| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ ۱۰۹۵ تا ۱۰۸۹: از شہر دمن عملداری پرتگیز مرسلہ ضیاء الدین صاحب ۲۶/جمادی الاُخرٰی ۱۳۱۶ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہابی نے اول چندرسائل عقائد وہابیت و گستاخی شان معـظمان دین پرمشتمل طبع کئے جس پرعلمائے بمبئی وغیرہ نے ۱۳۱۳ھ میں اس کی وہابیت پرفتوٰی دیا اس نے باصرار جماعت اہلسنت مجبورہوکر اپنے تحفظ کے لئے ربیع الاول ۱۳۱۴ھ اس وقت ایک پرچہ باظہار توبہ چھاپ کرشائع کردیا جب اہلسنت اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تو اس نے اپنے اُسی زمانہ سابق وہابیت کی تحریرات سے ایک تحریر حال کی بتاکر ظاہرکی جس کا تاریخی نام ''ضروری سوال'' لکھاہے جس سے وہی ۱۳۱۳ھ پیداہے اگرچہ آخر میں ۱۳۱۵ھ لکھ دیاہے اس تحریر پروہ طالب مباحثہ ہے اور چندشرائط بحث لکھے ہیں وہ تحریر خاص اس کے قلم کی لکھی ہوئی مع توبہ نامہ و شرائط مباحثہ حضرات علمائے اہلسنت کے ملاحظ میں حاضر کرکے چندامورکااستفسارہے:
(۱) اس تحریر میں جوحکم اس نے قراردیاکہ نمازفجر میں قنوت پڑھنا وقت فتنہ وفساد وغلبہ کفارجائز وباقی وغیرمنسوخ ہے اور باقی کسی سختی مثل طاعون و وبا وغیرہ کے وقت جائزنہیں، یہ حکم تفصیلی ہمارے ائمہ کاہے یا اس کا اپنااختراع ہے۔
(۲) طاعون یاوبا کے لئے قنوت ما ننے کوکذب وبہتان بتانا علمائے کرام وفقہائے اعلام کی شان میں گستاخی ہے یانہیں؟ (۳) اس تحریر کے مضامین والفاظ وطرزبیان واملاوانشا سے اس شخص کابے علم وجاہل ومنصب فتوٰی کے ناقابل ہوناظاہرہے یانہیں۔
(۴) اگرظاہر ہے تونااہل کومفتی بننا حلال ہے یاحرام اور اس کے فتوے پرعوام کواعتماد چاہئے یانہیں؟ (۵) اس نے اس تحریر میں جوسندیں تقریرمیں لکھی ہیں اگر ان سے اس کا مطلب ثابت نہیں تو آیا یہ امرصرف اس کی جہالت وبے علمی سے ہے یاکہیں بددیانتی اور عوام کوفریب دہی بھی پیداہوتی ہے؟ (۶) جو اس تحریر ضروری سوال کوصحیح ودرست بتائے وہ جاہل ونافہم ہے یانہیں؟ (۷) شرائط مباحثہ جو اس نے لکھے ہیں وہ اس کے اگلے اشتہار توبہ کے خلاف ہیں یانہیں اور اس سے اس کی قدیم وہابیت کی بوپیدا ہوتی ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب اللھم لک الحمدتحریرات مذکورہ نظرسے گزریں، ضروری سوال میں جو حکم اختیار کیامحض خلاف تحقیق ہے ہمارے ائمہ کرام کی تصریحات کتب متون دیکھئے توعموماً یہ ارشاد ہے کہ غیروترمیں قنوت نہیں ان میں وقت غلبہ کفار کابھی کہیں استثناء نہیں اور اگر تحقیقات جمہورشارحین پرنظرڈالئے تومطلقاً نازلہ کے لئے قنوت لکھتے ہیں خاص فتنہ وغلبہ کفار کی ہرگزقید نہیں لگاتے۔
غنیہ شرح منیہ میں ہے:
قال الحافظ ابوجعفر الطحاوی انما لایقنت عندنا فی صلٰوۃ الفجر من غیربلیۃ فاذا وقعت فتنۃ اوبلیۃ فلاباس بہ۱؎۔
یعنی امام ابوجعفر طحاوی نے فرمایا نمازفجر میں ہمارے یہاں قنوت نہ ہونا اس وقت ہے کہ کوئی بلاومصیبت نہ ہو جب کوئی فتنہ یاکسی قسم کی بلاواقع ہو تو نمازصبح میں قنوت پڑھنا مضائقہ نہیں۔
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی صلوٰۃ الوتر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲۰)
شرح نقایہ برجندی میں ہے:
فی الملتقط قال الطحاوی فذکر نحوہ۲؎
یعنی امام ناصرالدین محمدسمرقندی نے ملتقط میں امام طحاوی کا قول مذکورنقل فرمایا۔
(۲؎ شرح نقایہ برجندی فصل الوتر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۳۰)
بحرالرائق میں ہے:
وفی شرح النقایۃ معزیاالی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام۳؎الخ۔
یعنی علامہ شمنی نے شرح نقایہ میں بحوالہ غایہ امام سروجی بیان کیاکہ اگرمسلمانوں پر(معاذاﷲ) کوئی سختی آئے تو امام قنوت پڑھے الخ
(۳؎ بحرالرائق شرح کنزالدقائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۴)
منحۃ الخالق میں ہے:
کذا فی شرح الشیخ السمعیل لکنہ عزاہ الٰی غایۃ البیان ولم اجد المسألۃ فیھا فلعلہ اشتبہ علیہ غایۃ السروجی لغایۃ البیان لکنہ نقل عن البنایۃ مانصہ اذا وقعت نازلۃ قنت الامام فی الصلٰوۃ الجھریۃ وقال الطحاوی لایقنت عندنا فی صلٰوۃ الفجر فی غیربلیۃ اما اذا وقعت فلاباس بہ۱؎۱ھ
یعنی اسی طرح پرمسئلہ شرح شیخ اسمٰعیل للدرر و الغررمیں ہے انہوں نے اسے غایۃ البیان علامہ اتقانی کی طرف نسبت کیامگرمجھے غایۃ البیان میں نہ ملا، شایدغایہ سروجی سے اشتباہ ہوا لیکن اس نے بنایہ سے نقل کیا جس کی عبارت یہ ہے، جب کوئی سختی آئے توامام جہرنماز میں قنوت پڑھے، اور طحاوی نے فرمایا ہمارے نزدیک فجرمیں بغیرمصیبت نہ پڑھے تاہم جب مصیبت نازل ہوتوحرج نہیں۱ھ(ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۴۴)
اور انہیں نے غایہ امام عینی سے نقل کیاکہ جب کوئی سختی واقع ہو امام قنوت پڑھے اور امام طحاوی کا وہی ارشاد ذکرفرمایا۔ اُسی میں ہے:
(قولہ ولھما انہ منسوخ) قال العلامۃ نوح اٰفندی ھذا علی اطلاقہ مسلم فی غیر النوازل واما عند النوازل فی القنوت فی الفجر فینبغی ان یتابعہ عند الکل لان القنوت فیھا عند النوازل لیس بمنسوخ علی ماھو التحقیق کمامر۲؎الخ۔
یعنی علامہ نوح آفندی نے فرمایا: جب حنفی کسی شافعی کے پیچھے نمازفجر پڑھے تو بغیر کسی نازلہ کے قنوت میں اس کا اتباع نہ کرے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے لیکن بلاؤں کے وقت صبح میں ہمارے سب اماموں کے ہاں مقتدی کو باتباع امام قنوت پڑھنا چاہئے کہ تحقیق یہی ہے کہ سختیوں کے وقت نمازصبح میں قنوت منسوخ نہیں۔
(۲؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۵)