Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
84 - 158
شیخ محقق اعلم علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، ماثبت بالسنۃ میں حدیث صلٰوۃ الرغائب پرمحدثین کاکلام ذکرکرکے ارشاد فرماتے ہیں:
ھذا ماذکرہ المحدثون علی طریقھم فی تحقیق الاسانید ونقد الاحادیث وعجبا منھم ان یبالغوا فی ھذا الباب ھذہ المبالغۃ و یکفیھم ان یقولوا لم یصح عندنا ذلک و واعجب من الشیخ محی الدین النووی مع سلوکہ طریق الانصاف فی الابواب الفقھیۃ وعدم تعصبہ مع الحنفیۃ کماھو داب الشافعیۃ فمانحن فیہ اولی بذلک لنسبۃ الی المشائخ العظام والعلماء الکرام قدس اسرارھم۱؎۔
یعنی وہ کلام ہے کہ محدثین نے اپنے طریقہ تحقیق اسناد وتنقید آثار پر ذکرکیا اور ان سے اس قدرمبالغہ کا تعجب ہے انہیں اتناکہنا کافی نہ تھا کہ حدیث ہمارے نزدیک درجہ صحت کو نہ پہنچی، اور زیادہ تعجب امام محی الدین نووی سے ہے کہ وہ تومسائل فقہ میں راہ انصاف چلتے ہیں اور دیگرشافعیہ کی طرح حنفیہ کے ساتھ تعصب نہیں رکھتے، تویہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں زیادہ انصاف وترک افراط کے لائق تھا اس لئے کہ یہ فعل اولیائے عظام وعلمائے کرام قدست اسرارہم کی طرف منسوب ہے۔
 (۱؎ ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶)
پھر شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالٰی نے دربارہ صلٰوۃ الرغائب خود نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک حدیث بحوالہ جامع الاصول کتاب امام رزین سے نقل کی جس کی وضع اس لئے ہے کہ صحاح ستّہ کی حدیثیں جمع کرے اور اس کے آخر میں ابن اثیر سے نقل کیا:
ھذا الحدیث مما وجدتہ فی کتاب رزین ولم اجدہ فی واحد من الکتب الستۃ و الحدیث مطعون فیہ۲؎۔
یعنی یہ حدیث میں نے کتاب رزین میں پائی اور صحاح ستہ میں مجھے نہ ملی اور اس پرجرح ہے۔
 (۲؎ ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶)
پھرفرمایا:
وقد وقع فی کتاب بھجۃ الاسرار ذکرلیلۃ الرغائب فی ذکر سیدنا وشیخنا القطب الربانی وغوث الصمدانی الشیخ محی الدین عبدالقادر الحسینی الجیلانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اجتمع المشائخ وکانت لیلۃ الرغائب الٰی اٰخرماذکر من الحکایۃ وذکر ایضا انہ نقل عن الشیخین القدوتین الشیخ عبدالوھاب والشیخ عبدالرزاق قالا بکر الشیخ بقابن بطوسحر یوم الجمعۃ الخامس من رجب السنۃ ثلث واربعین وخمسمائۃ الی مدرسۃ والدنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ و قال لنا الاسألتمونی عن سبب بکوری الیوم انی رأیت البارحۃ نورااضائت بہ الافاق وعم اقطار الوجود ورأیت اسرارذوی الاسرار فمنھا مایتصل بہ ومنھا مایمنعہ مانع من الاتصال بہ وما اتصل بہ سرالاتضاعف نورہ فتطالبت ینبوع ذلک النور فاذا ھوصادر عن الشیخ عبدالقادر فاردت الکشف عن حقیقتہ فاذا ھو نور شھودہ قابل نورقلبہ وتقادح ھذان النوران وانعکس ضیاؤھما علی مرأۃ حالہ واتصلت اشعۃ المتقادحات من محط جمعہ الی وصف قربہ فاشرق بہ الکون ولم یبق ملک نزل اللیلۃ الااتاہ وصافحہ واسمہ عندھم الشاھد والمشھود قالا فاتیناہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقلنا لہ اصلیت اللیلۃ صلوۃ الرغائب فانشد؎

   			اذا نظرت عینی وجوہ حبائبی

   			فتلک صلاتی فی لیالی الرغائب

   			وجوہ اذا ما اسفرت عن جمالھا

   			اضاءت لھا الاکوان من کل جانبٖ

   			ومن لم یوف الحب مایستحقہ 

   			فذاک الذی لم یأت قط بواجب۱؎اھ
یعنی کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں حضور پرنور سیّدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ذکراقدس میں صلٰوۃ الرغائب کاذکرآیاہے کہ شب رغائب میں اولیاء جمع ہوئے الٰی آخر کلماتہ، نیز امام ابوالحسن نورالدین علی قدس سرہ، نے بسند خود حضرات عالیات سیّدنا سیف الدین عبدالوہاب و سیّدنا تاج الدین ابوبکر عبدالرزاق ابنائے حضورپرنور سیّدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ روزجمعہ پنجم رجب ۵۴۳ کو حضرت شیخ بقابن بطو قدس سرہ العزیز صبح تڑکے مدرسہ انور حضور پرنوررضی اﷲ تعالٰی عنہ میں حاضرآئے اور ہم سے کہا مجھ سے پوچھتے نہیں کہ اس قدر اول وقت کیوں آیا میں نے آج کی رات ایک نوردیکھا جس سے تمام آفاق روشن ہوگئے اور جمیع اقطار عالم کوعام ہوا اور میں نے اہل اسرار کے اسراردیکھے کہ کچھ تو اس نور سے متصل ہوئے ہیں اور کچھ کسی مانع کے سبب اتصال سے رک گئے ہیں جو اس سے اتصال پاتاہے اس کانور دوبالاہوجاتاہے تو میںنے غورکیا کہ اس نور کاخزانہ ومنبع کیاہے کہاں سے چمکا ہے ناگاہ کھلا کہ یہ نور حضورپرنورسیدنا شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صادرہواہے اب میں نے اس کی حقیقت پراطلاع چاہی تو معلوم ہوا کہ یہ حضور کے مشاہدے کانورہے کہ حضورکے نور قلب سے مقابل ہوکر ایک کی جوت دوسرے پرپڑی اور دونوں کی روشنی حضور کے آئینہ حال پرمنعکس ہوئی اور یہ آپس میں ایک دوسرے کی جوت بڑھانے والے نوروں کے بقعے حضور کے مقام جمع سے منزلت قرب تک متصل ہوئے کہ ساراجہان اس سے جگمگا اٹھا اور جتنے فرشتے اس رات اُترے تھے سب نے حضور کے پاس آکرحضور سے مصافحہ کیا فرشتوں کے یہاں حضورکانام پاک شاہد مشہود ہے(شاہد کہ مشاہدہ والے ہیں اور مشہود کہ سب ملائکہ ان کے  پاس آئے
قال تعالٰی ان قراٰن الفجر کان مشھودا ای تشھدہ الملئکۃ)
(القرآن الکریم    ۱۷ /۷۸)
 دونوں شاہزادگان دوجہاں نے فرمایا ہم یہ سن کر حضور پرنورکے پاس حاضر ہوئے اور حضور سے عرض کی کیا آج کی رات حضور نے صلٰوۃ الرغائب پڑھی( یعنی جس کے انواریہ چمکے یہ شب شب رغائب ہی تھی کہ رجب کی نوچندی شب جمعہ تھی)
 حضورپرنور رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس پر یہ اشعار ارشادفرمائے:

جب میری آنکھ میری پیاریوں کے چہرے دیکھے تویہ شبہائے رغائب میں میری نمازہے، وہ چہرے کہ جب اپنے جمال کاجلوہ دکھائیں توہرطرف سے سارا جہان چمک اُٹھے اور جس نے محبت کا حق پورانہ کیا وہ کبھی کوئی واجب نہ لایا (پیاریاں عالم قدس کی تجلّیاں ہیں) (اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اُس رات زمین پرنہ اُترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ نہ کیا ہو یعنی تمام ملائکۃ اﷲ زمین پر آئے اور محبوب خدا سے مصافحے کئے)  واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ص ۲۴۸ )

(۲؎ بہجۃ الاسرار    مصطفی البابی مصر    ص۵۸)
Flag Counter