب الصلٰوۃ ، شرائط الجمعۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ کراچی ۲ /۶۹)
اور درمختار میں مثل ا سکے مرقوم ہے، اور صحیح بخاری شریف میں کہ اصح الکتب بعد کتاب اﷲ کے ہے بیچ باب رفع الیدین فی الخطبہ کے عین حالت خطبہ میں دعا مانگنا آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول، اور ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روز جمعہ کے خطبہ فرماتے تھے کہ ایک شخص آیا پس کہا اے۲ اﷲ کے ۳رسول ! ہلاک ہوئے جاتے ہیں چارپائے اور ہلاک ہوئے جاتے ہیں شاۃ (بکریاں) پس دعا فرماؤ اﷲ سے یہ کہ تر کرے ہم کو، پس دراز کئے آپ نے ہاتھ مبارک اپنے اور درخواست دعا کی کی:
حدثنا مسدد ثنا حماد بن زید عن عبدالعزیز عن انس وعن یونس عن ثابت عن انس قال بینما النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخطب یوم الجمعۃ اذقام رجل فقال یارسول اﷲ ھلک الکراع وھلک الشاۃ فادع اﷲ ان یسقینا فمد یدیہ ودعا ۱؎ ۔
ہمیں مسدد نے انھیں حماد بن زید نے انھیں عبد العزیز نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور یونس سے ثابت نے اور انھوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ ہم حاضر تھے رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اﷲ ! چارپائے ہلاک ہورہے ہیں بکریاں ہلاک ہورہی ہیں اﷲ تعالٰی سے دُعا کیجئے کہ اﷲ تعالٰی ہمیں بارش عطافرمائے تو آپ نے اﷲ تعالٰی کے حضور ہاتھ پھیلادئے اور دعا کی ۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب رفع الیدین فی الخطبۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۲۷)
جبکہ کلام کرنا اس وقت میں کلام مجتہدسے ثابت ہو اور دعا مانگنا دُعا کا عین حالتِ خطبہ میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت اور متحقق ہے، پس مانگنا دُعا کا افضل العبادات سے ہے نزدیک حق تعالٰی جل وعلاکے ، اوروہ وقت قبولیت دعا کا ہے موافق مرقومۂ بالا کے اور اکثر روایات معتبرہ کے ،اور مانع کلام وغیرہ کا پڑھنا خطیب کا تھاوہ بھی اُس وقت میں نہیں ہے کمال مستحسن ہوگا، اور بھی بیچ مفتاح الصلٰوۃ کے دعامانگنا ہاتھ اٹھا کے درست فرمایا اور مقدار جلسہ کی بقدر سہ(۳) آیات کے مجتبٰی سے اور سند اجابت دعا کی صحیح مسلم وشارح صحیح مسلم امام نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے ساتھ لفظ صواب کے نقل کی ، مفتاح الصلٰوۃ میں مرقوم ہے :
درمیان دوخطبہ کہ امام بنشیند دعا بطریق اولٰی جائز خواہد بودعلی الخصوص دراحادیث آمدہ کہ ساعۃ الاجابۃ مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلٰوۃ کما صح فی صحیح مسلم وجزم الامام النووی فی شرح مسلم وقال ھو الصواب پس بایدکہ دروق جلوس کہ درظاہر الروایۃ مقدار سہ(۳) آیت وارد ست کما فی المجتبی وغیرہ ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار خواند کہ عمل بر ظاہر الروایہ واحادیث صحیحہ واقع گردد واگر دست برداشتہ بخواند موافق طریقۂ دعا کہ دراحادیث ست واقع گردد وعمل بزرگان نیز ہست ۱؎ ۔
دو خطبوں کے درمیان جب امام بیٹھتا ہے تو اس وقت دُعا کرنا خصوصاً بطریقِ اولٰی جائز ہونی چاہئے کیونکہ احادیث میں آیاہے کہ قبولیت کی ساعت اما م کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر اختتام ِ نماز تک ہوتی ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے اور امام نووی نے شرح مسلم میں اسی پر جزم کرتے ہوئے فرمایا یہی صواب ہے لہذا امام کے بیٹھنے کے وقت، جو ظاہر الروایۃ کے مطابق تین (۳) آیات کی مقدار ہے جیسا کہ مجتبٰی وغیرہ میں ہے، یہ دعا پڑھ لی جائے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بہتری اور نیکی عطافرما اور آخرت میں بھی بہتری عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تاکہ ظاہر الروایت اور احادیث صحیحہ پر عمل ہوجائے اور اگر دعامیں ہاتھ اٹھائے تویہ بھی اس طریقہ دعا کے موافق ہے جو احادیث میں آیا ہے اور اسلاف کا بھی عمل ہے ۔ (ت)
(۱؎ مفتاح الصلٰوۃ )
اور ایسا ہی بیچ فتوح الارواد کے مرقوم ہے اور بیچ حصن حصین کے ایک آداب دعامیں رفع یدین کو بسندِ حدیث تحریر کیا ہے،
ورفعھما ع وان یکون رفعھما حذوالمنکیبین ۲۲؎
دامس ، یعنی آدابِ دعاسے ہے اُٹھانادونوں ہاتھوں کا طرف آسمان کے ،
نقل کی یہ صحاح ستّہ میں، اور یہ کہ ہووے ہاتھ اٹھانا برابر مونڈھوں کے ، نقل کی سنن ابوداؤد و احمد وحاکم نے اس سے خوب واضح ہو اکہ دعا مانگنا ساتھ رفع یدین کے چاہئے، البتہ خالی ہاتھ اٹھانا بغیر دُعا کے عبث اور بے فائدہ ہے اور یہ بھی واضح و لائح ہُوا کہ د'عا مانگنا اور ہاتھ نہ اٹھانا ، آداب دعا کے، سے دور ہونا ہے واﷲ اعلم بالصواب و الیہ المرجع الماٰب۔
احمد حسین بیگ غفر اﷲ لہ۔ محمد رضاعلی خاں۔ سید یعقوب علی رضوی، خویدیم اطلبہ سید محمود علی سیّد محمد ذاکر عفی عنہ
علمائے بریلی رحمہم اللہ تعالٰی کا فتوٰی یہ ہے اور عمل وہ۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۴۱۰: اصغر علی خاں بریلی بانس منڈی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نمازِ جمعہ میں کوئی سورہ کلام مجید کی چھوٹی پڑھی جائے یا بڑی، اور چھوٹی پڑھی جائے تو کس قدر اور بڑی پڑھی جائے تو کس قدر،بدیں وجہ کہ مسجد کی یہ حالت ہے کہ کچھ نمازی اندر سایہ کے اور کچھ باہر فرش پر جہاں بالکل دُھوپ اور فرش بھی گرم ہوتا ہے۔
الجواب
جمعہ میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ، دوسری رکعت میں سورہ منافقون، اور کبھی پہلی میں سبح اسم ربک الاعلٰی ۱؎ اوردوسری میں ھل اتٰک حدیث الغاشیۃ ۲؎ثابت ہے،
(۱؎ القرآن ۸۷ /۱ ) (۲؎القرآن ۸۸ /۱)
اور حسبِ حاجت ومصلحت کمی بیشی کا اختیار ہے، اور اگر مقتدیوں پر تکلیف وناگواری ہو تو اختصار لازم ہے مگر حتی الامکان قدرِ مسنون سے کمی نہ کرے کہ قدرِ مسنون کا محض کسل کی وجہ سے ناگوار ہو نا ان کا قصور ہے جس میں نہ وُہ مستحق رعایت نہ اُس کے سبب ترکِ سنّت کی اجازت، ہاں اگر مثلاً کوئی مریض یا ضعیف ایسا ہوکہ بقدر سنت پڑھنابھی اُس کے لئے باعثِ تکلیف ہوگا تو اُ س کی رعایت واجب ہے اگر چہ نمازِ جمعہ کوثرو اخلاص سے پڑھانا ہو، واﷲ تعالٰی اعلم