Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
97 - 158
مسئلہ ۱۰۸۵: ازموضع خوردمؤ ڈاک خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سیدصفدرعلی صاحب ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ کچھ قید ہےکہ نماز وتر کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ اخلاص ہی ضم ہو دوسری سورۃ نہ ہو؟
الجواب

کوئی قیدنہیں اختیارہے جوسورۃ چاہے پڑھے یاچھوٹی آیتیں یابڑی ایک آیت۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۸۶: ازمولوی عبداﷲصاحب مدرس مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ

وتروں میں مشابہ سے دعائے قنوت بھول جانے پرکیا پڑھناچاہئے؟ اور ایسی حالت میں سجدہ سہو کرناہوگا یانہیں؟
الجواب

ہردعا پڑھنے سے واجب قنوت ساقط ہوجاتاہے، ہاں اگربالکل کوئی دعابھول کرنہ پڑھی تو سجدہ سہو کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۷: از شہر مرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ اول مرسلہ مولینا مولوی سیداولادعلی صاحب ۹/رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتروں کے مسبوق کواپنے فوت شدہ رکعت میں قنوت پڑھنی چاہئے یانہیں؟
الجواب

مسبوق کی اگر وتر کی تینوں رکعتیں فوت ہوئیں اخیرمیں قنوت پڑھے اور اگرایک رکعت بھی ملی ہے اگرچہ تیسری کے رکوع ہی میں شامل ہواتو اب باقی نماز میں قنوت نہ پڑھے گا۔
درمختارمیں ہے:
المسبوق فیقنت مع امامہ فقط ویصیر مدرکاً بادراک الرکوع الثالثۃ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق امام کے ساتھ صرف قنوت پڑھے اور وہ تیسری رکعت کارکوع پانے سے مدرک ہوجائے گا واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار        آخرباب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی، بھارت    ۱ /۹۴)
مسئلہ ۱۰۸۸: مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۷/ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نمازوتر کی تیسری رکعت میں بعد الحمد وقل کے تکبیرکہہ کر دعائے قنوت کے بدلے میں تین بار قل ہواﷲ شریف پڑھ لیتا ہے اور دعائے قنوت اس کو نہیں آتی ہے پس اس کی نماز وتر کی صحیح ہوتی ہے یانہیں؟ اور اگروہ ہرروز سجدہ سہوکرلیاکرے تونماز وتر اس کی صحیح ہوجایاکرے گی؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

نمازصحیح ہوجانے میں توکلام نہیں، نہ یہ سجدہ سہو کامحل کہ سہواً کوئی واجب ترک نہ ہوا، دعائے قنوت اگریادنہیں یاد کرناچاہئے کہ خاص اس کا پڑھناسنت ہے، اور جب تک یاد نہ ہو
اللھم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار
پڑھ لیاکرے، یہ بھی یادنہ ہو تو
اللھم اغفرلی
تین بار کہہ لیاکرے، یہ بھی نہ آتا ہو توصرف یارب تین بارکہہ لے واجب اداہوجائے گا، رہا یہ کہ قل ھواﷲ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب اداہواکہ نہیں، اتنے دنوں کے وترکااعادہ لازم ہو۔ ظاہریہ ہے کہ اداہوگیا کہ وہ ثناء ہے اور ہرثناء دعا ہے۔
بل قال العلامۃ القاری وغیرہ من العلماء کل دعاء ذکر وکل ذکردعاء۱؎ وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افضل الدعاء الحمد ﷲ۔ رواہ الترمذی وحسنہ و النسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وصححہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما ھذا ولیحرر واﷲ تعالٰی اعلم۔
بلکہ علامہ علی قاری اور دیگرعلماء نے فرمایا ہردعاذکر ہے اور ہر ذکردعا۔ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کافرمان ہے سب سے افضل دعا الحمدﷲ ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا۔ نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرکے صحیح کہا اسے محفوظ کرلو اور غورکرناچاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ    الفصل الثانی من باب التسبیح والتحمیدالخ    مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان    ۵ /۱۱۲)

(۲؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات        مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۷۴

مستدرک علی الصحیحین    باب افضل الذکر الخ        مطبوعہ دارالفکربیروت    ۱ /۴۹۸)
Flag Counter