Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
99 - 158
اشباہ والنظائر میں ہے:
فی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ۳؎۔
یعنی فتح القدیرمیں ہے کہ سختی کے لئے قنوت پڑھنے کی شرعاً اجازت برابرچلی آئی ہے منسوخ نہ ہوئی۔
 (۳؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ    ۲ /۶۲۔۲۶۱)
اسی میں ہے:
ذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی۴؎الخ
سراج الوہاج میں امام طحاوی کا وہ ارشاد ذکرکیا کہ کوئی بلاآئے توقنوتِ فجر میں حرج نہیں۔
 (۴؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ    ۲ /۶۳۔۲۶۳)
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں غایہ سروجی کا کلام نقل کرکے مثل علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ فرمایا:
فتکون مشروعیۃ مستمرۃ وھو محمل قنوت من قنت من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم بعد وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو مذھبنا وعلیہ الجمہور وقال الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی۱؎الخ
یعنی سختیوں کے وقت قنوت کامشروع ہوناباقی ہے اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے بعد وفات اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جو قنوت پڑھی اس کاموقع یہی ہے یعنی سختی کے وقت پڑھتے تھے، ہمارادور جمہورائمہ کایہی مذہب ہے، امام طحاوی فرماتے ہیں کوئی فتنہ یابلاہو توقنوت میں مضائقہ نہیں۔
(۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب الوتر واحکامہ    مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی    ص۲۰۷)
حاشیہ مراقی السید الطحاوی میں ہے:
قولہ وھو محمل الخ ای حصول نازلۃ قولہ وھو مذھبنا ای القنوت للحادثۃ۲؎۔
اس کاقول، وہ موقع ہے الخ، یعنی سختی کے وقت۔ اس کاقول، وہ ہمارامذہب ہے یعنی کسی سختی کے واقع پر۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    باب الوتر واحکامہ    مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی)
درمختارمیں ہے:
لایقنت لغیرہ الالنازلۃ۳؎۔
(یعنی وتر کے سوا کسی نماز میں قنوت نہ پڑھے مگرکسی سختی کے لئے۔)
(۳؎ درمختار            باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۹۴)
فتح اﷲ المعین حاشیہ کنزللعلامۃ السیدابی السعود الازہری میں امام طحاوی کاارشاد مذکور کہ کسی بلا کے وقوت قنوت فجر میں حرج نہیں نقل کرکے فرمایا:
وظاھرہ انہ لوقنت فی الفجر لبلیۃ انہ یقنت قبل الرکوع۴؎حموی۔
یعنی علامہ سیداحمدحموی نے فرمایا امام طحاوی کے اس ارشاد سے ظاہریہ ہے کہ اگر کسی بلا کے سبب نمازِ فجر میں قنوت پڑھے تو رکوع سے پہلے پڑھے۔
(۴؎ فتح اﷲ المعین        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۱ /۲۵۲)
طحطاوی حاشیہ درمیں ہے:
قال العلامۃ نوح بعد کلام قدمہ فعلی ھذا لایکون القنوت فی صلٰوۃ الفجر عند وقوع النوازل منسوخا بل یکون امرا مستمرا ثابتا ویدل علیہ قنوت من قنت من الصحابۃ بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیکون المراد بالنسخ نسخ عموم الحکم لانسخ نفس الحکم قال فی الملتقط قال الطحاوی الخ (ثم قال) قال بعض الفضلاء ھومذھبنا وعلیہ الجمہور۱؎۔
یعنی علامہ نوح نے ایک کلام ذکرکرکے فرمایا تو اس تقدیر پربلائیں اُترتے وقت نمازفجرمیں قنوت منسوخ نہ ہوگی بلکہ باقی وثابت ہوگی اور اس کی دلیل صحابہ کابعد نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قنوت پڑھنا ہے توہمارے علماء جو قنوت فجر کومنسوخ بتاتے ہیں اس کی مراد یہ ہے کہ سختی وغیرسختی ہرصورت میں قنوت کاعموم منسوخ ہوگیا نہ یہ کہ قنوت رہا ہی نہیں ملتقط میں ہے امام طحاوی نے فرمایا کوئی فتنہ یا بلاہو توفجرمیں قنوت پڑھ سکتے ہیں، بعض علماء نے فرمایا یہ ہمارااور جمہورکا مذہب ہے۔
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    باب الوتر والنوافل     مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۸۳)
ردالمحتارمیں عبارات بحر و شرنبلالی و شرح شیخ اسمعیل و بنایہ و اشباہ و غایہ و غنیہ ذکر کرکے فرمایا:
قنوت النازلۃ عندنا مختص بصلٰوۃ الفجر۲؎
سختی کے لئے قنوت ہمارے نزدیک نمازفجر سے خاص ہے۔
(۲؎ ردالمحتار            مطلب فی قنوت النازلۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۹۶)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں ہے:
قال الخطابی فیہ دلیل علی جواز القنوت فی غیرالوتر قلت لکن یقید بما اذا نزلت نازلۃ وحینئذ لاخلاف فیہ۳؎۔
یعنی نماز فرض میں قنوت خاص اس صورت میں ہے جب کوئی سختی اُترے اس وقت اس میں خلاف نہیں،
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ         باب القنوت، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳ /۱۷۹)
کلام یہاں مسئلہ قنوت نوازل اور اس کے اجماعی یاخلافی ہونے کے بحث میں نہیں۔
وقد تقدم عن الشرنبلالی والحلبی و نوح اٰفندی والطحطاوی بنسبۃ الی الجمہور المشعرۃ بحصول خلاف و افادالامام ابن الھمام فی الفتح وتبعہ الحلبی فی الغنیۃ ان قنوت النوازل امر مجتھد فیہ وذکر کلام النظرین۔
پہلے شرنبلالی، حلبی، نوح آفندی اور طحطاوی سے جمہور کی نسبت گزرا جواختلاف کی طرف مشعرہے، امام ابن ھمام نے فتح اور حلبی نے ان کی اتباع میں غنیہ میں کہا کہ قنوت نازلہ اجتہادی معاملہ ہے اور دونوں طرف کے دلائل ذکرکئے۔(ت)
کلام اس میں ہے کہ اولا ان سب عبارات میں نازلہ، بلیہ، حادثہ سب لفظ مطلق ہیں کسی میں خاص فتنہ وغلبہ کفار کی تخصیص نہیں، نازلہ ہرسختی زمانہ کو کہتے ہیں جولوگوں پرنازل ہو۔
اشباہ میں ہے: قال فی المصباح النازلۃ المصیبۃ الشدیدۃ تنزل بالناس انتھی وفی القاموس النازلۃ الشدیدۃ انتھی وفی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدھر تنزل بالناس۱؎انتھی
مصباح میں ہے کہ قنوت نازلہ اس وقت پڑھی جائے گی جب لوگوں پرشدید قسم کی مصیبت نازل ہو انتہی،قاموس میں ہے نازلہ کامعنی شدیدۃ انتہی، صحاح میں ہے کہ نازلہ اسے کہتے ہیں جو شدائد دہرمیں لوگوں پرنازل ہوں۔انتہی(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر    فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲ /۶۳۔۲۶۲)
خود مصنّفِ ''ضروری سوال'' کو اقرارہے کہ عندنا النازلۃ (سخت مصیبت کے وقت۔ت) کی قید سے ہرسختی سمجھی جاتی ہے بااینہمہ برخلاف اطلاقات علماء اپنی طرف سے خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کی قیدلگانا اور کہنا کہ ''ہرایک نازلہ نہیں'' کلام علمامیں تصرف بیجا ہے۔
Flag Counter