مسئلہ ۱۰۶۳ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں پورا کلام اﷲ تعالٰی سنناپڑھنا سنت مؤکدہ ہے یاسنت یامستحب وغیرہ؟ اور بعد سننے ایک پورے کلام اﷲ شریف کے جولوگ سورہ فیل سے آخر ک دوبارہ پڑھتے ہیں ان کاکیا حکم ہے یعنی ہررات رمضان شریف میں تراویح بست رکعتیں پڑھناسنت مؤکدہ یاسنت یامستحب وغیرہ ہے یاکیا ارشاد ہے؟ ایک رات اسی ماہ صیام میں طبیعت میری نادرست تھی تراویح ایک شب کی مجھ سے نہ ہوئیں اب ان کی قضاکروں یانہیں اور کروں تو کس وقت؟ بیّنوا توجوا۔
الجواب
تراویح میں پورا کلام اﷲ شریف پڑھنا اور سننا مؤکدہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ بعد کلام مبارک بھی تما م لیالی شہر مبارک میں بیس۲۰رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے، تراویح اگرناغہ ہوگئیں تو اُن کی قضاء نہیں
کل ذلک مصرح بہ فی الکتب الفقھیۃ
(ان تمام پرکتب فقہ میں تصریح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶۴: از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیدابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ۳۲رمضان شریف ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میںبعد سورہ فاتحہ سورہ اخلاص پڑھنا جائز ہے یامکروہ باوجودیکہ امام اور سورتیں بھی جانتاہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
جائزہے بلاکراہت اگرچہ سورہ فیل سے آخر تک تکرار کاطریقہ بہترہے کہ اس میں رکعات کی گنتی یاد رکھنی نہیں پڑتی ۔ ردالمحتارمیں ہے :
فی التجنیس، واختار بعضھم سورۃ الاخلاص فی کل رکعۃ وبعضھم سورۃ الفیل ای البدائۃ منھا ثم یعیدھا وھذا احسن لئلا یشتغل قلبہ بعدد الرکعات۱؎۔
تجنیس میں ہے بعض نے ہررکعت میں سورۃ اخلاص کومختارکہا بعض نے سورۃ فیل کویعنی اس سے ابتداء ہو اور پھرتکرارکیاجائے اور سب سے بہترہے تاکہ دل تعداد رکعات کی طرف متوجہ نہ ہو۔(ت)
لاباس ان یقرء سورۃ ویعیدھا فی الثانیۃ (الی قولہ) ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلک۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک سورت پڑھی جائے اور دوسری رکعت میں اسے دوبارہ لوٹایاجائے (یہاں تک) کہ نفل میں ان میں سے کوئی شے بھی مکروہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۵: ازشہرکہنہ بریلی مرسلہ مولوی شجاعت علی صاحب ۲۵رمضان مبارک۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں ختم قرآن شریف کے لئے ایک بارجہرسے بسملہ پڑھناچاہئے یانہیں؟ فقط بیّنواتوجروا۔
مسلم اور شرح الفواتح میں ہے کہ بسملہ قرآن کی آیت ہے ختم قرآن میں ایک دفعہ اسے پڑھاجاناچاہئے لہٰذا تراویح میں اسے ایک دفعہ جہراً پڑھنا لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر سنت کے مطابق ختم قرآن نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مسئلہ البسملۃ من القرآن مطبوعہ قم، ایران ۲ /۱۴)
مسئلہ ۱۰۶۶ تا ۱۰۶۸: از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی کریم رضاصاحب یکم ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
(۱) نمازتراویح کی جماعت اس طورپرکہ الم ترکیف سے شروع کرتے ہیں اور والناس تک ایک ایک سورہ ایک ایک رکعت میں پڑھتے ہیں اور پھر الم ترکیف سے والناس تک دوبارہ دس رکعتوں میں پڑھتے ہیں جائز ہے یانہیں؟
(۲) ہرترویحہ کے بعد دعامانگنا جائزہے یانہیں؟
(۳) کسی حافظہ کو اس طورپر نماز تراویح کی پڑھانی کہ پہلے ایسی قوم کے ساتھ جو آٹھ رکعتیں تراویح منفرد پڑھ چکے ہوں بارہ رکعتیں ختم تراویح پڑھاکر پھردوسری قوم کے پاس جوبارہ رکعتیں تراویح کی منفرد پڑھ چکے ہوں جاکر آٹھ رکعتیں تراویح کی ہرشب میں پڑھانی جائز ہیں یانہیں؟
بیّنوا بالفقہ والسنۃ والکتاب تؤجروا من اﷲ حسن الماٰب
(فقہ اور کتاب وسنت کے مطابق جواب عنایت کرکے اﷲ تعالٰی سے اجرعظیم پاؤ۔ت)
الجواب
(۱) جائز ہے
فی الھندیۃ بعضھم اختار قل ھواﷲ احد فی کل رکعۃ وبعضھم اختار قرأۃ سورۃ الفیل الٰی اٰخر القراٰن وھذا احسن القولین لانہ لایشتبہ علیہ عدد الرکعات ولایشتغل قلبہ بحفظھا کذا فی التجنیس۲؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ہے بعض نے ہر رکعت میں قل ھواﷲ احد کواختیار کیا اور بعض نے سورہ فیل سے آخر تک کو، اور یہ احسن قول ہے کیونکہ اس صورت میں عددرکعات میں اشتباہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے یادرکھنے میں مصروف ہوتاہے جیسا کہ تجنیس میں ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی عالمگیری الباب التاسع فی النوافل مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۱۸)
(۲) جائزہے
فی ردالمحتار قال القھستانی فیقال ثلاث مرات سبحٰن ذی الملک والملکوت سبحٰن ذی العزۃ والعظمۃ والقدرۃ و الکبریاء والجبروت سبحن الملک الحی الذی لایموت سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح لاالٰہ الااﷲ نستغفراﷲ نسألک الجنۃ ونعوذبک من النار کمافی منھج العباد۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں ہے کہ قہستانی نے کہا کہ تین دفعہ یہ کلمات پڑھے جائیں: ملک وملکوت کے مالک تیری ذات پاک ہے اے صاحب عزت وعظمت اور جبروت وکبریا تیری ذات اقدس پاک ہے، اے مالک جوزندہ ہے اس پرموت نہیں، تیری ذات پاک ہے توپاک وقدوس ہے ملائکہ اور جبریل کا رب ہے، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اﷲ تعالٰی سے معافی مانگتے ہوئے جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں منہج العباد اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳) اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بیس رکعت تراویح سنت عین ہیں کہ اگرکوئی شخص مرد یاعورت بلاعذرشرعی ترک کرے مبتلائے کراہت واساءت ہو اور اُن کی جماعت کی مساجد میں اقامت سنت کفایہ کہ اگر اہل محلہ اپنی اپنی مسجدوں میں اقامت جماعت کریں اور اُن میں بعض گھروں میں تراویح تنہا یاباجماعت پڑھیں تو حرج نہیں اور اگر تمام اہل محلہ ترک کریں توسب گنہگار ہوں، ردالمحتار میں ہے:
اصل التراویح سنۃ عین فلوترکھا واحدکرہ۲؎۔
تراویح سنت عینی ہیں، اگرانہیں کسی نے بھی ترک کیاتومکروہ ہے۔(ت)
ظاھر کلامھم ھناان المسنون کفایۃ اقامتھا بالجماعۃ فی المسجد حتی لواقاموھا جماعۃ فی بیوتھم ولم تقم فی المسجدا ثم الکل۱؎۔
یہاں سنت کفایہ سے مرادیہ ہے کہ تراویح کومسجد میں جماعت کے ساتھ اداکیاجائے اگرتمام نے گھروں میں جماعت کے ساتھ اداکیں اور مسجد میں ادانہ کیں توسب گنہگار ہوں گے۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں امام اور دونوں جگہ کے مقتدی تینوں فریق سے جس کے لئے یہ فعل اس شناعت کاموجب ہو اس کے حق میں کراہت واساءت ہے ورنہ فی نفسہٖ اس میں حرج نہیں مثلاً امام وہردوقوم کی مساجد میں جماعت تراویح جداہوتی ہے یہ گھروں پربطور مذکور جماعۃً وانفراداً پڑھتے ہیں تو کسی پرمواخذہ نہیں کہ ہرگروہ مقتدیان نے اگربعض ترویحات تنہا اور ہرسہ فریق نے مسجد سے جدا پڑھیں مگرجبکہ اُن کی مساجد میں اقامت جماعت ہوتی ہے سنت کفایہ اداہوگئی، ہاں امام دونوں قوموں کوپوری تراویح پڑھاتاتو یہ جداکراہت ہوتی اس سے صورت مستفسرہ خالی ہے۔
فی الھندیۃ امام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز کذا فی المحیط السرخسی والفتوی علی ذلک کذا فی المضمرات۲؎۔
ہندیہ میں ہے ایک امام دومساجد میں تمام تراویح پڑھاتے ہیں تویہ جائزنہیں جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے مضمرات میں ہے کہ فتوٰی اسی پرہے۔(ت)
اور اگراُن میں کسی فریق کی مسجد میں یہی جماعت بطور مذکورہوئی ہے تو اس کے لئے کراہت ہے کہ اس کی مسجد میں پوری تراویح جماعت سے نہ ہوئیں لہٰذا اس صورت میں یہ چاہئے کہ ایک فریق آٹھ یابارہ رکعتیں دوسرے امام کے پیچھے پڑھ کرباقی میں اس حافظ کی اقتداکرے اور دوسرافریق بارہ یاآٹھ رکعات میں دوسرے کامقتدی ہوکرباقی میں اس کامقتدی ہوکہ اب دونوں مسجدوںمیں پوری تراویح کی اقامت جماعت سے ہوجائے گی اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ بعض ترویحات میں ایک امام کی اقتداء ہو اور بعض دیگر میں دوسرے کی، ہاں یہ ناپسند ہے کہ ایک ترویحہ میں دورکعت کاامام اور ہودوکااور،
فی الخانیۃ اقاموا التراویح بامامین فصلی کل امام تسلیمۃ بعضھم جوزوا ذلک والصحیح نہ لایستحب وانما یستحب ان یصلی کل امام ترویحۃ لیکون موافقا عمل اھل الحرمین۱؎۔
خانیہ میں ہے تراویح دواماموں نے پڑھائیں، ہرامام نے دورکعات پڑھائیں توبعض نے اسے جائز کہا اور صحیح یہ ہے کہ یہ طریقہ مستحب نہیں، مستحب یہ ہے کہ ہرامام چاررکعات پڑھائے تاکہ اہل حرمین کے موافق عمل ہوجائے۔(ت)
ان صلوھا بامامین فالمستحب ان یکون انصراف کل واحد علی کمال الترویحۃ فان انصرف علی تسلیمۃ لایستحب ذلک فی الصحیح۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگرنماز تراویح دواماموں نے پڑھائی مستحب یہ ہے کہ ہرایک کامل ترویحہ کے بعد مصلی چھوڑے، اگر دورکعات پرچھوڑتاہے توصحیح قول کے مطابق یہ مستحب نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)