Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
82 - 158
مسئلہ ۱۰۴۳:  از مقام یومد قلعہ رام چھاؤنی ڈیرہ اسمعیل خاں رجمنٹ نمبر۸ بنگال ملک وزیرستان مرسلہ عبداﷲ خاں صاحب سوار    ۱۳صفر ۱۳۲۰ھ
؂ اے لقائے توجواب ہرسوال

   			مشکل ازتوحل شود بے قیل وقال
(آپ سے ملاقات بھی ہرسوال کاجواب ہے اور بغیر قیل وقال آپ سے سوال حل ہوجاتاہے)

بعد تمنا قدمبوسی کے مدعایہ ہے کہ یہاں ہم لوگوں میں ایک حافظ قرآن شریف بہت عمدہ تلاوت کرتے ہیں سب جوانوں کامشورہ ہواکہ حافظ صاحب ہم کو پوراقرآن سنائیں سب کی صلاح سے بعد نمازعشاء پچھلی دورکعت نفل میں دو پارے روزسنائے دس یوم بعد معلوم ہوا کہ نفلوں میں جماعت درست نہیں بعد کو سب کی رائے سے عشاء کے فرضوں میں دورکعت پیشتر میں قرآن سنایا ۸یوم سنا ہوگا کہ بعض نے کہا تمہاری نمازدرست نہ ہوئی اب آپ لکھئے کہ کسی طرح قرآن شریف علاوہ رمضان مبارک سنانا درست ہے یانہیں؟ اب سب کہتے ہیں وتروں میں سناؤ اور اب یہ بھی سناہے کہ سنتوں میں جماعت درست نہیں ہے پھر کیابندوبست کیاجائے؟ اور جونماز اس طورپرپڑھی ہے وہ قبول ہوئی یاپھر قضاکریں؟ یہ جگہ پہاڑ ہے ایک قلعہ ہے جس میں ہم قریب سَوجوانوں کے رہتے ہیں۔
الجواب

استسقاء کے سوا ہر نماز نفل و تراویح وکسوف کے سوا ہر نماز سنت میں ایسی جماعت جس میں چار یا زیادہ شخص مقتدی بنیں مکروہ ہے اور وتروں کی جماعت غیررمضان میں اگراتفاقاً کبھی ہوجائے توحرج نہیں مگر التزام کے ساتھ وہی حکم ہے کہ چاریازیادہ مقتدی ہوں توکراہت ہے اور فرضوں میں قرأت طویل قدرسنت سے اس قدرزائد کہ مقتدیوں میں سے کسی شخص پر بارگزرے سخت ناجائز وگناہ ہے یہاں تک کہ اگرہزار مقتدی ہیں اور سب خوشی سے راضی ہیں کہ قرأت قدر سنت سے زیادہ پڑھی جائے مگرایک شخص کوناگوار ہے تو اسی ایک کالحاظ واجب ہوگا اور قدرسنت سے بڑھاناگناہ ہوگا،
درمختارمیں ہے:
یصلی بالناس من یملک اقامۃ الجمعۃ رکعتین کالنفل وصلوۃ الکسوف سنۃ واختار فی الاسرار وجوبھا واختلف فی استنان صلٰوۃ الاستسقاء۱؎ وھوبلاجماعۃ مسنونۃ بل ھی جائزۃ۲؎ اھ  ملتقطا۔
وہ شخص جوجمعہ قائم کرسکتاہے لوگوں کومثل نفل کے دورکعات نمازپڑھاسکتاہے اور صلٰوۃ کسوف سنت ہے، اور اسرارمیں اس کے وجوب کو مختارکہاہے، نماز استسقاء کے سنت ہونے میں اختلاف ہے اوریہ بلاجماعت مسنون بلکہ جائز ہے اھ  تلخیصاً(ت)
 (۱؎ درمختار        باب الکسوف        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۸۔۱۱۷)

(۲؎ درمختار     باب الاستسقائ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۱۸)
اُسی میں ہے:
لایصلی الوتر ولاالتطوع بجماعۃ خارج رمضان ای یکرہ ذلک الوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کمافی الدرر۳؎۔
رمضان کے علاوہ وتر اور نوافل کو جماعت کے ساتھ ادانہ کیاجائے یعنی یہ عمل مکروہ ہے اگر علٰی سبیل التداعی ہو بایں طور کہ چارآدمی کسی ایک کی اقتداء کریں جیسا کہ دررمیں ہے(ت)
 (۳؎ درمختار        آخر باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ یکرہ ذلک اشار الی ماقالوا ان المراد من قول القدوری فی مختصرہ لایجوز، الکراھۃ لاعدم اصل الجواز لکن فی الخلاصۃ عن القدوری انہ لایکرہ وایدہ فی الحلیۃ بما اخرجہ الطحاوی عن المسور بن مخرمۃ قال دفنا ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ لیلا فقال عمر رضی اللہ تعالی عنہ انی لم اوتر فقام وصفنا ورائہ فصلی بنا ثلث رکعات لم یسلم الا فی اٰخرھن ثم قال و یمکن ان یقال الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ، ثم ان کان ذلک احیانا کما فعل عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان مباحا غیرمکروہ، وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعۃ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث وعلیہ یحمل ماذکرہ القدوری فی مختصرہ وماذکرہ فی غیرمختصرہ یحمل علی الاول ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان کا قول ''یکرہ ذلک''علماء کے اس قول کی طرف اشارہ ہے جوانہوں نے فرمایا کہ قدوری کے اپنی مختصرمیں قول ''لایجوز''کامعنی یہ ہے کہ کراہت ہے نہ کہ اصل جواز معدوم ہے لیکن خلاصہ میں قدوری سے ہے کہ یہ مکروہ نہیں، اور اس کی تائید حلیہ میں اس روایت سے کی ہے جو طحاوی نے حضرت مِسْوَر بن مخرمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کورات کو دفن کیا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : میں نے ابھی وترنہیں پڑھے، آپ کھڑے ہوئے تو ہم نے ان کے پیچھے صف بنالی تو انہوں نے ہمیں تین رکعات پڑھائیں اور ان کے آخر میں سلام پھیرا، پھر کہا کہ یہ کہنا ممکن ہے کہ ظاہریہی ہے کہ وتروں میں جماعت غیرمستحب ہے، اور اگریہ بعض اوقات ہو تو جیسا کہ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کیا تو یہ مباح غیرمکروہ ہے، اور اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہے کیونکہ منقول کے خلاف ہے اور مختصر قدوری میں جو مذکور ہے اسے بھی اسی پر محمول کیاجائے گا اور مختصرکے علاوہ میں جو مذکور ہے اسے پہلی صورت پرمحمول کیاجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۸)
درمختارمیں ہے :
یکرہ تحریما تطویل الصلٰوۃ علی القوم زائدا علی قدرالسنۃ۲؎الخ وتمام الکلام علیہ فی ردالمحتار والحلیۃ وغیرھما وبالبحث والتنقیر یظھر ماذکرنا۔
نماز کامقتدیوں پرقدرِسنت سے زیادہ لمباکرنا مکروہ تحریمی ہے، الخ اس پرتفصیلی کلام ردالمحتار اور حلیہ وغیرہ میں موجود ہے اور بحث وتمحیص سے وہ ظاہر ہوگاجوہم نے ذکرکیاہے(ت)
 (۲؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۸۳)
پس اگر اس کا بندوبست منظور ہو تو اس کی تین صورتیں ہیں:

(۱) یہ کہ فرضوں کی دورکعت پیشیں میں قرأت ہو اس شرط پرکہ جماعت کے آدمی گنے بندھے ہوں اور وہ سب دل سے اس تطویل پرراضی ہوں کسی کو گراں نہ گزرے،
ان اﷲ لایمل حتی تملوا۳؎ کما فی الصحیح عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
اﷲ تعالٰی ملال نہیں دیتا یہاں تک کہ تم ملال میں ہوجاؤ، جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کافرمان ہے(ت)
 (۳؎ سنن ابوداؤد    باب مایومربہ من القصد فی الصلٰوۃ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۹۴)
اگر یہ معدود لوگ راضی ہوں مگرجماعت میں یہی معین نہیں اور لوگ بھی آکرشریک ہوجاتے ہیں اور اُن کا اس تطویل پرراضی ہونا معلوم نہیں توجائز نہ ہوگا
حذراعن الوقوع فی الحرام
(حرام میں واقع ہونے سے بچنے کے لئے۔ت)
 (۲) سنتوں، نفلوں، وتروں میں حافظ قرأت کرے اور ہربار مختلف لوگ مقتدی ہوں کہ کسی بار میں تین سے زیادہ مقتدی نہ ہوں مثلاً عشاء کے بعد دوسنتوں مین تین مقتدیوں کے ساتھ آدھا پارہ پڑھ لیا پھروتروں میں دوسرے تین آدمی شریک ہوگئے آدھا ان میں پڑھا پھرنفلوں میں دوسرے تین مل گئے آدھا اب پڑھایاوتروں سے پہلے جتنے نفل چاہے امام نے مختلف تین تین آدمیوں کے ساتھ پڑھے کہ سَو یا زیادہ شخص سب کو حصہ رسد ایک قرأت طویل میں شرکت پہنچ گئی۔
 (۳) سنتوں خواہ نفلوں میں سب مقتدی ایک ساتھ شریک ہوکر ایک ہی بار میں ساری قرأت سب سنیں مگریوں کہ مقتدی سب یاتین سے جتنے زیادہ ہیں یوں منت مان لیں کہ میں نے اﷲ تعالٰی کے لئے نذر کی کہ یہ رکعتیں اس امام کے ساتھ باجماعت اداکروں اس صورت میں بھی کراہت نہ رہے گی اگرچہ کوئی ایسی پسندیدہ بات یہ بھی نہیں، درمختارمیں ہے :
فی الاشباہ عن البزازیۃ یکرہ الاقتداء فی صلٰوۃ رغائب وبرائۃ وقدر الااذا قال نذرت کذا رکعۃ بھذا الامام جماعۃاھ قلت وتتمۃ عبارۃ البزازیۃ من الامامۃ ولاینبغی ان یتکلف کل ھذا التکلف لامر مکروہ۱؎اھ  ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اشباہ میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے کہ نماز رغائب اور برائۃ (شب برأت کی نماز) اور قدر(شبِ قدر کی نماز) میں اقتداء مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب کوئی یوں کہے کہ میں نے اﷲ تعالٰی کے لئے نذر کی ہے کہ میں اس امام کی اقتداء میں یہ رکعتیں اداکروں گا اھ  قلت بزازیہکے باب الامامت میں اختتامی عبارت یوں ہے کہ اس امر مکروہ کے لئے یہ تمام تکلّفات مناسب نہیں اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ درمختار        آخرباب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)
Flag Counter