مسئلہ ۱۰۴۶: از بھنڈی بازار کارخانہ کرسی مرسلہ ننھے خاں ولداحمدخاں معمار ۲۹رجب ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلٰوۃ التسبیح پڑھنے کی کیاترکیب اور اس کا کیاوقت ہے؟
الجواب
اس نماز کی بہت فضیلت اور بڑاثواب، اور اس میں بڑی معافی کی اُمید ہے وہ چاررکعت نفل ہے کہ غیروقت کروہ میں ادا کی جائے یعنی صبح صادق کے طلوع ہونے سے آفتاب نکل کر بلند ہونے تک جائز نہیں اور ٹھیک دوپہر کوجائز نہیں، اور جب آفتاب ڈوبنے کے قریب آئے کہ اس پرنگاہ بے تکلف ٹھہرنے لگے اس وقت جائز نہیں، نماز عصر کے فرض پڑھنے کے بعد شام تک جائزنہیں، جس وقت امام خطبہ پڑھ رہاہو اس وقت جائزنہیں غرض جتنے وقت نفل نماز کی کراہت کے ہیں اُن اوقات سے بچ کر جس وقت چاہے پڑھے اور بہتریہ ہے کہ ظہر سے پہلے پڑھے۳؎
کما فی الھندیۃ عن المضمرات عن المعلی
(جیسا کہ ہندیہ میں مضمرات اور معلی کے حوالے سے ہے۔ت) اور افضل دن جمعہ کاہے اور اس کامناسب طریقہ کہ ہمارے ائمہ کرام کے مذہب سے موافق ہے یہ ہے کہ
سبحٰنک اللھم
پڑھ کرپندرہ ۱۵بار
سبحٰن اﷲ والحمدﷲ ولاالٰہ الااﷲ واﷲ اکبر
پھر الحمد وسورت پڑھ کر یہی کلمہ دس بارپھررکوع میں تسبیحات رکوع کے بعد دس بار پھررکوع سے کھڑے ہوکر
ربنا ولک الحمد
کے بعد دس بار پھر سجدہ میں تسبیحوں کے بعد دس بارپھر سجدہ سے سراٹھاکر دس بار پھردوسرے سجدہ میں اسی طرح دس بار، یہ ایک رکعت میں پچھتر بارہوا، پھردوسری رکعت کوکھڑا ہوکرالحمد سے پہلے پندرہ بار پھر الحمد وسورت کے بعد دس بارپھررکوع میں بدستور کہ یہ بھی پچھتر ہوئے، اسی طرح باقی دونوں رکعتوں میں بھی کہ یہ سب مل کر تین سوبار ہوجائیں گے، سورت کا اختیار ہے جوچاہے پڑھے اور بہتریہ کہ پہلی رکعت میں
الھٰکم التکاثر
دوسری میں والعصرتیسری میں قل ٰیایھا الکٰفرون چوتھی میں قل ھواﷲ، یہ نماز ہرروزپڑھے ورنہ ہرجمعہ ورنہ ہرمہینے ورنہ سال میں ایک بارتوہوجایاکرے اور نہ ہو تو عمربھر میں ایک بار توہوجائے کہ اس میں بڑی دولت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ باب التاسع فی النوافل مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۱۳)
مسئلہ ۱۰۴۷ :از اروہ نگلہ ڈاک خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمدصادق علی صاحب رمضان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چار رکعت تراویح یا اور نوافل ایک نیت سے پڑھے قعدئہ اولٰی میں درودشریف ودعا اور تیسری رکعت میں
سبحٰنک اللھم
پڑھے یانہیں؟
الجواب
پڑھنا بہترہے،
درمختارمیں ہے:
لایصلی علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی القعدۃ الاولٰی فی الاربع قبل الظھر والجمعۃ وبعدھا لایستفتح اذا قام الی الثالثۃ منھا وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویستفتح ویتعوذ ولو نذرا لان کل شفع صلٰوۃ۱؎۔
ظہر اور جمعہ کی پہلی چارسنتوں اور بعد کی چارسنتوں کے پہلے قعدہ میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں درودشریف نہ پڑھاجائے اور تیسری رکعت میںثناء بھی نہ پڑھی جائے اور باقی چارکعتوں والی سنتوں اور نفلوں میں درودشریف پڑھاجائے، تیسری رکعت میں ثناء اور تعوذ بھی پڑھا جائے گااگرچہ اس نے نوافل کی نذرمانی ہو کیونکہ یہ جوڑاجوڑا نمازہے۔(ت)
ہرترویحہ چاررکعتوں کادوسلاموں کے ساتھ پڑھاجائے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی سراجیہ باب التراویح مطبوعہ نولکشور لکھنؤ بھارت ص۲۰)
یہاں تک کہ اگرچاریازائد ایک نیت سے پڑھے گا تو بعض ائمہ کے نزدیک دو ہی رکعت کے قائم مقام ہونگی اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمارہوں گی جبکہ ہردورکعت پرقعدہ کرتارہا ہو۔ عالمگیری میں ہے :
ان قعد فی الثانیۃ قدر التشھد اختلفوا فیہ فعلی قول العامۃ یجوز عن تسلیمتین وھو الصحیح ھکذا فی فتاوی قاضی خاں۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگردوسری رکعت میں تشہد کی مقدار نمازی بیٹھ گیا تو اس میں اختلاف ہے اکثرعلماء کی رائے یہ ہے کہ یہ دوسلاموں کے قائم مقام ہے اور یہی ہے صحیح ہے، فتاوٰی قاضی خاںمیں اسی طرح ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۸: مسئولہ علی حسین صاحب ازآنولہ محلہ خیل حکیمان معرفت جناب حاجی علیم اﷲصاحب ۱۷رمضان ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ رمضان شریف میں لڑکوں کے پیچھے دن میں دوتین بالغ حافظ وغیرہا نماز کے اندرقرآن مجید سنتے ہیں یہ امرمشروع ہے یانہیں؟ بظاہر ف کتب فقہیہ سے مفہو م ہوتاہے کہ نوافل روز میں سرّاً پڑھنا واجب ہے بموجب اس کے لڑکا ہو یابالغ اس کی نماز کراہت تحریمی سے توخالی نہ ہوگی یہ اور بات ہے کہ لڑکے کے ذمہ اعاد ہ واجب نہ ہوا جیسا کہ لڑکا اگرنماز نفل کو فاسد کردے گا تواجماعاً اس کے ذمے قضا نہ آئے گی اور یہ اقتدا لڑکے کے پیچھے مختار مذہب کے موافق توصحیح ہی نہیں ہے اس کے متعلق جواب بالصواب بحوالہ عبارت کتب فقہیہ تحریر فرمائیے، اجرجزیل کے عنداﷲ مستحق ہوجئے۔ بیّنواتوجروا
الجواب
یہ امر بالاتفاق نامشروع وممنوع ہے مذہب صحیح پر تواس لئے کہ وہ جماعت باطل ہے
لان نفل البالغ مضمون فلایصح بناء الا قوی علی الاضعف
(کیونکہ بالغ کے نوافل اس کے ذمہ لازم ہوجاتے ہیں لہٰذا اقوی کی بناء اضعف پرصحیح نہیں۔ت) اوردرمختارمیں ہے :