Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
109 - 144
مسئلہ ۱۴۰۹: از ہیل کتور ضلع اوٹکنڈ مکان سومار سیٹھ صاحب مرسلہ سید حیدر شاہ صاحب ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ

جناب فیض مآب جامع علوم نقلیہ وحاوی فنون عقلیہ علامۂ دہر فہامۂ عصر مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ، ادائے آداب کے بعد بندہ  حیدرشاہ عرض رساں ہے کہ ایک مسئلہ کی ضرورت ہے چونکہ آپ مشاہیر علمائے انام سے ہیں اور آپ کے اخلاق و اوصاف بے نہایت ہیں اور بہت لوگوں سے سنا ہے کہ آپ حنفی المذہب سنی المشرب ہیں ونیز جوابِ سوال جلد ترسیل فرماتے ہیں، لہذا التماس خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ احقر کو جواب سے سرفراز فرمائیں، مذہب حنفی وشافعی میں بین الخطبتین ہاتھ اٹھا کے دعا مانگنی مشروع ومسنون ہے یا نہیں؟ مترجم اردو الدرالمختار ، ایک جگہ لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ بریلی کے علماء سے اسی مسئلہ میں استفتا ء طلب کیا گیا تھا چنانچہ وہاں علماء کافتوٰی  یہی ہوا کہ ہاتھ اٹھا کے دعامانگنی بین الخظبتین بدعت سیئہ وغیر مشروع ہے،پس آیا یہ بات صحیح ہے یا غلطْ چونکہ آپ متوطن بریلی کے ہیں آپ کو حقیقت اس کی کما ینبغی معلوم ہوگی پس آپ اطلاع دیجئے کہ مترجم نے ٹھیک لکھا ہے یا محض دھوکا دہیٔ عوام الناس ہے ۔ بینواتوجروا
الجواب

مسنونیت مصطلحہ کہ تارک،مستوجب عتابِ الہٰی  یا آثم ومستحق عذاب الہٰی  ہو والعیاذ باﷲ یہ نہ کسی کا مذہب نہ دُعا کرنے والوں میں کوئی ذی فہم اس کا قائل بلکہ وقت مرجوالاجابۃ جان کر دُعا کرتے ہیں اور بیشک وہ ایسا ہی ہے اور دعا مغزِ عبادت وانحائے ذکر الہٰی عزوجل سے ہے جس کی تکثیر پر بلا تقیید وتحدید نصوص قرآن عظیم و احادیث متواترہ نبی رؤف رحیم علیہ وعلٰی  آلہٖ افضل الصلٰوۃ والتسلیم ناطق اورہاتھ اٹھانا حسبِ تصریح احادیث و تظافر ارشادات علمائے قدیم وحدیث سُنن و آدابِ دُعا سے ہے خطیب کے لئے اُس کی اجازت ومشروعیت تو باتفاق مذہبین حنفی وشافعی ہے یونہی سامعین کے لئے جبکہ دُعا دل سے ہو  نہ زبان سے اور سامعین کا اُس وقت زبان سے دُعا مانگنا جس طرح ان بلادمیں مروج ومعمولی ہے،مذہبِ شافعیہ میں تو اُس کی اجازت و مشروعیت ظاہر کہ ائمہ شافعیہ رحمہم اﷲ تعالٰی  میں خطبہ ہوتے وقت بھی کلام سامعین ناجائز وحرام نہیں جانتے صرف مکروہ مانتے ہیں اور کراہت کلام شافعیہ میں جب مطلق بولی جاتی ہے اس سے کراہت تنزیہی مراد ہوتی ہے بخلاف کلمات ائمتنا الحنفیہ رحمھم اﷲ تعالٰی
فان غالب محملھا بھا مطلقۃ فیھا کراہۃ التحریم
 ( بخلاف ہمارے ائمہ احناف رحمہم اﷲ تعالٰی  کی عبارات کے کیونکہ ان میں غالب یہی ہے کہ مطلقاً کراہت مکروہ تحریمی ہے ۔ت) علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ آذات الید مسئلۃ الشطرنج میں فرماتے ہیں:
الکراہۃ عند الشافعیۃ اذا اطلقت تنصرف الی التنزیھیۃ لا التحریمیۃ بخلاف مذہبنا ۱؎۔
شوافع کے نزدیک مطلقاً کراہت کااطلاق مکروہ تنزیہی پر ہوتا ہے نہ کہ تحریمی پر بخلاف ہمارے مذہب کے (اس میں تحریمی پر ہے )۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲ /۴۴۰)
اور سکوتِ  خطیب کے وقت جیسے قبل و بعد خطبہ وبین الخطبتین اصلاً کراہت بھی نہیں مانتے۔ امام ابویوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں:
لایجب الاستماع وھو شغل السمع بالسماع۲؎۔
استماع واجب نہیں اور استماع سے مراد کانوں کو سماع میں مشغول کرنا ہے ۔(ت)
(۲؎ الانوارلاعمال الابرار     فصل لصحۃ الجمعۃ الخ            مطبعۃ جمالیہ مصر        ۱ /۱۰۱)
اسی میں ہے:
لایحرم الکلام حال الخطبۃ لاعلی الخطیب ولا علی المامومین السامعین وغیر ھم لکن یکرہ الا لغرض مھم کاندارمن یقع فی بئراو عقرب ویتعلم خیرا اونھی عن شیئ ۱؎ ۔
خطبہ کے دوران کلام حرام نہیں نہ خطبہ پر نہ مقتدیوں پر،ہاں بغیر غرض کے مکروہ ہے ، مثلاکنویں میں گرنے والے کو متنبہ کرنا یا بچھو سے بچانا یا خیر کا حکم دینا اور برائی سے روکنا جائز ہے (ت)
(۱؎ الانوار لاعمال الابرار        فصل لصحۃ الجمعۃ الخ    مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۱/ ۱۰۱)
اسی میں ہے :
لایکرہ الکلام حال الاذان ولابین الخطبتین ولابین الخطبۃ والصلٰوۃ ۲؎۔
اذان، دونوں خطبوں کے درمیان اور خطبہ اور نماز کے درمیان کلام مکروہ نہیں ۔(ت)

(۲؎ الانوار لاعمال الابرار        فصل لصحۃ الجمعۃ الخ    مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۱/ ۱۰۱)
علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی فتح المعین بشرح قرۃ العین میں فرماتے ہیں:
یکرہ الکلام ولایحرم حالۃ الخطبۃلا قبلھا ولو بعد الجلوس علی المنبر ولابعدھا ولابین الخطبتین ویسن تشمیت العاطس والردعلیہ ورفع الصوت من غیر مبالغۃ بالصلٰوۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عند ذکر الخطیب اسمہ او وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال شیخنا ولا یبعد ندب الترضی عن الصحابۃ بلارفع صوت وکذا التامین لدعاء الخطیب ۳؎ اھ مختصرا۔
دورانِ خطبہ کلام مکروہ ہے، خطبہ سے پہلے اگر چہ خطیب منبر پر بیٹھ چکاہو اور دو خطبوں کے درمیان کلام حرام نہیں ہے، چھینک مارنے والے کا جواب دینا اور اس کے بدلہ میں دعا دینا سنت ہے اور جب خطیب نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا اسم یا وصف ذکر کرے تو صلٰوۃ وسلام عرض کیا جاسکتا ہے البتہ آواز بلند نہ کی جائے، ہمارے شیخ نے فرمایا کہ صحابہ کے نام پر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اور دعاء خطیب کے وقت آمین آواز بلندکئے بغیر کہنا مستحب ہونا بعید نہیں اھ اختصاراً (ت)
(۳؎ فتح المعین شرح قرۃ العین فصل فی صلوۃ الجمعۃ  عامر الاسلام  پورپرس ترونگاری انڈیا  ص ۱۴۶)
یونہی مذہب حنفی میں امام ثانی قاضی ربانی سید نا امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی  کے نزدیک بھی مطقاً جواز ہے، اوقات ثلثہ غیر حال خطبہ یعنی قبل وبعد دعابین خطبتین میں اگرچہ کلامِ دنیوی منع فرماتے ہیں مگر کلام دینی مثل ذکر وتسبیح مطلقاً جائز رکھتے ہیں، اور پُر ظاہر دُعا خاص کلامِ دینی عبادت الٰہی ہے۔
مراقی الفلاح میں ہے :
اذا خرج الامام فلاصلٰوۃ ولاکلام وھو قول الامام وقال ابویوسف ومحمد لا باس بالکلام اذاخرج قبل یخطب واذانزل قبل ان یکبر واختلفا فی جلوسہ اذا سکت فعند ابی یوسف یباح لان الکراھۃ للاخلال بغرض الاستماع ولااستماع ، ولہ اطلاق الامر ۱؎ اھ ببعض اختصار۔
جب امام آجائے تو کوئی کلام ونماز نہیں، اور یہی امام کا قول ہے، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی  کہتے ہیں خطبہ شروع ہونے سے پہلے کلامِ میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح جب امام منبر سے اترے اورتکبیر سے پہلے بھی گفتگو میں کوئی حرج نہیں، جب منبر پر خطیب خاموش بیٹھا ہوتو اس وقت ان میں اختلاف ہے امام ابویوسف کے نزدیک مباح ہے کیونکہ کراہت کی وجہ خطبہ سننے میں خلل کا واقع ہونا ہے اور یہاں استماع نہیں ہے ان کی دلیل امر کا  اطلاق ہے اھ مختصراً (ت)
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب الجمعۃ    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۸۲)
صاحبِ مذہب امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے کہ خروج امام سے فراغِ نماز تک کلام سے ممانعت فرمائی، مشائخ مذہب اس سے مراد میں مختلف ہوئے اور تصحیح بھی مختلف آئی، بعض فرماتے ہیں مرادِ امام صرف دنیوی کلام ہے، اوقاتِ ثلٰثہ میں دینی کی اجازت عام ہے، نہایہ و عنایہ میں اسی کو اصح کہا ، ایسا ہی فخر الاسلام نے مبسوط میں فرمایا، مشائخ کرام نے مطلق مراد لیا، امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں اسی کو احوط کہا۔
قلت واطلاقات المتون واکثر الکتب علیہ ماشیۃ وعامۃ التفاریع عنہ ناشیۃ کما یظھر بمراجعۃ ما علقنا علی ردالمحتار فھو اصح التصحیحین فیما اعلم کیف لاوقد صرح المحققون ان الدنیوی مکروہ اجماعا فلو لم ینھی الامام الاعنہ لارتفع الخلاف مع ان الکتب المعتمدۃ عن اٰخرھا متظافرۃ علی اثباتہ۔
میں کہتا ہوں کہ متون کے اطلاقات پر اور اکثر کتب اسی پر جاری ہیں اور عام تفریعات اس سے مستخرج ہیں جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار سے ظاہر ہے اور میرے علم کے مطابق دونوں تصحیحوں میں یہ اصح ہے اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ محققین نے تصریح کی ہے کہ کلامِ دنیوی بالاتفاق مکروہ ہے، اور اگر امام نے اس سے ہی منع کیا ہے تواب اختلاف مرتفع ہوجائے گا حالانکہ تمام کتب اس اختلاف کے ثبوت سے مالا مال ہیں ۔(ت)
بحرالرائق میں زیر قولِ مصنف
اذاخرج الامام فلاصلٰوۃ ولاکلام
(جب امام آجائے تو کوئی نماز اور کلام نہیں ۔ت ) ہے :
اطلق فی منع الکلام فشمل التسبیح والذکر والقراءۃ وفی النھایۃ اختلف المشائخ علی قول ابی حنیفہ قال بعضھم انما کان یکرہ ماکان من کلام الناس اما التسبیح ونحوہ فلاوقال بعضھم کل ذلک مکروہ والا ول اصح اھ وکذا فی العنایۃ وذکر الشارح ان الاحوط الانصات اھ ویجب ان یکون محل الاختلف قبل شروعہ فی الخطبۃ ویدل علیہ قولہ ''علی قول ابی حنیفۃ '' و اماوقت الخطبۃ فالکلام مکروہ تحریما ولوکان امرا بمعروف اوتسبیحا اوغیرہ کما صرح بہ فی الخلاصۃ وغیرھا۱؎ انتھی باختصار
منع کلام مطلقاً کہا، لہذا یہ تسبیح، ذکر اور قراءت کوبھی شامل ہوگا، نہایہ میں ہے کہ مشائخ نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے قول پر اختلاف کیا ہے بعض نے کہا یہاں وہی گفتگو مکروہ ہے جو لوگوں کی ( دنیوی گفتگو ) ہو، رہی تسبیح وغیرہ تو وہ مکروہ نہیں، بعض نے کہا کہ یہ تمام مکروہ ہے اور پہلا اصح ہے اھ عنایہ میں بھی اسی طرح ہے ، شارح نے ذکرکیا کہ احوط خاموش ہونا ہے اور یہ ضروری ہے کہ محل اختلاف خطبہ میں شروع ہونے سے پہلے ہو اور اس پر اس کے یہ الفاظ کہ '' ابو حنیفہ کے قول پر'' دلالت کررہے اور خطبہ کے وقت کلام مکروہ تحریمی ہے خواہ امربالمعروف یا تسبیح یا اس کی مثل ہو جیسا کہ خلاصہ وغیرہ میں اس پر تصریح ہے، انتہی باختصار (ت)
(۱؎ بحرالرائق    باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۱۴۸)
طحطاوی وردالمحتار مبحث الفاظ افتا میں ہے  :
قولہ وغیرھا کالاحوط والاظہر۲؎ ۔
اس کا قول '' اس کے علاوہ الفاظ'' مثلاً احوط واظہر ہیں ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار    خطبۃ الکتاب    مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۱/ ۵۴)
درمختار میں فتاوٰی خیریہ سے ہے :
بعض الالفاظ اٰکد من بعض فلفظ الفتوی اٰکد من لفظ الصحیح والاحوط اٰ کدمن الاحتیاط۳؎ اھ مختصرا۔
بعض الفاظ بعض کی نسبت زیادہ موکد ہوتے ہیں لفظِ فتوٰی ، لفظ صحیح سے اور احوط، احتیاط سے زیادہ مؤکد ہے اھ مختصراً (ت)
(۳؎ درمختار     خطبۃ الکتاب         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۵)
بالجملہ خلاصہ کلام یہ کہ دعائے مذکور خطیب کے لئے مطلقاً او رسامعین کے لئے دل میں بالاتفاق جائز  مذہب امام شافعی وقول امام ابی یوسف پر اُن کے لئے زبان سے بھی قطعاً اجازت اور ارشاد امام کی ایک تخریج پر مکروہ دوسری پر جائز، ائمہ فتوٰی  نے دونوں کی تصحیح کی تو  احد الصحیحین پر دُعائے مذکور امام و مقتدین سب کو دل وزبان ہر طرح سے باتفاق مذہبین حنفی وشافعی، مطلقاً جائز و مشروع ، اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب ترجیح مختلف متکافی ہو تو مکلف کو اخیتار ہے کہ ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے اصلاً محلِ اعتراض وانکار نہیں،
بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے:
متی کان فی المسئلۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما ۱؎۔
جب مسئلہ میں دو اقوال صحیحہ ہوں تو ان میں سے ایک پر فتوٰی اور قضاء جائز ہوتی ہے ۔(ت)
(۱؎ درمختار    خطبۃالکتاب        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۴)
ولہذافقیر غفرا ﷲ تعالٰی  بآنکہ یہاں تصحیح تبیین کوارجح جانتا ہے ہمیشہ سامعین کو بین الخطبتین دعا کرتے دیکھا اور کبھی منع وانکار نہیں کرتا ہے
ھذا جملۃ القول فی ھذا الباب والتفصیل فی فتاوٰنا بعون الوھاب
 (اس مسئلہ میں یہ گفتگو کا خلاصہ ہے اور اس کی تفصیل اﷲ تعالٰی  کی اعانت سے ہمارے فتاوٰ ی میں ہے ۔ت)

رہی مترجم درمختار کی علمائے بریلی سے وہ نقل معلوم نہیں کہ اس نے اپنے زعم میں علمائے بریلی سے کون لوگ مراد لئے، اُس کے زمانے میں ان اقطار کے اعلم علماء کہ اپنے عصر و مصر میں حقیقۃً صرف وہی عالم دین کے مصداق تھے یعنی خاتمۃالمحققین سیّدنا الوالدقدس سرہ الماجد ، فقیر برسوں جمعات میں اقتدائے حضرت والا سے مشرف ہُوا حضرت ممدوح قدس سرہ، جلسہ، بین الخطبتین میں دُعا فرمایا کرتے اور سامعین کو دعا کرتے دیکھ کر کبھی انکار نہ فرماتے اور مترجم کے زمانے سے پہلے بریلی میں اس امر کا استفتا ہوا، مولٰنا احمد حسین مرحوم تلمیذ اعلٰحضرت سیّد العلماسند العرفا مولٰنا الجد قدس سرہ الامجد نے جواز مشروعیت پر فتوٰی  دیااعلحضرت نوراﷲ مرقدہ الشریف وفاضل اجل مولٰنا سیّدیعقوب علی صاحب رضوی بریلوی ومولوی سیّد محمود علی صاحب بریلوی وغیر ہم علمائے کرام نے اُ س پر مہریں فرمائیں یہ فتوی مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوٰی مسمّی بمفید المسلمین میں مندرج ومشمول  اوراطمینان سائل کے لئے یہاں منقول :
Flag Counter