Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
93 - 158
مسئلہ ۱۰۷۳: از بلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ وحاجی یعقوب علی ۲۴محرم ۱۳۳۱ھ

رمضان المبارک میں میں نے نمازعشاء جماعت سے نہیں پڑھی ہے مسجد میں جاتے وقت جماعت عشاء ہوگئی تھی اور نمازتراویح کی کھڑی تھی، میں نے جلدی سے نمازعشاء ادا کی اب تراویح کی جماعت میں شامل ہوکر نمازتراویح اداکرسکتاہوں یا نہیں؟ یا اکیلے پڑھناچاہئے؟
الجواب

جس شخص نے نمازعشاء تنہاپڑھی وہ تراویح کی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے تنہا نہ پڑھے، ہاں وترکی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ جس نے فرض تنہا پڑھے ہوں وہ وتر بھی تنہاپڑھے۔ درمختارمیں ہے:
فمصلیہ وحدہ یصلیھا معہ۱؎ اھ ای مصل الفرض وحدہ یصل التراویح مع الامام۔
فرض تنہا پڑھنے والا تراویح جماعت کے ساتھ پڑھے اھ یعنی تنہافرض اداکرنے والا تراویح امام کے ساتھ اداکرے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)
ردالمحتارمیں ہے:
اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر۱؎ اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب فرض امام کے ساتھ ادا نہیں کئے تو وترمیں اس کی اقتداء نہ کرے۔ اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۴۸)
مسئلہ ۱۰۷۴: از فیض آباد محلہ رکاب گنج مرسلہ فیاض حسین ٹھیکیدار پتھر ۲۳/رمضان المبارک ۱۳۳۱ھ

حضور والادست بستہ سلام مسنون کے بعد عرض ہے تابعدار بخیریت ہے خوشنودی مزاج اقدس درکار ازراہ شفقت مربیانہ معاف فرمایاجاؤں کہ آج سے پہلے عریضہ نہ لکھ سکا اور آج پھرجوموقع ملاہے وہ خاص ضرورت سے، براہ کرم شرع شریف کے مقدس قانون کے مطابق رائے صائب وحکم مناسب سے اطلاع بخشی جائے، میرے وطن اٹاوہ میں ایک بزرگ مفتی قوم میں سے ازراہ خیروبرکت ختم قرآن شریف کے دن بیسویں رکعت میں المـ تامفلحون پڑھنے کے بعد چند آیات مختلف ماکان محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وغیرہ کے ساتھ تراویح ختم کرنے کی ہدایت فرمایاکرتے ہیں لیکن اس زمانے کی نئی روشنی اس کے خلاف ہے لہٰذا اس کے جواز کے متعلق جوآیات شریفہ کتب احادیث سے پائی جائیں اُن سے اطلاع بخشی جائے تاکہ مخالفین کو سمجھادی جائیں، براہ کرم و شفقت مربیانہ بواپسی ڈاک جواب باصواب عریضہ ہذا سے شادفرمایاجائے کیونکہ اس کی یہاں فوری ضرورت ہے، فقط
الجواب

یہ صورت بلاشبہہ جائز ومباح ہے سنن ابی داؤد میں ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تہجد کی نماز میں ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بہت پست آواز سے پڑھتے دیکھااور فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بہت بلندآواز سے، اور بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کودیکھا کہ کچھ ایک سورت سے پڑھا اور کچھ دوسری سے لیا، حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تینوں صاحبوں سے وجہ دریافت فرمائی، صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی: قداسمعت من ناجیت یارسول اﷲمیں جس سے مناجات کرتاہوں وہ اس پست آوازکوبھی سنتا ہے۔ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی:
یارسول اﷲ اوقظ الوسنان واطرد الشیطان
یارسول اللہ میں اس لئے اتنی آواز سے پڑھتاہوں کہ اونگھتاجاگے اور شیطان بھاگے۔ بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی؛
کلام طیب یجمعہ اﷲ عضہ الٰی بعض
یارسول اﷲ قرآن مجید سب پاکیزہ کلام ہے کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے ملالیتاہوں ارادہ الٰہیہ یونہی ہوتا ہے فرمایا:
کلکم قداصاب۱؎
تم تینوں نے ٹھیک بات کی درست کام کیا۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد        باب رفع الصوت بالقرأۃ فی صلٰوۃ اللیل    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸۸)
فتاوٰی خلاصہ میں ہے:
الانتقال من اٰیۃ من سورۃ الی اٰیۃ اخری من سورۃ اخری اواٰیۃ من ھٰذہ السورۃ بینھما اٰیات مکروہ فی الفرائض اما فی النوافل لایکرہ۲؎ اھ ملتقطا
ایک سورت کی آیت سے دوسری سورت کی آیت یا اسی سورت کی دوسری آیت کی طرف انتقال کرنا جبکہ ان کے درمیان چندآیات ہوں فرائض میں مکروہ ہے مگرنوافل میں مکروہ نہیں اھ ملتقطا(ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی        الفصل الحادی عشرفی القرأۃ        مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۱ /۹۷)
غنیہ شرح منیہ میں ہے:
قرأۃ اٰیۃ من بین الاٰیات کقرأۃ سورۃ من بین السور فکما لایکون قرأۃ سورۃ متفرقۃ من اثناء القراٰن مغیر التالیف والنظم لایکون قرأۃ اٰیۃ من کل سورۃ مغیرا لہ۳؎۔
آیات میں سے کسی آیت کاپڑھنا ایسے ہی ہے جیسے سورتوں میں سے کسی سورت کاپڑھنا ہے توجس طرح متفرق سورتوں میں سے قرأت کرناقرآنی تالیف ونظم میں تبدیلی پیدانہیں کرتی اسی طرح ہرسورت سے کسی ایک آیت کا پڑھنا تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔(ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    تتمات فیمایکرہ من القرآن فی الصلٰوۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۷۰)
ردالمحتارمیں ہے:
اماضم اٰیات متفرقۃ فلایکرہ کمالایکرہ ضم سور متفرقۃ بدلیل ماذکرناہ من القرأۃ فی الصلٰوۃ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بہرحال آیاتِ متفرقہ کوملانا مکروہ نہیں جیسا کہ سور متفرقہ کاملانا مکروہ نہیں اس پردلیل وہی ہے جوہم نے قرأۃ فی الصلٰوۃ میں ذکرکی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۴؎ ردالمحتار            آخرباب سجود التلاوۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۱۹)
مسئلہ ۱۰۷۵: ازدھامپور محلہ بندوقچیاں ضلع بجنور ۸/ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ مسئولہ اﷲ دیا

جناب فیض انتساب فضائل مآب جناب مولانا صاحب زاد فضلکم بعد آداب گزارش ہے کہ جو شخص  صوم وصلوٰۃ کاپابند ہے مگر تراویح قصداً چھوڑدیتاہے اس کے واسطے وعید ہے یانہیں؟ اور یہ بھی تحریرکریں کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کیوں نہیں پڑھیں؟ ان پروعید ہے یانہیں؟
الجواب

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلمل نے فرمایا:
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین عضوا علیھا بالنواجذ۱؎۔
تم پرلازم ہے میری سنت کااتباع اور خلفائے راشدین کی سنت کا، اسے دانتوں سے مضبوط پکڑو۔
(۱؎ سنن ابوداؤد    آخرباب فی لزوم السنۃ        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۷۹)
اور فرمایا:
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکروعمر۲؎۔
ابوبکر و عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہما) کی پیروی کرو جو میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔
(۲؎ جامع الترمذی    مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ   مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی بھارت    ۲ /۲۰۷)
سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تین شب تراویح میں امامت فرماکر بخوف فرضیت ترک فرمادی تواس وقت تک وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی، جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ نے اسے اجرا فرمایا اور عامہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اس پرمجتمع ہوئے اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی نہ فقط فعل امیرالمومنین سے، بلکہ ارشادات سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے۔ اب ان کاتارک ضرورتارکِ سنت مؤکدہ ہے اور ترک کاعادی فاسق وعاصی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۶: از بنارس رام نگر مرسلہ حافظ امام الدین صاحب ۵ رمضان ۱۳۳۶ھ

جب احقرکاحافظہ ہوگیا تو لوگوں نے اسی سے پڑھوایا مسجد کے پیش امام صاحب نے بخوشی صـ۵ــہ پانچ روپے احقرکوعنایت کئے جسے احقرنے اُسی وقت اپنے استاد مکرم کی نذرکردی میرے ایک مکتبی بھائی کی خواہش تھی کہ ان پانچ میں سے چندہ تبرک میں کچھ دوں مگرحضرت استاذی کی حالت بمقابلہ تبرک قابل ترجیح معلوم ہوئی لہٰذا میں نے چندہ تبرک میں کچھ دوں مگر حضرت استاذی کی حالت بمقالہ تبرک قابل ترجیح معلوم ہوئی لہٰذا میں نے چندہ تبرک میں اس میں سے کچھ نہ دیا دوسرے سال معلوم ہوا کہ اب کے سال امام صاحب معـــ۷ ــہ دیں گے پھرسناگیا کہ صـ۵ــہ ہی دیں گے، اس پرقوی خیال کی بنا پرسمجھاگیا کہ انہیں مکتبی بھائی صاحب کی بدولت پانچ کردیا گیاہے جن کی غرض کے مطابق چندہ تبرک میں نے نہیں دیاتھا اس لئے میں نے ان سے شکایت کی کہ استاذ میرے بھی ہیں اور آپ کے بھی، پھر آپ ان کی بھلائی کے بجائے ان کی نقصان رسانی کے درپے کیوں ہیں؟ اس پربات بڑھی اور امام صاحب مسجد کے کانوں تک پہنچی، اس کے بعد مجھے روپے کی گفتگو پرسخت افسوس ہو اور دل میں خطرہ پیداہوا کہ کہیں میراثواب نہ زائل ہو جائے اس لئے میں نے باعلان کہا کہ صاحبو میں کوئی اُجرت نہیں مقررکرتا، یہ جس قدرباتیں ہوئی ہیں بھائی صاحب سے بات بڑھ جانے کے سبب ہوئیں، پھرختم کے دن امام صاحب نے سات ہی روپے دئیے جنہیں لیتے وقت احقرکے دل کی عجیب حالت تھی مگربخیال نفع استاد مکرم لے لئے اور اسی وقت اُن کی خدمت میں پیش کردیا تاہم مجھے ہروقت اس کاخطرہ رہتاہے کہ گو ہم اپنے لئے نہیں لیتے پھربھی لیتے ہیں۔ لیکن اس خیال سے کہ اب استاذمکرم کوبھروسا رہتاہوگا کہ اسے سات روپے ملیں گے اور یہ مجھے دے گا اور پھر اس سے میرافلاں فلاں کام چلے گا لینے سے انکار کرتے بھی نہیں بنتا۔ شبینہ کیساہے جوایک دن میں چندحفاظ مل کرختم کرتے ہیں۔
الجواب

مولٰی سبحانہ وتعالٰی ایسے بندوں کوبرکت دے جوقرآن عظیم پر اُجرت لینے سے بچیں آپ صاف کہہ دیں کہ محض ادائے سنت وحصول ثواب کے لئے پڑھتاہوں کوئی معاوضہ نہ چاہتاہوں نہ ہوگا اس کے بعد امام یاجومسلمان کچھ خدمت کریں وہ اُجرت نہیں ہوسکتی اُس کالینا حلال اور استاذ کو دینا سعادت مندی،فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
الصریح یفوق الدلالۃ۱؎
(صریح کودلالت پرفوقیت ہے۔ت)
(۱؎؎ درمختار        کتاب الہبہ            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۲ /۱۵۹)
شبینہ کہ ایک یاچند حافظ مل کرکرتے ہیں مکروہ ہے، اکابر نے ایک ایک رات میں برسوں ختم فرمایا ہے مگروہ خاص اپنے لئے نہ کہ جماعت میں جس میں ہرقسم کے لوگ ہوں خصوصاً اکثربلکہ شاید کل وہی ہوں جو اسے بارسمجھیں اور شرما شرمی شریک رہیں۔ حدیث صحیح میں ہے:
اذا ام احدکم الناس فلیخفف۲؎
(جب تم میں کوئی لوگوں کی امامت کرائے توتخفیف سے کام لے۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری    باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ماشاء    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۹۷)
اور ارشادفرمایا:
لایسأم حتی تسأموا۳؎
(اﷲ تعالٰی ثواب میں کمی نہیں فرماتا جب تک تم نہ اکتاؤ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ مسند احمدبن حنبل    حدیث سیدہ عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۶ /۲۴۷)
مسئلہ ۱۰۷۷: از اوریاضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحی صاحب مدرس ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح کے ہر چار رکعت پرہاتھ اٹھاکر دعامانگناچاہئے یاصرف تسبیح بلاہاتھ اٹھائے پڑھے ؟
الجواب

تسبیح میں ہاتھ اٹھانے کی کیاضرورت، ہاں کوئی دعامانگے تو ہاتھ اٹھائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۷۸: از کلکتہ مانک تلہ حاجی زکریالین نمبر۱ مرسلہ شیخ روشن علی صاحب ۳/شوال ۱۳۳۷ھ

ایک شخص جو اپنے کو اہلسنت سے کہتا ہے اس کاقول ہے کہ نماز تراویح کے اندر دوچیزیں ہیں ایک قرأت قرآن مجید کی جوکہ فرض ہے اور دوسری تراویح سنت مؤکدہ ۔ جب نماز تراویح میں قرآن شریف پڑھاگیا تودونوں مذکورہ بالاچیزوں سے ایک ادا ہوئی ایک باقی رہ گئی ہے یعنی تراویح سنت مؤکدہ کا ثواب توحاصل ہوا مگرقرأت کے ثواب سے محروم رہ گیا جوکہ فرض ہے اس لئے جماعت کے لوگ بعدنماز تراویح کے بیٹھ جائیں کسی سے قرآن شریف سن لیں تاکہ دونوں ثواب حاصل ہوجائیں، کیایہ قول زید کاصحیح ہے؟
الجواب

زیدکاقول محض باطل اور دین میں بدعت پیداکرناہے اور شریعت مطہرہ پرافتراء ہے، تراویح سنت مؤکدہ ہے صرف ایک آیت کاپڑھنا ہرنماز میں ہرمہینے ہروقت میں فرض ہے تمام قرآن مجید کی تلاوت خارج نمازخاص رمضان شریف میں فرض ہو یہ جہل محض ہے، جب تراویح پڑھیں اور اُن میں قرآن عظیم  پورا پڑھاسنا دونوں سنتیں اداہوگئیں دونوں کاثواب بعونہٖ تعالٰی مل گیا بعد تراویح بیٹھ کر  پھرقرآن مجید پورا سننافرض درکنار نہ واجب نہ سنت مؤکدہ نہ غیرمؤکدہ۔ اگرکوئی کرے تو ایک مستحب ہے جیسے اور اوقات میں تلاوت اور اسے فرض یاواجب یامؤکد سمجھنا حرام وبدعت، اور وہ قرآن کریم کہ تراویح میں پڑھاگیا اسے ناکافی سمجھنا سخت جہالت
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
ردالمحتارمیں ہے:
قرأۃ الختم فی صلٰوۃ التراویح سنۃ، و صححہ فی الخانیۃ وغیرھا، وعزاہ فی الھدایۃ الی اکثر المشایخ، وفی الکافی الی الجمہور، وفی البرھان، وھوالمروی عن ابی حنیفۃ والمنقول فی الاثار۱؎۔
تراویح میں ختم قرآن سنت ہے، خانیہ وغیرہ میں اسی کو صحیح کہاہے، ہدایہ میں اس کی نسبت اکثرمشائخ کی طرف کی ہے، کافی میں جمہور کی طرف کی ہے اور برہان میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے اثارمیں منقول ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۴۶)
کافی و ہندیہ میں ہے:
السنۃ فی التراویح انما ھو الختم مرۃ فلایترک لکسل القوم۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تراویح میں ایک دفعہ ختم قرآن سنت ہے توقوم کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اسے ترک نہ کیاجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ    فصل فی التراویح    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۱۷)
Flag Counter