گا ہے اگربعض سنن مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو علماء فرماتے ہیں وہ کسی عذروسبب سے تھا
کما مر عن الشیخ وبمثلہ قال العلامۃ ابن امیرالحاج فی شرح المنیۃ
(جیسا کہ شیخ کے حوالے سے گزرا اسی کی مثل علامہ ابن امیرالحاج نے شرح منیہ میں فرمایا۔ت) معہٰذا ترک احیاناً منافی سنیت و استحباب نہیں بلکہ اس کامقرر ومؤکد ہے کہ مواظبت محققین کے نزدیک امارت وجوب کمافی البحر وغیرہ (جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ت) علاوہ بریں اگربالفرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دائماً سب سنتیں مسجد ہی میں پڑھی ہوتیں، تاہم بعد اس کے کہ حضور ہم سے ارشاد فرماچکے''فرضوں کے سواتمام نمازیں تمہیں گھرمیں پڑھنی چاہئیں'' اور فرمایا ''ماورائے فرائض اور نمازیں گھرمیں پڑھنا مسجد مدیہ طیبہ میں پڑھنے سے زیادہ ثواب رکھتاہے'' بلکہ مسجد میں پڑھتے دیکھ کر وہ ارشاد فرمایا کہ ''نمازگھروں میں پڑھاکرو'' کمامرکل ذلک (جیسا کہ یہ سب کچھ پیچھے گزراہے۔ت) توہمارے لئے بہترگھر ہی میں پڑھنے میں رہے کہ قول فعل پرمرجح ہے اور ان احادیث میں نماز سے صرف نوافل مطلقہ مرادنہیں ہوسکتی کہ ماورائے فرائض میں سنن بھی داخل، اور قضیہ مسجد بنی عبدالاشہل کا خاص سنن مغرب میں تھا کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت) اسی طرح فقہاء بھی عام حکم دیتے اور نوافل کی تخصیص نہیں کرتے،
ہدایہ میں ہے :
والافضل فی عامۃ السنن والنوافل المنزل وھوالمروی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎۔
تمام سنن ونوافل کوگھر میں اداکرنا افضل ہے اور یہ بات رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے۔(ت)
(۲ الہدایۃ جز اول باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ عربیہ کراچی ۱/ ۱۳۲ )
فتح القدیرمیں ہے :
عامتھم علی اطلاق الجواب کعبارۃ الکتاب وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر قال الا ان یخشی ان یشتغل عنھا اذا رجع فان لم یخف فالافضل البیت۱؎ ۔
عام فقہا نے عبارتِ کتاب (ہدایہ) کی طرح مطلقاً جواب دیاہے اور فقیہ ابوجعفر نے اسی پر یہ کہتے ہوئے فتوٰی دیا ہے مگر اس صورت میں کہ جب کسی مشغولیت کی بناپرگھرلوٹ کرنوافل کے فوت ہوجانے کاخطرہ ہو(تومسجد میں ہی پڑھ لے) ہاں اگر خوف نہ ہو توگھرمیں اداکرنا افضل ہے(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۱۶)
شرح صغیرمیں ہے:
ثم السنۃ فی سنۃ الفجر وکذا فی سائر السنن ان یاتی بھا اما فی بیتہ وھو الافضل، اوعند باب المسجد واما السنن التی بعد الفریضۃ فان ان تطوع بھا فی المسجد فحسن وتطوعہ بھا فی البیت افضل، وھذا غیرمختص بما بعدالفریضۃ بل جمیع النوافل ماعد التراویح وتحیۃ المسجد الافضل فیھا المنزل لماروی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یصلی جمیع السنن والوتر فی البیت۲؎۱ھ ملخصا۔
پھرسنت، سنن فجر میں اسی طرح بقیہ سنن میں کہ ان کوگھر میں اداکرے اور یہ ہی افضل ہے یادروازئہ مسجد کے پاس اداکرے۔ رہیں وہ سنتیں جو فرائض کے بعد ہیں اگرمسجد میں اداکرے توبھی ٹھیک اور اگرگھرمیں اداکرے تو زیادہ بہترہے، اور یہ صرف ان سنن کامعاملہ نہیں جوفرائض کے بعد ہیں بلکہ تراویح وتحیۃ المسجد کے علاوہ باقی تمام نوافل کوگھر میں اداکرنا افضل ہے کیونکہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سنن ووتر کوگھر میں ہی ادافرماتے تھے اھ تلخیصاً(ت)
(۲؎ صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ص۵،۲۰۴)
اور جب ثابت ہوچکا کہ سنن ونوافل کاگھرمیں پڑھنا افضل، اور یہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت طیبہ، اور حضور نے یونہی ہمیں حکم فرمایا توبخیال مشابہت روافض اُسے ترک کرناکچھ وجہ نہ رکھتاہے۔ اہل بدعت کاخلاف ان کی بدعت یاشعارخاص میں کیاجائے نہ یہ کہ اپنے مذہب کے امورِ خیر سے جوبات وہ اختیارکریں ہم اسے چھوڑتے جائیں آخر رافضی کلمہ بھی توپڑھتے ہیں، بالجملہ اصل حکم استحبابی یہی ہے کہ سنن قبلیہ مثل رکعتین فجر ورباعی ظہروعصر وعشا مطلقاً گھرمیں پڑھ کر مسجد کوجائیں کہ ثواب زیادہ پائیں، اور سنن بعدیہ مثل رکعتین ظہرومغرب وعشاء میں جسے اپنے نفس پراطمینان کامل حاصل ہو کہ گھرجاکر کسی ایسے کام میں جو اسے ادائے سنن سے باز رکھے مشغول نہ ہوگا وہ مسجد سے فرض پڑھ کر پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے توبہتر، اور اس سے ایک زیادتِ ثواب یہ حاصل ہوگی کہ جتنے قدم بارادئہ بادائے سنن گھر تک آئے گا وہ سب حسنات میں لکھے جائیں گے۔
قال تبارک وتعالٰی ونکتب ماقدموا و اٰثارھم وکل شیئ احصینٰہ فی امام مبین۱؎ ۔
اﷲ تبارک وتعالٰی کافرمان ہے: ہم لکھ رہے ہیں جوانہوں نے آگے بھیجا اور جونشانیاں پیچھے چھوڑگئے اور ہرشئی کوہم نے کتاب مبین میں شمار کررکھاہے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۳۶ /۱۲)
اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو، اور یہ معنی عارضی افضلیت صلٰوۃ فی البیت کے منافی نہیں، نظیر اس کی نماز وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تک اس کی تاخیر ہے مگرجواپنے جاگنے پراعتماد نہ رکھتاہو وہ پہلے ہی پڑھ لے
کما فی کتب الفقہ
(جیسا کہ کتب فقہ میں ہے۔ت) مگراب عام عمل اہل اسلام سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پرہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتاہے جومساجد میں ہے اور عادت قوم کی مخالفت موجب طعن و انگشت نمائی وانتشار ظنون وفتح باب غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی رعایت اس پرمرجح ہے، ائمہ دین فرماتے ہیں:
الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ
(معمول کے خلاف کرنا شہرت اور مکروہ ہے۔ت)
واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۴: از لشکر گوالیار محکمہ ڈاک مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب غرہ ذی الحجہ۱۳۱۲ھ
(۱) نفل کا سوائے تراویح ونماز کسوف وخسوف بجماعت منسوخ ہونا تومعلوم ہے لیکن بعض مشائخ کے یہاں جوباعتبار کسی کسی کتاب کے بعد نمازیں نفل کی مثلاً صلٰوۃ قضائے عمر(۴نفل قبل آخری جمعہ کے) اور نفل شب برات بجماعت ہوتے ہیں ان کی اصل ہے، جوازکس بناپر ہے اور ممانعت کیوں ہے، جن فتاوٰی کی روسے جوازنکالاہے وہ کہاں تک معتبرہے؟
(۲) نفل یوم عاشورہ ہم کوپڑھنا مناسب ہے یانہیں؟
الجواب
(۱) ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک نوافل کی جماعت بتداعی مکروہ ہے۔ اسی حکم میں نماز خسوف بھی داخل کہ وہ بھی تنہاپڑھی جائے اگرچہ امام جمعہ حاضرہو۱؎
کما فی الشامی عن اسمٰعیل عن البرجندی
(جیسے کہ شامی نے اسمٰعیل سے اور انہوں نے برجندی سے نقل کیاہے۔ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الکسوف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۸۳)
حلیہ میں ہے :
اما الجماعۃ فی صلٰوۃ الخسوف فظاھرکلام الجم الغفیر من اھل المذھب کراھتھا۲؎الخ
رہا صلٰوۃ خسوف کی جماعت کے بارے میں حکم تو اہل مذہب کے جم غفیر کے کلام سے یہی ظاہر ہے کہ یہ مکروہ ہے الخ(ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
صرف تراویح وصلٰوۃ الکسوف وصلٰوۃ الاستسقاء مستثنٰی ہیں
وذلک بوفاق ائمتنا علی الاصح فالخلٰف فی الاخیر فی الاستنان دون الجواز۳؎ کما صرح بہ فی الدر المختار۔
اصح مذہب کے مطابق ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے، اختلاف آخری (صلٰوۃ الاستسقاء) کے مسنون ہونے میں ہے نہ کہ جواز میں، جیسے کہ درمختار میں تصریح ہے(ت)
(۳؎ درمختار باب الاستسقاء مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۸)
تداعی مذہب اصح میں اس وقت متحقق ہوگی جب چاریازیادہ مقتدی ہوں دوتین تک کراہت نہیں،
فی الدر یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدر ر۴؎ اھ فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح فی اقتداء ثلثۃ الاصح عدم الکراھۃ۵ ؎۔
درمختارمیں ہے یہ مکروہ ہے اگرعلٰی سبیل التداعی ہومثلاً چارآدمی ایک کی اقتداء کریں جیسا کہ درر میں ہے اھ ، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے اگرتین نے ایک کی اقتداء کی تو اصح یہی ہے کہ یہ مکروہ نہیں۔(ت)
(۴؎ درمختار آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹)
(۵؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ آرام باغ کراچی ص۲۱۱)
نماز قضائے عمری کہ آخرجمعہ ماہ مبارک رمضان میں اس کاپڑھنا اختراع کیاگیا اور اس میں یہ سمجھاجاتاہے کہ اس نماز سے عمربھر کی اپنی اور ماں باپ کی بھی قضائیں اُترجاتی ہیں محض باطل و بدعت سیئہ شنیعہ ہے کسی کتاب معتبر میں اصلاً اس کانشان نہیں، نمازشب برات اگرچہ مشائخ کرام قدست اسرارہم نے بجماعت بھی پڑھی،
قوت القلوب شریف میں ہے :
یستحب احیاء خمس عشرۃ لیلۃ (الی قولہ) لیلۃ النصف من شعبان وقد کانوا یصلون فی ھذہ اللیلۃ مائۃ رکعۃ بالف مرۃ قل ھواﷲ احد، عشرا فی کل رکعۃ ویسمون ھذہ الصلٰوۃ صلٰوۃ الخیر ویتعرفون برکتھا ویجتمعون فیھا وربما صلوھا جماعۃ۱؎ ۔
پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے (آگے چل کرفرمایا) ان میں ایک شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے کہ اس میں شب بیداررہنا مستحب ہے کہ اس میں مشائخ کرام سَو رکعت ہزارمرتبہ قل ھواﷲ احد کے ساتھ اداکرتے ہر رکعت میں دس دفعہ قل ھواﷲ احد پڑھتے ، اس نماز کانام انہوں نے صلٰوۃ الخیر رکھاتھا، اس کی برکت مسلمہ تھی، اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیاناً نماز کوباجماعت اداکرتے تھے(ت)
اوریہی علمائے تابعین سے لقمان بن عامروخالد بن معدان اور ائمہ مجتہدین سے اسحق بن راہویہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کاہے مگرہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مذہب وہی ہے کہ جماعت بتداعی ہو تومکروہ ہے
کما نص علیہ فی البزازیۃ والتتارخانیۃ والحاوی القدسی والحلیۃ والغنیۃ ونورالایضاح ومراقی الفلاح والاشباہ وشروحھا والدرالمختار وحواشیہ وغیرذلک من الکتب المعتمدۃ۔
جیسا کہ اس پر بزازیہ، تتارخانیہ، الحاوی القدسی، حلیہ، غنیہ، نورالایضاح، مراقی الفلاح، الاشباہ اور اس کی شروح، درمختار اور اس کے حواشی، اور اس کے علاوہ دیگرمعتمد کتب میں تصریح ہے(ت)
(۲) عاشورا ایام فاضلہ سے ہے اور نماز بہترین عبادات اور اوقات فاضلہ میں اعمال صالحہ کی تکثیر قطعاً مطلوب ومندوب مگر اس دن نوافل معینہ بطریق مخصوصہ میں جو حدیث روایت کی جاتی ہے علماء اسے موضوع وباطل بتاتے ہیں
کما صرح بہ ابن الجوزی فی موضوعاتہ واقرہ علیہ فی اللآلی
(اس کی تصریح ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں کی اور امام سیوطی نے اللآلی میں اسے ثابت رکھاہے۔ت) موضوعات کبیرملاعلی قاری میں ہے :
صلٰوۃ عاشوراء موضوع بالاتفاق ۱؎
(عاشوراکی نماز بالاتفاق موضوع ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔