Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
87 - 158
مسئلہ ۱۰۴۹: از قصبہ اترولی ضلع علی گڑھ محلہ کڑہ برمکان شیخ عبدالحق صاحب رسالدار مسئولہ شیخ عبدالحمیدصاحب زاہد نعمانی قادری ۴رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وصوفیائے محققین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازفجر آفتاب طلوع ہونے پر جو نوافل اشراق(دولغایت چھ رکعت) اور ایک پہردن چڑھے پرجونوافل نماز چاشت(دولغایت بارہ رکعت پڑھے جاتے ہیں شرح مشکوٰۃ میں ان نوافل یعنی اشراق اور چاشت ہی کو نماز ضحی لکھاہے، لیکن ایک بزرگ صوفی مشرب نماز ضحی کو ان نوافل یعنی اشراق اور چاشت سے علیحدہ بتاتے ہیں اور خود بھی عرصہ چالیس سال سے اشراق اور چاشت کے علاوہ نمازضحی کے نوافل(دولغایت آٹھ رکعت) علیحدہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرپیرطریقت نے علیحدہ پڑھنابتلایاہے اور ملک سندھ میں عام آدمی نماز ضحی کے نوافل نماز اشراق اور چاشت کے علاوہ علیحدہ پڑھتے ہیں اور بعض علما سے تصدیق کرلینا بھی ظاہرکرتے ہیں چونکہ اس مسئلہ میں اختلاف واقع ہوگیاہے اس لئے استفتاء ہے کہ صحیح طریقہ کیاہے؟ اور نمازضحی، اشراق اور چاشت کے نوافل کو کہتے ہیں یاعلیحدہ نمازہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

نمازضحی وہی نماز چاشت ہے نوافل پڑھنے کا اختیارہے ہے تمام اوقات غیرمکروہہ میں اگرنوافل ہی پڑھے کون منع کرتاہے مگرشرعی معنی میں اپنی طرف سے جدت نکالنا ضرورشنیع ومعیوب ہے ہرشخص جانتاہے کہ ضحی کا ترجمہ چاشت ہی ہے توصلٰوۃ الضحٰی نہیں مگر نمازِ چاشت۔ اور ان دو کے سوا کسی تیسری نماز کا اصلاً کسی حدیث سے ثبوت بھی نہیں
ومن ادعی فعلیہ البیان
 (جودعوٰی کرتاہے وہ دلیل لائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ تا ۱۵۵ :ازعثمان پور ضلع بارہ بنکی مسئولہ محمدحسن یارخاں صاحب ۱۹رمضان ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز تہجد میں خیرمتین ترجمہ حصن حصین کے دیکھنے سے بروایت چاررکعت اور آٹھ رکعت اور تیرہ رکعت نمازتہجد میں ہے، ایک شخص تہجدگزار اجہل سے معلوم ہوا کہ بارہ رکعت تہجد کی اور ترکیب پڑھنے کی یہ ہے کہ اول رکعت میں ایک مرتبہ قل ہواﷲ شریف دوسری میں دوبار بارھویں میں بارہ مرتبہ یاہررکعت میں تین تین بارقل ھواﷲ شریف پڑھاجائے، یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ صحیح کون سا قاعدہ ہے اور تہجد میں کَے رکعت پڑھناچاہئے اور بعدالحمد کے جیسا کہ نماز میں قاعدہ ہے کہ جو سورہ چاہے ملائے، خیرمتین میں قل ھواﷲ پڑھنے کاقاعدہ مسطورہ بالا نہیں لکھاہے اور جو بعد وتر کے دورکعت نفل پڑھے جاتے ہیں ان کو بھی تہجد کے وقت میں پڑھنا چاہئے مثل وتر کے، یا عشاء کے وقت اداکرناچاہئے؟ اور نمازصلٰوۃ التسبیح میں کلمہ تمجید
سبحان اﷲ والحمدﷲ ولاالٰہ الااﷲ واﷲ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العظیم
ایک شخص کہتاہے کہ ہررکعت میں گیارہ گیارہ بارپڑھنا چاہئے۔ چاررکعت میں دورکعت کی نیت کی جائے یاچارکی؟ دعائے ماثورکیاہے معلوم نہیں اور کس موقع پرپڑھی جائے، دعائے تہجد بفرض تصحیح مرسل ہے
یامقلب القلوب قلب قلبی الیک مامصرف القلوب صرف قلبی علی دینک وطاعتک
اورخیر متین میں سنت فجر میں
قل یٰایھا الکٰفرون اور قل ھواﷲ
پڑھنے کولکھاہے اس ترکیب سے پڑھنا سنت فجر یانفل میںجائز ہے یانہیں؟ اورجیسا کہ فرض میں بقید سورہ پڑھنا ناجائزہے اور سنن ابن ماجہ کے ترجمہ رفع الحاجہ کی دو جلدیں میرے پاس ہیں جن میں تہجد وغیرہ کا ذکرنہیں ہے جلد اول میں ہے اور ایک کتاب وظیفہ میں قل یا اور قل ھواﷲ سنت میں پڑھنے کولکھا ہے اور دوسری میں الم نشرح اور الم ترکیف لکھاہے جوفرض ووتر میں بغرض فلاحیت لکھاہے اور وترمیں اخیررکعت میں قل ھواﷲ پڑھنا ضرورہے یا اور سورہ کوملاکر پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

عشاء کے فرض پڑھ کر آدمی سورہے پھر اس وقت سے صبح صادق کے قریب جس وقت آنکھ کھلے دورکعت نفل صبح طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لے تہجد ہوگیا اقل درجہ تہجدکایہ ہے اور سنت سے آٹھ رکعت مروی ہے اور مشائخ کرام سے بارہ اور حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دوہی رکعت پڑھتے اور ان میں قرآن عظیم ختم کرتے، غرض اس میں کمی بیشی کااختیارہے اتنی اختیار کرے جو ہمیشہ نبھ سکیں اگرچہ دوہی رکعت ہو کہ حدیث صحیح میں فرمایا:
احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل۱؎۔
اﷲ تعالٰی کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے کہ ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑاہو۔
 (۱؎ مشکوٰۃ المصابیح    باب القصد فی العمل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ص۱۱۰)
قرأت کابھی اختیار ہے چاہے ہررکعت میں تین تین بارسورئہ اخلاص پڑھے کہ اس کا ثواب ایک ختم قرآن کے برابرہے خواہ یوں کہ بارہ رکعتیں ہوں پہلی میں ایک بار، دوسری میں دوبار، یاپہلی میں بارہ دوسری میں گیارہ، اخیرمیں ایک کہ یوں ۲۶ختم قرآن کاثواب ہوگا، اور پہلی صورت میں بیس کا ہوتا۔ اوربہتر یہ ہے کہ جتنا قرآن مجید یادہواس نماز میں پڑھ لیاکرے کہ اس کے یادرہنے کا اس سے بہتر سبب نہیں۔ تہجد پڑھنے والا جسے اپنے اُٹھنے پراطمینان ہو اسے افضل یہ ہے کہ وتر بعد تہجد پڑھے پھر وتر کے بعد نفل نہ پڑھے جتنے نوافل پڑھناہوں وترسے پہلے پڑھ لے کہ وہ سب قیام اللیل میں داخل ہوں گے اور اگرسونے کے بعد ہیں توتہجد میں داخل ہوں گے۔
 (۲) صلٰوۃ التسبیح میں
سبحان اﷲ والحمدﷲ ولاالٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر
ہرجگہ دس دس بارپڑھنا چاہئے، گیارہ باربتانے والا غلط کہتاہے مگرہرقیام میں قرأت سے پہلے پندرہ بارہے۔
 (۳) صلٰوۃ التسبیح میں چاررکعت کی نیت کی جائے۔

(۴) بعد دونوں درودوں کے قبل سلام یہ دعاپڑھے:
اللھم انی اسألک توفیق اھل الھدٰی واعمال الیقین ومناصحۃ اھل التوبۃ وعزم اھل الصبر وجداھل الخشیۃ وطلب اھل الرغبۃ وتعبد اھل الورع وعرفان اھل العلم حتی اخافک۔ اللھم انی اسألک مخافۃ تحجرزنی عن معاصیک حتی اعمل بطاعتک عملا استحق بہ رضاک وحتی اناصحک بالتوبۃ خوفامنک وحتی اخلص لک النصیحۃ حبالک وحتی اتوکل علیک فی الامور حسن ظن بک سبحٰن خالق النور۱؎۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اہل ہدٰی جیسی توفیق، اہل یقین جیسے اعمال، اہل توبہ جیسی نصیحت، اہل صبرکاعزم، اہل خشیت کی محنت، اہل رغبت کی طلب، اہل ورع کی عبادت، اہل علم کا عرفان مانگتاہوں کہ مجھے تیراخوف نصیب ہو۔ اے اﷲ! میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتاہوں کہ مجھے ایساخوف عطافرما جوتیری نافرمانی سے روک لے حتی کہ میں ایسے عمل کروں جومجھے تیری رضا کامستحق بنادے اور حتی کہ میں تیرے خوف کی بناپر خالصۃً توبہ کروں اور تیرے ساتھ محبت کی بناپر مخلصانہ تیرے حقوق اداکروں، حتی کہ تمام امورمیں تجھ پربھروسہ کروں، تیرے ساتھ مجھے حسن ظن نصیب ہو، اے خالق نور! تیری ذات تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۸)
 (۵) سنت فجر میں نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے مروی وماثور سنت وہی ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ کٰفرون اور دوسری میں اخلاص اور الم نشرح اور الم ترکیف پڑھنامشائخ سے بطور عمل مروی ہے جس کا فائدہ دفع اعداء ہے اور یہ کہ نوافل میں اختیارہے جس طرح جوچاہے پرھے۔
 (۶) وتر میں اخیررکعت میں قل ھواﷲ احد شریف پڑھنا ماثور ہے مگرضرورنہیں، جوچاہے پڑھے، بہتر یہ ہے کہ پہلی میں
سبح اسم ربک الاعلٰی یاانا انزلناہ
اور دوسری میں کٰفرون تیسری میں اخلاص۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵۶:  امام نے ظہر کے وقت چاررکعت نمازسنت ادا کرنے کے بعد کلام دنیا کیا بعد اس کے نمازپڑھائی تو اس فرض نماز میں کچھ نقصان آوے گایانہیں؟ اور نمازسنت کا ثواب کم ہوجائے گا یاباطل ہوجائے گی؟
الجواب

فرض میں نقصان کی کوئی وجہ نہیں کہ سنتیں باطل نہ ہوں گی، ہاں اس کا ثواب کم ہوجاتاہے۔

تنویرالابصارمیں ہے :
ولوتکلم بین السنۃ والفرض لایسقطھا ولکن ینقص ثوابھا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگرکوئی سنن وفرائض کے درمیان کلام کرتاہے تو اس سے سنن ساقط نہیں ہوجاتی مگران کے ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۵)
مسئلہ ۱۰۵۷ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں پڑھنے کے بعد اگرگفتگو کی جائے توپھر اعادہ سنتوں کا کرے یانہیں؟
الجواب

اعادہ بہترہے کہ قبلی سنتوں کے بعدکلام وغیرہ افعال منافی تحریمہ کرنے سے سنتوں کاثواب کم ہوجاتاہے اور بعض کے نزدیک سنتیں ہی جاتی رہتی ہیںتوتکمیل ثواب وخروج عن الاختلاف کے لئے اعادہ بہترہے جبکہ اس کے سبب شرکت جماعت میں خلل نہ پڑے مگرفجر کی سنتیں کہ اُن کا اعادہ جائزنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter