Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ)
102 - 144
مسئلہ ۱۳۸۶: از نوشہرہ تحصیل جام پور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدا لغفور صاحب ۱۴محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

ایك اولیاء اﷲ کا مجالس خانہ مقرر ہے وہاں عرس شریف کے دن مجلس ہوتی ہے اس مجلس خانہ میں عید نماز  یا جمعہ نماز  یا مطلق  نماز پڑھنا جائز ہے یا نہ؟ بینوا توجروا
الجواب

مجلس خانہ میں نماز ناجائز ہونے کی كیا وجہ ہے، ہاں مسجد کا ثواب نہ ملے گا او ربلا عذر ترک مسجد ہو تو گناہ ہوگا مگر نماز ہوجائے گی، یونہی جمعہ وعیدین بھی اگر عام شہرت واذن ہو کہ یہاں جمعہ یا عیدپڑھیں گے جوچاہے آئے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم
مسئلہ ۱۳۸۷: از ایرایان محلہ سادات ضلع فتح پور مسئولہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳محر م ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دھوپ کی شدت سے اگر خطبہ سنتے وقت چھاتا لگا لے تو حرج تو نہیں؟
الجواب

بہتر نہیں، حاضری دربار کے خلاف ہے،اور یہ ضعیف یامریض ہے اور دھوپ ناقابل برداشت تو لگالے، واﷲ تعالٰی  اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸۸: از مقام درگر ممالک متوسطہ مرسلہ جنا ب ڈاکٹر حسین بیگ صاحب معرفت جناب عبدالمجید صاحب مورخہ ۲ ربیع الآخره ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص فجر کی نماز پڑھ کر جمعہ کے روز بازار کرنے کو ایک مقام پر جو کہ سکونت سے نو میل کے فاصلے پر چلاجاتا ہے اور جمعہ کی نماز میں شریک نہیں ہوتا جس کو عرصہ دراز ہوگیا ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ وہ منافق ہوگیا اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفن کرنا چاہئے اوراس سے میل ومحبت وغیرہ سب ترک کردئے جائیں وہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی پرورش کرنے کی وجہ سے جاتا ہوں اس پر شرعی فتوٰی  کی ضرورت ہے۔ وبینوا توجروا
الجواب

اگر وہ ٹھیک دوپہر ہونے سے پہلے شہر کی آبادی سے نکل جاتا ہے تو اس پر اس اصلاً کچھ الزام نہیں اور اگر اسے شہر ہی میں وقت جمعہ ہوجاتا ہے اس کے بعد بے پڑھے چلاجاتا ہے تو ضرور گنہگار ہے مگر یہ باطل ہے کہ اسے قبرستان مسلمین میں دفن نہ کرسکیں اسے نفاقِ عملی کہہ سکتے ہیں نہ کہ حقیقی۔ ہاں اس جرم پر مسلمان اس سے میل جول ترک کر سکتے ہیں اور پہلی تقدیر پر تو جتنے احکام اس پر لگائے گئے سب غلط ہیں۔
فتاوٰی  ظہریہ وغیرہ شروح و درمختار وغیرہما میں ہے:
الصحیح انہ یکرہ السفر بعد الزوال قبل ان یصلیھاولا یکرہ ان یصلیھا قبل الزوال ۱؎۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
صحیح یہ ہے کہ زوال کے بعد جمعہ ادا کرنے سے پہلے سفر پر نکلنا مکروہ ہے البتہ قبل از ز وال نکلنا مکروہ نہیں ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
(۱؎ درمختار     باب الجمعہ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۳)
مسئلہ۱۳۸۹: مسئلہ از کشن گنج ضلع پورنیہ مسئولہ ماسٹر محمدطاہر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ انجمن اسلامیہ ۲۴جمادی الاولٰی  ۱۳۳۹ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس جوار کا دستور ہے کہ اکثر لوگ احاطہ مکان میں ایک چار چھ ہا تھ کا مربع مکان دیوار یا ٹٹی کا بنام، اﷲ گھر یا مسجد  كے بلا لحاظ پابندی نماز بتاتے ہیں، یہ مکان ضرورتاً ادھر اُدھر ہٹا بھی دیاجاتا ہے اور کبھی کھود بھی ڈالتے ہیں غرض ایسی عرفی مسجدوں میں جو بڑی سے بڑی مسجدتھی اس میں لوگوں نے جمعہ جماعت تیار کرلی اور چلتے پھرتے واعظ لوگ آتے انھوں نے ان لوگوں کی شامل جمعہ بھی پڑھا اور پڑھتے ہیں تو ایسی حالت میں بتحقیق مقلدین احناف یہ خوانندہ جمعہ مصیب ٹھہریں گے یا خاطی ؟ جواب مدلل بادلہ حنیفہ ہو۔
الجواب

یہ مکانات مساجد البیوت کہتے ہیں یہ حقیقۃً مسجد نہیں ہوتے، نہ ان کے لئے حکمِ مسجد ہے ، 

درمختا ر میں ہے :
کرہ غلق باب المسجد والوطء فوقہ والبول والتغوط ولایکرہ ماذکر فوق بیت جعل فیہ مسجد بل ولا فیہ لانہ لیس بمسجد شرعا۱؎ ۔ ( ملخصاً)
مسجد کا دروازہ بند رکھنا، مسجد کی چھت پر وطی اور بول و براز مکروہ ہے لیکن یہ اس گھر کے اوپر مکروہ نہیں جس گھر میں مسجد ہو بلکہ اس کے اندر بھی مکروہ نہیں کیونکہ وہ شرعی مسجد نہیں ۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳)
مگر جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو، کافی امام نسفی میں ہے:
السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا و اذن للناس اذنا عاما جازت ۔۲؎
اگر سلطان چاہتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں نماز جمعہ ادا کرے تو اگر اس نے دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کو اذنِ عام تھا تو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار بحوالہ الکافی    باب الجمعۃ       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)
تو اگر صورت یہ تھی وہ لوگ مصیب ہوئے، ہاں اگر وہاں مسجد جمعہ موجود تھی اس میں نماز نہ ہوئی اور گھر میں قائم کی تو کراہت ہوئی،

درمختار میں ہے :
لودخل الامیر قصرہ واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ولوفتحہ واذن للناس بالدخول جاز وکرہ ۳؎ ۔
اگر امیر نے اپنے محل میں داخل ہوکر دروازہ بند کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی تو جمعہ نہ ہوا اور اگر دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کے لئے اجازت عام تھی تو جائز ہوئی البتہ کراہت ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار      باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۱۱۲)
ردالمحتار میں ہے :
لانہ لم یقض حق المسجد الجامع زیلعی و درر ۴؎۔
مکروہ اس لئے  ہے کہ اس نے جامع مسجد کا حق ادا نہ کیا زیلعی درر (ت)
 (۴؎ ردالمحتار      باب الجمعۃ      مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)
اور اگر کوئی شرط جمعہ مفقود تھی مثلاً وہ جگہ مصر وفنائے مصر نہ تھی، یا امام امامِ جمعہ نہ تھا یا بعض نمازیوں کو بلا وجہ شرعی ، وہاں نماز کے آنے سے ممانعت تھی یا نمازیوں میں وہاں اقامتِ جمعہ مشہور نہ تھی بطور خود ان لوگوں نے پڑھ لی  اور عام اطلاع نہ ہوئی اگر چہ لوگوں نے اور مسجدوں میں پڑھی تو ان صورتوں میں ان کی نماز نہ ہوئی ،

خلاصہ میں شرح جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :
من جملۃ ذلک الاذن العام یعنی الاداء علی سبیل الاشتہار ۔۱؎
ان سے ایک اذن عام بھی ہے یعنی اعلانیہ ادا کیا جائے ۔(ت)
 (۱؎ خلاصتہ الفتاوٰی  بحوالہ شرح الجامع الصغیر لصدر شہید ومنہا الجماعۃ  مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ   ۱/۲۱۰)
بدائع وحلیہ وغیرہما میں ہے :
السلطان اذا صلی فی دارہ و القوم مع امراء السلطان فی المسجد الجامع ان فتح باب دارہ واذن للعامۃ جاز وتکون الصلوۃ فی موضعین ولو لم یأذن للعامۃ وصلی مع جیش لا تجوز صلٰوۃ السلطان وتجوز صلٰوۃ العامۃ ۲؎ اھ و تمامہ فیما علقناہ علی ردالمحتار ۔واﷲ تعالٰی  اعلم
سلطان نے اپنی دار میں جمعہ پڑھا، باقی لوگوں نے بمع امراء سلطان جامع مسجد میں جمع پڑھا تواب اگر دار کا دروازہ کھلا تھا تو جائز ہے، اور نماز دونوں مقام پر ہوجائے گی اور اگر وہاں عام لوگوں کو اجازت نہ تھی بادشاہ نے صرف اپنے لشکر کے ساتھ نماز ادا کی تو اب سلطان کی نماز نہ ہوئی، ہاں عام کی ہوجائی گی اھ اسکی تفصیل ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ملاحظہ کیجئے.واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع بحوالہ النوادر        فصل فی بیان شرائط الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۶۹)
مسئلہ۱۳۹۰تا ۱۳۹۱: حافظ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محلہ سوداگران ۲۵محرم ۱۳۳۹ھ

(۱) کیا ارشاد ہے حماۃ سنت سنیہ بیضاء ومحاۃ بدعتِ قبیحہ ظلماء کا اس مسئلہ میں کہ خطبہ میں رغما لانوف الوہابیہ والرافضیہ سرکار حضور سید نا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کا نام اقدس لے کر بہ تبعیّت حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟

(۲) اولی الامرمنکم سے حقیقتاً علمائے دین مراد ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو جو عالم اہلسنت دل وجان سے دین وسنت پر فدا ہو اور اس کی ذات سے اسلام کو بڑی تقویت پہنچتی ہو اس زمانہ کے علمائے اہلسنت کے اتفاق سے وہ پیشوائے علمائے سید الفقہاء ہو اس نے اپنی زندگی محض حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے مقدس قدموں پر تصدق کردینے کے لئے وقف کردی ہو ، جہاں کوئی دین میں نیا فتنہ اٹھتے دیکھے ،حتی الوسع اس کے مٹانے میں اپنے قلم وزبان وجان سے کوشش کرے، اس کی مبارک زندگی زیادہ ہو، غیب سے اس کی مدد نصرت فرمائی جائے، تمام اعداء اﷲ واعداء الرسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پر ،اس کے غالب رہنے کی خطبہ میں دعا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بینوا بالتفصیل توجروا عند الملک الجلیل ثم لدی الحبیب الجمیل جل علاوصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم
 (تفصیل کے ساتھ بیان کرکے اﷲ جل جلالہ مالک وجلیل اور اس کے حبیب جمیل صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے اجر پائے ۔ت)
الجواب

جائز ہے ، واﷲ تعالٰی  اعلم
Flag Counter