مسئلہ ۱۰۸۲: ازگھوسی ضلع اعظم گڑھ محلہ کریم الدین پورمرسلہ جامع فنون عقلیہ ونقلیہ فقیہ ملت مولٰنا حکیم محمد امجدعلی صاحب اعظمی رضوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ مصنف بہارشریعت ۸/رمضان المبارک ۱۳۳۱ھ
حضور والابرکت دامت برکاتہم بعدسلام ونیاز غلامانہ معروض حافظ نے تراویح میں فاتحہ اور سورہ توبہ کے درمیان
اعوذ باﷲ من النار ومن شر الکفار الخ
بالجہر قصداً پڑھا اب دریافت طلب یہ امرہے کہ نمازہوئی یانہیں؟ اور ہوئی تو کیسی؟ اگرنماز واجب الاعادہ ہوتو ان دونوں رکعتوں میں جوقرآن پڑھاگیاختم کے پوراہونے میں اس کااعادہ بھی ضرورہے یاکیا؟
الجواب
سورہ توبہ شریف کے آغاز پربجائے تسمیہ یہ تعوّذ محدثات عوام سے ہے شرع میں اس کی اصل نہیں، خیربیرون نماز اس میں حرج نہ تھا، رہی نماز اگرسورہ فاتحہ کے بعد یہی سورہ توبہ شروع کی اور اس سے پہلے وہ اعوذپڑھی تونمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی کہ واجب ضم سورۃ بوجہ فصل بالاجنبی ترک ہوا مگراعادہ تراویح سے اعادہ قرآن لازم نہیں یہ جب تھا کہ تراویح باطل ہو جاتی اوراگرفاتحہ کے بعد کچھ آیات انفال پڑھ کر توبہ شروع کی اور اُس سے پہلے وہ تعوذپڑھا تو اگرچہ کراہت تحریم ووجوب اعادہ نہیں مگرجماعت تراویح میں مثل جماعت فرائض وواجبات یہ فعل مکروہ وخلاف سنت ضرورہے اور اس کاجہرسے پڑھنا اورزیادہ نادانی وقلت شعور ہے اُن دورکعتوں کااعادہ اولٰی ہے۔ قرآن عظیم کے اعادہ کی اصلاً حاجت نہیں۔ درمختارمیں ہے:
الامام لایشتغل بغیر القراٰن وماورد حمل علی النفل منفردا۲؎۔
امام قرآن کے علاوہ میں مشغول نہ ہو اور جودعائیں وغیرہ منقول ہیں وہ اس صورت پرمحمول ہیں جب اکیلاآدمی نفل پڑھ رہاہو۔(ت)
(۲؎ درمختار فصل یجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۸۱)
ردالمحتارو حلیہ میں ہے:
اما الامام فی الفرائض فلما ذکرنا من انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یفعلہ فیھا، وکذا الائمۃ من بعدہ الٰی یومنا ھذا فکان من المحدثات، ولانہ تثقیل علی القوم فیکرہ، واما فی التطوع فانکان فی التراویح فکذلک۱؎الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فرائض میں امام کامعاملہ تووہی ہے جو ہم ذکرکرآئے یعنی نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز میں ایسا فعل نہیں کیا اسی طرح آپ کے بعد آج تک ائمہ نے بھی نہیں کیا تو اب اس کے خلاف کرنا بدعت ہوگا، اور دوسرا یہ بھی ہے کہ قوم پرثقل ہوگا لہٰذا مکروہ ہے رہا معاملہ نوافل کا تو اگرتراویح میں تو وہاں بھی یہی حکم الخ(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۸۳: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمدجان صاحب مرسلہ محمد احمدخاں صاحب ۲۰/شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کہے کہ نمازتراویح میں قرآن شریف کے سننے سے ذکر ولادت باسعادت آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا سننا اچھاہے، آیا یہ شخص غلطی پرہے یانہیں؟ بحوالہ کتب تحریرفرمائیں۔
الجواب
اگرچہ قرآن عظیم وتہلیل وتکبیر وتسبیح و ذکرشریف حضورپرنورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سب ذکرالٰہی ہیں کریمہ ورفعنا لک ذکرک کی تفسیرمیں حدیث قدسی ہے:
جعلتک ذکرا من ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنی۲؎۔
یعنی رب العزت عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرماتاہے میں نے تمہیں اپنے ذکر میں سے ایک ذکربنایا توجس نے تمہاراذکر کیا اس نے میراذکرکیا۔(ت)
(۲؎ کتاب الشفاء الفصل الاول من الباب الاول مطبوعہ شرکۃ صحافیۃ دولت عثمانیہ ترکی ۱ /۱۵)
مگرقرآن عظیم اعظم طرق اذکار الٰہیہ ہے حدیث قدسی میں سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں رب عزوجل فرماتاہے:
من شغلہ القراٰن عن ذکری ومسألتی اعطیتہ افضل من اعطی السائلین، وفضل کلام اﷲ علی سائر الکلام کفضل اﷲ علی خلقہ۱؎۔ رواہ الترمذی وحسنہ۔
جسے قرآن عظیم میرے ذکر ودعا سے روکے یعنی بجائے ذکرودعا قرآن عظیم ہی میں مشغول رہے، اسے مانگنے والوں سے بہترعطاکروں اور کلام اﷲ کافضل سب کلاموں پرایساہے جیسا اﷲ عزوجل کا فضل اپنی مخلوق پر۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قراردیاہے۔(ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن مطبوعہ کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۱۶)
خصوصاً تراویح کاایک ختم کہ سنت جلیلہ ہے اور مجلس میلاد مبارک عمل مستحبات اور سنت مستحب سے بلاشبہہ افضل، ہاں اگرکسی شخص کے لئے کوئی عارض خاص پیدا ہو تو ممکن کہ ذکرشریف سننا اس کے حق میں قرآن مجید سننے بلکہ اصل تراویح سے بھی اہم وآکد ہوجائے مثلاً اس کے قلب میں عدورجیم نے معاذاﷲ حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے کچھ وساوس ڈالے اور ایک عالم دین مجلس مبارک میں ذکر اقدس فرمارہاہے اس کاسننا اس وساوس کو دور کرے گا اور دل میں معاذاﷲ معاذاﷲ اُن کے جم جانے کااحتمال ہے توقطعاً اس پرلازم ہوگا کہ ذکرشریف میں حاضرہوکہ محبت وتعظیم حبیب کریم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اصل کارومدارایمان ہے، معاذ اﷲ یہ نہ ہو توپھر نہ قرآن مفید نہ تراویح نافع،
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ
(ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور درگزر کاسوال کرتے ہیں۔ت)
(۲؎ سنن الدارمی باب فضل کلام اﷲ تعالٰی الخ حدیث ۳۳۵۹ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۳۱۷)
مسئلہ ۱۰۸۴: از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی مہدی صاحب ۱۴شول ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارک جماعت وترنہ نمودن وہرروز ازجماعت موجودہ بیروں رفتن شرعاً جائز است یانہ وتارکِ جماعت وتررافاسق وفاجر و غیرآں خواند شودیانہ؟ حسب شرع چہ حکم ست۔ بیّنوتوجروا۔
اس مسئلہ میں علمائے دین کیافرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں جماعت وتر میں شرکت نہ کرنا اور ہرروز جماعت موجودہ سے باہر چلاجانا شرعاً جائز ہے یانہیں؟ وتر کی جماعت کے تارک کوفاسق وفاجر وغیرہ کہاجاسکتاہے یانہیں؟ شریعت کاحکم کیاہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
جماعت وترنہ واجب ست نہ مؤکد در ترک اوہیچ بزہ کاری نیست بلکہ اختلاف درانست کہ افضل جماعت ست یاوتر تنہا گزاردن فی الدرالمختار ھل الافضل فی الوتر الجماعۃ ام المنزل تصحیحان۱؎۱ھ واﷲ تعالٰی اعلم
جماعت وترنہ واجب نہ سنت مؤکدہ، اس کے ترک میں کوئی گناہ نہیں بلکہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جماعت افضل ہے یاتنہا وتراداکرنا۔
درمختارمیں ہے کہ کیا وترجماعت کے ساتھ افضل ہیں یاگھرپرتنہاپڑھنا، دونوں قولوں کی تصحیح ہوئی ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)