مسئلہ۱۴۰۰: از جگندل ضلع چوبیس پرگنہ نیا بازار نئی مسجد مسئولہ عبدالستار ہاشمی ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے خطبہ اولٰی کے بجائے وعظ وپند عوام کو احکامِ شرعیہ بتانے اور سمجھانے کے لئے جائز ہے یانہیں یا قطعی حرام ہے؟ اردو کلام کرنا اندر خطبہ کے یا خطبوں کا ترجمہ یا آیات واحادیث جو خطبوں میں ہیں ان کا ترجمہ کرنا درست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب
خطبہ خود وعظ وپند ہے مگر اس میں غیر عربی زبان کا خلط مکروہ وخلاف سنتِ متوارثہ ہے اگر چہ نفس فرض خطبہ خالص دوسری زبان سے ادا ہوجائے گا صحابہ کرام نے عجم کے ہزاروں شہر فتح فرمائے اور ان میں منبر نصب کئے اور خطبے پڑھے اور ان کی زبانیں جانتے تھے ان سے گفتگو کرتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں خطبہ فرمایا یا غیر زبان کو ملایا:
فھو کف والکف متبع قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد ۱؎ ۔
یہ فعل سے رکنا ہے اور رکنے میں اتباع کی جائے گی،حضور اکر م صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے کسی معاملہ میں اختراع کی حالانکہ وہ اس میں سے نہ تھی تو وہ مردہ ہوگی ۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب اذا اصطلحوا علی صلحٍ جورٍ فہو مردود مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۷۱)
ہاں اگر اثنائے خطبہ میں مثلاً کسی ہندی کو کوئی فعل ناجائز کرتے دیکھا جیسے خطبہ ہونے کی حالت میں چلنا یا پنکھا جھلنا،اور وہ عربی نہیں سمجھتا تو اردو میں اسے منع کرے کہ یہ حاجت یونہی رفع ہوگی ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۴۰۱ تا۱۴۰۳: از بھاجی بازار شہر مسئولہ مظہر حسین صاحب آزادپرائیویٹ سیکریٹری ۸شوال۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
(۱) قاضی وخطیب شہر گورنمنٹ کا خطاب یافتہ ہے اور اس کے متعلق اس کو معاش، زمانہ شاہی سے ملی ہوئی ہے اس نے ذاتی رنجشوں عداوتوں کی وجہ سے خطا ب وغیرہ ترک موالات کے سلسلہ میں واپس نہیں کئے، ویسے خلافت کاہمدرد اور قولاً فعلاً امداد کی اور کرنے کو تیار ہے، بوجہ خطیب ہونے کے عیدیں میں خطبہ پڑھتا ہے کیا شرعاً ایسے شخص کا خطبہ سُننا جائز ہے؟
(۲) جامع مسجد اور عیدگاہ میں ایک شخص حافظ قاری جو دو حج بھی کرچکا ہے اور خطاب یافتہ نہیں ہے منجانب قاضی وخطیب مذکور امامت کے لئے عرصہ دراز سے مقرر ہے اس کی امامت میں نماز جائز ہے یا نہیں؟
(۳) ایک شہر میں دو خطاب یافتہ مسلمان ہیں خلافت کمیٹی بھی قائم ہے ، اس کمیٹی نے ایک خطاب یافتہ کی جانبداری اختیار کر رکھی ہے اس کو خطاب وغیرہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتی اور اس کی تولیت میں جو مسجد ہے اور اس میں اسی خطاب یافتہ کی جانب سے امام مقرر ہے ، اس کا خطبہ سُننا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور دوسرے خطاب یافتہ کا خطبہ سُننا اور اس کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز قراردیا ہے، کیا کمیٹی کا یہ فعل فتاوٰی علمائے کرام احکامِ خدا ورسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور احکام شرعیہ میں کوئی تفرقہ ہے یا سب مسلمانوں کے لئے یکساں اور عام ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) جو زمانہ شاہی سے منصب خطبہ وامامت پر منصوب ہے بلاوجہ شرعی اس کے خطبہ سُننے کو ناجائز بتانے والا شریعتِ مطہرہ پرا فتراء کرتا ہے، خطاب واپس نہ کرنا کوئی ایسا جرم نہیں جس کے سبب اس کا خطبہ سننا منع ہوجائے
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۱؎
( بلاشبہ وہ لوگ جو اﷲ تعالٰی پر افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے ۔ت)
(۱؎ القرآن ۱۶ /۱۱۶)
(۲) جائز ہے اگر اس میں کوئی مانع شرعی نہ ہو اگر چہ خطاب یافتہ ہو.
(۳) یہ تفرقہ محض جہالت اور افتراء بر شریعت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۰۴: از ایرایان ضلع فتحپور سادات مسئولہ سید صغیر حسین صاحب نائب مدرس مڈل اسکول ۱۲شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلمات اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام پاک پر اذان میں انگوٹھا چومنا یا خطبہ میں آں حضرت کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب
اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دُعا میں امام وصاحبین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا اختلاف ہے بچنا اولٰی ، اور کریں تو حرج نہیں، یوں ہی اذانِ خطبہ میں نام ِپاک سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے، خطبہ میں نامِ پاک سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۰۵: از قصبہ سرسی محلہ بوچڑ خانہ کلاں پرگنہ سنبھل ضلع مرا دآباد مسئولہ حافظ خدا بخش وشیخ عبدالعزیز یکم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ فرقہ نجدیہ کے اشخاص جابجا گشت کرتے ہیں اور مومنین مومنات کو بہکاتے پھرتے ہیں ان کا بیان سننے کو کوئی نہیں ٹھہرتا، تو انھوں نے اب یہ کید کیا ہے کہ بوقت خطبہ جمعہ اغوا شروع کرتے ہیں اور اس کا نام خطبہ رکھتے ہیں، یہ فرقہ کیا حکم رکھتا ہے اور خطبہ جمعہ دراصل اردو میں جائز بھی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے '' حسام الحرمین'' سے ظاہر ہے ، ان کا خطبہ باطل ، ان کی نماز باطل، ان کے پیچھے نماز باطل محض جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے ، اور اردو میں خطبہ پڑھنا سنت متوارثہ کا خلاف اور بہت برا ہے، اور وہابیہ کے طور پرتو اصل ایمان میں خلل انداز ہے کہ بدعت ہے اور ان کے نزدیک ہر بدعت اصل ایمان میں خلل انداز اگر چہ اُن کے پاس سرے ہی سے نہیں واﷲتعالٰی اعلم