مسئلہ ۱۰۷۹: ازقصبہ کاشیپور محلہ قاضی باغ ضلع نینی تال مسئولہ جناب شیخ اﷲ بخش و محمد وزیرخاں ۱۴/محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کے اندر جو ایک سوچودہ سورتیں ہیں اگر حافظ قرآن تراویح میں ہرسورۃ میں بسم اﷲ شریف پڑھے توجائز ہے یانہیں؟ یاکیانفع نقصان ہے؟ ایک شخص یہاں پر ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف ظاہرکرکے پڑھتے ہیں تواُن پراعتراض واجب ہے یانہیں؟ ان سے کہتے ہیں کہ آپ ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف پڑھتے ہیں ہم نے کسی حافظ اور عالم کوظاہرکرکے بسم اﷲ پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
الجواب
نمازمیں بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنا منع ہے صرف تراویح میں جب ختم کلام مجید کیاجائے سورہ بقرہ سے سورہ ناس تک کسی ایک سورہ پر آواز سے پڑھ لی جائے کہ ختم پورا ہو، ہر سورۃ سے آواز سے پڑھنا ممنوع ہے اور مذہب حنفی کے خلاف۔ گنگوہ وغیرہ کے بعض جاہلوں نے جو اس کے خلاف فتوٰی دیاہے حماقت وجہالت ہے
والتفصیل فی رسالتنا وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح
(اس کی تفصیل ہمارے رسالہ ''وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح'' میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۰: ازدھرم پور ضلع بلندشہر پرگنہ ڈبائی کو ٹھی نواب صاحب مسئولہ عبدالرحیم ۲۸/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازتراویح حافظ کے نہ ہونے سے سورہ الم ترکیف سے پڑھی جائیں بیس رکعت، لیکن اس طریق سے کہ ایک ایک رکعت میں ایک سورۃ دوسری میں قل ھواﷲ یہاں تک کہ بیس رکعت میں نو سورہ الم ترکیف سے اور گیارہ سورہ قل ھواﷲ پڑھی جائیں مگرگیارہویں رکعت میں جبکہ سورہ اذا جاء پڑھی جائے اور بارہویں میں قل ھو اﷲ توایک سورہ تبت بیچ میں رہ جاتی ہے اور اسی طرح سے جب انیسویں رکعت میں قل ھواﷲ اور بیسویں میں ناس توفلق رہ جاتی ہے اس صورت میں کچھ کراہت ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
یہ دونوں صورتیں وجہ کراہت ہوں گی کہ بیچ میں چھوٹی سورت کاچھوڑدینا مکروہ ہے یہ آسان ہے کہ دس رکعتوں میں سورہ فیل سے سورہ ناس تک پڑھے پھرانہیں کااعادہ کرے۔
اما مافی الدر المختار، ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلک ؎۱
درمختارمیں جوہے کہ ان میں سے کوئی شئے نوافل میں مکروہ نہیں،
(۱؎ درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۸۱)
فمع قطع النظر عما اورد علی ھذہ الکلیۃ لم یثبت ان النفل ھھنا یشمل السنۃ المؤکدۃ بل ھو مقابلھا وقدقالہ فی الدر المختار قبیلہ، وفی الحجۃ یقرأ فی الفرض بالترسل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلا، لہ ان یسرع بعد ان یقرأ کمایفھم۲؎۔ ۱ھ
تو اس پروارد شدہ اعتراض سے قطع نظر کرتے ہوئے یہاں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نفل سنت مؤکدہ کوبھی شامل ہے بلکہ وہ اس کے مقابل ہے، اس سے تھوڑا پہلے درمختار میں ہی بات کہی: حجہ میں ہے کہ فرائض میں قرأۃ آہستہ آہستہ حرف حرف پڑھے اور تراویح میں ترسل واسراع کے درمیان درمیان اور رات کے نوافل میں اتنا تیزپڑھ سکتاہے جو سمجھ آسکے اھ۔
(۲؎ درمختار فصل ویجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۸۰)
وفی الغنیۃ الاصح کراھۃ اطالۃ الثانیۃ علی الاولٰی فی النفل ایضا الحاقا لہ بالفرض فیمالم یرد فیہ التخصیص من التوسعۃ کجوازہ قاعدا بلا عذر ونحوہ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
غنیہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ نوافل میں بھی دوسری رکعت کو پہلی رکعت پرطویل کرنا مکروہ ہے یہ حکم نفل کوفرض کے ساتھ ان امورمیں ملحق کرنے کی بناء پر ہے جن میں نفل کے لئے تخصیص وسعت واردنہیں ہوئی، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۳؎ غنیہ المستملی کراھیۃ الصلوٰۃ فصل فی بیان مایکرہ فعلہ فی الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۵۶)
مسئلہ ۱۰۸۱: از مین پوری مسئولہ حکیم محمد احمدصاحب علوی شب ۱۰/شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شبینہ پڑھنا یعنی ایک شب میں قرآن مجید ختم کرنا تراویح یا تہجد یانفل میں جائز ہے یانہیں اور جوشخص اس طرح پرکہ نہایت صحت اور قواعد کے ساتھ صاف صاف پڑھتاہے اس کی اقتداء میں اگرکچھ لوگ ذوق وشوق اور خلوص وہمت سے داخل ہوکرشرکت کریں تو ان مقتدیوں اور امام کی بابت کیاحکم ہے، زید کہتاہے کہ شبینہ مطلقاً ناجائزہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ حرام ہے صحابہ و تابعین وتبع تابعین کے زمانہ میں کبھی نہیں ہوا، اور یہ جوبعض بزرگوں کی نسبت مشہور ہے کہ فلاں بزرگ نے ایک رات میں اتنے اتنے ختم کئے بالخصوص حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی نسبت وہ مخص خصوصیات ہیں اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ہے، بکرکہتاہے کہ نفس شبینہ جائز اورمباح ہے بلکہ بزرگان دین کامعمول ہے یہ اور بات ہے کہ اگرمنہیات شرع اس میں شامل ہوں یالوگ اس کو اچھی طرح نہ سنیں بلکہ اس و قت بیٹھے باتیں کریں یاحقہ اورچائے پینے میں مشغول رہیں یاقرآن مجیدایساغلط اور جلدجلد پڑھاجائے کہ سمجھ میں نہ آئے توبیشک ایسی صورت ناجائز ہوگی بلکہ ایسی صورت اگر تراویح میں واقع ہوتوتراویح کے لئے کیاحکم نہ ہوگا کیانفس تراویح ان عوارض کی وجہ سے ناجائز ٹھہرے گی؟ زیدکہتاہے شبینہ پڑھنے والے اور سننے والے کوپانسو جوتے لگانے چاہئیں، امسال رمضان مبارک ۱۳۳۹ھ میں ہم چند مسلمانانِ مین پوری نے اپنے اپنے ذوق وشوق سے چند حافظ بلوائے جونہایت عمدہ اور صاف پڑھنے والے تھے نہ کسی پربار ہواسب نے نہایت مستعدی اور سکون سے سنا اس پر زیدکو بہت غصہ آیا زید امام جامع مسجد ہے انہوں نے بالاعلان ہم سب مسلمانوں پراسی جامع مسجد میں بعد نمازمغرب مصلے پرکھڑے ہوکر ماں بہن کی گالیاں دیں اور کہا شبینہ سننا اور وہاں جانا سب گناہ ہے کوئی شبینہ کوجائز ثابت کردکھائے تو پچاس روپیہ دوں گا ایسے شخص کی نسبت جو اس قسم کے سب وشتم مسلمانوں کو دے بازاری اور فحش کلمات اس کے زبان زدرہتے ہوں اور مسلمانوں کوجو اس کے مقتدی نہیں ماں بہن کی گالیاں دے، چنانچہ اس بنا پر وہ کل مقتدی اس سے ناخوش ہوں اس کی امامت کا کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
فقیر۲۹شعبان سے بوجہ علالت رمضان شریف کرنے اور شدت گرماگزارنے کوپہاڑپرآیا ہوا ہے وطن سے مہجور اپنی کتب سے دور،لہٰذا زیادہ شرح وبسط سے معذور مگرحکم مسئلہ بفضلہ تعالٰی واضح ومیسور۔ شبینہ فی نفسہٖ قطعاً جائز و رواہے اکابرائمہ دین کامعمول رہا ہے اسے حرام کہنا شریعت پرافتراہے، امام الائمہ سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تیس برس کامل ہر رات ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کیاہے۔ ردالمحتارمیں ہے:
قال الحافظ الذھبی قدتواتر قیامہ باللیل وتھجدہ وتعبدہ، ای ومن ثم کان یسمی بالوتد لکثرۃ قیامہ باللیل، بل احیاہ بقرأۃ القراٰن فی رکعۃ ثلاثین سنہ۱؎۔ ۔
حافظ ذہبی نے فرمایا کہ آپ کاقیام اللیل، تہجد اور تعبد تواتر کے ساتھ منقول ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کو وتد (کِیل) کہاجاتاہے کیونکہ آپ کے قیام لیل میں کثرت تھی بلکہ آپ تیس سال تک رات کو ایک رکعت میں پورے قرآن کی تلاوت کرتے(ت)
بلادلیل شرعی کسی حکم کوبعض عباد سے خاص مان لینا جزاف ہے اور یہ کہنا کہ اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ادب کے خلاف محض لاف ہے، ان کافعل حجت نہ ہوگا تو کیا زیدوعمرو کاہوگا! جواہر الفتاوٰی ا مام کرمانی پھر فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ہے:
انما یتمسک بافعال اھل الدین۱؎۔ ۔
اہل دین کے افعال سے تمسک کیاجائے گا(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشرفی الفناء نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۲)
علمائے کرام نے فرمایا ہے سلف صالحین میں بعض اکابر دن رات میں دوختم فرماتے بعض چار بعض آٹھ، میزان الشریعہ امام عبدالوہاب شعرانی میں ہے کہ سیدی علی مرصفی قدس سرہ نے ایک رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزارختم فرمائے۲؎۔
(۲؎ المیزان الکبرٰی فصل فی بیان بعض مااطلعت علیہ من کتب الشریعۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۹)
آثارمیں ہے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قرآن مجید شروع فرماتے اور دَہنا پاؤں رکاب تک نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہوجاتا۔ بلکہ خود حدیث میں ارشاد ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑے زین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یاتوراۃ مقدس ختم فرمالیتے۔ توراۃ شریف قرآن مجید سے حجم میں کئی حصے زائد ہے
والحدیث رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال خفف علی داؤد القراٰن فکان یامر بدوابہ فتسرج فیقرأ القراٰن من قبل ان تسرج دوابہ۳؎۔
امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث شریف روایت کی ہے کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤدعلیہ السلام پراﷲ تعالٰی نے تلاوت آسان فرمادی تھی آپ سواری پرزین رکھنے کاحکم دیتے اور زین رکھی جاتی توآپ زین رکھنے سے پہلے زبورتلاوت کرلیتے۔(ت)