| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۸(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ۱۳۷۱: از شہر ر وہیلی ٹولہ مسئولہ طالب علم بنگالی ۲۳ شعبان۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس گاؤں میں تعریف شہر کی صادق آئے مثلا بڑی سے بڑی مسجد میں اس کے اہل نہ جمع ہوسکیں اور گلیاں اور بازار ہوں اور اس میں چند مولوی ہوں مسئلہ دین کا جاری کرتے ہوں اور قاضی ہوکر انصاف مظلوم کاکرتے ہوں اُس گاؤں کے متصل اور گاؤں بھی ہے ایسےگاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب گاؤں متصل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ دیہات اس کے متعلق ہوں یہ ضلع یا پرگنہ ہو اپنے اپنے طور پر فیصلہ کرنے سے شہر نہیں ہوجاتا بلکہ والیِ ملک یا اس کا مقرر کردہ حاکم ہو، اگر یہ دونوں باتیں ہیں تو اس میں جمعہ جائز و صحیح ہے ورنہ باطل وناجائز ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۷۲تا۱۳۷۶: مسئولہ مکرم احمد اﷲ صاحب صدر بازار ہردوئی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
(۱) جمعہ الوداع رمضان المبارک کو نبی کریم احمد مجتبٰی محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع پڑھا ہے یانہیں؟
(۲) اگرحضور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں پڑھا ہے تو سب سے پہلے خطبہ الوداع کس نے پڑھا ہے اور اس کا موجد ومخترع کون ہے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین فقہاء ومحدثین رحمہم اﷲ تعالٰی ۔
(۳) شریعت مقدسہ مطہرہ منورہ محمدیہ حنفیہ اہلسنت وجماعت میں خطبہ الوداع کا کیا درجہ ہے فرض، واجب، سنت ، مستحب ، مباح؟ صاف صاف مدلل تحریر فرمائیں ۔
(۴) جس جمعہ الوداع کو خطبہ الوداع نہ پڑھا جائے وہ جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں ؟ اور تارک خطبۃ الوداع کس درجہ کا خاطی وگنہگار ہے، قابل ملامت وزجر ہے یا نہیں؟ ملامت وزجر کرنے والے توگنہگار نہ ہوں گے؟ امامت اس کی جائز ہے یا نا جائز؟
(۵) کتاب شبیہ الانسان کے ص ۲۴۴ میں لکھا ہے :
اما خواند کلماتِ حسرت وافسوس درخطبہء آخر رمضان مباح است فاما ازسلف منقول نیست وافضل ترک ست تا عوام راگمان وجوب و سنتش نگردد دریں شرط ست کہ روایت دروغ وبہتان برسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دراں نباشد والاحرام ہمچنانکہ این ست ؎
رمضان کے آخری جمعہ میں حسرت وافسوس کے کلمات پڑھنا مباح ہے لیکن اسلاف سے منقول نہیں، ترک افضل ہے تاکہ عوام اسے واجب یاسنت نہ بنالیں، شرط یہ ہے کہ اس میں رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت جھوٹ شامل نہ ہو ورنہ حرام ہے اور وہ یہ ہے
اکثر محمد مصطفی محبوب ومطلوبِ خدا گفتے دریں حسرتا ای ماہ رمضان الوداع
خدا کے محبوب ومطلوب محمد عربی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے اے ماہِ رمضان ! الوداع۔ (ت)
یہ فتوٰی مفتی سعد اﷲ نامی کسی بزرگ کا ہے جو۱۲۹۶ھ میں مطبع نولکشور کا نپور میں چھپا ہے جناب اس فتوٰی کے متعلق کیا فرماتے ہیں آیا صحیح قابلِ عمل ہے یا واجب الرد؟ جو کچھ ہو صاف تحریر فرمائے، بینوا توجرواالجواب (۱) الوداع جس طرح رائج ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ (۲) نہ صحابہ کرام ومجتہدین عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نہ اس کا موجد معلوم، (۳) وہ اپنی حد ذات میں مباح ہے ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہوجاتا ہے اور عروض وعوارض خلاف سے مکروہ سے حرام تک۔ (۴) جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے خاص خطبہ الوداع کوئی چیز نہیں ان کے ترک سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا اس کے ترک میں کچھ خلل نہیں، نہ تارک پر نہ زجروملامت روا جبکہ ترک بر بنائے وہابیت نہ ہو، ہاں اگر وہابیت ہے تو وہابی کے پیچھے نماز بیشک ناجائز محض باطل اور وہ زجر و ملامت سے بھی سخت ترکا مستحق ہے۔ (۵) اس فتوے میں جو کچھ لکھا حرف بحرف صحیح ہے سوائے اس لفظ کے کہ '' افضل ترک است'' اس کی جگہ یوں چاہئے التزامش نہ شاید گا ہے ترک ہم کنند تا عوام گمان وجوب وامتنان ؟ (اس کا الترام نہیں کرنا چاہئے کبھی اسے ترک کردیں تاکہ عوام کو وجوب یا سنت ہونے کا وہم نہ ہو، ت)
فقد صرح العلماء الکرام ان الترک احیانا یزیل الایھام
( علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ بعض اوقات ترک کردینا عوام کے وہم کو زائل کردیتا ہے ۔ت) واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۳۷۷: از ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ نہروی مدرسہ حافظ پور مخلص الرحمان بخدمت شریف جناب مولانہ مولوی احمد رضا خاں صاحب دام ظلہ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، عرض یہ ہے کہ ہمارے ملک بنگالہ میں ایسی بستیاں ہوا کرتی ہیں کہ ہر ایک میں متعدد پارہ یعنی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک پارہ جُدا جُدا نام سے موسوم ہے، ایک پارہ سے دوسرے پارہ علیحدہ اور اس قدر فاصلہ سے بسا ہے کہ گویا قریہ صغیرہ مستقلہ کے درمیان مواضع منفصلہ میں مزارع اور میدان اور کہیں کہیں بانس اور دیگر ادنٰی جنگل ہوا کرتے ہیں موسم برسات میں ایک پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کے لئے کشتی کی ضرورت کم ہوتی ہے مگر جوتی پہن کر نہیں جاسکتے کہیں کہیں درمیانی فاصلہ میں زانوں تک پانی ہوتا ہے اور اکثر جگہ میں اس سے کچھ کم ایک پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کےلئے سوائے کھیتوں کی حدبندی اور چھوٹے چھوٹے راستوں کے اور کوئی بڑا راستہ نہیں ہے یعنی دو آدمی محاذی ہو کر ایسے راستہ سے چلنا دشوار ہے ہاں کہیں کہیں مواشی کے چلنے کے لئے '' گوپاٹ'' یعنی کچھ زمین افتادہ مثل بڑے راستے کے فراخ چھوٹی ہوئی ہے وہ بھی مثل سڑک کے اونچے نہیں، ہر ایک پارہ کے ابنیہ بھی متصل نہیں بالکل غیر منظم حالت پر ہیں، ان پاروں کاایک بڑا نام ہواکرتا ہے جس سے وہ خط وکتابت وتمسک وقبالہ وگورنمنٹی کاغذات میں مشہور ہوتا ہے اکثر ان گاؤں میں ڈاکخانہ ہے نہ تھانہ وسکک واسواق، روزانہ بالکل نہیں ہاں ہفتہ میں دو ایک مرتبہ بعض گاؤں کے کنارے میں بازار (ہاٹ) لگتا ہے جس میں لوگ اشیائے خوردنی بیچتے اور خریدتے ہیں مگر بازار کے معین وقت کے سوا وہاں شاذو نادر ہی کچھ ملتا ہے مگر ایسے دکان دو ایک سے زیادہ نہیں ہوتا، ایسے گاؤں کے پاروں میں نماز جمعہ کے لئے مسجدیں بنی ہیں ان مسجدوں میں جو نہایت بڑی ہوتی ہے اس میں بمشکل چالیس آدمی سما سکتے ہیں، ہر ایک گاؤں یعنی( مجموعہ چندپاروں میں) دو ڈھائی ہزار لوگ ہند ومسلمان بستے ہیں اس تعداد میں بالغ نابالغ مردو زن سب شامل ہیں ، الحاصل سوائے کثرت مردم کے شہر محکمے کی دوسری کوئی علامت ان پاروں میں نہیں ہے، نماز پنجگانہ کی جماعت نہیں ہوتی، اتفاقیہ دو چار آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں تو جماعت پڑھتے ہیں ورنہ کچھ جماعت راتبہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ ایسے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنی مطابق مذہب حنفی کے درست ہے یانہیں، بر تقدیر ثانی پڑھنے والے گنہگار ہوں گے یا نہیں، ایسے گاؤں کو جو متعدد پار ہائے منفصلہ سے بنا ہے اور جس میں دو ڈھائی ہزار لوگ بستے ہیں قریہ کبیرہ کہہ سکتے ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا عند اﷲ اجرا حسنا۔ زیادہ والسلام
الجواب صورت مذکور میں وہ چھوٹے پارے اور ان کا مجموعہ سب گاؤں ہیں اور ان میں جمعہ ناجائز ہے اور پڑھنا گناہ ۔ درمختار میں ہے :
صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالا یصح ۱؎۔
دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جودرست ہی نہیں۔(ت)
(۱؎ درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۴)
اور اگراس کے سبب ظہر ترک کریں گے تو تارک فرض ہوں گے اور ظہر احتیاطاً تنہا پڑھی تو تارک واجب ہوں گے بہر حال متعدد گناہ ان پر لازم ہیں باینہمہ جہاں لوگ پڑھتے ہوں انھیں نہ روکا جائے
کما افادہ فی الدرالمختار فی الصلٰوۃ عند الشروق ۱؎
( جیسا کہ در مختار میں طلوع آفتاب کے وقت نماز ،کے بارے میں بیان کیا ہے ۔ت) اور خود ہر گز نہ پڑھیں، نہ نئی جگہ قائم کریں گناہ سے بچنا لازم ہے اور پاروں کے مجموعے کو اگر چہ مجموعی طور پر قریہ کبیرہ کہہ سکیں مگر قریہ کبیرہ بمعنی بلدہ صغیرہ ہر گز نہیں جس میں جمعہ جائز ہوسکے واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۶۱)
مسئلہ ۱۳۷۸ تا۱۳۸۱: از قصبہ جہاں آماد خاص ضلع پیلی بھیت مرسلہ عاشق حسین بخشی قصبۂ مذکور مورخہ ۷ذی الحجۃ الحرام۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مسائل ذیل میں : (۱) جمعہ کے خطبوں میں عربی عبارت پڑھ کر بعد کو ترجمہ اردو زبان میں محض بہ نیت آگاہی قوم امام جمعہ پڑھے تو کیا نقص یا فضل ہے؟ (۲) خطبہ دراز یاقراءت طویل کا پڑھنا کوئی فضل رکھتا ہے یا نقصان؟ (۳) قبل اور بعد جمعہ سنتوں میں سنت رسول اﷲ کہنا کوئی نقصان ہے؟ (۴) مکرر الوداع شریف کوئی عمل شرعی میں نقص رکھتا ہے اوریہ عمل درست ہے یا نا درست ؟ بشریعت بینوا توجروا
الجواب (۱) خطبہ میں عربی کے سوا دوسری زبان ملانا مکروہ وخلاف سنت ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۲) قراءت بقدر سنت سے زائد نہ ہو اور اتنی زیادت کہ کسی مقتدی کو ثقیل ہو حرام ہے، اور خطبہ كی نسبت ارشاد فرمایا کہ آدمی کی فقاہت کی یہ نشانی ہے کہ اسکا خطبہ کوتاہ ہو اور نماز متوسط زیادہ طویل خطبہ خلاف سنت ہے واﷲ تعالٰی اعلم. (۳) سنتیں جمعہ کی ہوں یا اور وقت کی ، ان کی سنتوں میں نام اقدس کی طرف اضافت کہ حضور کی سنت ہے اس میں کوئی حرج نہیں اس سے وہابیہ منع کرتے ہیں جو نام اقدس سے جلتے ہیں، واﷲ تعالٰی اعلم. (۴) الوداع کہ رائج ہے نہ کوئی شرعی حکم ہے نہ اس سے منع شرعی، ہاں علماء اس کا التزام نہ کریں، کبھی ترک بھی کریں کہ عوام واجب نہ سمجھنے لگیں، او ر سچی الوداع قلب سے ہے کہ رمضان شریف کے آنے سے خوش ہو اور جانے سے غمگین، اور اگر یہ حالت ہو کہ آنا بار تھا اور جا نے کے لئے گھڑیاں گنیں تو جو جھوٹی الوداع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم