Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۷(کتاب الصلٰوۃ)
80 - 158
مسئلہ ۱۰۳۶:  از علاقہ جاگل تھانہ ہری پور کوٹ نجیب اﷲ خاں مرسلہ شیرمحمدشیخ ۱۷/رمضان شریف ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وترمیں نیت وتر کی کرے یا واجب کی یاسنت کی یاکیا؟ بیّنواتوجروا
الجواب

وترکی نیت توضرورہی ہے پھرچاہے اسی قدرپرقناعت کرے اور بہتریہ ہے کہ وترواجب کی نیت کرے کہ ہمارے مذہب میں وتر واجب ہی ہیں اور اگرسنت بمعنی مقابل واجب کے نیت کی تو ہمارے امام کے نزدیک وترادانہ ہوں گے۔
فی الدر المختار لابد من التعیین عند النیۃ لفرض انہ ظھر اوعصر وواجب انہ وتراونذر۲؎اھ  مختصرا وفی ردالمحتار ای لایلزمہ تعیین الوجوب وان کان حنفیا ینبغی ان ینویہ لیطابق اعتقادہ۳؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے نیت کے وقت اس بات کاتعین کہ یہ فرض ہے مثلاً یہ ظہروعصر کی نماز ہے یا واجب مثلاً وتریانذر کی نماز ہے ضروری ہے اھ  اختصاراً، اور ردالمحتارمیں ہے کہ تعین وجوب لازم نہیں، ہاں اگر وہ حنفی ہو تومناسب یہی ہے کہ اس کی نیت کرے تاکہ وہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہوجائے الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ در مختار 	باب شروط الصلوۃ 	      مطبع مجتبائی دہلی بھارت	 ۱ / ۲۷)

(۳؎ رد المحتار 	باب شروط الصلوۃ	    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی	 ۱ /۴۱۹)
مسئلہ ۱۰۳:از ملک بنگالہ ضلع چاٹگام ڈاکخانہ جلدی مرسلہ محمد حبیب اﷲ صاحب  ۸ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ

چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ جناب قاضی ثناء اﷲ صاحب درمالا بدمنہ آوردہ اند کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درصلٰوۃ تہجد قیام بسیارمی فرمودند حتی کہ درپائے مبارک آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورم ومنشق شدہ است، قول مذکور قابل اعتباراست یانہ وورم ومنشق درصحاح ستہ ثابت است یاخارج ازصحاح بعض عالم می گویند کہ ورم قدم مبارک آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درصحاح ستہ ثابت است ومنشق ثابت نیست قول کدام کس معتبراست بیّنوابسندالکتاب وتوجروامن اﷲ الوھاب۔
اس مسئلہ میں علماء کی کیارائے ہے کہ مالابدمنہ میں قاضی ثناء اﷲپانی پتینے ذکرکیاہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نمازتہجد میں قیام طویل فرماتے حتی کہ آپ کے پاؤں مبارک متورم ہوجاتے اور پھٹ جاتے، یہ قول قابل اعتبار ہے یانہیں، متورم ہونا اور پھٹنا دونوں صحاح ستہ سے ثابت ہیں یاصحاح کے علاوہ سے،بعض علماء کایہ کہنا ہے کہ مبارک قدموں کامتورم ہونا تو صحاح سے ثابت ہے مگر پھٹ جانا ثابت نہیں، کس کاقول معتبرہے؟ مسئلہ کتاب کے ساتھ بیان کریں اور عطاکرنے والے اﷲ تعالٰی سے اجرپائیں۔
الجواب 

ایں جاسخن قاضی درست وسوی ست انکارش ازنادیدہ روی ست، تورم وانشقاق ہردودرصحاح ستہ خبرایں سنن ابی داؤد مروی ست ودرجامع صحیح امام بخاری ست حدثنا صدقۃ بن فضل اخبرنا ابن عیینہ ثنازیاد انہ سمع المغیرۃ یقول قام النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی تورمت قدماہ فقیل لہ قد غفراﷲ لک ماتقدم من ذنبک وما تاخرقال افلااکون عبدا شکورا۱؎
قاضی صاحب کاکلام درست وصحیح ہے اس کاانکار ناواقفیت ہے، پاؤں کامتورم ہونا اور پھٹ جانا دونوں ہی صحاح ستّہ سے ثابت ہیں، یہ خبرسنن ابی داؤد اور جامع صحیح امام بخاری میں مروی ہے کہ ہمیں صدقہ بن فضل انہیں ابن عیینہ انہیں زیاد نے بتایا کہ میں نے حضرت مغیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسالت مآب صلی اﷲ حسن بن عبدالعزیزانہیں عبداﷲ بن یحیٰی انہیں حیوۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے سنا کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قدم مبارک پھٹ جاتے، میں نے عرض کیا: یارسو ل اﷲ! اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہوحالانکہ اﷲ تعالٰی نے آپ کے اگلے اور پچھلے معاملات پر مغفرت وبخشش کی ضمانت فراہم کردی ہے تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : کیامیں اس کا شکرگزاربندہ نہ بنوں؟
 (۱؎ صحیح البخاری    سورۃ الفتح زیرقول لیغفرلک اﷲ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۱۶)
حدثنا الحسن بن عبدالعزیز ثناعبداﷲ بن یحٰیی اخبرنا حیوۃ عن ابی الاسود انہ سمع عروۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم من اللیل حتی تنفطر قدماہ فقالت عائشۃ لم تصنع ھذا یارسول اﷲ وقد غفر اﷲ لک ماتقدم من ذنبک وما تأخر قال افلا احب ان اکون عبداشکورا۱؎ الحدیث قال البخاری فی کتاب الصلٰوۃ تفطر قدماہ الفطور الشقوق انفطرت انشقت۲؎اھ  واﷲ تعالٰی اعلم۔
حسن بن عبدالعزیز انہیں عبداللہ بن یحیی حیوۃ انہیں ابو الاسود نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عروۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مبارک قدم پھٹ جاتے میں نے عرض کیا یارسول اللہ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہو حالانکہ اللہ تعالی آپ کے اگلے اور پچھلے معاملات پر مغفرت و بخشش کی ضمانت فراہم کردی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس کا شکر گذار بندہ نہ بنوں؟ اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الصلٰوۃ میں ذکر کر کے فرمایا: تفطر قدماہ الفطور کامعنی پھٹ جانا ہے کیونکہ انفطرت اور انشقت دونوں کامعنی ''پھٹ جانا'' ہے   اھ واﷲتعالٰی اعلم
 (۱؎ صحیح البخاری    سورۃ الفتح زیرقول لیغفرلک اﷲ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۷۱۶)

(۲؎ صحیح البخاری    باب قیام النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۵۲)
مسئلہ ۱۰۳۸:  از بریلی محلہ صندل خاں کی بزریہ ۲۹ذی القعدہ ۱۳۲۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاء میں آخری نفل بیٹھ کرپڑھنا چاہئے یا کھڑے ہوکر؟ سرکار اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کس طور پرہمیشہ ان لفظوں کو ادافرمایا اور کس طرح پڑھنا باعث زیادتی ثواب ہے ؟ بیّنواتوجروا
الجواب

حضور پرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ نفل بیٹھ کرپڑھے مگرساتھ ہی فرمادیا کہ میں تمہارے مثل نہیں، میرا ثواب قیام وقعود دونوں میں یکساں ہے تو اُمت کے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا افضل اور دوناثواب ہے اور بیٹھ کر پڑھنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۰۳۹: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نمازِتہجد اداکرتاہے لہٰذا اس کو وتر بعد فراغتِ تراویح پڑھنا جائزہے یانہیں؟ یاکسی کی تراویح اتفاق سے کچھ باقی رہ گئی ہیں تووہ امام کے بعد تراویح پڑھ سکتا ہے  یانہیں؟
الجواب

تہجّد پڑھنے والا بعد تراویح وتر پڑھ سکتاہے بلکہ جاگنے پراعتماد نہ ہو تو پہلے ہی پڑھ لینا بہترہے، جس نے امام کے ساتھ بعض تراویح نہ پائیں تو بعد امام اُن کو پڑھے خواہ وتروں سے پہلے یا بعد، اور اول بہترہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter