مسئلہ ۱۰۴۴: از احمدآباد گجرات دکن محلہ مرزاپورمدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نزدیک امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور علمائے حنفیہ کی نماز تہجد کی ساتھ جماعت کے پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ اور دیگر ایام مخصوصہ مثلاً یوم ِ عاشورا وغیرہ میں نفل جماعت سے جائز ہیں یانہیں؟ اور یہاں کے مولوی نماز تہجد کی جماعت سے پڑھنا از حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما منصوص کہتے ہیں اور وقت تہجد کے جماعت بھی کرتے ہیں، آیا جماعت تہجّد اور نفلوں کی کرنامستحب یاسنت کیاہے؟ اور جبکہ برعکس ہوتوکیامکروہ ہے یابدعت ہے یاکیاہے؟
اللھم اھدنا بینوابحکم الکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب
تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایک دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایک دوشخص تک بالاتفاق بلاکراہت جائز اور تین میں اختلاف اور چارمقتدی ہوں تو بلاتفاق مکروہ، یہ تحدید امام شمس الائمہ سے منقول ہے کافی کانص عبارت یہ ہے:
(لایصلی تطوع بجماعۃ الاقیام رمضان) وعن شمس الائمۃ ان التطوع بالجماعۃ انما یکرہ اذا کان علی سبیل التداعی امالو اقتدی واحد بواحد اواثنان بواحد لایکرہ واذا اقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ وان اقتدی اربعۃ بواحد کرہ اتفاقا۱؎۔
(نفل جماعت کے ساتھ ادانہ کئے جائیں مگر رمضان کاقیام) شمس الائمہ سے یوں منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس صورت میں مکروہ ہے جب علٰی سبیل التدعی ہو، اگرایک نے ایک کی اقتداء کی یادونے ایک کی توکراہت نہیں، اور جب تین ایک کی اقتداء کریں تواس میںاختلاف ہے اور اگرچار نے ایک کی اقتداء کی تویہ بالاتفاق مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ بحوالہ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ والاقتدائ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۵۳)
اور اصح یہ ہے کہ تین مقتدیوں میں بھی کراہت نہیں، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
قولہ اختلف فیہ والاصح عدم الکراھۃ۲؎۔
ان کا قول ''اختلف فیہ'' اس میں اصح یہ ہے کہ کراہت نہیں۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح آخر باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۲۱۱)
مگرانہیں امام شمس الائمہ سے خلاصہ وغیرہ میں یوں منقول کہ تین مقتدیوں تک بالاتفاق کراہت نہیںچارمیںاختلاف ہے اوراصح کراہت ۔ فتاوٰی خلاصہ کا نص عبارت کتاب الصلٰوۃ فصل خامس ۱۵ عشر میں یہ ہے:
اصل ھذا ان التطوع بالجماعۃ اذا کان علی سبیل التداعی یکرہ فی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلی بجماعۃ بغیر اذان واقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ وقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ تعالٰی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ و الاصح انہ یکرہ۱؎۔
اس مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ جب نوافل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو تو صدرشہید کی اصلمیں ہے کہ یہ مکروہ ہے لیکن اگر مسجد کے گوشے میں بغیر اذان و تکبیر نفل کی جماعت ہوئی تو کراہت نہیں، اور شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرامام کے علاوہ تین افراد ہوں توبالاتفاق کراہت نہیں اور اگرمقتدی چارہوں تواس میںمشائخ کااختلاف ہے، اور اصح کراہت ہے(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشرالخ مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۵۴)
بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ، اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ، اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں چار میں ہے، تومذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں توکراہت ہے ورنہ نہیں، ولہٰذا دررو غرر پھر درمختارمیں فرمایا:
یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد۲؎۔
اگرنفل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو بایں طورپرکہ چارآدمی ایک کی اقتداء کریں تومکروہ ہے(ت)
(کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔ت) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو،
ردالمحتارمیں ہے:
فی الحلیۃ الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلک احیانا کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعہ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث ۱ھ ویؤید ایضا مافی البدائع من قولہ ان الجماعۃ فی التطوع لیست بسنۃ الا فی قیام رمضان۱ھ فان نفی السنیۃ لایستلزم الکراھۃ ثم ان کان مع المواظبۃ کان بدعۃ فیکرہ وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی علل الکراھۃ فی الضیأ والنھایۃ بان الوتر نفل من وجہ والنفل بالجماعۃ غیرمستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیررمضان۱ھ وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیہ تأمل۱؎اھ اھ مختصرا۔
حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اھ اس کی تائید بدائع کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ جماعت، قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں اھ کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی، خیررملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجہ نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی اھ یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے تامل اھ اھ اختصاراً(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۸)
صلٰوۃ الرغائب وصلٰوۃ البرائۃ وصلٰوۃ القدر
کہ جماعات کثیرہ کے ساتھ بکثرت بلاداسلام میں رائج تھیں متأخرین کا اُن پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں ولہٰذا وجیزکردری میں بعد بحث و کلام فرمایا:
فلوترک امثال ھذہ الصلوات تارک لیعلم الناس انہ لیس من الشعار فحسن۲؎۔
اگرنمازوں کوکوئی اس لئے تر ک کرتاہے کہ لوگ جان لیں کہ یہ شعار اسلام نہیں تو یہ ا چھا کام ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۴)
اوربعض ناس کاغلو وافراط مسموع نہیں اور حدیث بروایت مجاہیل آناموجب وضع نہیں نہ وضع حدیث موجبِ منع عمل ہے، عمل بالحدیث الموضوع اور عمل بمافی الحدیث الموضوع میںزمین آسمان کا بل ہے
کما حققنا کل ذلک فی منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین
(جیسا کہ ہم نے اس کی پوری تحقیق رسالہ ''منیرالعین فی حکم تقبیل الابہامین''میں کی ہے۔ت) خصوصا ان کا فعل بجماعت اجلہ اعاظم اولیائے کباروعلمائے ابرار حتی کہ ایک جماعت تابعین کرام وائمہ مجتہدین اعلام سے ثابت ومنقول ہے، لطائف المعارف امام حافظ زین الدین ابن رجب میں ہے :
ولیلۃ النصف من شعبان کان التابعون من اھل الشام کخالد بن معدان و مکحول ولقمان بن عامر وغیرھم یعظمونھا ویجتھدون فیھا فی العبادۃ وعنھم اخذالناس فضلھا وتعظیمھا، وقدقیل انہ بلغھم فی ذلک اٰثار اسرائیلیۃ، فلما اشتھر ذلک عنھم فی البلدان اختلف الناس فی ذلک، فمنھم من قبلہ ووافقھم علی تعظیمھا منھم طائفۃ من عباد اھل البصرۃ وغیرھم، وانکرذلک اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم عن فقھاء المدینۃ، وھو قول اصحاب مالک وغیرھم وذلک کلہ بدعۃ، واختلف علماء اھل الشام فی صفۃ احیائھا علی قولین احدھما انہ یستحب احیاؤھا جماعۃ فی المساجد کان خالد بن معدان ولقمان بن عامر وغیرھما یلبسون فیھا احسن ثیابھم ویتبخرون ویکتحلون ویقومون فی المساجد لیلتھم ذلک ووافقھم اسحق بن راھویۃ علی ذلک۱؎ وقد ذکر بعدہ القول الاخر وھو کراھۃ الجماعۃ دون الانفراد وان علیہ امام الشام الاوزاعی لکن فیہ سقطا فی نسختی فلم یتیسرلی نقلہ ویتضح بما اذکرہ عن الشرنبلالی فانہ انما اخذہ عنہ۔
یعنی اہل شام میں ائمہ تابعین مثل خالد بن معدان و امام مکحول و لقمان بن عامروغیرہم شب برات کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوشش عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اخذکیاہے، کوئی کہتاہے انہیں اسباب میں کچھ آثار اسرائیلی پہنچے تھے، خیرجب ان سے یہ امر شہروں میں پھیلا علماء اس میں مختلف ہوگئے ایک جماعت نے اسے قبول کیا اور تعظیم شب برات کے موافق ہوئے ان میں سے ایک گروہ عابدین اہل بصرہ وغیرہم ہیں، اور اکثرعلماء نے اس کا انکارکیا اُن میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکہ و عبدالرحمن بن زیدبن اسلم فقہائے مدینہ سے ہیں اور یہ قول مالکیہ وغیرہم کاہے کہ یہ سب نوپیداہے، علمائے اہل شام اس رات کی شب بیداری میں کہ کس طرح کی جائے دو قول پرمختلف ہوئے، ایک قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ مستحب ہے، خالد بن معدان و لقمان بن عامر وغیرہما اکابرتابعین اس رات اچھے سے اچھے کپڑے پہنتے، بخورکااستعمال کرتے، سرمہ لگاتے اور شب کومسجدوں میں قیام فرماتے، امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی الخ، دوسراقول یہ کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے اور یہ قول شام کے امام وفقیہ وعالم امام اوزاعی کا ہے۔ لیکن میرے پاس موجود نسخہ سے کچھ عبارت ساقط ہے اس کی عبارت نقل کرنا میسرنہیں اس کی وضاحت اس سے ہوجائے گی جسے میں شرنبلالی کے حوالے سے ذکرکر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے اس سے اخذ کیاہے۔
انکرہ اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وفقھاء اھل مدینۃ واصحاب مالک وغیرھم وقالوا ذلک کلہ بدعہ ولم ینقل عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاعن اصحابہ احیاء لیلتی العید جماعۃ واختلف علماء الشام فی صفۃ احیاء لیلۃ النصف من شعبان علی قولین احدھما انہ استحب احیاؤہ بجماعۃ فی المسجد طائفۃ من اعیان التابعین کخالد بن معدان ولقمان بن عامر ووافقھم اسحٰق بن راھویۃ والقول الثانی انہ یکرہ الاجتماع لھا فی المساجد للصلٰوۃ وھذا قول الاوزاعی امام اھل الشام وفقیھھم وعالمھم۱؎۔
اہل حجاز میں سے اکثر علماء نے اس کاا نکارکیاہے ان میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکۃ و فقہاء مدینہ اور اصحاب امام مالک وغیرہم۔ یہ علماء کہتے یہ سب نوپیداہے۔ نہ ہی نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عیدین کی دونوں راتون کی باجماعت شب بیداری منقول ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے مروی ہے، اور علماء شام بیداری شب برأت میں کہ کس طرح کی جائے دوقول پرمختلف ہوئے، ایک قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ بیداری مستحب ہے یہ قول اکابرتابعین مثل خالدبن معدان اور لقمان بن عامرکاہے، امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے یہ قول اہل شام کے امام و فقیہ وعالم امام اوزاعی کاہے۔(ت)