اذاخرج الامام من الحجرۃ والافقیامہ للصعود شرح المجمع فلا صلٰوۃ ولا کلام الی تمامہا ولو تسبیحا او رد سلام اوامرا بمعروف بلا فرق بین قریب وبعید وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدھا واذاجلس، عند الثانی والخلاف فی کلام ۱یتلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا ۱؎ اھ ملتقطا
جب امام حجرہ سے نکلے ورنہ وہ جب منبر پر چڑھنے کے لئےکھڑا ہو،شرح المجمع ، تو اس وقت سے اختتام تک نہ نماز ہے نہ کلام اگرچہ وہ ایک تسبیح یا سلام کا جواب یا امر بالمعروف ہو،قریب اور بعید بیٹھنے والے میں کوئی فرق نہیں، صاحبین کے نزدیک خطبہ سے پہلے اور بعد اور امام ابویوسف کے ہاں جب خطیب درمیان میں بیٹھےگفتگو میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ اختلاف اس گفتگو کے بارے میں ہے جو آخرت سے متعلقہ ہو اس کے علاوہ گفتگو بالاتفاق مکروہ ہے ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳)
تحقیق یہی ہے ، اگر چہ یہاں اختلاف نقول، حداضطراب پر ہے کہ سب کو مع ترجیح وتنقیح ذکر کیجئے تو کلام طویل ہو، اس تحقیق کی بنا پر حاصل اس قدر کہ مقتدی دل میں دعا مانگیں کہ زبان کو حرکت نہ ہو توبلاشبہ جائز کہ جب عین حالتِ خطبہ میں، وقت ذکر شریف حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دل سے حضور پردرود بھیجنامطلوب، توبین الخطبتین کہ اما م ساکت ہے دل سے دعابدرجہ اولٰی روا،
ردالمحتار میں ہے:
اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایجوز ان یصلوا علیہ بالجھربل بالقلب وعلیہ الفتوی رملی ۲؎ ۔
جب سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مبارک ذکر آئے تو بالجہر کی بجائے دل میں درود شریف پڑھ لیا جائے، اسی پر فتوٰی ہے ۔رملی (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۰۶)
اور زبان سے مانگنا امام کے نزدیک مکروہ، اور امام ابی یوسف کے نزدیک جائز، اور مختار قول امام ہے، تو بیشک مذہب منقح حنفی میں مقتدیوں کو اس سے احتراز کا حکم ہے نہ کہ اس بنائے فاسد پر جو مبنائے جہالات وہابیہ ہے کہ عدمِ ورود خصوص،ورودِ عدم خصوص ہے، وہ بھی خاص حقِ جواز میں، منع کے لئے ممانعت خاصہ خدا ورسول کی کچھ حاجت نہیں کہ یہ تو محض جہل وسفہ وتحکم ہے بلکہ اس لئے کہ
اذا خرج الامام فلا صلٰوۃ ولاکلام
( جب امام نکل آئے تو نہ کوئی نماز ہے نہ کلام ۔ت) پس غایت یہ کہ جو لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہوں انھیں بتادیا جائے نہ کہ معاذا ﷲ بدعتی گمراہ حتی کہ بلاوجہ مسلمانوں کو مشرک ٹھہر ایا جائے، کیا ظلم ہےجب ان اشقاء کے نزدیک اﷲ عزوجلّ کو پکارنا بھی شرک ہوا تو مگر شیخ نجدی یعنی ابلیس لعین کا پکارنا توحید ہوگا حاش ﷲ( اﷲ ہی کے لئے پاکیزگی ہے ۔ت) یہ اُن بدعقلوں کی بدزبانیاں ہیں جن کا مزہ آخرت میں کھلے گا، جب لا الٰہ الا اﷲ مسلمانوں کی طرف سے اُن بیباکان پُر سرف سے جھگڑنے آئے گا،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۳؎o
اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ (ت)
(۲؎ القرآن ۲۶/ ۲۲۷)
قول ارجح ممانعت سہی پھر بھی ان دعا کرنے والوں کے لئے خود ہمارے مذہب وکتب مذہب میں متعدد راہیں تجویز واجازت کی ہیں:
اوّلاً یہی قول اما م ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ جو اس تر خیص کے ساتھ اس جہالت نجدیہ کا بھی علاج کافی ہے کہ وہ اس وقت تسبیح بالتصریح جائز بتاتے ہیں حالانکہ بہ لحاظ خصوص وقت ورود اس کابھی نہیں۔
ثانیاً بعض کے نذدیک مقتدیوں کو صرف جہر ممنوع ہے آہستہ میں حرج نہیں۔ اور اس کی تائید اس قول سے بھی مستفاد کہ عین حالتِ خطبہ میں ذکر اقدس سن آہستہ کر درود پڑھنے کا حکم دیا گیا اگر چہ تحقیق وہی ہے، کہ دل سے پڑھے،
کما قدمنا عن الرملی وھومعنی مافی الدرالمختار من قولہ والصواب انہ یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عند سماع اسمہ، فی نفسہ ۱؎ اھ وان مال القہستانی الی التاویل بالاخفاء خلافالما فی الجوھرۃ وغیرھا من الکتب المعتبرۃ قال الشامی ای بان یسمع نفسہ اویصحح الحروف فانھم فسروہ بہ وعن ابی یوسف قلبا کما فی الکرمافی قھستانی واقتصر فی الجوھرۃ علی الاخیر حیث قال ولم ینطق بہ لانھا تدرک فی غیرھذا لحال والسماع یفوت ۲؎ اھ مختصرا واماقول القھستانی انھم فسروہ بہ فانما ارادبہ دفع الاستبعاد عما اختارہ من التاویل فان ظاہر اللفظ ھوارادۃ القلب ومع ذلک ربما اطلقوہ وفسروہ بی ای بالاسرار علی القولین فی تحدیدہ۔
جیسا کہ رملی کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں، درمختار کے ان الفاظ سے بھی وہی مرادہے کہ صواب یہ ہے کہ حضور سرور عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر دل میں درود شریف پڑھاجائے اھ اگر چہ قہستانی کا میلان اخفاء کی طرف ہے مگر جوہرہ اور دیگر کتب معتبرہ اس کے خلاف ہیں، شامی کہتے ہیں کہ اس کا اپنا نفس سن لے یا حروف کی تصحیح ہو کیونکہ علماء نے اس کی تفسیر یوں ہی کی ہے، امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ دل میں پڑھے جیسا کہ کرمانی میں ہے، قہستانی نے جوہرہ میں آخری پر ہی اکتفا کیاہے ان کے الفاظ میں اس کے ساتھ نطق نہ کرے کیونکہ اس حال کے علاوہ میں اسے پایا جاسکتا ہے مگر اس کے ساتھ سماع فوت ہوجائیگا اھ اختصار اً ۔رہا قہستانی کا قول کہ فقہاء نے اس کی تفسیر یہی کی ہے اس سے ان کی مراد اس بُعد کو دور کرنا ہے جو ان کی اختیار کردہ تاویل میں تھا کیونکہ '' فی نفسہٖ '' ظاہراً الفاظ تو ارادۂ قلب پر دال ہیں حالانکہ اس کے باوجود اس کا اطلاق کرکے اس کی تفسیر مخفی ہونے کے ساتھ کرتے ہیں، ان دونوں اقوال پر جو اس کی تعریف کے بارے میں ہیں ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۳)
(۲؎ ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۰۶)
ثالثاً امام نصیر بن یحٰی وامام محمد بن الفضل وغیرہما عین حالت خطبہ میں بعید کو کہ خطبہ کی آواز اس تک نہ پہنچے انصات واجب نہیں جانتے،ا ورامام محمد بن سلمہ بھی صرف اولٰی کہتے ہیں اگر چہ مفتی بہ اس پر بھی وجوب ، تو اس جلسہ میں کہ آواز ہی نہیں بدرجہ اولٰی واجب نہ کہیں گے۔
حدیقہ ندیہ میں ہے:
قال فی النھایۃ اذا کان بحیث لایسمعھا لاروایۃ فیہ عن اصحابنا فی المبسوط وقد اختلف المشائخ المتاخرون فیہ فعن محمد بن سلمۃ الانصات اولی وعن نصیر بن یحٰی انہ کان بعیدا وکان یحرک شفتیہ بالقراٰن وفی العنایۃ ان الانصات مختار الکرخی و صاحب الھدایۃ وقال بعضھم قراءۃ القراٰن اولی وھو اختیار الفضلاء ۱؎۔
نہایہ میں ہے اس وقت جب ایسے مقام پر ہو کہ وہ خطبہ نہیں سن رہا، مبسوط میں ہمارے اصحاب (احناف) سے کوئی ایک روایت نہ ہے،متاخرین مشائخ کا اس میں اختلاف ہے،محمد بن سلمہ کے نزدیک خاموشی اولٰی ہے، نصر بن یحٰی کے بارے میں ہے کہ جب ہو خطیب سے دُور ہوتے تو ان کے ہونٹ تلاوتِ قرآن سے حرکت کررہے ہوتے تھے، عنایہ میں ہے خاموشی، کرخی اور صاحب ہدایہ کا مختار ہے، بعض نے فرمایا: تلاوت قرآن اولٰی ہے، فضلاء کے ہاں یہی مختار ہے۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ نوع ۳۳۳۳ الکلام فی حال الخطبۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضوریہ فیصل آباد ۲۲/۳۰۳۰۷)
ردالمحتار میں فیض سے ہے :
الاحوط السکوت وبہ یفتی ۲؎
(سکوت ہی احوط ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا ۔ت)
(۲؎ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱۱/۶۰۶۰۶)
رابعاً بعض علماء کا گمان ہے کہ ہمارے امام کے نزدیک بھی صرف کلامِ دنیوی ممنوع ہے دعاء و ذکر مطلقاً جائز حتی کہ عین حالتِ خطبہ میں بھی ،اگر چہ صواب اُس کے خلاف ہے
کما تقدم عن الدر
( جیسا کہ در کے حوالے سے گزرا ۔ت ) عبدالغنی نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں:
اما تامین المؤذنین علی دعاء الخطیب والترضی عن الصحابۃ والدعاء للسلطان بالنصر ۱۲فلیس ھذا من الکلام العرفی بل ھو من قبیل التسبیح ونحوہ فلا یکرہ فی الاصح ۱؎الخ وبینا علی ھامشھا ان ھذا من اشتباہ عرض لہ رحمہ اﷲ تعالٰی من تصحیح النھایۃ والعنایۃ بلفظ لتجویز الکلام الاخروی وانما کلامھا فیما قبل شروع الخطبۃ و بعدھا لاحالھا ثم ھو ایضالا یخلو عن نظر کما یظھر بمراجعۃ ماعلقنا علی ھامش ردالمحتار والاصح الاحوط اطلاق المنع کم افادہ الزیلعی لذالم یمش علیہ فی عامۃ الکتب المعتمدہ کالبحر والنھر والدر وردالمحتار۱۔
خطیب کی دعاء پر مؤذنین کا آمین کہنا، صحابہ کے نام سن کر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہنا، بادشاہ کے لئے دعا یہ کلام عرفی نہیں بلکہ ازقبیل تسبیحات وغیرہ ہے لہذا اصح قول کے مطابق یہ مکروہ نہیں الخ، ہم نے اس کے حاشیہ میں تحریر کیا کہ علامہ رحمہ اﷲ تعالٰی کو یہ اشتباہ نہایہ اور عنایہ کی تصحیح سے عارض ہوا کیونکہ انھوں نے کلام اُخروی پر محمول کیا ہےحالانکہ ان کا کلام خطبہ سے پہلے یا بعد پر محمول ہے نہ کہ درمیان میں، پھر وہ بھی محلِ نظر ہے جیسا کہ حاشیہ ردالمحتار کی طرف مراجعت سے ظاہرہوگا اصح اور احوط مطلقاً منع ہے جیسا کہ زیلعی نے فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ عامہ کتب معتمدہ میں اس مسلک کو اختیار نہیں کیاگیا مثلاً بحر، نہر ، در اور ردالمحتار (ت)
(۱؎ حدیقۃ الندیۃنوع ۳۳۳ الکلام فی حال الخطبۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲۲/۳۰۳۰۹)
اور مذاہب دیگر پر نظر کیجئے تو حد درجہ کی توسیعیں ہیں حتّی کہ محیط میں تو یہاں تک منقول کہ:
من العلماء من قال السکوت علی القوم کان لازما فی زمن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اما الیوم فغیر لازم ۲؎ اھ ونقلہ عنہ القھستانی۔
بعض علماء نے کہا کہ لوگوں پر سکوت رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں لازم تھا اب لازم نہیں رہا اھ اسے قہستانی نے نقل کیاہے ۔(ت)
(۲؎ جامع الرموز بحوالہ المحیط فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱۱/۲۶۲۶۷۷)
علمائے محتاطین تو ایسے مسائل اجتہادیہ میں انکار بھی ضروری و واجب نہیں جانتے نہ کہ عیاذاً باﷲ نوبت تا بہ تضلیل واکفار۔سیدی عارف باﷲ محقق نابلسی کتاب مذکور میں فرماتے ہیں:
ان المسئلۃ الواقعۃ کما ھی الاٰن فی جوامع بلادنا وغیرہ یوم الجمعۃ من الموذنین متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذہبنا او مذہب غیرنا فلیست بمنکریجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ ۱؎ ۔
مسئلہ درپیش جیسا کہ اب ہمارے شہر کی جامع مساجد میں مؤذنین جمعہ کے دن ( امام کی دعا پر آمین )کہتے ہیں اس کی تخریج وثبوت ہمارےمذہب یا دوسرے مسلک میں ممکن ہے، تو یہ ایسا ناجائز نہیں کہ اس کا انکار اور اس سے منع لازم ہو، منکر تو وہ ہوتا ہے جس کی حرمت اور ممانعت پر اجماع ہو ۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ نوع ۳۳۳۳ الکلام فی حال الخطبۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲۲ /۳۰۹)
بالجملہ مقتدیوں کا یہ فعل تو علی الاختلاف ممنوع مگر مسلمانوں کو بلاوجہ مشرک بدعتی کہنا بالاجماع حرام قطعی تو یہ حضرات مانعین خود اپنی خبر لیں اور امام کے لئے تو اس کے جواز میں اصلاً کلام نہیں، ہاں خوف مفسدۂ اعتقاد عوام ہو تو التزام نہ کرے، فقیر غفر اﷲ تعالٰی اس جلسہ میں اکثر سکوت کرتا اور کبھی اخلاص کبھی درود پڑھتا ہے اور رفع یدین کبھی نہیں کرتا کہ مقتدی دیکھ کر خود بھی مشغول بدعا نہ ہوں ، مگر معاذ اللہ ایسا نا پاک تشدد شرع کبھی روا نہیں فرماتی، مولٰی تعالٰی ہدایت بخشے آمین واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم