Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
88 - 158
مسئلہ ۱۰۵۸ تا ۱۰۵۹: ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالحکیم صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
 (۱) ایک مسجد کہ اُس میں فجر کی نماز کے وقت بعد شروع ہوجانے جماعت کے اکثرنمازی آتے جاتے ہیں اور بعد حصول طہارت سنتیں فجرادا کرکے شریک جماعت ہوجاتے ہیں مگرسنتیں فجر کی خلاف قاعدہ شرعیہ ادا ہوتی ہیں صورت یہ ہے کہ ایام گرما میں اندرونی درجہ مسجد میں توبسبب گرمی کے جماعت نہیں ہوتی اکثراوقات دوسرے سائبان مسجد میں ہواکرتی ہے بسااوقات اندرونی درجہ میں سنتیں اداکرنے کے واسطے جانے کی گنجائش نہیں رہتی یابسبب شدت گرمی کے نمازی اندرجانابھی گوارانہیں کرتا ایسی شکل میں بعض واقفین تو صحن مسجد مین ستونوں کی آڑمیں سنتیں پڑھ لیتے ہیں وہ بھی چارپانچ شخص بقدر تعدادستونوں کے پڑھ سکتے ہیں مگرنمازی بعد کوآنے والے زیادہ ہوتے ہیں سب لوگ آڑستونوں کی نہیں پاتے اور بعض لوگ بوجہ عدم واقفیت یاکم توجہی کے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے اور بعض اوقات شدت گرمی سے صحن مسجد میں نمازہوتی ہے تو ستون بھی سنتوں کی آڑ کونہیں ملتے اکثربدون حائل کسی شئی کے سنتیں پڑھی جاتی ہیں مگر ازروئے اس مسئلہ فقہیہ کے کہ جماعت شروع ہوجانے کے بعد سنتیں فجر کی خارج از مسجدادا کی جائیں ہم کو عمدہ موقع حاصل ہے کہ مسجد سے ملحق چہارطرف مسجد کے چارکمرے مدرسہ کے ہیں اس طرح سے کہ فرش سے فرش ملاہے حد فاصل مابین مسجد اور مدرسہ کے صحنوں کی فصیلیں ہیں جوایک ہاتھ تخمیناً چوڑی اور ایک بالشت اونچی ہیں اورر یہ جملہ مکانات مسجد اور مدرسہ ایک احاطہ کے اندرہیں اگرہم ایک صف خواہ چٹائی صحن مدرسہ میں یاکسی کمرئہ مدرسہ میں ملحق صحن مسجد کے واسطے ادائے سنتوں فجر کے بچھادیں اور وہ لوگ جوپیچھے آتے ہیں طہارت حاصل کرکے اس چٹائی پرجومدرسہ میں خارج از مسجد بچھی ہے سنتیں فجراداکرکے شریک جماعت ہوتے جائیں توسنتیں بھی حسب قاعدہ شرعیہ اداہوں اور نمازیوں کی بھی سہولت کاباعث ہو مگرزید اس کو دوبنا پرناجائز کہتاہے، ایک یہ کہ نمازی جب مسجد کی فصیلوں پر جووضوکرنے کاموقع ہے بیٹھ کر وضو کرے گا تولابدمسجد کے صحن میں سے گزرکرمدرسہ کے صحن میں جوچٹائی بچھی ہے سنتیں اداکرنے کے واسطے جائے گا تویہ صورت خلاف شرعیہ ہے اس وجہ سے کہ بعد از اذان مسجد سے خارج ہونا جائزنہیں اس گناہ کامرتکب ہوگا سائل کہتاہے کہ اگرایسا ہی خارج ہوناہے تو اس بناپر اور بھی مسائل متفرع ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ پانی لینے کاکنواں اور سقاوے اور پاکی حاصل کرنے کاغسل خانہ یہ سب کہ احاطہ مسجد کے اندرہیں مگر مسجد کے حدود فصیلوں سے باہرہیں نمازی حسب عادت مروجہ زمانہ کے اکثر اول مسجد میں آتاہے اپناکپڑا وغیرہ مسجدمیں رکھ کربعد کوپانی لے کر طہارت وضووغیرہ کرتاہے بلکہ یہ عادات زمانہ کی عام مقامات کی مساجد کے موافق ہیں تو کیایہ سب بعداذان مسجد سے خارج ہونے کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں یااحاطہ مسجد کے بیرونی دروازہ سے نکلنے والا اور وہ بھی جومسجد میں واپس آنے کاقصد نہ رکھتاہو۔
(۲) دوسری وجہ ممانعت زید کی یہ ہے کہ صحن مدرسہ کابھی فرش پختہ ہے اور چھوٹے لڑکے بعض برہنہ پاپیشاب کویاپاخانہ میں اور غسل خانہ میں جاتے ہیں اور اسی فرش ِ صحن مدرسہ پر ہوکرگزرتے ہیں اور فجر کواکثر شبنم کی کچھ نمی فرش پر ہوتی ہے اور گاہے شب کی بارش کی بھی نمی فرش پر ہوتی ہے پس ایسے مشکوک فرش پر چٹائی کابچھانا چٹائی کانجس کرنا اور نیزنمازیوں کی نماز خراب کرناہے حالانکہ افضل عبادات کی نمازہے، سائل کہتاہے پس ایسے شکوک کی وجہ سے صحن مدرسہ میں جوچٹائی بچھائی گئی ہے اس پرسنتیں اداکرنا یااس پرسے وضوکرکے جس حالت میں کہ نمازی کے پیروضو کے پانی سے ہنوز خشک نہیں ہوئے ہیں گزرکرکمرئہ مدرسہ میں سنتیں اداکرنا جائز ہوگا یانہیں؟ اور وہ چٹائی نجس ہوگی یاپاک قابل ادائے نماز رہے گی اور پیراس نمازی کے جووضوکرکے اس مشکوک فرش سے گزراہے پاک رہیں گے یاناپاک ہوجائیں گے؟ اور ایسی چٹائی کابچھانے والا واسطے اہتمام ادائے سنتوں فجر کے طریقہ نیک کاجاری کرنے والا ہوگا اور ثواب پائے گا؟ ان وجوہات مرقومہ صدرجوباعث ممانعت زید کے ہیں اُن کی وجہ سے بعد ازاذان مسجد سے نمازیوں کے خارج کرنے کا اور مشکوک فرش پرسنتیں اداکرنے والے نمازیوں کی نماز خراب کرانے کاباعث ہوکر عذاب پائے گا یا اس قسم کے شکوک پیداکرکے تمام نمازیوں کوتنگی میں ڈالنے والاہوگا؟ بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب

زید کے دونوں اعتراض باطل وبے معنی ہیں، مسجد سے بے نماز پڑھے باہرجانا دوشرط سے ممنوع ہے ایک یہ کہ وہ خروج بے حاجت ہو ورنہ بلاشبہ جائز ہے مثلاً جس شخص کی ذات سے دوسری مسجد کی جماعت کاانتظام وابستہ ہے وہ بعد اذان بلکہ خاص اقامت ہوتے وقت باہرجاسکتاہے یونہی جسے دوسری مسجد میں بعد نمازدینی سبق پڑھنا یاسنی عالم کاوعظ سننا ہو اسی طرح پیشاب یااستنجے یاوضو کی حاجتیں۔ دوسرے یہ کہ شروع جماعت تک واپسی کاارادہ نہ ہو ورنہ مضائقہ نہیں اگرچہ بے ضرورت ہی سہی۔
فی الدر المختار، کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا الالمن ینتظم بہ امرجماعۃ اخرٰی اوکان الخروج المسجد حیہ ولم یصلوا فیہ اولاستاذہ لدرسہ اولسماع الوعظ اولحاجۃ ومن عزمہ ان یعود نھر اھ  وفی ۱؎ ردالمحتار قولہ للنھی ھو مافی ابن ماجۃ من ادرک الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھولایرید الرجوع فھومنافق اھ  وفیہ عن البحر ولوکانت الجماعۃ یوخرون لدخول الوقت المستحب کالصبح مثلا فخرج ثم رجع وصلی معھم ینبغی ان لایکرہ اھ قال وجزم بذلک کلہ فی النھر لدلالۃ کلامھم علیہ قولہ الالمن ینتظم بہ لہ الخروج ولوعندالشروع فی الاقامۃ وبہ صرح فی متن الدرر و القھستانی وشرح الوقایۃ۲؎اھ  مختصرا۔
درمختارمیں ہے کہ نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوچکی ہو مکروہ تحریمی ہے یہ غالب پرحکم ہے اور مراد دخول وقت ہے خواہ اذان ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو البتہ اس شخص کوجانے کی اجازت ہے جس نے کسی دوسری جماعت کاانتظام کرناہے یا اپنے محلہ کی مسجد کی طرف جاناہے درانحالیکہ وہاں لوگوں نے نمازادانہیں کی یا استادسے سبق لیناہے یاوعظ سننا ہے یاکوئی حاجت ہے اور وہ شخص دوبارہ آجانے کاارادہ رکھتاہو نہر ردالمحتارمیں قولہ للنھی (یعنی اس پرنہی وارد ہے) سے مراد ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ مسجد میں اذان کوپایا پھربغیر کسی حاجت وضرورت کے چلاگیا اور واپسی کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منافق ہے، اور اسی میں بحر سے ہے کہ اگرجماعت لوگوں نے اس لئے مؤخر کی کہ وقت مستحب آجائے مثلاً صبح کی نماز، توکوئی شخص چلاگیا پھرلوٹ آیا اور ان کے ساتھ نماز ادا کی تو اسے مکروہ نہ قراردینا ہی مناسب ہے اور نہر میں اس پر کلام علماء کی وجہ سے جزم کااظہار کیاہے، ماتن کاقول الالمن ینتظم (مگر جس نے نماز کاانتظام کرناہے) وہ نکل سکتاہے خواہ اقامت شروع ہوچکی ہو، اور اسی پر متن درر، قہستانی اور شرح وقایہ میں جزم کیاگیا ہے اھ اختصاراً(ت)
(۱؎ درمختار    باب ادراک الفریضۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)

(۲؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۲ /۵۴)
Flag Counter