مسئلہ ۱۳۹۲تا ۳۹۴: از آگرہ ابوالعلائی اسٹیم پریس مسئولہ وحید الدین صاحب۸شوال ۱۳۳۹ ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں :
(۱) ہندوستان کے شہروں میں جمعہ ادا ہوتاہے یا نہیں اور جمعہ ادا کرنے کے بعدظہر احتیاطی واجب ہے یا مستحب یا مکروہ؟
(۲) کیا ایک وقت میں دو نمازیں فرض ہیں اور کیا جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط نہیں ہوتی۔
(۳) ہندوستان کے جن شہروں میں جامع مسجد کا امام باتفاق مقرر کیا گیا ہے کیا وہ اقامت وادائیگی جمعہ کے لئے کافی ہے یا بادشاہِ اسلام یا نائبِ بادشاہ کی ضرورت ۔ مختصر اولہ حوالہ کتب کے ساتھ جواب مرحمت ہو۔
الجواب
(۱) ہندوستان کے شہروں میں جمعہ صحیح ہے اور ظہر احتیاطی صرف خواص کو مناسب ہے۔ درمختارمیں ہے: نصب العامۃ غیم معتبر مع وجود من ذکر۔ امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۱؎ ۔
جب مذکور اشخاص موجود ہوں تو عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور مذکورہ افراد نہ ہوں تو ضرورت کے پیش نظر تقرر جائز ہوگا ۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۰)
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی اور ہمارے رسالہ لوامع البھا میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) ایک وقت میں دو فرض ہر گز نہیں اور جمعہ جب ادا ہوجائے گا ظہر ساقط ہوجائے گی ایسے ہی خیالوں سے بچنے کو علماء نے عوام کو ظہر احتیاطی کا حکم نہ دیا۔
ردالمحتار میں ہے :
ولذا قال المقدسی نحن لا نامر بذلک امثال ھذہ العوام بل ندل عليہ خواص ولو بالنسیۃ الیھم ۱؎ ۔واﷲ تعالٰی اعلم
ہم ایسی اشیاء کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ خواص کو بتاتے ہیں اگر چہ خواص عوام کی نسبت سے ہوں ۔(ت) واللہ تعالٰی اعلم
(۱؎ ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۷ ۔ ۵۹۶)
(۳) وہ امام کافی ہے اگر صحیح العقیدہ ، صحیح القرائۃ ،صحیح الطہارۃ ، جامع شرائط صحت ہو، ابھی درمختار سے گزرا:
یجوز للضرورۃ
( ضرورت کے لئے جائز ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۹۵: از پیلی بھیت محلہ پنجابیاں مسئولہ محمد یونس صاحب ۲۷ شعبان۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مقام پر دریا شہر میں واقع ہے اور ایک آگبوٹ یہاں مدام کھڑا رہتا ہے اور جہاز والے چند جہازوں کو اس آگبوٹ میں لاکر جوڑ تے ہیں مال اور سواریاں جہازوں کی آگبوٹ اُتارتے ہیں اور آگبوٹ کے اگے ایک پُل لوہے کا بنا ہوا ہے سواریاں شہر کواسی پُل سے پار ہوکر جاتی ہيں اور اس آگبوٹ اور جہازوں میں تین گز کا فاصلہ ہے اور جہازوں والے بوجہ خوف چوری کے شہر میں جاکر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں توازرُوئے شرع نماز ان کی جائز ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب
دریا میں نماز جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتی ، اگر سمندر ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ حکم دارالحرب میں ہے اور دارالحرب میں جمعہ وعیدین باطل ۔
ردالمحتار میں ہے :
فی حاشیۃ بی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم دارالحرب ۲؎ ۔
حاشیہ ابوسعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب استیلاء الکفار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۷ ۔۲۶۶)
اسی میں دُرمنتقی شرح الملتقی سے ہے:
البحر الملح ملحق بدارالحرب ۳۳؎
( نمکین سمندر، دارالحرب سے ملحق ہے ۔ت)
(۳؎ردالمحتار باب استیلاء الکفار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۷ ۲)
اور اگر دریا ہو تو دریا نہ مصر ہے نہ فنائے مصر، یہاں تک کہ شہر کے دوحصے کہ اس کے دو پہلوں پر آباد ہوں دوشہر کے مثل ہیں کہ دریا ایک جداومستقل چیز بیچ میں فاصل ہے۔
فتح القدیر میں ہے :
اصلہ عندابی حنیفہ لایجوز تعدد ھافی فی مصر وکذاروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لا یجوز فی مسجد ین فی مصر الا ان یکون بینھا نھر کبیر حی یکون کمصرین وکان یامر بقطع الجسر ببغداد کذلک ۱ ۔
اس کی اصل امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک یہی ہےکہ ایک شہرمیں متعدد جگہ جمعہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اصحاب الاملاء نے امام ابویوسف سے روایت کیا کہ شہر میں دومساجد میں جمعہ نہیں ہوتا، ہاں جب ان کے درمیان بڑی نہر ہو تو وہ اس وقت دوشہروں کی طرح ہوجائیں گے، اسی لئے انھوں نے بغداد میں پل ختم کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا ۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۵)
ظاہر ہے کہ فنا تابع ہے نہ کہ قاطع، اور جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے مگر مصر یا فنائے مصر میں، یہ سب اس صورت میں ہے کہ خوف صحیح ہو اترنا متعذر ہو ورنہ نماز پنجگانہ ووتر وسنت فجر بھی ان جہازوں میں نہیں ہوسکتے کہ ان کا استقراء پانی پر ہے اور ان نمازکی شرطِ صحت استقرار علی الارض مگر بحال تعذر،
فتح القدیر میں ہے :
فی الایضاح ان کانت موقوفہ فی الشط وھی علی قرار الارض فصلی قائما جاز لانھا اذا استقرت علی الارض فحکمھا حکم الارض فان کات مربوطۃ ویمکنہ الخروج لم تجز الصلٰوۃ فیھا، لانہا اذا لم تستقم فھی کالدابۃ انتھی بخلاف مااذا استقرت فانھا حنیئذ کالسریر ۲؎
ایضاح میں ہے اگر وہ کشتی کنارے پر کھڑی ہے اور زمین پر برقرار ہے تو نماز کھڑے ہو کر ادا کرے تونماز جائز ہے کیونکہ اب زمین پر قرار پکڑنے کی وجہ سے زمین کے حکم میں ہی ہے ، اور اگر کشتی باندھی ہوئی تھی اور اس سے نکلنا ممکن تھا تو اب اس پر نماز نہ ہوگی کیونکہ جب وہ مستقر نہیں تو وہ چارپایہ کے حکم میں ہے بخلاف اس صورت کے جب وہ مستقر ہے تواس وقت وہ چار پائی کی طرح ہوتی ہے ۔(ت)
(۲؎ فتح القدير باب صلٰوۃ المریض مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۴۶۲)
اسی صورت میں اگر جبراً نہ اترنے دیتے ہوں پنجگانہ پڑھیں اور اترنے کے بعد سب کا اعادہ کریں
لان المانع من جھۃ العباد
( کیونکہ رکاوٹ بندوں کی طرف سے ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۹۶: از کاٹھیا واڑ ضلع راجکوٹ شہر پور بندرپنج ہسٹری مسئولہ سید غلام محمد صاحب قادری رضوی امام مسجد میٹھی ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین حضرت سیدنا مخدومنا ومولٰنا ومولوی حاجی قاری احمد رضا خاں صاحب قبلہ قادری برکاتی مدظلہ ودام فیضہ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ یہاں ملک کاٹھیا واڑ میں اکثر مقامات پر یہ رواج ہے کہ جمعہ کے روز خطبہ میں سلطان المسلمین کے واسطے دعا مانگی جاتی ہے تو خطیب بروقت دُعا مانگنے کے منبر پر سے ایک سیڑھی نیچے اترتاہے اور بعد دُعا مانگ کر ایک سیڑھی اوپر چڑھتا ہے اور بعض مقامات پر اس طرح نہیں کیا جاتا ہے یعنی خطیب ایک سیڑیھی نیچے اترتا تو زید اس سے اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سلطان کے لئے دعامانگنے کے وقت ایک سیڑھی اترنا چاہئے، عرض یہ ہے کہ یہ فعل کیسا ہے؟
الجواب
خطیب کا ایک سیڑھی نیچے آنا اور پھر اوپر جانا بعض علمانے بمجبوری ایک مصلحت شرعی کے لئے رکھاتھا جس کاذکر مکتوبات شیخ مجدد اور تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے، یہاں وہ مجبوری نہیں ، نہ سلاطین کے نام کے ساتھ مبالغہ امیز، غلط الفاظ ملانے کی حاجت، لہذا یہ فعل عبث محض ہے، ردالمحتار میں اس کا بدعت ہونا نقل کیا، وھو تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۹۷: از بھوساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب صاحب ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ جمعہ کی نماز باجماعت کس وقت سے لے کر اور کب تک اداکرسکتے ہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
جمعہ اور ظہر کا ایک وقت ہے زوال شمس کے بعد اذانِ اول ہوپھر سنتیں پھر اذانِ ثانی پھر خطبہ پھر نماز، یہ اس کا اول وقت ہے اور ایسے وقت اذان وخطبہ ونماز ہوں کہ سایہ دو مثل ہونے سے پہلے اخیر سنتیں ہوجائیں یہ اس کا آخر وقت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۹۸: از جے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی عبدالواجد علی خاں مسئولہ حامد حسن قادری ۱۷ رمضان۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خطبہ جمعہ میں بعد جلسہ استراحت درمیانی، کس قدر خطبہ پڑھنا چاہئے اور اس میں کیا کیا مضامین ہوں، کیا صرف چند کلماتِ حمد اور ایک آیت قرآنی سے خطبہ ثانیہ پورا ہوجائے گا، اور کیا نعتِ حضور سرورِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و درود شریف وذکر خلفائے کبار و اہلبیت کرام رضوان اﷲ تعالٰی اعلیہم اجمعین ودعابرائے مومنین کے تر ک سے کچھ نقصان نہ ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب
خطبہ ثانیہ پورا ہونا بایں معنی کہ فرض ادا ہوجائے ، یہ تو پہلے ہی خطبہ سے حاصل ہوگیا مگر بلاضرورت سنتِ متوارثہ قدیمہ دائمہ کو چھوڑنا ا ور مسلمانوں کی تنفیر کا باعث ہونا اور اپنے اوپر فتح بابِ غیبت کرنا اور ارشاد اقدس
بشروا والاتنفروا
( خوشخبری دو ، نفرت نہ دلاؤ، ۔ت) کی مخالفت کرنا دیندار عاقل کا کام نہیں، نعتِ اقدس سے دعا برائے مومنین تک جتنی باتیں سوال میں مذکور ہیں سب محمود ومعمول وماثور ہیں انھیں ضرور بجا لانا چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۹۹: از شاہجہان پور محلہ خلیل مسئولہ امیر خاں مختار عامر ۲شوال۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ شاہجہان پور میں ایک مسجد ہے اس میں یہ قرار پایا کہ اول ہر وقت یہاں تک کہ جمعہ کی نماز قادیانی پڑھیں، بعد کو اہلسنت مع خطبہ جمعہ کے، توحضور فرمائے کہ ہماری نماز ہوگی یا نہیں؟ پہلے قادیانی خطبہ پڑھ چکے ہم دوبارہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: نہ قادیانیوں کی نماز ہے نہ ان کا خطبہ،خطبہ کہ وہ مسلمان ہی نہیں، اہلسنت اپنی اذان کہہ کر اسی مسجد میں اپنی خطبہ پڑھیں اپنی جماعت کریں یہی اذان وخطبہ وجماعت شرعاً معتبر ہوں گے، اور اس سے پہلے جو کچھ قادیانی کر گئے باطل ومردود محض تھا ۔وھوتعالٰی اعلم