مسئلہ ۱۰۶۹: ازبدایوں محلہ کڑہ براہم پورہ مرسلہ شیخ عبدالغنی صاحب ۱۱/رمضان شریف۱۳۱۳ھ
ایک شخص ایک مسجد میں فرض جماعت سے پڑھاکر تراویح بیس رکعت پڑھاتاہے پھروہی شخص دوسری مسجد میں تراویح بیس رکعت جماعت سے پڑھاتاہے آیا یہ امامت اس کی صحیح ہے نہیں؟ اور مقتدیان مسجد دیگر کی تراویح ہوجاتی ہے یانہیں؟ فقط۔
الجواب
مذہب راجح میں امامت صحیح ہے تراویح ہوجاتی ہے مگرخلاف علماء واختلاف تصحیح ومخالفت طریقہ متوارثہ سے بچنے کے لئے بے ضرورت اس سے احتراز کیاجائے۔
فی الخالیۃ والخلاصۃ والظھیریۃ وغیرھا اذا صلی التراویح مقتدیا بمن یصلی المکتوبۃ اوبمن یصلی نافلۃ غیرالتراویح اختلفوا فیہ والصحیح انہ لایجوز۳؎اھ و فی الھندیۃ، امام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز کذا فی المضمرات۱؎ اھ وفی امامۃ التنویر والدر ومتنفل بمفترض فی غیرالتراویح فی الصحیح خانیۃ و کانہ لانھا سنۃ علی ھیأۃ مخصوصۃ فیراعی وضعھا الخاص للخروج عن العھدۃ۲؎ اھ فی ردالمحتار ان ماذکرہ المصنف ھھنا مخالف لماقدمہ فی شروط الصلٰوۃ بقولہ وکفی مطلق نیۃ الصلٰوۃ لنفل وسنۃ وتراویح وذکر الشارح ھناک انہ المعتمد ونقلنا ھناک عن البحرانہ ظاھرالروایۃ وقول عامۃ المشائخ وصححہ فی الھدایۃ وغیرھا ورجحہ فی الفتح ونسبہ الی المحققین۳؎الخ والفتوی متی اختلف رجح ظاھرالروایۃ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
خانیہ، خلاصہ اور ظہیریہ میں ہے کہ جب تراویح ایسے شخص کے پیچھے پڑھی جوفرائض پڑھارہاہے یا اس شخص کی اقتداء میں جس نے تراویح کے علاوہ نوافل پڑھائے تو اس میں علماء کااختلاف ہے صحیح یہی ہے کہ جائزنہیں اھ اور ہندیہ میں ہے کہ وہ امام کا دومساجد میں تمام تراویح پڑھاتاہے جائز نہیں، محیط سرخسی اور مضمرات میں ہے کہ فتوٰی اسی پرہے۔ تنویر اور در کے باب الامامت میں ہے کہ نفل پڑھنے والے کی اقتداء تراویح کے علاوہ صحیح ہے خانیہ، کیونکہ تراویح ہئیت مخصوصہ کے ساتھ سنت ہیں توعہدہ برآہونے کے لئے ان میں اس وجہ مخصوص کی رعایت کرنا ضروری ہے اھ ، ردالمحتارمیں ہے مصنف نے جوکچھ یہاں ذکرکیاہے وہ اس کے خلاف ہے جو اس نے شروط صلٰوۃ میں یوں ذکرکیاکہ نفل، سنت اور تراویح کے لئے مطلق نیت کافی ہے اور شارح نے وہاں کہا کہ معتمد یہی ہے اور وہاں بحر سے نقل کیاکہ ہی ظاہرروایت اور اکثر مشائخ کاقول ہے، ہدایہ وغیرہ میں اس کو صحیح قراردیاگیاہے۔ فتح میں اس کو ترجیح دیتے ہوئے اسے محققین کی طرف منسوب کیا الخ توجب فتوٰی میں اختلاف ہوجائے توظاہرروایت کوترجیح ہوتی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(خلاصۃ الفتاوی الفصل الثالث فی التراویح مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۶۴)
(۱؎ فتاوٰی عالمگیری فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۱۶)
(۲؎ درمختار باب الامامت مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۸۵)
(۳؎ ردالمحتار باب الامامت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۵۹۰)
مسئلہ ۱۰۷۰: از کیمپ میرٹھ کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب بازار لال کُرتی مرسلہ مولوی احسان اﷲصاحب ۲۷ماہ مبارک ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ جواکثر جگہ رمضان شریف کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں شبینہ پڑھاجاتاہے یعنی ایک یاایک سے زیادہ رات میں ختم قرآن عظیم ہوتاہے اور یہ نوافل باجماعت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعاً جائزہے یانہیں؟ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ کلام مجید باجماعت نوافل میں ترتیل کے ساتھ ہی کیوں نہ پڑھاجائے وہ بھی ممنوع ہے اور نیز کہتے ہیں کہ جماعت نوافل کی سوا تراویح کے اصلاً جائزنہیں ہے اور جس حدیث میں تہجد کے وقت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی شرکت نوافل تہجد میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے مروی ہے وہ مثبت صرف اقتدا ایک شخص کی ہے تیسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ سنتیں فجر کی اگررہ جائیں اور فرضوں میں کوئی شامل ہوجائے تو پھر اس کو وہ سنتیں نہ قبل آفتاب پڑھنی چاہئیں نہ بعد میں، ان تینوں مسائل کوامید ہے کہ مشرح بیان فرمائیں۔ جزاک اﷲ خیرالجزاء۔
الجواب
علماء بنظر منع کسل وملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقررفرمائی مگر اہل قدرت ونشاط بہرعبادت کوایک شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں، بہت اکابردین سے منقول ہے:
خود امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے دورکعت میں قرآن شریف ختم کیا
کما فی الدر المختار۲؎
(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ت) نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے نہ کہ گناہ حرام
کما بیناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوٰی میں دی ہے۔ت) مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابردین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،
درمختارمیں ہے:
اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر۲؎۔
عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے، بحر۔(ت)
ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلٰوۃ الرغائب بالجماعۃ وصلٰوۃ لیلۃ القدر ونحوذلک وان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیھا فلایفتی بذلک العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلک فصنف فی جوازھا جماعۃ من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلٰوۃ اولٰی من تنفیرھم۲؎۔
اسی قبیل سے نماز رغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگرعوام میں یہ فتوٰی نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پرلکھا بھی ہے، عوام کونماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔(ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیہ الخلق الثامن والاربعون من الاخلاق الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۱۵۰)
صبح کی سنتیں اگرنہ پڑھیں اور فرضوں میں شامل ہوگیا قبل طلوع وارتفاع شمس توالبتہ ان کی اجازت نہیں اگرپڑھے گا گنہگار ہوگا اور بعد بلندی آفتاب اُن کاپڑھنا ممنوع نہیں ضرورمستحب ہے کلام علماء میں لایقضی (ادانہ کیاجائے۔ت) بمعنی نفی مطالبہ ہے نہ مطالبہ نفی،
ردالمحتارمیں ہے:
اذا فاتت وحدھا لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع اما بعد طلوع الشمس فکذلک عندھما وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی احب الیّ ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر قیل ھناقریب من الاتفاق لان قولہ احب الیّ دلیل، علی انہ لولم یفعل لالوم علیہ وقالا لایقضی وان قضی لاباس بہ کذا فی الخبازیۃ ومنھم من قال الخلاف فی انہ لوقضی کان نفلا مبتدأ اوسنۃ کذا فی العنایۃ یعنی نفلا عندھما سنۃ عندہ کما ذکرہ فی الکافی اسمعیل۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
جب فجر کی سنتیں تنہافوت ہوجائیں تو انہیں بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے ادانہ کیاجائے طلوع آفتاب کے بعد، شیخین کے ہاں اسی طرح ہے، لیکن امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے قضا کرلینا پسندیدہ ہے جیسا کہ درر میں ہے کہ یہاں اتفاق ہی ہے کیونکہ امام محمد نے احب کہا جودلالت کررہاہے کہ اگر اس نے قضانہ کیں تو اس پرملامت وغیرہ نہیں ہوگی، اور جس نے لایقضی کہا ہے اگر کوئی قضاکرلیتاہے توکوئی حرج نہیں، خبازیہ، بعض نے کہا کہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگرقضاکرتا ہے تو وہی سنن ہوں گی یامستقل نوافل، اسی طرح عنایہ میں ہے یعنی شیخین کے نزدیک نفل مگر امام محمدکے نزدیک سنت، جیسا کہ الکافی لاسمعیل میں ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۵۳۰)
مسئلہ ۱۰۷۱: از سنبھل مرسلہ حکیم کفایت اﷲصاحب۹شوال ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے فرض عشاء تنہا ادا کیا اور تراویح جماعت سے اب وترجماعت سے ادا کرناجائزہے یانہیں؟ اور اولٰی کیاہے؟ مع ادلّہ وحوالہ کتب بیان فرمایاجائے۔ بیّنواﷲ توجروا عنداﷲ ۔
الجواب
جس نے فرض تنہا پڑھے وتر کی جماعت میں شریک نہ ہوگا
جس نے فرض کسی جماعت میں پڑھے ہوں اس کے باب میں بھی علماء مختلف ہیں کہ وترجماعت سے اداکرنااولٰی ہے یا تنہا پڑھنادونوں طرف ترجیحیں ہیں اور زیادہ رجحان اس طرف ہے کہ جماعت افضل ہے۔
رجحہ الامام ابن الھمام وصححہ العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ، وقال خیرالرملی علیہ عامۃ الناس الیوم۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
امام ابن الہمام نے اسے ترجیح دی، علامہ حلبی نے غنیہ میں اس کی تصحیح فرمائی، اور خیرالدین رملی نے فرمایا: آج لوگوں کی اکثریت اس پرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق بحوالہ خیرالرملی باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۶۹)
مسئلہ ۱۰۷۲: ازبیلپور ضلع بریلی مرسلہ حافظ کلن صاحب ۲۳شوال ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ماہ رمضان شریف میں دوحافظوں نے ایک مسجد میں قرآن عظیم اس ترتیب سے سنایا کہ ایک حافظ نے اول مثلاً دس تراویح میں ایک یاسوا یا ڈیڑھ پارہ المـ سے سنایا اور پھردوسرے حافظ نے آخردس تراویح میں وہی پارہ ایک یا سوایاڈیڑھ المـ کاپڑھا یعنی ابتداء سے انتہا تک یہی طریقہ قرأت کا رکھا کہ جوکچھ پہلے حافظ نے پڑھا تھا وہی پارہ دوسرے حافظ نے پڑھا اور ایک ہی تاریخ پرمثلاً پچیس۲۵ یاچھبیس تک دونوں نے ختم قرآن کریم فرمایا پس ازروئے شرع مطہر کے یہ طریقہ قرآن شریف کے پڑھنے کاجائزہے یانہیں؟
بیّنوابالکتاب تؤجروا بغیرحساب
(کتاب وسنت سے جواب دیجئے اور بغیرحساب اجرپاؤ۔ت)
الجواب
یہ طریقہ مکروہ ہے اور اگرثابت ہوکہ بعض مقتدیوں پرگراں گزرنے کاباعث تھا (اور ضرورہوگا) توسخت ممنوع ہے کہ یوں دوختم معاً سنت سے زائد ہیں تو ایک امر زائد سنت کے لئے مقتدیوں پرگرانی کی گئی اور یہ ناجائز ہے
وانما علل عدم ترک ختم بکسل القوم لانہ سنۃ فمازاد یترک لانہ فتنۃ
(قوم کی سستی کی وجہ سے ایک ختم قرآن ترک نہیں کیاجائے گا کیونکہ یہ سنت ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ ترک کردیاجائے گا کیونکہ یہ فتنہ ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔