Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
107 - 144
رِعَایۃ المَذھَبَین فی الدّعاءِ بین الخُطبتین(۱۳۱۰ ھ)

(دو خطبوں کے درمیان دُعا کرنے کا بیان)
مسئلہ ۱۴۰۸: از کٹھور اسٹیشن سائن ضلع سورت مر سلہ مولوی عبدالحق صاحب مدرس مدرسہ عربیہ۱۵جمادی الآخرہ ۱۳۱۰ھ

اس جائے پر بروز جمعہ بین الخطبتین کے جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دُعا آہستہ مانگی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کو مکروہِ شدید وحرام وبدعتِ سیئہ وشرک قرار دے کر اس فعل کو منع کرتے ہیں، لہذا التماس یہ ہے کہ اس کے جوابِ باصواب سے جو دافع جدال ہو تحریر فرماکر رفعِ خصومت بین المسلمین فرمائیں۔
الجواب

امام کے لئے تو اس دُعا کے جواز میں اصلاً کلام نہیں، جس کے لئے نہیِ شارع نہ ہونا ہی سند کافی، ممنوع وہی ہے جسے خدا رسول منع فرمائیں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم، بے اُن کی نہی کے ہر گز کوئی شے ممنوع نہیں ہوسکتی خصوصاً دُعا سی چیز جس کی طرف خود قرآنِ عظیم نے بکمال ترغیب وتاکید علی الاطلاق بے تحدید وتقیید بلایا اور احادیث شریفہ نے اسے عبادت ومغزِ عبادت فرمایا، پھر یہاں صحیح حدیث کافحوی الخطاب اُس کی اجازت پر دلیل صواب کہ خود حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا عین خطبہ میں دست مبارک بلند فرماکر ایک جمعہ کو مینہ برسنے اور دوسرے کو مدینہ طیبہ پر سے کُھل جانے کی دُعا مانگنا، صحیح بخاری ومسلم وغیرہا میں حدیثِ انس رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی  حالانکہ وہ قطعِ خطبہ کو مستلزم، تو بین الخطبیتن بدرجہ اولٰی  جواز ثالث، لاجرم علمائے کرام نے شروحِ حدیث وغیرہ کتب میں صاف اُس کا جواز افادہ فرمایا،مولٰنا علی قاری مکی حنفی رحمہ اﷲ تعالٰی  مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں زیرِ حدیث
یخطب ثم یجلس فلا یتکلم
 ( امام خطبہ پڑھے پھر بلا گفتگو بیٹھ جائے۔ ت) فرماتے ہیں:
لایتکلم ای حال جلوسہ بغیر الذکر اوالدعاء اوالقراءۃ سرا و الاولی القراءۃ لروایۃ ابن حبان کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم یقرأ فی جلوسہ کتاب اﷲ ۱؎الخ
نہ گفتگو کرے یعنی بیٹھنے کی حالت میں آہستہ ذکر یا قراءۃ کے علاوہ بات نہ کرے، قراءت اولٰی  ہے کیونکہ ابنِ حبان کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کتاب اﷲ کی تلاوت فرماتے تھے الخ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب الخطبہ والصلٰوۃ الخ            مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان    ۳۳/۲۷۰)
حافظ الشان شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی  فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:
واستفید من ھذ ان حال الجلوس بین الخطبتین لاکلام فیہ لکن لیس فیہ نفی ان یذکر اﷲ او یدعوہ سرا۲؎ ۔
اس کا مفاد یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بلاکلام بیٹھنا ہے لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں کہ آہستہ آہستہ اﷲ کا ذکر اور دُعا بھی کی جائے ۔(ت)
 (۲؎ فتح الباری شرح البخاری        باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳/۵۷)
ثم یجلس فلا یتکلم ( جھرافلا ینافی روایۃ ابن حبان انہ کان یقرأفیہ ای الجلوس وقال الحافظ مفاده ۳؎) الی اخرمامر۔
پھر خطیب گفتگو کے بغیر بیٹھ جائے ( یعنی بلند آواز سے گفتگو نہ کرے یہ بات روایت ابن حبان کے منافی نہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اس ( جلوس) میں قراءت فرماتے ہے اور حافظ نے کہا اس کا مفاد وہ جو پہلے بیان ہوچکا ہے ۔ (ت)
(۳؎ شرح الزرقانی علی المواہب       الباب الثانی فی ذکر صلوتہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم الجمعۃ        مطبوعہ دارالمعرفت بیروت      ۷/۳۸۵)
بلکہ صحیح حدیث حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم ومتعدد اقوال صحابہ وتابعین کی رو سے یہ جلسہ اُن اوقات میں ہے جن میں ساعتِ اجابت جمعہ کی امید ہے، صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابی موسٰی  اشعری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے دربارۂ ساعتِ جمعہ فرمایا:
ھی مابین ان یجلس الامام الی ان تقضی الصلٰوۃ ۱؎۔
امام کے جلوس سے نماز ختم ہونے تک ساعت جمعہ ہے ۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم شریف         کتاب الجمعۃ        مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی  ۱ /۲۸۱)
دوسری حدیث میں آیا حضور پرنور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ نے فرمایا: شروع خطبہ سے ختم خطبہ تک ہے رواہ ابن عبدالبرعن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما (اسے ابن عبدالبر نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲتعالٰی  عنہما سے روایت کیا ہے ۔ت) اِنہی ابن عمر و ابو موسٰی  رضی اﷲ تعالٰی  عنہم سے مروی کہ خروج امام سے ختمِ نماز تک ہے ۔ یونہی امام عامر شعبی تابعی سے منقول رواہ ابن جریر الطبری (اسے ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے ۔ت) انھی شعبی سے دوسری روایت میں خروجِ امام سے ختم خطبہ تک اس کا وقت بتایا رواہ المروزی (اسے امام مروزی نے روایت کیا ۔ت) اسی طرح امام حسن بصری سے مروی ہوا رواہ ابن المنذر (اسے ابن المنذر نے روایت کیا ۔ ت) ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہمانے اذان سے نماز تک رکھا رواہ حمید بن زنجویہ ( اسے حمید بن زنجویہ نے روایت کیا ۔ت) بہر حال یہ وقت بھی ان میں داخل ، تو یہاں دُعا ایک خاص ترغیب شرح کی مورد خصوصاً حدیث دوم پر جبکہ کسی مطلب خاص کے لئے دُعا کرنی ہو جسے خطبہ سے مناسبت نہ ہو تواس کے لئے یہی جلسہ بین الخطبتین کا وقت متعین بلکہ علامہ طیبی شارح مشکوٰۃ نے بالتعیین اسی وقت کو ساعتِ اجابت بتایا اور اُسے بعض شراح مصابیح سے نقل فرمایا بلکہ خود ارشاد اقدس
مابین ان یجلس الامام
( امام کے بیٹھنے سے لے کر ۔ ت) سے یہی جسلہ مراد رکھا، اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں ہے :



می گفت آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم درشان ساعۃ الجمعۃ کہ آں ساعت میان نشستن امام ست برمنبر تا گزاردن نماز،طیبی ازجلوس، نشستن میان دو خطبہ مراد داشتہ ۲؎ الخ



حضور صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے جمعہ کی ساعت کے بارے میں فرمایاکہ وہ گھڑی امام کے منبرپر بیٹھنے سے لے کر نماز ادا کرنے تک ہوتی ہے، علامہ طیبی نے جلوس سے مراد دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا لیا ہے الخ (ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ  کتاب الجمعۃ      مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۲/۵۷۱)
اس قول پر تو بالخصوص اسی وقت کی دعا شرعا اجل المندوبات واجب مرغوبات سے ہے پھر اس قدر میں اصلاً شک نہیں کہ جب بغرضِ تقویت رجاء جمع احادیث واقوال علماء چاہئے، جو امثال بابِ مثل لیلۃ القدر وغیرہا میں ہمیشہ مسلکِ محققین رہا ہے، تو بقیہ اوقات کے ساتھ اس وقت بھی دعا ضرور درکار ہوگی اور اس کے نیک ومستحسن ماننے سے چارہ نہ ہوگا، لاجرم صاحب عین العلم نے کہا جواکابر علمائے حنفیہ سے ہیں صاف تصریح فرمائی کہ اس جلسہ میں مستحب ہے، اسی طرح امام ابن المنیر نے افادہ استحسان جمع فرمایا، طرہ یہ کہ یہ قول امام مدوح حضرات منکرین کے امام شوکانی نے نیل الاوطار شرح ملتقی الاخبار میں نقل کیا اور مقرر ومسلم رکھا
حیث قال فی عدالا قوال، الثلاثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی ۱؎ الخ ثم قال قال ابن المنیر یحسن جمع الاقوال فتکون ساعۃ الاجابۃ واحدۃ منھا لابعینھا فیصادفھا من اجتھد فی الدعاء فی جمعیھا ۲؎ اھ
یہاں انھوں نے تیسواں قول شمار کرتے ہوئے کہاکہ دوخطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت ، اسے طیبی نے نقل کیا ہے الخ پھر کہا کہ ابن منیر نے کہا تمام اقوال احسن ہے ساعتِ قبولیت تو ایک ہی ہے اسے وہی پائے گا جو تمام وقت دعا میں رہے گا۔ (ت)
 (۱؎ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار    باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳ /۲۷۵)

(۲؎ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار    باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ۳ /۲۷۷)
یہ حکم امام کاہے ، رہے مقتدی ان کے بارے میں ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی  عنہم مختلف ، امام ثانی عالمِ ربانی قاضی الشرق والغرب حضرت امام ابویوسف رحمۃ ا ﷲ تعالٰی  علیہ کے نزدیک انھیں صرف بحالتِ خطبہ سکوت واجب ، قبل شروع وبعد ختم وبین الخطبیتن دعا وغیرہ کلامِ دینی کی اجازت دیتے ہیں، اور امام الائمہ مالک الازمہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ خروجِ امام سے ختم نماز تک عند التحقیق دینی ودنیوی ہر طرح کے کلام یہاں تک کہ امر بالمعروف وجوابِ سلام بلکہ مخل استماع ہر قسم کے کام سے منع فرماتے ہیں اگر چہ کلام آہستہ ہو اگر چہ خطیب سے دوربیٹھاہو کہ خطبہ سُننے میں نہ آتا ہو، امام ثالث محررالمذہب محمد بن الحسن رحمہ اﷲ تعالٰی  بین الخطبتین میں امام اعظم اورقبل وبعد میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں،
Flag Counter