مسئلہ ۱۰۳۳ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں؟ اور سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت کس طرح تھی یا کوئی عادت نہ تھی؟ بلکہ کبھی گھر میں پڑھتے کبھی مسجدمیں؟ اور روافض کی مشابہت اور رفض کی تہمت سے بچنے کو مسجد میں پڑھنا ضرورلازم ہے یانہیں؟ اور حدیثوں میں جو گھر میں پڑھنے کی فضیلت واردہوئی وہاں صرف نوافل ہیں یاسنتیں بھی؟
الجواب
ومن اﷲ سبحٰنہ، توفیق الصدق والصواب
تراویح وتحیۃ المسجد کے سوا تمام نوافل سنن راتبہ ہوں یا غیرراتبہ مؤکدہ ہوں یا غیرموکدہ گھر میں پڑھنا افضل اور باعث ثواب اکمل۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
نماز مرد کی اپنے گھر میں میری اس مسجد میں اس کی نماز سے بہترہے مگرفرائض۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔
(۲؎ سنن ابوداود باب صلٰوۃ الرجل التطوع فی بیتہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۴۹)
اور خود عادت کریمہ سید المرسلین کی اسی طرح تھی۔ احادیث صحیحہ سے حضوروالا کاتمام سنن کاشانہ فلک آستانہ میں پڑھنا ثابت۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم گھرمیں چار رکعت ظہرسے پہلے پڑھتے پھرباہرتشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر گھر میں رونق افروزہوکر دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں جلوہ فرماہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے، اور عشا کی امامت کرکے گھر میں آتے اور دورکعتیں پڑھتے، جب صبح چمکتی دورکعتیں پڑھ کر باہرتشریف لے جاتے اور نمازفجر پڑھاتے۔
اخرج مسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن واللفظ لمسلم عن عبداﷲ بن شقیق قال سألت عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا عن صلٰوۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعا، ثم یخرج فیصلی بالناس ثم یدخل فیصلی رکعتین وکان یصلی بالناس المغرب ثم یدخل فیصلی رکعتین ویصلی بالناس العشاء ویدخل بیتی فیصلی رکعتین ، ثم ذکرت صلٰوۃ اللیل والوتر الٰی ان قالت وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین۱؎ زاد ابوداؤد ثم یخرج فیصلی بالناس صلٰوۃ الفجر۲؎۔
مسلم نے صحیح میں اور ابوداؤد نے سنن میں روایت کیاہے مسلم کے الفاظ ہیں کہ عبداﷲ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا میرے حجرے میں آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ظہرسے پہلے چار رکعات ادافرماتے پھر باہرتشریف لے جاتے اور لوگوں کوجماعت کرواتے پھرحجرے میں جلوہ افروزہوتے تو دورکعت پڑھتے، جب مغرب کی نماز کی جماعت کرواتے پھرحجرہ میں تشریف لاکر دورکعات پڑھتے، لوگوں کو عشاء کی نمازپڑھاکر میرے ہاں تشریف لاتے تودورکعات اداکرتے۔ پھرانہوں نے رات کی نماز اور وتر کاذکرکرتے ہوئے کہا جب طلوع فجر ہوجاتی تو آپ دورکعات اداکرتے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے پھر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حجرہ سے نکل کرلوگوں کوفجر کی نمازپڑھاتے۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب استحباب صلٰوۃ النافلۃ فی بیتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ /۲۶۶)
(۲؎ سنن ابوداؤد باب صلٰوۃ الرجل التطوع فی بیتہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۴۹)
اسی طرح سنن جمعہ کامکانِ جنت نشان میںپڑھنا، صحیحین میں مروی زمانہ سیدنا عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں لوگ مغرب کے فرض پڑھ کر گھروں کو لَوٹ جاتے یہاں تک کہ مسجد میں کوئی شخص نہ رہتا گویا وہ بعد مغرب کچھ پڑھتے ہی نہیں،
فی الفتح عن السائب بن یزید قال لقد رأیت الناس فی زمن عمر بن الخطاب اذاانصرفوا من المغرب انصرفوا جمیعا حتی لایبقی فی المسجد احد کانھم لایصلون بعد المغرب حتی یصیرون الٰی اھلیھم۳؎۔
فتح میں سائب بن یزید سے ہے کہ میںنے دورِ فاروقی میں لوگوں کو مغرب کے بعد اکٹھے لَوٹتے ہوئے دیکھا حتی کہ کوئی مسجد میں باقی نہ رہتا، گویا وہ مغرب کے بعد کوئی نمازادانہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں میں چلے جاتے۔
(۳؎ فتح القدیر باب ادراک الفریضہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۱۶)
سیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لوگوں کودیکھا کہ مغرب کے فرض پڑھ کر مسجد میں سنتیں پڑھنے لگے ارشاد فرمایا: یہ نماز گھرمیں پڑھاکرو۔
اخرج ابوداؤد والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ وابن ماجۃ عن حدیث رافع بن خدیج والسیاق لابی داؤد قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتی مسجد بنی عبدالاشہل فصلی فیہ المغرب فلما قضوا صلٰوتھم راھم یسبحون بعدھا فقال ھذہ صلٰوۃ البیوت۱؎ ولفظ الترمذی والنسائی علیکم بھذہ الصلٰوۃ فی البیوت۲؎، وابن ماجۃ ارکعوا ھاتین الرکعتین فی بیوتکم۳؎۔
ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب بن عجرہ سے ، اور ابن ماجہ نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کیا ابوداؤد کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے مغرب کی نماز اداکی جب لوگ فرائض پڑھ چکے تو آپ نے انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ گھروں کی نماز ہے، ترمذی اور نسائی کے الفاظ ہیں کہ تم یہ نماز اپنے گھروں میں اداکرو۔ ابن ماجہ کے الفاظ ہیں: یہ دورکعات تم اپنے گھروں میں ادا کیاکرو۔(ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد باب رکعتی المغرب این تصلیان مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۸۴)
(۲؎ کنزالعمال حدیث ۱۹۴۲۳ ، موسستہ الرسالہ بیروت ۱ / ۳۸۶ )
(۳؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی رکعتین بعدالمغرب ، سعید کمپنی کراچی ص ۸۳ )
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، العزیز شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
ہرگاہ تمام کردند مردم نماز فرض رادید آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایشاں راکہ نماز نفل می گزارند کہ مرادبوے سنت مغرب است بعد از فرض یعنی درمسجد پس گفت آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایں یعنی سنت مغرب یامطلق نماز نفل نماز خانہا است کہ درخانہا باید گزارد نہ درمسجد بدانکہ افضل آنست کہ نماز نفل غیرفرض درخانہ بگزارند ہمچنیں بودعملے آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مگربسببے یاعذرے خصوصاً سنت مغرب کہ ہرگز در مسجد نگزارد و بعضے ازعلما گفتہ اند کہ اگرسنت مغرب را درمسجد بگزارد از سنت واقع نمی شود وبعض گفتہ اند کہ عاصی می گرد وازجہت مخالفت امرکہ ظاہرش در وجوب است وجمہور برآنند کہ امربرائے استحباب است۱؎۔ الخ
جب لوگوں نے فرض نماز اداکرلی تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انہیں فرائض کے بعد نوافل یعنی سنن مغرب کو مسجد میں اداکرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ سنن مغرب یامطلقاً نمازنفل گھروں کی نماز ہے انہیں گھروں مین اداکرنا چاہئے نہ کہ مسجد میں۔ واضح رہے کہ فرض کے علاوہ نوافل گھرمیں اداکرنے چاہئیں۔ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہی عمل تھا البتہ کسی سبب یاعذر کی صورت مستثنٰی ہے خصوصاً نماز مغرب کی سنن مسجد میں ادانہ کی جائیں، بعض علماء نے فرمایا کہ اگرکسی نے سنن مغرب مسجد میں ادا کیں تو سنت واقع نہ ہوں گی اور بعض کے نزدیک ایسا آدمی گنہگار بھی ہوگا کیونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر ( جس سے ظاہر وجوب ہے) کی مخالفت کی ہے اور جمہور کے نزدیک یہاں امر استحباب کے لئے ہے الخ (ت )
(۱؎ اشعۃ اللمعات باب من صلی صلٰوۃ مرتین، فصل ثالث مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۵۰۳)