مسئلہ۱۴۰۷: از بنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بروز جمعہ نیت چار رکعت سنت کی باندھی، بعدہ، امام نے خطبہ شروع کیا اب وہ دورکعت پڑھ کر سلام کرے یا چار رکعت پوری پڑھے اس میں جو کچھ اختلاف درمیان علمائے حنفیہ سے ہے وہ جناب پر ظاہر ہے لیکن بطور نمونہ قدرے درج ذیل ہے:
فی الدرالمختار فی باب الجمعۃ ولو خرج و ھو فی السنۃ اوبعد قیامہ لثالثۃ النفل یتم فی الاصح ویخفف القراءۃ ۲؎
درمختار کے باب الجمعہ میں ہے کہ اگرامام آگیا اور نمازی سنن اداکررہا تھا یا نفل کی تیسری رکعت کی طرف کھڑا ہو تو اصح قول کے مطابق اسے مکمل کرلے اورقراءت میں تخفیف کرے،
وایضا فیہ فی باب ادراک الفریضۃ وکذا سنۃ الظھروسنۃ الجمعۃ اذا اقیمت اما خطب الامام یتمھا اربعا علی القول الراجع لانہا صلٰوۃ واحد لیس القطع للاکمال،بل للا بطال خلا فالما رجحہ الکمال ۱؎۔
اس کے باب ادراک الفریضہ میں بھی یہی ہےاور اسی طرح سنتِ ظہر اور سنتِ جمعہ میں اگر تکبیر کہی جائے یا امام خطبہ شروع کردے تو قولِ راجح کے مطابق وہ چار رکعت مکمل کرے کیونکہ یہ ایک ہی نماز کے حکم میں ہے یہاں انقطاع ، اکمال نہیں بلکہ ابطال ہوگا، اس کے خلاف ہے جسے کمال نے ترجیح دی۔
(۱؎ درمختار باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۹۹ )
اور عالمگیری میں ہے اگر کوئی شخص ظہر اور جمعہ کی پہلی سنتوں میں تھا تکبیر کہی گئی یا خطبہ شروع ہوگیا تو دو رکعات ادا کرکے ختم کردے یہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام کرے اسی طرح ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے، محیط سرخسی میں یہی ہے اور یہی صحیح ہے، اسی طرح سراج الوہاج میں ہے،
فی الصغیری شرح منیۃ اذا صعدالامام المنبر یجب علی الناس ترک الصلٰوۃ ۳؎ الٰی اٰخرہ فی حاشیۃ ردالمحتار علی الدرالمختار متعلق، لمارجحہ الکمال حیث قال وقیلک یقطع علی رأس الرکعتین وھوالراجح لانہ یتمکن فی قضائھا بعدالفرض ولا ابطال فی التسلیم علی الرکعتین فلا یفوت فرض الاستماع والاداء علی الوجہ الاکمل بلاسبب اھ۔
صغیری شرح منیہ میں ہے جب امام منبر پر چڑھے تو لوگوں میں نماز کا ترک کردینا لازم ہے الخ حاشیہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں کمال کی ترجیح کے بارے میں ہے کہ بعض نے کہا دو رکعتوں پر اختتا م کردے یہی راجح ہے کیونکہ فرائض کے بعد ان کی قضا ممکن ہے اور دو رکعات پر سلام ان کا ابطال بھی نہیں، پس اب خطبہ کا سننا جو فرض ہے وہ بھی فوت نہ ہوگا اور کامل طریقہ پر سنن کی ادائیگی بھی ہوجائے گی۔
(۳؎ صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۸۰)
اقول وظاھر الھدایۃ اختیارہ و علیہ مشی فی الملتقی ونور الایضاح والمواھب وجمعۃ الدرر والفیض وعزاہ فی الشرنبلالیۃ الی البرھان وذکر فی الفتح انہ حکی عن السغدی انہ رجع الیہ لما راہ فی النوادر عن ابی حنیفۃ وانہ مال الیہ السرخسی والبقالی وفی البزازیۃ انہ رجع الیہ القاضی النسفی و ظاھر کلام المقدسی المیل الیہ ونقل فی الحلیۃ کلام شیخہ الکمال ثم قال وھو کما قال ھذا۱؎ الخ فی شرح الوقایۃ اذا خرج الامام حرم الصلٰوۃ ۲؎
اقول ہدایہ کا ظاہر یہی کہ یہ ان کامختار ہے ، اس پر ملتقی ، نورالایضاح، المواہب، جمعۃ الدرر اور فیض میں ہے شرنبلالیہ میں اسے برہان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، فتح میں ہے سغدی سے منقول ہے کہ اس کی طرف رجوع اس لئے کیا کہ نوادر میں امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے، اوراسی کی طرف سرخسی اور بقالی نے میلان کیا ہے او ربزازیہ میں ہے کہ اس کی طرف قاضی نسفی نے رجوع کیا، کلام مقدسی سے ظاہراً اسی طرف میلان معلوم ہوتا ہے، حلیہ میں کمال کا کلام نقل کر کے کہا کہ وہ اسی طرح ہے جو یہ کہا گیا ہے الخ شرح وقایہ میں ہے جب امام آجائے تو نماز حرام ہوجاتی ہے.
(۱؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۲۷)
(۲؎ شرح الوقایہ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱۱/۲۴۴ )
وفی عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ لمولٰنا واستاذنا مولوی عبدالحی صاحب مرحوم ومغفور واخرج اسحق بن راھویۃ فی مسندہ عن السائب کنا نصلی فی زمن عمر یوم الجمعۃ فاذا خرج عمر وجلس علی المنبر قطعنا الصلٰوۃ ۳؎ الخ
عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ جو ہمارے استاذ مولوی عبدالحی کا ہے میں لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت سائب سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے دور میں نماز پڑھتے تھے توجب حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ منبر پر بیٹھتے تو ہم نماز ختم کردیتے تھے الخ (ت)
(۳؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۲۴۴)
الجواب
دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادر ہے اور ثانی مفاد
(جب روایات مختلف ہوں توظاہر الروایت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔محرر المذہب سیّدنا امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا وناھیک بہ حجۃ وقدوۃ (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں، ت) فتح القدیر میں ہے :
الیہ اشارفی الاصل۴؎
( اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے۔ت)
(۴؎ فتح القدیر باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۹۳)
معہذا کثرت تصحیح وافتائے صریح بھی اسی طر ف ہے:
والقاعدۃ ان ا لعمل بما علیہ الاکثر کما نصوا علیہ فی غیر ماکتاب وبیناہ فی رسالتنا بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃ الجنائز۔
اور یہ قاعدہ ہے کہ عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثریت ہو جیسا کہ فقہاء نے کتب میں متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالے '' بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃالجنائز'' میں دی ہے۔ (ت)
اور یہ قاعدہ ہے کہ عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثریت ہو جیسا کہ فقہاء نے کتب میں متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالے '' بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃالجنائز'' میں دی ہے۔ (ت)
قولِ اول کی ترجیح صریح کتب معتمدہ مرجحین میں کہ اس وقت فقیر کے پاس ہیں خانیہ وفتح کے سوا کسی میں نظر سے نہ گزری
اما الحلیۃ فقد تبعت الفتح واما المراقی فانما تبع البرھان شرح مواہب الرحمٰن بشھادۃ غنیۃ ذوی الاحکام واما الطرابلسی فانما اقتفی اثر الکمال کما ھودابہ فی کل مقال قال الکلام الی الکمال مع ان الشرنبلالی خالف نفسہ فی جمعۃ غنیۃ کما یأتی۔
حلیہ نے فتح کی اتباع کی ہے، مراقی نے غنیہ ذوی الاحکام کے بیان کے مطابق برہان شرح مواہب الرحمٰن کی اتباع کی ہے، طرابلسی نے کمال کی اقتداء کی جیسا کہ ان کا ہر جگہ یہی طریقہ ہے اور کہا کہ کلام کمال کی طرف ہی ہے باوجود یکہ شرنبلالی نے جمعہ غنیہ میں خود اپنی مخالفت کی ہے جیسا کہ آرہا ہے ۔(ت)
اور قولِ اخیر کوصاحب محیط وامام عبدالرشید وامام ابوحنیفہ ولوالجی وامام عٰی سی بن محمد قرہ شہری صاحب مبتغی وامام ظہیر الدین مرغینانی صاحب ظہیر یہ وعلامہ شمسی وصاحبِ سراج وہاج نے فرمایا:
(۶؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۱۴۱)
اسی طرح جامع الرموز وہندیہ ونہر وغیرہا میں اس کی تصحیح وترجیح مذکور یہاں تک کہ امام اجل مجہتد الفتوی حسام الدین عمر صدر شہید قدس سرہ نے فتاوٰی صغری میں فرمایا:
میں کہتا ہوں صحیح اس کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ جمعہ کی چار سنتیں مکمل کرے، اور اسی پر فتوٰی ہے جیسا کہ صغری میں ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ بحر میں ولوالجیہ اور مبتغی سے ہے الخ ۔(ت)
لاجرم بحر میں قولِ اول کی نسبت فرمایا:
ھو قول ضعیف وعزاہ قاضی خاں الی النوادر ۳؎
( یہ ضعیف قول ہے اور قاضی خاں نے اس کی نسبت نوادر کی طرف کی ہے ۔ت)
رہیں روایات قطع وترک وتحریم نماز بخروج امام للخطبہ انھیں اس مبحث سے علاقہ نہیں وہ فریقین کی منصوصہ ومتفق علیہا ہیں ان کے معنٰی یہ ہیں کہ خروجِ امام کے بعد کوئی نماز (سوائے فائتہ واجب الترتیب کے ) شروع نہ کرے پہلے سے جو انتظارِ امام میں نوافل وغیرہا پڑھ رہاہے اس کا سلسلہ قطع کردے متمادی نہ رہے نہ یہ کہ جو نمازپڑھ رہاہے وہ حرام ہوگئی اسے قطع کردے نیت توڑدے یہ قطعاً باطل ہے ورنہ اگر ہنوز نیت ہی باندھی یاایک ہی رکعت پڑھی کہ امام خطبہ کے لئے خارج ہوا تو فوراً نیت توڑدینا واجب ہو یہ کسی کا قول نہیں نصوص عامہ کتب مذہب اس کے بطلان پر متظافر و متواتر ہیں کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ت ) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم