Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
81 - 158
مسئلہ ۱۰۴۰: از ریاست الور راجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمدرکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ

مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں اگرقضا ہوجائیں توبعد فرض جماعت کے اسے سنت وقت کے اندرقضا کرلے یانہیں؟ اس میں بھی صاحب ردالمحتارتحریرفرماتے ہیں کہ جمعہ کی سنت مثل سنت ظہر کے نہیں ہیں لہٰذا گزارش ہے کہ اس کی تحقیق سے بواپسی ڈاک اطلاع بخشی جائے، دوچار علماء سے جوگفتگو ہوئی توانہوں نے جناب کی تحقیق کی طرف توجہ دلائی۔
الجواب

ہاں وقت میں انہیں اداکرلے وہ اداہوگی نہ کہ قضا، درمختارمیں ہے:
بخلاف سنۃ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ثم یاتی بھا علی انہ سنۃ فی وقتہ ای الظھر۱؎۔
بخلاف ظہر کی سنت کے، اسی طرح جمعہ کا معاملہ ہے، پس اگرنماز کی ایک رکعت نکل جانے کا خطرہ ہو توسنن ترک کرکے جماعت میں شامل ہوجاناچاہئے پھر ان سنتوں کو اپنے وقت یعنی ظہرمیں اداکرے۔(ت)
 (۱؎ درمختار        باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۰۰)
بحرالرائق میں ہے :
وحکم الاربع قبل الجمعۃ کالاربع قبل الظھر کمالایخفی۱؎۔
جمعہ کی پہلی چارسنتوں کاحکم وہی ہے جوظہرسے پہلی چارسنتوں کاہے جیسا کہ واضح ہے(ت)
 (۱؎ بحرالرائق            باب ادراک الفریضۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۷۵)
حاشیہ علامہ خیرالدین الرملی علی البحرالرائقمیں فتاوٰی علامہ سراج الدین حانوتی سے ہے :
فعلی ماقالوہ فی المتون وغیرھا من ان سنۃ الظھر تقضی، یقتضی ان تقضی سنۃ الجمعۃ اذلافرق۲؎اھ  ثم نقل عن روضۃ العلماء ماردہ فی منحۃ الخالق وردالمحتار۔
اس بناپر کہ جوفقہا نے کہا ہے کہ متون وغیرہ میں ہے کہ ظہرکی سنتیں ادا کی جائیں اس کاتقاضا ہے کہ جمعہ کی سنتیں بھی اداکی جائیں کیونکہ ان میں کوئی فرق نہیں اھ پھر انہوں نے روضۃ العلماء سے وہ نقل کیا جسے منحۃ الخالق اور ردالمحتارمیں رد کیاہے(ت)
 (۲؎ حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    قول حکم الاربع قبل الجمعۃ کے تحت     مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۲ /۷۵)
جامع الرموزمیں ہے :
یترک سنۃ الظھر ولوحکما فیدخل فیہ سنۃ الجمعۃ فتقضی علی الخلاف سنۃ الظھر۳؎
ظہر کی سنتیں چھوڑدی جائیں اگرچہ ظہرحکمی ہو تو جوازِ ترک میں جمعہ کی سنتیں بھی داخل ہوں گی توانہیں برخلاف سنت ظہر اداکیاجائے(ت)
 (۳؎ جامع الرموز        فصل ادراک الفریضۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۱ /۲۲۳)
رہا علامہ شامی کا استدلال کہ:
قدیستدل للفرق بینھما بان القیاس فی السنن، عدم القضأ وقد استدل قاضی خاں لقضاء سنۃ الظھر بما عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر قضاھن بعدہ فیکون قضاء ھا ثبت بالحدیث علی خلاف القیاس۴؎۔
بعض اوقات ان کے درمیان فرق کے لئے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ قیاس کاتقاضا ہے کہ سنن میں قضانہیں، اور قاضی خاں نے ظہر کی سنتوں کی قضا پر اس حدیث سے استدلال کیاہے جو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اگرظہر سے پہلے کی چاررکعات حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے رہ جائیں تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ظہر کے بعد انہیں ادافرمایا کرتے تھے پس ان کی اداخلاف قیاس حدیث سے ثابت ہوئی (ت)
 (۴؎ ردالمحتار            باب فصل ادراک الفریضۃ مصطفی البابی مصر     ۱ /۵۳۱)
اس پر فقیرغفرلہ المولٰی التقدیر نے اپنی تعلیقات میں یہ لکھا:
اقول فیہ ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ فلایضرکون القضاء فیھن علی خلاف القیاس لان الالحاق دلالۃ لایختص بعقول المعنی کما نص علیہ الامام ابن الھمام وغیرہ من الاعلام بل لقائل ان یقول ان سنۃ الجمعۃ من افراد سنۃ الظھر فلاالحاق فافھم وبالجملۃ فالاحوط الایتان بھا خروجا عن العھدۃ بیقین۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول، جمعہ کی سنتوںکوظہر کی سنتوں کے ساتھ مساوات کی بناء پر لاحق کرنے میں ان کو خلاف قیاس قضا کرنے میں کوئی ضررنہیں کیونکہ دلالۃً الحاق کے لئے معقول المعنی ہوناضروری نہیں جس طرح اس پر امام ابن الہمام وغیریہ نے تصریح کی ہے بلکہ قائل کے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ جمعہ کی سنتیں ظہر کی سنتوں کا ہی فرد ہیں توپھرکوئی الحاق نہ ہوگا اسے سمجھو، الغرض احتیاط یہی ہے کہ انہیں بجالایاجائے تاکہ ذمہ داری سے بالیقین عہدہ برآہواجاسکے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ جدالممتا علی  ردالمحتار    باب ادراک الفریضۃ    المجمع الاسلامی مبارکپور (انڈیا)    ۱ /۲۴۳)
مسئلہ ۱۰۴۱:  ۲۸محرم ۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے فوت جماعت کے خوف سے سنتیں فجر کی ترک کیں اور جماعت میں شامل ہوگیا اب وہ ان سنتوں کوفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے یابعد؟ بیّنواتوجروا
الجواب

جبکہ فرض فجرپڑھ چکاتوسنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے، ہمارے ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی عنہم کا اس پراجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے، ردالمحتارمیں ہے:
اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح، واما بعد طلوع الشمس فکذالک عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر۲؎۔
جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں توبالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہاطلوع آفتاب کے بعدکا تو شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے مگر امام محمد فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا اداکرلینا مجھے پسند ہے جیسا کہ دررمیں ہے(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب ادراک الفریضۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲ /۵۷)
اور یہ خیال کہ ا س میں قصداً وقت قضا کراناہے ناواقفی سے ناشی، یہ سنتیں جب فرضوں سے پہلے نہ پڑھی گئیں خود ہی قضا ہوگئیں، اُن کا وقت یہی تھا کہ فرضوں سے پیشتر پڑھی جائیں، اب اگرفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے گا جب بھی قضا ہی ہوں گی ادا ہرگزنہ ہوں گی
الاتری الی قولہ لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع فقدسمی صلٰوتھا قبل الطلوع بعد الفرض قضاء
(آپ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کہا، بالاجماع طلوعِ آفتاب سے پہلے قضانہ کرے، اس میں فرض کے بعد طلوع سے پہلے نماز کو قضاکہاگیاہے۔ت) لیکن طلوع سے پہلے قضاکرنے ممیں فرض فجر کے بعد نوافل کاپڑھنا ہے اور یہ جائزنہیں، لہٰذا ہمارے اماموں نے اس سے منع فرمایا اور بعد طلوع وہ حرج نہ رہا لہٰذا جازت دی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۲:  ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ

اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ بکروضو نمازفجر کاکرکے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدئہ اخیرہ میں ہے جو سنت پڑھتاہے توجماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتاہے توسنتیں فوت ہوتی ہیں اس صورت میں سنتیں پڑھے یاقعدہ میں مل جائے؟ بیّنواتوجروا
الجواب

اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریک ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کاحکم ہے اگرچہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو، قعدہ توختم نماز ہے اس میں کیونکر امیدہوسکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا،
فی الدر المختار اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بستنھا ترکھا لکون الجماعۃ اکمل۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ سنتوں میں مصروفیت کی بناپر فجر کے فرائض کے فوت ہونے کاخوف ہو تو انہیں چھوڑدیاجائے کیونکہ جماعت ان سے اکمل ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ درمختار    باب ادراک الفریضۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت     ۱ /۹۹)
Flag Counter