Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
95 - 158
یہ سب روایات اوران سے زائد ہماری کتاب
''الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ''
میں ہیں ان افعال کریمہ کوحجت نہ ماننا کیسی گستاخی ہے، جاہل وہ کہ اُسوت اور حجت میں فرق نہ جانے، ہم ان میں اقتداء پرقادرنہیں مگروہ حجت شرعیہ ضرور ہیں کہ فی نفسہٖ یہ فعل حسن ہے کراہت یاممانعت اگرآئے گی تو عوارض سے، اور وہ یہاں پانچ ہیں:اوّل عدم تفقّہ یعنی جلدی کی وجہ سے معانی قرآن کریم میں تفکروتدبرنہ ہوسکے گا، اصل وجہ منصوص فی الحدیث ہی ہے سنن دارمی و ابی داؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
لم یفقہ من فرائض القراٰن فی اقل من ثلاث۱؎ ۔
جس نے تین رات سے کم میں قرآن مجید ختم کیا اس نے سمجھ کرنہ پڑھا۔
 (۱؎جامع الترمذی     ابواب القرأۃ                مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۱۹)
یہ وجہ صرف نفی افضلیت کرتی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ ولہٰذا عٰلمگیری میں کراہت شبینہ کے قول کو بصیغہ ضعف ومرجوحیت نقل کیا
حیث قال افضل القرأۃ ان یتدبر فی معناہ حتی قیل یکرہ ان یختم القراٰن فی یوم واحد۲؎ ۔
یہاں الفاظ یہ ہیں کہ افضل قرأت یہ ہے کہ اس کے معانی میں تدبر ہوحتی کہ یہ کہاگیا ہے کہ ایک دن میں ختم قرآن مکروہ ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۱۷)
اقول پھریہ بھی ان کے لئے ہے جوتفکر معانی کریں یہاں کے عام لوگ کہ کتناہی دیرمیں پڑھئے تفکر سے محروم ہیں اُن کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہٖ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے اُن کے لئے معتدل جلدی ہی کاافضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قرأت زائد ہوگی اورقرآن کریم کے ہرحرف پردس نیکیاں ہیں سَوکی جگہ پانسوحرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزارنیکیاں ملیں، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قرأ حرفا من کتاب اﷲ فلہ حسنۃ و الحسنۃ بعشرا مثالھا لااقول المـ حرف ولکن الف حرف ولام حرف ومیم حرف۳؎ ۔ رواہ الدارمی والترمذی و صححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں، میں نہیں فرماتا کہ المـ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ اسے دارمی اور ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیااور اسے صحیح کہا۔(ت)
 (۳؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی من قرأحرفا من القرآن الخ        مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۱۵)
اور ہرثواب فہم پرموقوف نہیں، امام احمد رضی اﷲ عنہ نے رب عزوجل کوخواب میں دیکھا عرض کی: اے میرے رب! کیاچیزتیرے بندوں کو تیرے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ فرمایا: میری کتاب۔ عرض کی: یارب بفھم اوبغیرفھم اے میرے رب! سمجھ کر یابے سمجھ بھی۔ فرمایا: بفھم وبغیرفھم سمجھ کر اور بے سمجھے۔
دوم کسل، نبی صلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ لایسأم حتی تسأموا ۱ ؎
بیشک اﷲ تعالٰی ثواب دینے میں کمی نہیں فرماتا جب تک نہ اکتاؤ۔
 (۱؎ مسنداحمد بن حنبل    حدیث سیّدہ عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶ /۲۴۷)
اقول یہ وجہ عام عوام کو عام ہے اور احکام فقہیہ میں غالب ہی کااعتبار ہوتاہے
کمابیناہ فی رسالتنا کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین ورسالتنا جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور
 (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالے کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین اور اپنے رسالے جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور میں بیان کیاہے۔ت) مگر اس وجہ کا مفاد صرف کراہت تنزیہی ہے، علماء نے تصریح فرمائی کہ کسل قوم کے سبب تراویح میں قرآن نہ چھوڑیں۔ تنویرالابصار و درمختارمیں ہے:
الختم مرۃ سنۃ ولایترک الختم لکسل القوم۲؎(ملخصا)
ایک دفعہ ختم قرآن سنت ہے لہٰذا اسے قوم کی سستی کی بناپر ترک نہ کیاجائے(ملخصا)۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۹۸)
اگرکراہت تحریم ہوتی اُس سے احتراز احتراز سنت پرمقدم رہتا اور مکروہ تنزیہی جواز واباحت رکھتاہے نہ کہ گناہ وحرمت
کماحققناہ فی رسالتنا جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ
 (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالے جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)

سوم ہذرمہ گھاس کاٹنا۔ درمختارمیں ہے:
یاتی الامام والقوم بالثناء فی کل شفع ویزید الامام علی التشھد۳؎ (بان یاتی بالدعوات بحر،۴؎ش) الا ان یمل القوم فیاتی بالصلات ویترک الدعوات و یجتنب المنکرات ھذرمۃ القرأت وترک تعوذوتسمیۃ وطمانینۃ وتسبیح و استراحۃ۱؎۔
امام اور مقتدی ہرشفع میں ثناپڑھیں اور امام تشہد پراضافہ کرے (بایں طور کہ دعائیں پڑھے، بحر، ش) مگرقوم اکتاجائے توصلوٰۃ پڑھ لے اور اور دعائیں ترک کردے، ممنوعات سے اجتناب کرے مثلاً بہت زیادہ تیز قرأت کرنا، تعوذ وتسمیہ کوترک کرنا، اطمینان کے ساتھ نمازادانہ کرنا، تسبیح اور جلسہ استراحت کا ترک کرنا۔(ت)
 (۳؎ درمختار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۹۹)

(۴؎ ردالمحتار آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷)

 (۱؎ درمختار        باب الوتر والنوافل        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۹۹)
بعض لوگ ایساجلد پڑھتے ہیں علیم یاحکیم، یعقلون، تعلمون غرض لفظ ختم آیت کے سواکچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ نفس سنت کافانی اور بدعت شنیعہ اور اساء ت ہے۔
چہارم ترک واجبات قرأۃ مثل مدمتصل ، یہ صورت گناہ ومکروہ تحریمی ہے۔

پنجم امتیاز، حروف متشابہ مثل ث س ص، ت ط، ز ذ ظ وغیرہا نہ رہنا، یہ خود حرام ومفسدنماز ہے مگرہندوستان کی جہالتوں کاکیاعلاج، حفاظ وعلماء کودیکھاہے کہ تراویح درکنار فرائض میں بھی اس کی رعایت نہیں کرتے، نمازیں مفت بربادجاتی ہیں
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون۔
شبینہ مذکورہ سوال کہ ان عوارض سے خالی تھا اس کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں مگر اتناضرور ہے کہ جماعت نفل میں تداعی نہ ہوئی ہو کہ مکروہ ہے،مسلمانوں کوفحش گالیاں دینا خصوصاً ماں بہن کی خصوصاً مسجدمیں سخت فسق ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس المؤمن بالطعان ولااللعان ولاالفاحش ولاالبذی۲؎۔ رواہ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وحسنہ و ابن حبان والحاکم فی صحیحھما عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مسلمان نہیں ہوتاہے بہت طعنہ کرنے والا بہت لعنت کرنے والا نہ بے حیافحش گو۔ اسے امام احمد، بخاری نے ادب المفردمیں، ترمذی نے اسے حسن کہا۔ ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۲؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی اللغۃ    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی     ۲ /۱۹)
خصوصاً جو اس کاعادی ہے اس کے سخت فاسق معلن ہونے میں کلام نہیں اسے امام بناناگناہ ہے اور اس کے پیچھے نمازپڑھنا مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ، اور پڑھ لی توپھیرنی واجب، فتاوٰی حجہ و غنیہ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون۳؎
 (اگرفاسق کوامامت کے لئے مقدم کردیا توتمام لوگ گنہگار ہوں گے۔ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)
تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا۱؎
 (کیونکہ اس کی امامت کے لئے تقدیم میں تعظیم ہے حالانکہ شرعاً اس کی اہانت لازم ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ تبیین الحقائق    باب الامامۃ        مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر    ۱ /۱۳۴)
Flag Counter