| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۱۴۰۶: ازاوجین گوالیار مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں ۱۵جمادی الآخرہ۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک قصبہ میں نسلاً بعد نسلٍ مسند قضا پر بحکم حاکم واتفاقِ جماعتِ مسلمانان مامور ہے اور امامت وخطابت اور نماز عیدین بلکہ تمام کاروبار متعلقہ عہدہ قضا کرتا ہے اور سوائے زید کے شوہرِ ہندہ نے تمام عمر امامت وخطیبی نہ کی باوجود ان وجوہات کے ہندہ نے بعد وفاتِ شوہر اپنے کے بشرارت چند کس زید کو بلاوجہ خدمتِ مذکور سے علیحدہ کرکے عمر و داماد اپنے کر بحکم حاکم قائم مقام زید کیا چاہتی ہے، ہندہ چچی زید ہے تو باجازت واعانت عورت بلا استرضا کے اقوام اہل اسلام عمر وامامت وخطابت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بسند کتاب بیان فرمائیں.
الجواب عورت کہ سلطنت نہ رکھتی ہو اورا سی طرح سلطانِ اسلام یا اس کے نائب ماذون کے سواکسی حاکم کا کسی شخص کو خطیب یا امام جمعہ مقرر کرنا اصلاً معتبر نہیں، نہ ایسے شخص کے خطبہ پڑھتے یا نماز پڑھانے سے جمعہ ادا ہوسکے کہ اس میں اذنِ سلطانِ اسلام شرط ہے جسے اس نے مقرر کیایا اس کے مقرر کئے ہوئے نے اذن دیا وہی خطیب وامام ہو سکتا ہے دوسرا نہیں،
درمختار میں ہے:
الجمعۃ شرط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا قالوا یقیمھا امیر البلد ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ۱؎ اھ ملتقطا
صحتِ جمعہ کے لئے سلطان یا اس کے مامور برائے اقامتِ جمعہ کا ہونا ضروری ہے فقہاء نے فرمایاکہ جمعہ امیر یا شہر قائم کرے اس کے بعد محاسبہ پھر قاضی پھر وہ شخص جسے قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو اھ اختصاراً (ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۰۔ ۱۰۹)
پس اگر آباء واجداد زید سلطنت اسلام سے اس عہدہ پر از جانبِ سلاطین اسلام مقرر تھے اور وہ خطباء و ائمہ یکے بعد دیگرے اپنی اولاد میں ایک دوسرے کو نائب کرتے آئے یہاں تک کہ یہ نہایت زید تک پہنچی تو زید خود سلاطین اسلام کی طرف سے اس عہدہ پر مامور گناجائے گا اوراس کے ہوتے ہوئے اگر تمام اہل شہر بے اس کے اذن کے دوسرے کوامام یا خطیب مقرر کرنا چاہیں گے ہرگز جائز نہ ہوگا نہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی خطبہ خوانی یا امامت صحیح ہوگی،
ردالمحتار میں ہے:
الاذن من السلطان انما یشترط فی اول مرۃ فاذا اذن باقامتھا لشخص کان لہ ان یأذن لغیرہ وذلک الغیرلہ ان یأذن لاخر وھلم جرا ولاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ او بدونھا اما بدون ذلک فلا ۲؎ اھ ملخصا
سلطان کا اذن پہلی دفعہ شرط ہے جب سلطان کسی شخص کو اقامت جمعہ کا اذن جاری کر دے تو وہ شخص کسی دوسرے کو اجازت دے سکتا ہے اسی طرح وہ آگے ایسا کرسکتا ہے ، اقامتِ جمعہ وہ قائم کرسکتا ہے جس کو اذنِ سلطان حاصل ہو خواہ بلاواسطہ اذن ہو یا بالواسطہ ۔ لیکن اگر اذن نہیں تو جمعہ قائم نہیں کرسکتا اھ تلخیصاً (ت)
۲۲؎ (۲ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۹۲)
اور اگر ایسا نہیں یعنی اس کے اجداد جانبِ سلاطین اسلام سے مامور نہ تھے یاا س کو انھوں نے نائب نہ کیا تاہم جبکہ یہ خود باتفاق مسلمین امامت وخطابت پر مامور ہے تو ہمارے اعصار وامصار میں بلاریب امام وخطیب صحیح شرعی ہے کہ جہاں سلطان نہ ہو اس امر کا اختیار عامہ مسلمین کے ہاتھ ہوتا ہے وہ جسے مقرر کردیں اسی کا تقرر ٹھیک ہے،
درمختار میں ہے:
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمعھم فیجوز للضرورۃ ۳؎۔
عوام کا خطیب کو مقرر کرنا مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے معتبر نہیں اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا (ت)
(۳؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۰)
تواس صورت میں بھی دوسرا کوئی شخص بغیر اذن زید کے امامت وخطابت کا مجازنہیں کہ آخر یہ خطیب شرعی ہےاور خطیب شرعی کے بے اجازت دوسرا امامت یا خطابت نہیں کرسکتا،
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز ظاہرہ ان لاخطیب خطب بنفسہ والاخر صلی بلا اذنہ ومثلہ مالو خطب بلااذنہ لما فی الخانیۃ وغیرھا خطب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز ۱؎ اھ
قولہ '' اگرکسی نے اذنِ خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائزنہیں '' اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ خطیب نے خود خطبہ دیا مگر نماز اس کی اجازت کے بغیر دوسرے نے پڑھادی اور اسی کی مثل وہ صورت ہے جب بلااجازتِ خطیب کسی نے خطبہ دے دیا، کیونکہ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی نے بغیر اجازتِ امام خطبہ دیا اور امام حاضر تھا تویہ جائزنہیں اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۹۴ ۔۵۹۳)
ہاں اس صورت میں اگر عامہ مسلمین جیسے آج تک تقرر زید پر متفق رہے اب بوجہ شرعی معزولی زید پر متفق ہوجائیں اور دوسرے شخص کو قائم کردیں تو اس صورت زید معزول اور دوسرے کا تعین صحیح ومقبول ہوگا صرف عورت کی جاہلانہ حرکت یا حاکم سلطنت غیر اسلامی کی شرکت واعانت محض بیکار وبے سود ہے کہ کسی منصب سے معزول کرنے کا اسی کو اختیار ہوتا ہے جسے مقرر کرنے کا اختیار تھا وہ اصالۃً سلطانِ اسلام ہے اور ضرورۃً جماعاتِ مسلمین نہ کہ عورت یا حکامِ سلطنت غیر اسلام
کما لایخفی علی من لہ بالفقہ ادنی الالمام
( جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہو جو فقہ میں ادنٰی سا درک رکھتا ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔