Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
85 - 158
مسئلہ ۱۰۴۵: از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۲۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ بعد وتر کے نفل جوپڑھے جاتے ہیں اُن کا بیٹھ کرپڑھنا بہترہے یاکھڑے ہوکر؟ کتاب مالابدمنہ ہندی میں صفحہ ۴۵ سطر۵ میں تحریر ہے کہ بعد وتر کے دورکعت بیٹھ کر پڑھنامستحب ہے۔
الجواب

کھڑے ہوکرپڑھنا افضل ہے، بیٹھ کرپڑھنے میں آدھا ثواب ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان صلی قائما فھو افضل ومن صلی قاعدا فلہ نصف اجرا لقائم۳؎۔ رواہ البخاری عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔
اور اگرکھڑے ہوکرپڑھے تووہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے اس کے لئے کھڑے ہوکرپڑھنے والے سے نصف ثواب ہے۔ اسے بخاری نے حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے، اور جمیع صحابہ سے اﷲ راضی ہو۔(ت)
(۳؎ صحیح البخاری    باب صلٰوۃ القاعد    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۵۰)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ رکعتیں بیٹھ کربھی پڑھی ہیں:
کما عند مسلم عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما قالت بعد ماذکرت وترہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم یصلی رکعتین بعد مایسلم وھو قاعد۱؎ ولاحمد عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلیھما بعد الوتر وھو جالس۲؎۔
جیسے کہ مسلم میں ہے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نمازوتر ذکر کرنے کے بعد فرماتی ہیں کہ پھر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازاداکرتے۔ اور امام احمد نے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وتروں کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازادافرماتے تھے(ت)
(۱؎ صحیح مسلم        باب صلٰوۃ اللیل وعددرکعات النبی الخ    مطبوعہ اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۵۶)

(۲؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث عائشہ الصدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۶ /۵۴)
اور کبھی ان میں قعود وقیام کوجمع فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھتے رہے جب رکوع کاوقت آیا کھڑہوکر رکوع فرمایا،
فلا بن ماجۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلی بعد الوتر رکعتین خفیفتین وھو جالس فاذا اراد ان یرکع قام فرکع۳؎۔
ابن ماجہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وتروں کے بعد دورکعات نماز اختصار کے ساتھ بیٹھ کر اداکرتے تھے اور جب آپ رکوع کاارادہ فرماتے تو قیام فرماتے پھر رکوع کرتے(ت)
 (۳؎ سنن ابن ماجہ  باب ماجاء فی رکعتین بعدالوتر جالساً   مطبوعہ آفتاب عالم پرریس لاہور ۱ /۸۵)
مگربیٹھ کر پڑھنا دواماً نہ تھا بلکہ اس بات کے بیان کے لئے کہ بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے جیساکہ خود ان نفلوں کاپڑھنا بھی اس بیان کے واسطے تھا کہ وتر کے بعدنوافل جائز ہیں اگرچہ اولٰی یہ ہے کہ جتنے نوافل پڑھنے ہوں سب پڑھ کر آخر میں وترپڑھے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اجعلوا اٰخرصلٰوتکم باللیل وترا۴؎۔ رواہ مسلم عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا
اپنی نماز شب میں سب سے آخر وتررکھو۔ اسے م نے ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت ہے۔
 (۴؎ صحیح مسلم        باب صلٰوۃ الیل وعددرکعات النبی الخ    مطبوعہ اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۵۷)
مسلم امام نووی منہاجپھر علامہ قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں فرماتے ہیں:
ھاتان الرکعتان فعلھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جالسا لبیان جواز الصلٰوۃ بعد الوتر وبیان جواز النفل جالسا ولم یواظب علی ذلک۱؎۔
ان دورکعات کو رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس لئے بیٹھ کر ادافرماتے تھے تاکہ وتر کے بعد جوازِ نماز اور بیٹھ کر جوازِ نفل کااظہار ہوجائے، البتہ آپ نے اس پرہمیشگی نہیں فرمائی(ت)
 (۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ    باب القصد فی العمل فصل اول    مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ ملتان    ۳ /۱۶۳)
بلکہ اگر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمیشہ یہ نفل بیٹھ کر پڑھتے جب بھی ہمارے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا ہی افضل ہوتا کہ یہ حضور پرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کااپنے لئے فعل ہوتا اور ہمارے لئے صاف وہ ارشاد قولی ہے کہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے اور بیٹھے کاثواب آدھا ہے، اور اصول کاقاعدہ ہے کہ قول فعل میں ترجیح قول کو ہے کہ فعل میں احتمال خصوصیت ہے نہ کہ یہاں توصریحاً بیان خصوصیت فرمایاہے، صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے: ''مجھے حدیث پہنچی تھی کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھے کی نمازآدھی ہے، میں خدمت اقدس میں حاضرہوا تو خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھے کی نماز آدھی ہے میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو خد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا میں نے سرِانور پرہاتھ رکھا۲؎(اقول یعنی یہ خیال گزرا کہ شاید بخار وغیرہ کے سبب بیٹھ کر پڑھ رہے ہوں)
 (۲؎ صحیح مسلم        باب جواز النافلۃقائما وقاعداً الخ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۵۳)
وھذا بحمداﷲ منزع نفیس واضح لیستغنی بہ عما اطال الطیبی عــــہ وابن حجر والقاری و وقعوا فیماکان لھم مندوحۃ عنہ وباﷲ التوفیق۔
الحمداﷲ یہ بات عمدہ، نفیس علامہ طیبی، ابن حجر اوراور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اس طویل گفتگو سے مستغنی کردیتی ہے علامہ طیبی ابن حجر ملاعلی قاری نے کی اور یہ حضرات طوالت کے باعث ایسی چیز میں واقع ہوئے جس سے محفوظ رہنا اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ان کے لئے مفیدتھا(ت)
عــــہ:  (فوجدتہ یصلی جالسا فوضعت یدی) لعلہ بعد الفراغ من الصلٰوۃ ثم رأیت ابن حجر جزم بہ وقال بعد فراغہ اذلایظن بہ الوضع قبلہ (علی رأسہ) ای لیتوجہ الیہ وکانہ کان ھناک مانع من ان یحضر بین یدیہ ومچل ھذا لایسمی خلاف الادب عند طائفۃ العرب لعدم تکلفھم وکمال تألفھم وکذلک فی قولھم لہ انت دن انتم الذی ھو مقتضی حسن الاٰداب فی معرض الخطاب لایتوجہ علی قائلہ العتاب وتکلف الطیبی ھنافی شرح الکتاب واورد السؤال والجواب ونسب قلۃ الادب الی الاصحاب وقال علی وجہ الاطناب فان قلت الیس یجب علیہ خلاف ذلک توقیرا لہ علیہ الصلٰوۃ والسلام قلت لعلہ صدر عنہ لاعن قصد اولعلہ استغرب کونہ علی خلاف ماحدث عنہ واستبعدہ فاراد تحقیق ذلک فوضع یدہ علی رأسہ ولذلک انکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقولہ مالک الخ فسماہ ونسبہ الٰی ابیہ وکذا قول عبداﷲ و انت تصلی قاعدا فانہ حال مقررۃ لجھۃ الاشکال، ثم رأیت ابن حجر قال کان ذلک فی عادتھم یفعلہ المستغرب الشیئ المتعجب من وقوعہ مع من استغرب منہ ذلک فلاینافی المتعارف الا ان ذلک خلاف الادب ونظیرہ ان بعض العرب کان ربما لمس لحیتہ الشریفۃ عند مفاوضتہ معہ  اھ وقد شوھد فی زماننا ان بعض اجلاف العرب یمسک لحیۃ شریف مکۃ ویقول انا فداک یاحسن والحال انہ قدیکون نعلہ معلقا فی اصبعہ ف ۱۲منہ(م)
 (تومیں نے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوبیٹھ کرنماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے سرِ انورپرہاتھ رکھ دیا) شاید یہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کامعاملہ ہو پھر میں نے دیکھا کہ ابن حجر نے یہ کہتے ہوئے اس پر جزم کااظہار کیا کہ یہ معاملہ فراغت کے بعد ہوا کیونکہ اس سے پہلے ہاتھ رکھنے کے بارے میں سوچاہی نہیں جاسکتا(آپ کے سراقدس پر) یعنی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوں اور گویا آپ کے سامنے آنے سے وہاں کوئی رکاوٹ تھی اور ایسے طریقے کو بعض عربوں کے ہاں عدم تکلف اور کمال محبت کی وجہ سے خلاف ادب تصورنہیں کیاجاتا اور اسی طرح بعض عربوں کاآپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے ''اَنْتَ'' (تُو) استعمال کرنا نہ کہ ''انتم''(تم) جو کہ خطاب کے موقع پر حسن آداب کا مقتضی ہے، اس کے قائل پرعتاب کاموجب نہیں بنتا، علامہ طیبی نے کتاب کی شرح میں اس مقام پر تکلف کرتے ہوئے سوال وجواب واردکیا اور صحابہ کی طرف قلت ادب کی نسبت کی اور طوالت سے کام لیتے ہوئے سولاً کہا اگر تو کہے کیا ان پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تعظیم وتوقیر کے پیش نظر اس کے خلاف عمل لازم نہ تھا؟ جواباً کہا میں کہتاہوں شاید ان سے یہ معاملہ عدم دانستگی میں ہوا ہو یاممکن ہےکہ انہوں نے ان سے حادث شدہ واقعہ کے خلاف معاملہ کو نہایت ہی اجنبی اور بعیدتصور کیا اور اس کی تحقیق کا ارادہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ سراقدس پررکھ دیا اسی لئے سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ناپسند کیااور فرمایا تجھے کیاہوگیا ہے؟ الخ تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کانام لیا اور ان کی نسبت ان کے باپ کی طرف کی۔ اور اسی طرح حضرت عبداﷲ کاقول کہ آپ بیٹھ کر نماز ادافرمارہے ہیں کیونکہ یہ حال جہت اشکال کوپختہ کررہاہے پھرمیں نے ابن حجر کودیکھا کہ انہوں نے یہاں یہ لکھاہے کہ عربوں کی عادات میں سے ہے کہ جب کوئی ان میں سے کسی سے ایسی چیز دیکھتاہے جونہایت اجنبی ہو تووہ ایساہی کرتاہے تو یہ متعارف کے منافی نہیں البتہ خلاف ادب ہے جوخلاف ادب ہو اس کی نظیریہ ہے کہ بعض عرب گفتگو وملاقات کے وقت آپ کی داڑھی مبارک کو مَس کرتے تھے۱ھ اور ہمارے دور میں اس کامشاہدہ یون کیاجاسکتاہے کہ بعض بزرگ عرب شریف مکہ کی داڑھی پکڑ کر یہ کہتے ہیں اے حسن میں تجھ پرفدا۔ حالانکہ اس کا جوتا اس کی انگلیوں کے ساتھ لٹک رہاہوتاہے ۱۲منہ (ت)
ف: حاشیہ کی عبارت مرقات مشکوٰۃ سے نقل کی گئی ہے مطالعہ کیلئے باب القصد فی العمل جلدسوم مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ص۱۵۹ ملاحظہ ہو۔ نذیراحمد سعیدی
حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداﷲ بن عمر! کیاہے؟میں نے عرض کی یارسول اﷲمیں نے سنا تھاکہ حضور نے فرمایا بیٹھے کی نماز آدھی ہے اور خود حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام  بیٹھ کرپڑھ رہے ہیں۔ فرمایا:
اجل ولکن لست کاحد منکم ۱؎
ہاں بات وہی ہے کہ بیٹھے کاثواب آدھا ہے مگرمیں تمہاری مثل نہیں میرے لئے ہرطرح پورا کامل اکمل ثواب ہے یہ میرے لئے خصوصیت وفضل رب الارباب ہے۔
 (۱؎ صحیح مسلم         باب جواز النافلۃ قائماً وقاعداً     مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۲۵۳)
مرقاۃ میں ہے :
یعنی ھذا من خصوصیاتی ان لاینقص ثواب صلواتی علی ای وجھہ تکون من جلواتی و ذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء قال تعالٰی وکان فضل اﷲ علیک عظیما۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ میری خصوصیت ہے کہ میری نماز جس طریقہ پربھی ہو اس کے ثواب میں کمی نہیں کی جاتی کہ میری نماز میرے خاص تعلق سے ہے اور یہ اﷲ تعالٰی کافضل ہے جسے وہ چاہتاہے عطافرماتاہے اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے آپ کی ذاتِ اقدس پر اﷲ تعالٰی کافضل عظیم ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ مرقاہ شرح مشکوٰۃ    باب القصد فی العمل فصل ثالث    مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان        ۳ /۱۶۰)
Flag Counter