Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
89 - 158
یہاں دونوں شرطوں سے ایک بھی متحقق نہیں سنتیں بحال قیام جماعت بیرون مسجد پڑھنے کاحاجت شرعی ہونابھی ظاہر اور قصدرجوع بھی بدیہی توعدم جوازوحصول گناہ کاحکم صریح باطل قطعی،
فی الدرالمختار، اخاف فوت الوقت لاشتغالہ بسنتھا ترکھا والالابل یصلیھا عندباب المسجد۱؎ وفی ردالمحتار ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی وقال فی العنایۃ لانہ لوصلاھا فی المسجد کان متنفلا فیہ عنداشتغال الامام بالفریضۃ وھومکروہ ومثلہ فی النھایۃ والمعراج۲؎ اھ مختصرین۔
درمختارمیں ہے جب نمازی کوسنن میں مشغولیت سے وقت کے فوت ہونے کاخوف ہوتوانہیں ترک کرے ورنہ ترک نہ کرے بلکہ انہیں مسجد ک دروازے کے پاس اداکرے۔ ردالمحتارمیں ہے یعنی مسجد سے باہرادا کرے، جیسا کہ اس پرقہستانی نے تصریح کی ہے۔ عنایہ میں ہے اگر اس نے سنن مسجد میں ادا کیں تو یہ امام کے فریضہ میں مشغول ہونے کے وقت نوافل پڑھنے والا قرارپائے گا جوکہ مکروہ ہے۔ اسی کی مثل نہایہ اورمعراج میں ہے اھ دونوں کتابوں کی عبارت اختصاراً منقول ہے(ت)
 (۱؎ درمختار        باب ادراک الفریضہ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹۔۱۰۰)

(۲؎ ردالمحتار        باب ادراک الفریضہ        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۲ /۵۶)
بعینہ یہ صورت سیدنا عبداﷲ بن عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ثابت ہے ایک روز وہ ایسے وقت تشریف لائے کہ جماعت فجر قائم ہوچکی تھی انہوں نے ابھی سنتیں نہ پڑھی تھیں ان کی بہن ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کاحجرئہ مطہرہ مسجد سے ملاہواتھا جس کادروازہ عین مسجد میں تھا وہاں چلے گئے اور سنتیں حجرے میں پڑھ کر پھرمسجد میں آکر شامل جماعت ہوئے۔ امام اجل ابوجعفرطحاوی شرح معانی الآثارمیں فرماتے ہیں:
حدثنا علی بن شیبۃ ثنا الحسن بن موسی ثناشیبان بن عبدالرحمٰن عن یحیی بن ابی کثیر عن زید بن اسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ جاء والامام یصلی الصبح ولم یکن صلی الرکعتین قبل صلٰوۃ الصبح فصلاھما فی حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ثم انہ صلی مع الامام ففی ھذا الحدیث عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ صلاھما فی المسجد لان حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا من المسجد۳؎۔
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما آئے توامام صبح کی نماز پڑھارہاتھا آپ نے فجر کی دوسنتیں ابھی ادانہیں کی تھیں تو آپ نے حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حجرہ مبارکہ میں انہیں اداکیا پھرامام کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس حدیث نے واضح کردیا کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فجر کی سنتیں مسجدمیں اداکیں کیونکہ حجرئہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا مسجد کا حصہ تھا۔(ت)
 (۳؎ شرح معانی الآثار    باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۲۵۸)
بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد، حدودمسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے۔
وھذا ماقال الامام الطحاوی ان حجرۃ ام المؤمنین من المسجد۱؎ فی ردالمحتار عن البدائع لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانھا منہ لانہ یمنع فیھا من کل مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد۲؎۔
یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ ام المومنین کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔ ردالمحتارمیںبدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا۔(ت)
 (۱؎ شرح معانی الآثار     باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی    ۱ /۲۵۸)

(۲؎ ردالمحتار        باب الاعتکاف            مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ۲/۴۴۶)
چٹائی کو اُن خیالات بعیدہ کی بناپر نجس بتانا محض پیروی اوہام ہے شرع مطہر نے دربارہ طہارت ظاہر ایسے لیت ولعل کواصلاً گنجائش نہ دی۔
کما فصلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ  والحدیقۃ الندیۃ وبینہ العبد  الضعیف غفراﷲ تعالٰی لہ  فی "الاحلی من السکر لطلبۃ سکررو سر" ۔
جیسا کہ اس کی تفصیل طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہمیں ہے اور اسے عبدضعیف غفراﷲ تعالٰی نے ''الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر'' میں بیان کیاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں تاتارخانیہ سے ہے:
من شک فی انائہ اوثوبہ وبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الاٰبار والحیاض والحباب الموضوعہ فی الطرقات ویستسقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار۳؎۔
اگرکپڑے یابدن یابرتن کونجاست لگنے میں شک ہے تو وہ پاک ہوگا جبکہ نجاست کایقین نہ ہو، یہی حکم ان کنووں، حوضوں اور تالابوں کاہے جوراستوںمیں بنائے گئے ہیں ان سے چھوٹے بڑے، مسلمان اور کفار سبھی پانی حاصل کرتے ہیں۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الطہارۃ            مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۱۱)
طریقہ و حدیقہ میں ہے:
سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وجد فیھا نعل تلبس ویمشی بھاصاحبھا فی الطرقا لایدری متٰی وقع فیھا ولیس علیہ اثرالنجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا۱؎۔
امام خجندی سے ایک ایسے کنویں کے بارے میں پوچھاگیا جس میں ایسا جوتا گِرگیا جسے پہناگیاتھا اور مختلف راستوں پرچلاگیا۔ یہ علم نہ ہوسکا کہ کب گراہے اور اس پر اثرنجاست نہ تھا توکیاکنواں ناپاک ہوگا یانہ؟ فرمایا: ناپاک نہیں ہوگا۔(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ    الصنف الثانی        مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲ /۶۷۴)
اُنہیں میں ہے:
کذلک حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوفون النجاسۃ لکن لایحکم بھا بالشک والظن۲؎اھ ملخصین۔
یہی حکم ہے اس پانی کا جس میں بچے نے ہاتھ داخل کردیاہو کیونکہ بچے نجاست سے بچتے نہیں لیکن شک وظن کی بناپر نجاست کاحکم جاری نہیں ہوگا ۱ھ ملخصین(ت)
 (۲؎ الحدیقۃ الندیہ      الصنف الثانی	النوع الرابع     مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲ /۷۱۱)
نیت مذکور سے چٹائی بچھانے والوں کے لئے امیدثواب ہے
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۰۶۰ : از کھنڈوہ ضلع برہان پور مسجد دارالشفاء مرسلہ محمد مسلم صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک پیرزادہ سیدصاحب نے نمازتراویح میں بہ یک سلام دس رکعت سفر کی حالت میں امامت سے پڑھادئے جماعت معترض ہوئی کہ نماز ناجائزہوئی۔ سیدصاحب نے کہا کہ منیۃ المصلی میں صاف طور پر بلاکراہت بیک سلام جائزہے وہ عبارت یہ ہے:
ولوصلی التراویح کلھا بتسلیمۃ واحدۃ وقد قعد علی راس کل رکعتین جاز ولایکرہ لانہ اکمل، ذکرہ فی المحیط۔
اگرتمام تراویح ایک سلام کے ساتھ اداکریں اور ہردورکعت کے بعد نمازی نے قعدہ کیاتوجائزہے مکروہ نہیں کیونکہ یہ اکمل ہے۔ محیط میں اس کوذکرکیاگیاہے۔(ت)

اس پرسیدصاحب کوبراکہنا اور نماز کو ناجائز وحرام کہنا ان کے حق میں کیساہے؟
الجواب

نماز کوناجائزوحرام کہناباطل ہے اور سیدکی توہین وبے ادبی سخت گناہ ہے اور صحیح اس مسئلہ میںیہ ہے کہ نماز ہوگئی دسوں رکعتیں تراویح میں شمار ہوں گی مگرخلاف ومکروہ ضرورہوئیں منیہ کا قول لایکرہ (مکروہ نہیں۔ت) خلاف صحیح ہے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے
قول المصنف ولایکرہ لانہ اکمل مخالف لما ذکر فی الخلاصۃ وغیرھا انہ یکرہ۱؎
 (مصنف کا قول، کہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ یہ اکمل ہے خلاصہ وغیرہ کے مخالف ہے کیونکہ وہاں لکھا ہے مکروہ ہے۔ت)
 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی        فصل فی النوافل    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۰۵)
حلیہ شرح منیہ میں ہے:
وھو مشکل بانہ خلاف المنقول واذا قالوا بکراھۃ الزیادۃ علی ثمان فی مطلق التطوع لیلا فلان یکونوا قائلین بکراھتہا فیماکان منہ مسنونا اولی فلاجرم ان فی النصاب و خزانۃ الفتاوٰی والصحیح انہ لو تعمد ذلک یکرہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ مشکل ہے کیونکہ یہ منقول کے خلاف ہے اور جب انہوں نے رات کے نوافل مطلقہ کو آٹھ سے زائد پرکراہت کاحکم نافذ کیاہے تو انہیں تراویح جو کہ مسنون ہیں میں کراہت کاحکم بطریق اولٰی جاری کرنا چاہئے۔ لاجرم نصاب اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ اگر کسی نے عمداً ایساکہا تو مکروہ ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی    فصل فی السنن    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۳۹۹)
Flag Counter