Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
90 - 158
مسئلہ ۱۰۶۱: ازپیلی بھیت مدرسہ پنجابیاں مرسلہ حافظ محمداحسان صاحب ۱۰/رمضان المبارک۱۳۱۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ کے پیچھے نمازتراویح جائزیاناجائز اور جس حافظ کاسن چودہ سال کا ہو وہ بلوغ میں داخل ہے یاخارج؟ اور شرعاً حد بلوغ کی ابتداء ازروئے سن کےَ سال سے معتبرہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

مسئلہ میں اختلاف مشائخ اگرچہ بکثرت ہے مگراصح وارجح واقوی یہی کہ بالغوں کی کوئی نمازاگرچہ نفل مطلق ہو نابالغ کے پیچھے صحیح نہیں۔ 

ہدایہ میں ہے :
المختار انہ لایجوز فی الصلوات کلھا۳؎۔
مختاریہی ہے کہ تمام نمازوں میں جائزنہیں۔(ت)
 (۳؎ الہدایہ                باب الامامت        مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی    ۱ /۱۰۳)
بحرالرائق میں ہے :
وھو قول العامۃ کمافی المحیط وھوظاھر الروایۃ۱؎۔
اکثرعلماء کایہی قول ہے اور یہی ظاہرروایت ہے۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        باب الامامت    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۵۹)
اور اقل مدت بلوغ پسرکے لئے بارہ سال اور زیادہ سے زیادہ سب کے لئے پندرہ برس ہے اگر اس تین سال میں اثر بلوغ یعنی انزالِ منی خواب خواہ بیداری میں واقع ہو فبہا ورنہ بعد تمامی پندرہ سال کے شرعاً بالغ ٹھہرجائے گا اگرچہ اثراصلاً ظاہرنہ ہو،
فی التنویر بلوغ الغلام بلانزال فان لم یوجدفیھا شیئ منھا فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثتن عشرۃ سنۃ ھوالمختار ملخصا۲؎۔
تنویرمیں ہے لڑکااحتلام سے بالغ ہوجاتاہے اگر احتلام نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہوگا، اسی پرفتوٰی ہے، کم از کم مدت بارہ سال ہے، یہی مختارہے۱ھ ملخصا(ت)
 (۲؎ درمختار        فصل بلوغ الغلام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۳ /۱۹۹)
پسر چاردہ سالہ کابالغ ہونا اگرمعلوم ہو(اگرچہ یونہی کہ وہ خود اپنی زبان سے اپنابالغ ہوجانا اور انزال منی واقع ہونا بیان کرتاہے اور اس کی ظاہرصورت وحالت اس بیان کی تکذیب نہ کرتی ہو) تووہ بالغ ماناجائے گا ورنہ نہیں۔
فی الدر المختار فان راھقا بان بلغا ھذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر کذا قیدہ فی العمادیۃ وغیرھا فبعد سنتی عشرۃ سنۃ یشترط شرطا اخر لصحۃ اقرارہ بالبلوغ وھو ان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وھما حینئذ کبالغ حکما فلایقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال حالہ۳؎الخ۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگروہ اس عمر کو پہنچے کہ قریب البلوغ ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم بالغ ہیں تو ظاہراً کوئی بات ان کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کی تصدیق کی جائے گی، اسی طرح عمادیہ وغیرہ میں اسے مقیدکیاگیا ہے اور بارہ سال کے بعد صحت اقرار بلوغ کے لئے ایک اور شرط لگائی گئی ہے کہ اسی طرح کے لڑکوں کو احتلام ہوتا ہو ورنہ ان کادعوٰی قول نہ ہوگا شرح وہبانیہ، اور اب وہ دونوں بالغ کے حکم میں ہوں گے احتمال کی وجہ سے اقرار کے بعدان کاانکار بلوغ قابل قبول نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ درمختار        فصل بلوغ الغلام    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۳ /۱۹۹)
مسئلہ ۱۰۶۲: از اوجین مرسلہ یعقوب علی خاں ۱۲ ربیع الاخری ۱۳۱۱ ھ
چہ می فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ غیرمقلدین نمازتراویح رابدعت عمری قراردادہ ازبست تخفیف نمودہ یازدہ رکعت میخوانند جائزاست یانہ؟ بیّنواتوجروا۔
علماء کرام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ غیرمقلدین نے بیس۲۰تراویح کو بدعت عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) قراردیتے ہوئے ان میں تخفیف کرکے گیارہ کرلی ہیں، یہ جائز ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

تراویح سنت مؤکدہ است ونزدمحققین بترک سنت مؤکدہ نیزآثم شود خاصہ چوں ترک را عادت گیرد عددش نزدجمہورعلمائے اُمت بست رکعت ست ودرروایتے ازامام مالک سی وشش رکعت فی الدر المختار التراویح سنۃ مؤکدۃ لموظبۃ الخلفاء الراشدین وھی عشرون رکعۃ۱؎بازسنت امیرالمؤمنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ عین سنت حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ست سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماراحکم باقتدائے ابوبکر وعمر فرمود رضی ﷲ تعالٰی عنہما تاکید تام باتباع سنت خلفائے راشدین نمود رضی اﷲ تعالٰی عنہم احمد وابوداؤد و الترمذی وابن ماجۃ عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیہا بالنواجذ۲؎
تراویح سنت مؤکدہ ہے محققین کے نزدیک سنت مؤکدہ کاتارک گنہگار ہے خصوصاً جب ترک کی عادت بنالے، تراویح کی تعداد جمہور امت کے ہاں بیس ہی ہے۔ ایک روایت کے مطابق امام مالک کے ہاں ان کی تعداد چھتیس ہے۔ درمختارمیں ہے تراویح سنت مؤکدہ ہیں کیونکہ خلفاء راشدین نے اس پردوام فرمایا اور وہ بیس رکعات ہیں، پھر حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سنت رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہی سنت ہے کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما کی اقتداکاحکم دیاہے اور خلفاء راشدین کی اتباع سنت میں تاکید کامل فرمائی ہے۔ امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تم پر میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے اسے دانتوں سے اچھی طرح مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ترمذی
 (۱؎ درمختار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۸)

(۲؎ سنن ابوداؤد    آخرباب فی لزوم السنۃ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور۲ /۲۷۹)
الترمذی وحسنہ عن عبداﷲ بن مسعود واحمد والترمذی وابن ماجۃ والرویانی عن حذیفۃ بن الیمان وابن عدی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہم قالوا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی من اصحابی ابی بکر وعمر۱؎ وآنکہ ایں بے باکاں سنت امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ رابکاسیہ لیسی روافض بدعت عمری نامندومتہوران ایشاں خذلہم اﷲ تعالٰی تصریح بضلالت حضرت والایش کنند جوابش محول بروزجزاست ۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲؎
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعودسے روایت کیا اور اسے حسن کہا، احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور رؤیانی نے حضرت حذیفہ بن یمان اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲتعالٰی عنہم سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میرے بعد میرے صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا۔ یہ بیباک لوگ جواہل تشیع کی نقل کرتے ہوئے حضرت عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کی سنت کو بدعت عمری کہتے ہیں اور ان میں سے کچھ دریدہ دہنی کرنے والے حضرت کے عمل کو گمراہی کہتے ہیں اس کاحساب وکتاب بروزجزا انہیں دیناہوگا عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس طرف پلٹا کھائیں گے۔ اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت کاسوال ہے۔ واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    مناقب ابی بکرصدیق    مطبوعہ امین کمپنی کراچی    ۲ /۲۰۷)

(۲؎ القرآن        ۲۷ /۲۲۷)
Flag Counter